منگل, دسمبر 26, 2006

مرد عورت برابر ہیں؟

برابری کے موضوع پر “محفل “ میں چھڑنے والی ایک بحث میں دیا جانے والا جواب بلاگ کے قارین کی خدمت میں
_________________
بحث تو بہت دلچسپ ہے بلخصو ص کیونکہ اس میں مذہب کا داخلہ ممنوع قرار پایا لہذا مصنف کو اپنے زورِ بازو پر ہی اکتفا کرنا
پڑتا ہے۔ اسی سلسلہ میں‌ احباب نے کچھ حوالے مغربی تہذیبوں کے دیئے اور کچھ نے اپنے ذاتی اور عمومی مشاہدات۔
چونکہ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں‌کہ عورت اور مرد برابر نہیں بلکہ دو مختلف اصناف ہیں جنکے مختلف اختیارات و فرائض ہیں۔ بات برتری کی یا کم تری کی نہیں ہورہی ہے بلکہ مقصود صرف فراق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے، رہی بات برتری کی تو ہم تو جانوروں کو بھی خود سے افضل سمجھتے ہیں۔
دوستوں نے مغربی تہذیبوں کے حوالے دیئے تو توجہ دلاؤں گا کہ یہاں پر بھی مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ‌عورتوں کی اکثریت آج بھی وہی “پولے پولے“ کام کرتی ہے، ٹیچر ہیں اور کلرک کی نوکری کرتی ہیں اور ساتھ ہی برابر ہونے کےلئے احتجاج بھی جاری ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ برطانیہ میں بہت سال پیشتر عورتوں کو ایک فضیلت یہ تھی کہ انکو 60 برس کی عمر میں‌پینشن دے دی جاتی تھی جبکہ مرد حضرات کےلئے مقررہ عمر 65 برس تھی۔ اس طور کی برابری کی لئے کی جانے والی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے نتیجہ میں حکومت نے دیگر برابریوں کے ساتھ ہی یہ برابری بھی کردی کہ ان کو بھی 65 برس کی عمر تک کام کرنا پڑے گا۔ پس لگیں مچانے شور کہ ہم نے یہ تو نہیں کہا تھا، اور کہ ایسی برابری پر لعنت ہو پھٹکار ہو، جس میں پانچ سال اور کام کرنا پڑے ۔
بات برابری کی کرنے سے پہلے ملحوظِ خاطر رہے کہ خواتین کی نبض کی رفتار اور انکا فطری وزن تک مردوں سے کم ہوتا ہے۔ اسی
طرح بلڈ پریشر اور دل ک‌‌ فطری سائیز سے لیکر ہڈیوں کی پیمائیش تک مردوں سے کم ہے۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو برابر کرتے ہوئے بہت سے فطری معاملات تک کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور فقط اسی دلیل پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور وہ بھی، فلاں ملک میں میں برابری ہو گئی ہے اور فلاں میں ہو رہی ہے اور ہمارے لوگ دیکھا دیکھی بقول ہمارے پروفیسر منظور ملک صاحب کے “ مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں“۔
مجھے خود یورپ میں رہتے ہوئے عرصہ ہوچکا ہے اور خواتین کے ساتھ کام کاج کرنے کا بھی اتفاق ہوا ہے ۔ عملی زندگی میں تو یہیں دیکھا گیا کہ جب کوئ زور یا خطرہ کا کام ہے، گولی کھانے کا موقع ہے تو کہا جاتا ہے کہ تم مرد ہو۔ آگے بڑھو اور جب تنخواہ بڑھانے کی بات ہوتو مردو زن برابر ہیں۔
ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا کا نظام “لے “ پر چل رہا ہے یہ لے، وہ لے، وہ بھی لے لے، اور اس کو لے لینے کے لئے کبھی تو مردوزن کو برابر کردیا جاتا ہے اور کبھی عورت کو ماں کہ کر برتر اور کبھی لونڈی کہہ کر کم تر کردیا جاتا ہے ۔ یہ ہی احوال مرد کا ہے مگر کیا کریں فطری طور پر اس کا وزن کچھ پونڈ زیادہ جو ہے پس اسی کا فائدہ اٹھاتا پھر رہا ہے اور الزام بھی بھگتتا پھرتا ہے ورنہ تو مردوزن زندگی کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں۔

مکمل تحریر  »

منگل, نومبر 21, 2006

قیدی عورتیں

پیر کو مقامی اسکول میں ”غیر ملکی بچوں کے مسائل اور انکے ممکنہ حل ” کے مسئلہ پر ایک میٹنگ تھی، جسکو مرحوم علامہ مضطرعباسی ”جلسہ” کہا کرتے تھے۔ اس جلسہ میں اساتذہ، ماہرین لسانیات، سماجی کارکنان اور بچوں کے والدین شامل تھے میری موجودگی بطور غیرملکیوں کے امور کے ماہر اور لسانی مددگار کے تھی۔ مختلف قسم کے مسائل سامنے آئے جن میں طلباء کا اسکول لیٹ آنا، اسکول کی طرف سے دیے گئے ہوم ورک کو نہ کرنا، ہم جماعتوں سے لڑائی جھگڑا کرنا، اسکولوں کے طلباء کے درمیان پیدا ہونے والی فطری لسانی گروہ بندی، والدین کا بچوں کا خیال نہ رکھنا، والدین اور اسکول کے درمیان روابط کی کمی اور اسی طرح کے دیگر مسائل جن میں سے کچھ والدین کی طرف سے کیئے گئے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے۔ پھر بات چل نکلی کہ پاکستانی بچوں کی مائیں اسکول میں کم ہی آتی ہیں اور یہ کہ ان میں سے بہت کم تعداد میں زبان جانتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کافی کے وقفہ کے دوران ایک پروفیسر لوچیا نامی کافی کا کپ پکڑے میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ تمھاری پاکستانی عورتیں یہاں پر بہت زیادہ ڈیپریشن کا شکار ہیں مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم اپنی عورتوں کو چھ چھ ماہ گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں دیتے اور یہ کہ وہ سارا دن اکیلی گھر میں رہ رہ کر پریشان ہوتی رہتی ہیں۔ اب چونکہ بات ساری پاکستانی قوم کی ہورہی تھی تو میں نے کہہ دیا کہ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہاں البتہ کوئی اکا دکا کیس اس نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ مطلب اپنا آپ صاف بچا لیا۔ مگر بعد میں جب اپنے اردگرد رہنے والے خاندانوں پر نظر دوڑائی تو محسوس ہوا کہ یہ تو شاید ستر فیصد خاندانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہاں اٹلی میں ”ولاز” بہت کم ہیں جبکہ اکثریت دو بیڈرومز کے اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ اب تین کمرے، کچن اور باتھ روم پر سترمکعب میٹر کا فلیٹ ہے اور میاں صبح چھ بجے ڈیوٹی کےلئے نکل لیئے، بچے ساتھ بجے اسکول کےلئے اب ماں اکیلی گھر میں کیا صفائی کرے گی اور کیسے وقت گزارے گی۔ گھر سے باہر اسکو نہیں جانا ہے اور گھر کے اندر کرنے کو سارا دن کچھ نہیں، ہمسایئے کے گھر نہیں جانا کہ اول تو لسانی آڑ اور پھر انکو غیر مذہب سمجھ کر قابل نفرت سمجھنا۔ اب آجا ے یا ٹی وی یا پھر سرکا درد۔
ہمارے دوست جمال بھائی بڑے مذہبی ہیں اور ہمارے گھر کے نذدیک ہی رہتے ہیں اگلے دن ان سے کوئی کام تھا تو شام کے بعد جا انکے گھر کی گھنٹی بجائی، کافی دیر کے بعد جواب نہ موصول ہوا۔ تو واپس نکل آیا ، دیکھتا ہوں کہ آگے سے جمال بھائی آرہے ہیں اور انکے چند قدم پیچھے بھابھی بھی۔ مجھے دیکھ کر وہ رکے اور بھابھی دس قدم پیچھے ہی سائیڈ میں کھڑی ہوگیں گویا انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ خیر سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ کدھر گئے ہوئے تھے؟ تو کہنے لگے اصل میں تمھاری بھابھی کو لے کر باہر نکل گیا تھا کہ تین چار ہفتوں سے باہر نہیں نکلی اور سردرد کی شکائیت کرتی تھی۔ میں نے کہا کہ اب اندھیرا ہوگیا اور چلو تمھیں گھما پھرا لاؤں۔
مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ رویے ہم نے کیسے اپنا لیے ہیں کہ پاکستان میں تو یہی بیبیاں کھیتوں میں کام بھی کرتی ہیں اور گھروں کی سبزی سودا بھی لے آتی ہیں شادی ہوتو انکو روز شاپنگاں کرنی ہوتی ہیں جبکہ ادھر آتے ہی بیبی حاجن کا روپ دھار لیتی ہیں ہیں یا مجبور کردی جاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اپکو معلوم ہوتو مجھے بھی بتائیے گا۔

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 29, 2006

پہلا پاکستانی قتل

اٹلی میں پاکستانی کمونٹی بہت کم عرصہ سے ہے اور ابھی اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کےلئے کوششاں ہے، مجموعی طور پر پاکستانیوں کو ایک اچھی اور شریف قوم جانا جاتا ہے کہ محنتی ہیں اور فضول لڑائی جھگڑوں اور دیگر جرائم میں ملوث نہیں ہوتے۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور تھوڑے ہی عرصہ میں کاروباری دنیا میں تیزی سے داخل ہورہے ہیں۔ ہمارے شہر کے چھوٹے درجہ کے کاروبار کا آج شاید دس فیصد حصہ غیرملکیوں کے پاس ہے جن میں 40 فیصدی پاکستانیوں کے پاس ہے؛ گزشتہ ماہ یہاں پر پہلا پاکستانی قتل ہوا جو ایک 22 سالہ لڑکی تھی۔ جسکو اسکے باپ نے قتل کیا اور اس میں اسکے بھائی، بہنوئی اور ایک چچازاد نے مدد کی، یہ چار افراد فی الحال گرفتار ہیں، لڑکی کی نعش کو گھر کے صحن میں دفن کیا گیا جسے بعد میں لڑکی کے اطالوی معشوق کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا۔
لڑکی 8 برس پہلے فیملی کے ساتھ اٹلی میں آئی تھی اور یہاں پر ہی بنیادی تعلیم حاصل کی، پھر بقول کچھ لوگوں کے ”حنا آوارہ گردی میں ملوث تھی، شراب و چرس کی دل دادہ اور اس کی مجلس اطالوی اور دیگر غیر ممالک کے لڑکوں کے ساتھ تھی۔”۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ انڈین کے ایک پب میں کام کرتی تھی اسکا لباس مختصر یورپی طرز کا ہوتا تھا۔ گھر میں کم ہی جاتی تھی اور ایک اطالوی لڑکے کے ساتھ بغیر شادی کے رہتی تھی۔ گھر والے کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسے پاکستان لے جاکر بیاہ دیا جائے مگر ہو ان کی باتوں میں نہیں آئی اور مبینہ طور پر ان وجوہات کی بنیاد پر اسے قتل کردیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی پولیس کے پاس ماں باپ کے خلاف کئی مرتبہ جاچکی ہے کہ اسے مارا پیٹا اور زدوکوب کیا جاتا ہے۔ بقول وہ کہا کرتی تھی کہ ” میں روشنی میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں جبکہ میرے گھر والے مجھے پھر پاکستانی معاشرے کے اندھیرے میں دھکیلنا چاہتے ہیں، زندگی بار بار نہیں ملتی لہذا اسکا پورا حظ اٹھانا لازم ہے”۔
ایک نظر موجودہ حالات پر بھی ڈالی جائے تو مناسب ہوگا، ان ہی دنوں میں اطالوی حکومت نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے مستقلاُ رہائشی غیر ملکیوں کو شہریت دی جائے، جسکی مدت فی الحال دس برس اور کاغذات و شرائط کی ایک طویل فہرست ہے، جبکہ اپوزیشن اور دائیں ہاتھ کی راشسٹ پارٹیاں اس قانوں کی جان توڑ مخالفت کر رہے ہیں۔ اب یہ قتل اپوزیشن کے ہاتھ ایک ہتھیار کے طور پر لگ چکا ہے کہ غیر ملکی جرائم پیشہ ہیں، جو اپنی اولاد کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ پھر ان دنوں مسلمانوں کے خلاف جو ہوا ساری دنیا میں چلی ہوئی ہے اسکی تیزی کا بھی یہ قتل باعث بنا کہ مسلمان اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں اور دوسروں کو قتل کرنا انکےلئے ایک معمولی سی بات ہے۔ یہ بہت سنگدل ، غیر مہذب اور خون خوار ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر جلتی پر تیل کا کام ہمارے یہاں کے جاہل عوام نے یہ بیان کر دیا ہے کہ ” یہ بہت اچھا ہوا ہے، اسکے باپ کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا، یہ عین اسلام کے مطابق ہے، ہمارے ایک مشہور عوامی لیڈر کے مطابق یہ پاکستانی ثقافت کا ایک حصہ ہے، اور عین قانون کے مطابق ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہاں قارئین سے چند سوالات ہیں:
کیا جو ہوا ٹھیک ہوا؟
کیا وہ باپ بدنصیب نہیں تھا جو اپنی اولاد کا قتل کرنے پر آمادہ ہوا؟
کیا یہ اسلام و پاکستانی معاشرتی قدروں کے مطابق درست فعل تھا؟
کیا ہم بطور پاکستانی، مشرقی و مسلمان اس مغربی مادر پدر آزاد معاشرہ میں جذب ہوسکیں گے؟
کیا ہمیں آپنی اولاد کو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت دینی چاہئے؟

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 25, 2006

عید مبارک

میری جانب سے جملہ اہل اسلام و اہلیان پاکستان کو عید مبارک ہو، جملہ اہل اسلام تو خیر میں نے رسماُ کہہ دیا ہے ورنہ امسال جو صورت احوال عید کے متعلق ہے اس سے تو احباب واقف ہی ہیں، کہ یورپ کے کافی ممالک میں اور مشرق وسطٰی میں عید سوموار کو ہوئی، جبکہ کچھ ممالک میں منگل کو اور پاکستان سمیت کچھ ممالک بدھ کو یعنی کل عید کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عید رحمتوں و برکتوں کا دن ہوتا ہے اور اس دن روزوں کا اجر عطا ہوتا ہے یعنی عام معافی ہوتی ہے تو جناب اس سال عالم اسلام نے تین دن کی معافی کا اہتمام کرلیا، مگر اس سارے قضئے میں ایک مسئلہ مستقبل کے مسلم تاریخ دانوں کو ہوگا۔ کہ اگر ان کو لکھنا پڑ گیا کہ فلاں ہجری بتاریخ یکم شوال کو یہ واقعہ پیش آیا تو ان کو بتلانا پڑے گا کہ کس ملک کی یکم شوال کا ذکر ہے خود پاکستان میں یکم شوال سرحد میں سوموار کو اور ملک کے باقی حصوں میں کہیں منگل اور جہلم بدھ کو ہوگی۔ خیر اللہ دے اور بندہ لے۔ عید مبارک

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 01, 2006

سحرخیزی

رمضان المبارک کے لمحات ہمیشہ ہی یادگار سے ہوتے ہیں، دوسروں کا تو معلوم نہیں مگر میں اپنے آپ کو کچھ افضل اور آزاد سا محسوس کرتا ہوں، کھانے پینے سے مکمل طور پر آزاد، نہ چائے کی طلب، نہ کافی کا فکر، نہ پیو نہ پوچھو۔ دوستوں کے گھر جانا ہو تو وہ بھی کچن میں گھسنے کے بجائے گپ شپ کےلئے وقت دیتے ہیں۔
ابھی تک احباب تعزیت کو آرہے ہیں البتہ ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ روزہ ہے کہ نہیں، خیر جن کا روزہ نہ بھی ہوتو وہ بھی ”ہے” کہہ دیتے ہیں۔ یہاں اٹلی میں روزہ کا کافی رواج ہے بلکہ اس برس ہم تو مکہ مکرمہ کے ساتھ ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ بیٹھے جبکہ کچھ علاقوں میں اتوار کو رمضان کا آغاز ہوا۔ اس سال سے ہی روزہ کی طوالت اپنا احساس دلاتی ہے۔ کہ صبح ساڑے پانچ بجے سے لیکر شام سات بجے تک افطار اپنا آپ دکھاتی ہے۔ شام کے بعد خیر سے جہاں پڑ رہے پڑے رہے۔ کہیں آنے جانے سے قاصر ہیں اور نہ ہی نیٹ کے لئے فراغت ملتی ہے۔ خیال ہے کہ آئیندہ کچھ برسوں کے بعد روزہ صبح تین بجے سے لیکر شام ساڑے دس بجے تک ہوگا تب افطار کو ہی سحری تصور کیا جائے گا۔ بقول ہمارے شاہ صاحب ” تب تو کوئی ایمان والا ہی روزہ رکھ سکے گا” ۔ ویسے بھی اٹلی کی گرمیاں گرمی کی وجہ سے مشہور ہیں اور اور درجہ حرارت 40 گراڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ امسال ریکارڈ حرارت 43 گراڈ تھی۔ کل سکول کی نئے سال کے آغاز پر اسمبلی تھی مگر بوجہ افطار شرکت ممکن نہ تھی کہ انہوں نے شام سات بجے کا وقت مقرر کیا ہوا تھا اور یہ وقت افطار کا ہونے کی وجہ سے میں نے معذرت کرلی۔ البتہ پرسوں یعنی منگل شام سے نئی کلاس لے رہا ہوں مگر طلباء سے ہنوز ملاقات نہیں ہوسکی۔
رمضان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہم سحر خیز ہوگئےاور سحری کے لئے جب اٹھےتو دیکھا کہ کچن میں ایک عدد چوہا سیروتفریح میں مصروف تھا۔ اب چونکہ اسے ہمارے ٹائیم ٹیبل میں اس اچانک تبدیلی کا علم تھا جسکی ممکنہ وجہ اسکا ان پڑھ ہونا تھا۔ زاہد صاحب کے بقول ”وہ بھول میں مارکھا گیا” کہ اسکے خیال میں وہ یورپ میں ہے اور یہاں جانوروں پر عدمِ تشدد کا قانون لاگو ہے۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ ”ہم بھی تو ہیں”۔ پس ہم نے ملکر چوہے کا شکار کیا جس پر دو گھنٹے لگے اور پانچ پلیٹیں، دو کپ، آٹھ گلاس، اور ایک جگ کا نقصان ہوا۔ خیر چوہے کا وزن کوئی ڈیڑھ کلو کے قریب تھا۔ مگر افسوس کہ آس پاس کوئی چائینی نہیں بستا ورنہ اس کے ہاتھ بیچ دیتے ، اسکی ایک وقت کی ہنڈیا چڑھ جاتی اور ہمارے برتنوں کا خرچہ پورا ہوجاتا۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 22, 2006

یکم رمضان المبارک

ہماری مقامی مسجد نے کل یکم رمضان المبارک ہونے کی توثیق کردی ہے، میری طرف سے جملہ اہل اسلام کو رمضان المبارک کی رحمتیں و برکتیں مبارک ہوں۔ احباب سے درخواست ہے کہ رحمتوں کے اس مبارک ماہ میں اپنی عبادات میں ہماری والدہ مرحومہ کی مغفرت کےلئے بھی دعا کیجئے گا۔
اللہ ہم سب کی عبادات و دعاؤں کو قبول فرمائے اور رمضان المبارک کی رحمتیں و برکتیں سمیٹنے کی توفیق دے۔ آمین

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 14, 2006

انا للہ و انا الیہ

والدہ کی موت میرے لیے اچانک اور نہ سہہ سکنے والا صدمہ ہے
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یقیناُ انکی کمی کا خلا ہنوز موجود ہے اور رہے گا۔ اس سے بڑھ کر دکھ یہ کہ میں ایک ہفتہ پہلے ہی بعد از اپریشن انکو تیزی سے روبصحت ہوتے ہوئے چھوڑ کر آیا اور یہ کہ ان کی ناگہانی موت نے اتنی مہلت بھی نہ دی کہ جنازہ میں ہی شریک ہو سکتا۔
میں جملہ احباب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے تعزیتی پیغامات بھیجے اور میں انکے جوابات نہ دے سکا۔
والدہ مرحومہ کو اور ہم سب کو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے اور رہے گی
تمام احباب سے مرحومہ کی مغفرت کےلئے دعا گو رہنے کی استدعا ہے
جزاک اللہ لخیر

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 25, 2006

الجھا ہوا نقشہ

یہ تحریر بی بی سی ڈاٹ کام پر پڑھی اور لکھنے والے اور چھاپنے والے دونوں کی ذہانت پر داد دینے کو جی چاہا۔ بی بی سی کو تو شروع سے ہی مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں سے خداواسطے کا بیر ہے۔ اچھے برے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مسلمانوں میں بھی ہیں اور پاکستانیوں میں بھی۔ یہ بھی کوئی بات تو نہ ہوئی کہ اگر کوئی خبر اسلام یہ مسلمانوں کے حق میں ہو تو وہ نیچے ہوگی اور شام کو اتار دی جائے گی۔ اگر کوئی خبر ان کے خلاف ہو، اس سے ہتک کا کوئی پہلو نکلتا ہو، کوئی بدی یا جرم کی
خبر ہو یا پھر فوج کا خلاف کوئی بات، لازم ہے کہ بی بی سی کے صفحہ پر دو ماہ تک رہے اور کسی واضع جگہ پر بھی ہو۔
اس خبر یا تحریر بلکہ مجھے تو یہ خبر سے زیادہ ایک برین واشر تحریر لگتی ہے جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسلمانوں تم تو سو جاؤ رات ابھی باقی ہے۔ حزب اللہ ڈاکوں کا ایک گروہ ہے جس کی سرکوبی کرنے کا اسرائیل کو پورا حق ہے بے شک اس میں معصوم عورتیں اور بچے مارے جارہے ہیں، اورجو مارے نہیں جارہے وہ بیوہ و یتیم ہورہے ہیں، ہاں البتہ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں کہ ان مارنے والوں کو روکیں اور انکے خلاف مداخلت کریں۔ یہ تو ایسے ہے کہ قانون کے مطابق انسان کو مارنے جرم ہے لہذا اگر آپ کے گھر میں کوئی چور گھس آئے تو اسکومارئے مت بلکہ کھانا کھلا کر گھر کا سامان دکھلا دیجئے کہ میاں جو چاہے لے جاؤ ” جیسے صدام نے عراق میں کیا اور پھر معائینہ کاروں نےہی حملہ کردیا”۔
بات تحریر کی طرف: بیان کیا جاتا ہے کہ ”حالیہ تصادم میں اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کا صفایا کر کے وہاں لبنانی فوج یا بین الاقوامی امن فوج کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ اس سے اسرائیل کا یہ دیرینہ مقصد پورا ہوتا ہے کہ مصر اور اردن کی طرح لبنان کے ساتھ ملنے والی اسرائیلی سرحد کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔اس تصادم میں حزب اللہ کا بھی ایک ممکنہ مقصد ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر ایران کے ایٹمی پروگرام سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔۔۔۔۔۔اس تصادم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں امریکی حکومت کا ممکنہ مفاد یہ ہے کہ خطے میں حزب اللہ جیسی ماورائے ریاست مسلح تنظیم کو مفلوج کرنے سے ایران اور شام جیسی حکومتوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعودی عرب، مصر اور اردن جیسی حکومتیں مشرق وسطیٰ میں ماورائے ریاست تنظیموں مثلاً حماس اور حزب اللہ کے عمل دخل پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔۔ مذہبی حوالے سے سیاست کرنے والی بنیاد پرستی ہے۔ لبنان کے تصادم سے بنیاد پرست قوتوں کو موقع ہاتھ آئے گا کہ مذہبی تفرقے کے شعلے کو مزید ہوا دی جائے۔ مزید یہ کہ مسلم اکثریتی ممالک میں حکمران قوتوں اور ریاستی اداروں کو لتاڑا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ برس میں عالمی معیشت نے عالمگیریت کے جس مرحلے میں قدم رکھا ہے، اس میں ماورائے ریاست مسلح تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ گروہ جس ریاست میں داخل ہو جائیں، افغانستان ہو یا لبنان، اسے مکمل تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
اس سارے قصہ میں صاحب قلم نے اسرائیل، امریکہ، کا بھلا بھی کردیا، ایران و شام کو بھی ثواب پہنچا، بی بی سی کی پالیسی کے مطابق بنیاد پرستی بھی شامل تحریر ہوگئی مگر اس سارے قضئیہ و قصہ میں ” لبنان: الجھا ہوا نقشہ، لہو کی تحریر” کہاں ہے لبنان و اہلیانِ لبنان کا تو ذکر ہی گول ہوگیا؟ اس خون کا ذکر کیوں نہیں ہو سکا جو ایک تین سال کے معصوم بچے کا تھا؟ اس باپ کا ذکر نہیں ہوا جو خاندان کا واحد کفیل تھا؟ اس بزرگ کا ذکر نہیں ہوا جو چلنے سے بھی معذور تھا اور اس کی بلڈنگ پر بمباری کردی گئی؟ اور اس بیوہ کا ذکر کہاں گیا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوک سے چلا رہے ہیں؟ کیا بےوقوفی حنان کی بات سے ان کا پیٹ بھر جائے گا؟ کیا کونڈا رائیس کے دورہ سے انکے ذخم مندمل ہوجائیں گے؟
لبنان ایک انسانی سانحہ تو بن ہی چکا ہے مگر اس سے بڑا انسانی سانحہ یہ ہے کہ انسان اس سے بے پرواہ ہیں۔ ”احساس زیاں جاتا رہا”۔

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 19, 2006

بیروت اور ضمیرِ عالم

بہت دنوں سے بلاگ پر کچھ نہ لکھ سکنے کا وہی قدیم بہانہ عدیم الفرصتی ہے، بقول شخصے ”خوامخواہ کی مصروفیت” پال رکھی ہے اور سر پیر کا ہوش نہیں ہے۔ مگر آج صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔ بیروت پر اسرائیل کے جاری حملوں اور ان پر عالم کی معنی خیز خاموشی اور یورپی و امریکی رسائل و اخبارات کے ”حزب اللہ کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں تبصرہ جات” کوئی اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں۔
بلا تبصرہ بی بی سی کی سائیٹ سے چند چیدہ چیدہ سرخیاں ملاحظہ ہوں: ”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ملک کے جنوب اور مشرق میں تازہ حملوں میں کم از کم پچپن شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اسرائیل کا تازہ آپریشن صدر بش کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ لبنان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیئے اس بحران کا استحصال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی کارروائیوں کی سرپرستی دمشق سے کی جارہی ہے۔ صدر بش نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ تاہم ہم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نئی لبنانی حکومت کا خیال رکھے‘۔ ”
”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک ان حملوں میں کم از کم دو سو ستر لبنانی
افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں پچیس اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔ فی الحال اس تشدد آمیزی میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے ہزاروں خوفزدہ مکین ملک چھوڑ کرجارہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے آگے کیا ہوگا؟ کیا جنگ بندی کے لیے حزب اللہ کو اغوا شدہ اسرائیلی فوجیوں کو واپس کر دینا چاہیے؟”
ان دو خبروں سے کا اختتام لکھاری شائع کرنے والے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے” کہ فوجیوں کا اغواء ایک بہانہ ہے دو ماہ پہلے جب شام کی فوجیں لبنان میں موجود تھیں تو ساری دنیا بمعہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ”یورپ، امریکہ اور اسکے چمچے بےوقوفی حنان” نے باں باں مچارکھی تھی کہ شامی فوجیں لبنان سے نکلیں، میاں اب تم کہاں ہو؟ جب فوجیں نکلوائی تھیں تو اب اسکے خلاف ہونے والی جارحیت پر اسکے دفاع کی ذمہ داری تم پر ہے مگر مجال ہے جو ضمیر عالم نے کچھ غیرت کھائی ہو۔ ادھر عالمِ اسلام کی بے غیرتی کی حد تک خاموشی قابلِ فکر ہے۔ خادم الحریمن الشریفن سے لے کر اسلام کے قلعہ تک سب ”کوما” کی حالت میں ہیں، مجال ہے جو اف تک بھی کی ہو، شاید اس ہدائیت پر عمل کررہے ہیں، ” اپنے ماں باپ کے سامنے اف تک نہ کرو”۔ اگر اس سارے قضیے کو گزشتہ تین سالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو سامنے آتا ہے کہ امریکہ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ پر جو عالم اسلام کا گڑھ ہے ہر صورت میں قبضہ کرنے کا تہیہ کیے نظر آتا ہے جسکے لیے گیارہ ستمبر کے ڈرامہ، افغانستان پر حملہ، عراق پر فوج کشی، شام کے خلاف ایک طویل پراپیگنڈہ مہم اور پر ایران کے پیچھے پڑنا شامل ہیں، یہ اور بات ہے کہ ایران کے سلسلہ میں اسے دنیا کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اسے اپنی چال بدلنی پڑی؛ ایک فوجی کے اغواء کا بہانہ بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کا معقول بہانہ رہا، پھر دو فوجیوں کا اغواء بیروت پر مسلسل بمباری کی وجہ بنتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسکے بعد شام پر اسرائیلی حملہ کی کیا وجہ سامنے آتی ہے؟
آپ کے خیال میں یہ امریکہ ہی کی ایک چال نہیں ہے کہ اس نے خود سامنے آنے کی بجائے اسرائیل کو آگے کردیا ہے اور خود اس کو ہر جگہ پر مکمل تحفظ فراہم کیئے ہوئے ہے؟
کیا اسکے بعد اس طرز پر اگے بڑھتے ہوئے کسی معقول بہانے کا سہارا لے کر شام سے بھی دو دو ہاتھ کیئے جائیں گے یا نہیں؟

مکمل تحریر  »

اتوار, جون 04, 2006

گلاب و نصیب

بہت عرصہ پہلے زمانہّ طالبعلمی میں جب ہم بسوں پر اسٹوڈنٹ کہہ کر مفت سفر کرنے کی کوشش میں اکثر پکڑے جاتے، تب بسوں پہ لکھا ہوتا تھا کہ ”پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا”۔ خیر بسوں پر تو اور بھی بہت سے اشعارو محاورہ جات منقش ہوتے تھے جو آجکل عنقا ہیں۔ اور وہ کچھ نہیں لکھا ہوتا تھا جو آج کل لکھا ہوتا ہے۔ اس ہونا اور نہ ہونا کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے اور ایک اہم مسئلہ ہیں۔
انگریزوں کے چچا شیخ اسپی ایر کا کہنا ہے” کہ اگر گلاب کو گلاب نہ کہا جائے تو اسکی خوشبو کم نہیں ہوتی” ، اور ادبی طور پر ہم اس فقرہ کو دھراتے ہوئے نہیں تھکتے؛ یہ اور بات ہے کہ اس کا مقصد صرف اور صرف سامعین پر اپنے باادب بلکہ صاحب ادب ہونے کا رعب جمانا ہوتا ہے۔ اب بندہ شیخ صاحب سے پوچھے کہ اگر ”گلاب” کو گلاب نہ کہا جائے بلکہ ”کھجور” کہا جائے اور بلترتیب ” کھجور” کو ”گلاب” کہا جائے تو اس سے لازمی فرق پڑے گا۔
لوگ اپنی محبوباؤں کو گلابوں کی بجائے کجھوریں پیش فرما رہے ہوتے اور محبوبائیں شاید ان کو چھوہارے”، اور ہم یہ شعر قطعی طور پر نہ پڑھ رہے ہوتے ” کھوتی چڑھی کجھور اُتے، ٹُک ٹُک نیمبو کھاوئے”۔ اب یہ اس کی قسمت ہی خراب تھی ورنہ گلاب پر چڑھنا زیادہ ” رومانٹک” لگتا ہے۔ اور وہ بھی بغیر کانٹوں کے۔ نیمبو کے فوائد آپ خود بیان کریں کہ ضروری تو نہیں کہ سب کچھ ہم ہی لکھیں آخر آپ بھی تو سمجھدار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 21, 2006

تنظیِم عمل جہلم

تنظیم عمل جہلم ایک ایسا سماجی فلاحی ادارہ ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی خدمات کے ذریعے صحت سے متعلق سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جن بنیادی نکات پر یہ تنظیم عمل پیرا ہے وہ درج ذیل ہیں:

۔ لوگوں میں بنیادی صحت سے متعلق شعور پیدا کرنا۔

لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا۔

لوگوں میں عطیات خون سے متعلق شعوری آگاہی پیدا کرنا۔

لاوارث، مستحق اور حادثات میں زخمیوں کو خون کی فراہمی۔

خون کے کینسر میں مبتلا بچوں کو مستقل بنیادوں پر خون کی فراہمی۔

تنظیم نے اپنے مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبے شروع کئے جس سے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مستفید ہوں اور صحت کے حوالے سے ان کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔ اپنی مدد آپ کے تحت تنظیم عمل مندرجہ ذیل فلاحی منصوبے ”بلا منافع” مستقل بنیادوں پر چلارہی ہے:

بلڈ بنک، کلینیکل لیبارٹر ی، ادویات کی فراہمی، ماں بچے کی صحت، ایمبولنس سروس، تھیلاسیمیاکئیرسینٹر، لاوارث لاشوں کی تدفین، بلڈ گروپنگ، بلڈ کولیکشن، بلڈ سکرینگ کیمپ، صحت عامہ کیلئے آگاہی و تربیتی کیمپ، تعمیری منصوبوں میں حکومتی اور سماجی تنظیموں سے تعاون مندرجہ بالا منصوبوں میں سب سے اہم منصوبہ بلڈ بینک ہے جس کے ذریعے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں داخل مریضوں اور جہلم کی حدود میں شاہراہوں میں ہونے والے حادثات کے زخمیوں کی خون کی ضروریات پورا کرنے کیلئے تنظیم کے کارکن ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جوصرف ایک پکار پر انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار لبیک کہتے ہوئے فوراُ پہنچ جاتے ہیں۔ تنظیم کے خون دینے سے متعلق مندرجہ ذیل چند بہت بنیادی اور سادہ سے اصول ہیں جن کے تحت لوگوں کو خون فراہم کی جاتی ہے۔

ا) خون کسی قیمت پر فروخت نہیں کیا جاتا۔ ب) ایمرجنسی کے علاوہ خون صرف تبادلے میں دیا جاتا ہے۔ج) ایمرجنسی سے مراد شاہراہ پر حادثہ میں زخمی ہونے والے ایسے افراد جن کے لواحقین بر وقت نہ پہنچ سکتے ہوں ان کو خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے۔ د) ایسے لاوارث مریضوں کیلئے خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے، جس کی اطلاع ہسپتال انتظامیہ خود کرتی ہے ۔ق) تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کی تمام ضرورت کے خون کا پچاس فیصد خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے۔ گ) تنظیم کے رجسٹرڈ رضاکار کی سفارش پر خون بغیر تبادلے کے فراہم کیا جاتا ہے۔ ل) خون دینے کیلئے آنے والے کے تمام بلڈسکرینگ ٹیسٹ بالکل صحیح ہونے پر ہی خون لیا جاتا ہے۔

تنظیم عمل اب تک لامحدود تعداد میں مستحق لوگوں کو خون کی فراہمی کر چکی ہے اور یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے مذید معلومات کے لئے مندرجہ زیل پتہ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

تنظیم عمل جہلم

بلمقابل میجر اکرم شہید پارک شاندارچوک جہلم

فون: 0544627115 اور 628115

مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 12, 2006

لہو کے آنسو

آج ہمارا سب کا دل لہو کے آنسو رو رہا ہے۔ کسی پل قرار نہیں اور کسی کو چین نہیں احباب فون پہ فون کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے تعزیت کررہے ہیں مگر کیا کریں، وطن سے دوری بھی تو ایک مسئلہ ہے۔ خیر جو نزدیک ہیں وہ کیا کرسکتے ہیں۔
کراچی کا الم ناک سانحہ ملک کی صورت حال میں ایک اور سیاہی کی مانند ہے۔ اللہ تعالٰی شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ
عطا فرمائے اور زخمیوں جو جلد صحتیابی سے بہرہ مند فرمائے اور جملہ لوحقین اور قوم کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ تو خیر سے ایک روایتی جملہ بن چکا ہے کہ بھی اللہ کی مرضی مگر بات یہیں تک ختم نہیں ہوجاتی۔ خیر اس ایمان پر تو ہم سب قائم ہیں کہ ہر مصیبت اور نصرت اللہ کی طرف سے ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سسٹم یا نظام بھی تو اسی کا ہے۔ اور اس میں کیوں دخل اندازی ہوتی ہے اور کون کرتا ہے؟ کون ہے جو اس دخل اندازی سے روکنے کا ذمدار ہے؟ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس بات کا تعین ہوجانا چاہیےکہ کیا ذمدار نا اہل ہیں؟ یا پھر ایسے تو نہیں کہ خاکم بدہن وہی چوروں سے ملے ہوئے ہیں۔ اور ساتھ میں شور مچائے ہوئے ہیں کہ چور، چور، چور، چور یہاں اٹلی کے میڈیا نے بھی اس واقع کو پوری طرح مقامی خبروں میں جگہ دی ہے اور اس انداز سے بیان کیا ہے کہ گویا سنی شیعہ جنگ اور ازلی معرکہ آرائی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ فائیل فلمز اور بیک امیجز کی بھی مدد لی گئی ہے۔
اب صورت حال مذید دشوار اورگمبھیر ہوتی جارہی ہے، حکومتی ادارے سوائے الزام ترشیوں اور بیانات کے کچھ کرکے نہیں دے رہے ہیں اور عوام لازمی اشتعال کی طرف جارہی ہے۔ مجھے تو یہ ایک لاوا لگتا ہے جو بس حکومت کی بد عنوانیوں اور بد نظمیوں کے خلاف نکلا ہی چاہتا ہے۔ مزید نمک پاشی ہمار سیاہ ست دان کررہے ہیں۔ کہ غیر ملکی ہاتھ ہے تو میاں اس ہاتھ کو کون آکے نکالے گا؟ کس کی زمداری ہے؟ تم کس کام کے ہو؟ اور کیوں ہو؟
ایک دوست کہہ رہے تھے کہ میاں عراق میں جہاں جنگ لگی ہوئی ہے وہاں روز 30 بندے مرتے ہیں اور ہمارے ملک میں جہاں جمہوریت ہے وہاں 40 اللہ کو پیارے ہوتے ہیں ۔ عراقیوں کا لہو تو امریکیوں کے سر لازم ہوا مگر جو قتال ہمارے ملک میں ہورہا ہے اس کا الزام کس کو دیں؟
چمن ہے مقتلِ نغمہ اب اور کیا کہیے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نواکہئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں اے صاحبانِ چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے

مکمل تحریر  »

چوربھی کہے۔۔۔

چوربھی کہے چور چور جب ہم کالج میں پڑھا کرتے تھے تو امتحان کی تیاری میں درسی ماڈل ٹیسٹ پیپرز سے طوطا رٹا مارنےاور بعد ازاں نقلیں تیار کرنے کا کام لیا جاتا۔ تب درسی کے ہر ٹیسٹ پیپر کی خاص پہچان اسکی جلد کی الٹی طرف لکھا ہوا چور بھی کہے چور، چور۔ چوروں سے ہوشیار رہے۔ مگر اس کی سمجھ نہ آتی۔ سیکنڈ ائیر میں انگلش کی تیاری میں استعمال کےلئے چندہ جمع کرکے احباب نے جو اجتماعی ٹیسٹ پیپر خریدا اور اس کا رٹا بھی مار لیا تب فوٹو کاپی کروانی کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی رواج تھا بلکہ احباب مل بانٹ کر اس میں موجود سارے مواد کو بطور نقل ایک مرتبہ عام تحریر میں لکھتے اور پھر اس کی مائیکرو نقل تیار ہوتی تاکہ اگر موقع ملے تو کمرہّ امتحان میں لے جا سکیں، یہ اور بات ہے کہ ایسا موقع آجتک نہیں ملا۔ جب ساری تیاری مکمل ہوچکی تو کسی سیانے کو بات سمجھ آئی کہ بھائی جی یہ ٹیسٹ پیپر تو جعلی ہے اور یہ کہ اس میں سے دو ابواب اور کئی سوالات سر پیڑ سے غائب ہیں۔ اب کیا ہوسکتا تھا سوائے اسکے کہ نیا ٹیسٹ پیپر لیا جائے مگر رقم کہاں سے آتی؟ پس ایک اور حلقہ سے ادھار مانگ کر رات ہی رات اسکی کاپیاں تیار کرنا پڑیں پھر مائیکروز اور اسکے بعد احساس ہوا کہ یہ ٹیسٹ پیپر تو سارے کا سارے ہمیں زبانی یاد ہوچکا ہے۔ خیر فائدہ یہ ہوا کہ اس برس کیسی کی کم سے کم انگلش میں کمپارٹمنٹ نہیں تھی۔

مکمل تحریر  »

کالی بھیڑیں

ایک فورم میں گوشہء حضرات کے نام سے کالم شروع کیا گیا مگر بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں سے بندہ بشر غائب ہے اور اسکی واحد وجہ غالباُ بیویوں کا خوف ہی ہو سکتا ہے۔ جو صاحبان بیوی یافتہ ہیں وہ تو ویسے ہی پرہیزی میں ہونگے ایسی محفلوں اور ایسے موضوعات میں آواز بلند کرنے پر اور باقی کے اپنے غیر محفوظ مستقبل کے ہاتھوں مجبور ہیں ویسے ایک بات کہنے میں تو کوئی امر مانع نہیں کہ اگر یہ موضوع ’’آذادیّ نسواں’’ یا ’’بحالی حقوق خواتین’’ کے طرز کا ہوتا تو ہمارے ہم جنس اس میں بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے نظر آرہے ہوتے، میں جب پاکستان میں تھا تو ان دنوں خواجہ صاحب کے بقول ’’اسلام آباد کی سڑکوں پر ریلی، ریلی کھیلا جا رہا تھا، ’’ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف، شہری آذادی کےلیے، تحفظِ جنگلات، خواندگی وغیرہ وغیرہ کی طرح کے ’’ڈیشی’’ موضوعات۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے بھی کئی ریلیوں میں حصہ لیا اور کئی مرتبہ ریلی کے آخیر میں ہونے والی دھنگا مشتی میں بھی جس میں اکثر پلہ ’’ مشٹنڈا پارٹی’’ کا ہی بھاری ہوتا جو ہر ریلی میں ہوتے اور صرف اسلئیے ہوتے کہ ریلی ہے کوئی ’’ ریل’’ تھوڑی ہے جسکا ٹکٹ لینا پڑتا ہو، یہ اور بات ہے کہ ہم بھی جہلم سے اسلام آباد بغیر ٹکٹ کے ہی جاتے تھے، جی بلکل کالج کی ملازمت کے دوران بھی ’’ بطورِ اسٹوڈنٹ’’۔ آخر کیوں نہ چلتا بہت سے تلامذہ کی عمر استاد جی سے زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔خیر عمروں میں کیا رکھا ہوا ہے بات ریلی کی ہو رہی تھی کہ ایک ریلی چلی ’’ تحفظ حقوقِ نسواں’’ کے موضوع پر تو پہلی لائین میں کیا دیکتھے ہیں کہ دو تین مرد حضرات بھی موجود ہیں، خواجہ صاحب کہنے لگے کہ یہ کالی بھیڑیں ہیں جو بھنوروں کی طرح نظر آرہی ہیں، بھلا کوئی ان سے پوچھتا کہ میاں یہ خواتین تو چلو اپنے حقوق کو مردوں سے بچانے کےلیے تگ و دو کررہی ہیں مگر یہ آپ کس چکر میں ہیں؟؟؟ کہیں ’’چور بھی کہے چور چور’’ والا قصہ تو نہیں کیونکہ حقوق کو جنسِِ مخالف سے بڑھ کر کس سے خطرہ ہو سکتا ہے؟

مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 02, 2006

تنگ آمد۔۔۔۔۔

تنگ آمد بجنگ آمد یہ کہاوت بہت زمانوں سے چلی آرہی ہے اور اسکا ماخظ معلوم کسی کو معلوم نہیں کم سے کم مجھے معلوم نہیں، خیر گئے زمانوں کی اس کہاوت سے ثابت ہوتا ہے کہ تب لوگ تنگ اگر جنگ شروع کرتے تھے اور پھر جنگ بندیاں ہوجاتی تھیں مگر آج کے زمانے میں تنگ آمد سے پہلے ہی جنگ آمد ہوجاتی ہے اور پھر علان ہوجاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی، یعنی جنگ بندی کے امکانات ختم۔
جنگ میں مورچہ بندی لازم ہے بلکہ جنگ کے بغیر بھی آپنے مورچہ میں ہی رہنا چاہئے نہ کہ دوسروں کے مورچہ میں تاک جھانک کی جائے، کہ گولہ بارود کدھر رکھا ہے کہ تاک جھانک سے بھی جنگ چھڑنے کے واقعات قدیم تاریخ میں رونما ہو چکے ہیں، ہمارے شاہ جی کے خیالِ غیر عالیہ میں جنگ کی تیاری کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ جنگ سے بچنا ہوتا ہے، اور اگر کوئی ملک یا قوم جنگ کی تیاری جنگ کرنے کےلیئے شروع کردے تو سمجھ لو کہ اسکا فنا ہونا لکھ دیا گیا ہے۔ بہر حال ہم اپنے مورچہ میں ہی ہیں اور کیا ہے کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ پیسٹھ کی جنگ میں پاکستانی فوجیوں نے کتے کی دم کے ساتھ ڈائنامیٹ باندھ کر اسے آگ لگا دی اور کتے کو بھگا دیا ہندوستانی مورچےکی طرف، بس کیاہونا تھا وہی جسکی آپکو اور مجھے توقع ہے کہ کتا ادھر گھسا دشمن کے مورچے میں ادھر ڈائنا میٹ کا دھماکہ ہوا اور رہی سہی کسر ادھر موجود گولہ بارود نے نکال دی۔ پس دشمن کا ناس ہوا اور دوستوں نعرہ بلند کیا۔ اب معلوم نہیں ہوا کہ اس میں قصہ میں بہادری کا تمغہ فوجیوں کو دیا جائے یا کتے کو جس نے اس دیدہ دلیری سے وہ ڈائنامیٹ بندھوا لیا۔ خیر ہمیں کیا؟
یہی یا اس سے ملتا جلتا واقعہ مجھے پہلے بھی کسی صاحب نے سنایا تھا، پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ جنگ اور پیار میں سب کچھ جائز ہے۔
البتہ شکر کریں کہ یہ واقعہ اردو میں ہے اسکا انگریزی، اٹالین، اسپرانتو یا کسی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں ہو سکا ورنہ الزام لگتا کہ ’’ مسلمانوں نے کتے پر ظلم کیا لہذا سارے ملکر پاکستان پر حملہ کردو’’ ، خود بھلے عراق، فلسطین، شام، اردن، افغانیستان میں جو مرضی کرتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر اپنا مورچہ تو بچانا ہے انہوں نے بھی

مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 28, 2006

تیز رفتار نیٹ

آج ہمارے آئی ایس پی آر نے جو کہ ٹیلی کام اطالیہ ہے ہمارےہاں ایک نیا سسٹم انسٹال کردیا ہے جسکے بعد اب نیٹ سپیڈ 20 م ب پ س ہو گئی ہے اور ساتھ ہی ہم ٹی وی سے بھی میل بھیج سکتے اور موصول کرسکتے ہیں۔ مزید سکائی ٹی وی بھی بعذریہ نیٹ لائین ( فون کنیکشن جو ایک ہی موڈیم کے ساتھ ہے) دیکھ سکتے ہیں اس وقت کوئی 20 کے قریب مفت چینل ہیں اور مذید آمد متوقع ہے، انکا وعدہ ہے کہ 6 ماہ تک آپ کو مفت سروس فراہم کی جائے گی اور اس دوران سروس کو مزید بہتر بنا دیا جائے گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سروس ابھی تجرباتی بنیاد پر ہے گویا ہم تختہ مشق ہوئے اور جب نتائج ٹھیک نکل آئیں گے تو ہم پر ہی ادائیگی کرنی واجب ہوجائے گی

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 26, 2006

لطیفہ

کل ہفتہ تھا مگرمقامی عدالت سے فون آگیا کہ جی حاضر ہوجائیں۔ فارغ وقت میں ترجمانی کا کام ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کم لوگ ہی ہیں جو اٹالین اچھی بول لیتے ہیں خاص طور پر ہندوستانی، چونکہ انکی اکثریت پنجاب سے ہے اور وہ بھی دیہات سے۔ اس لئے انکا ہاتھ بٹانے چلا جاتا ہوں۔ کچھ پیسے بھی بن جاتے ہیں اور نئے نئے کیس بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر کل کا کیس کچھ عجیب ہی تھا۔ بلکہ عجیب کیا ایک لطیفہ ہی تھا۔ وہ اس طرح کی چاروں سکھ ایک ساتھ میں کام کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کی منگنی ہوئی اور سارے مل کر جشن مناتے رہے، وہی شراب نوشی۔ اور خوب ”ٹُن” ہوکر گاڑی لے کر گھومنے چلے شہر کے مضافات کی طرف چل نکلے، رات کا سماں تھا ان کو سڑک کے کنارے کھڑا برازیل کا ایک ”کُھسرا” (ہیجڑا) نظر آگیا اور جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے یہ لگے اس سے چھیڑخانیاں کرنے۔ کچھ دیر کے بعد وہ کھسرا تپ گیا اور ادھر گھومتی گھامتی پولیس بھی آگئی۔ اب ہیجڑے نے انکو اشارہ دے کر روک لیا اور کہہ دیا کہ مجھے لوٹنے والے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنی عزت و دولت بچائی ہے۔ اور مزید یہ کہ ان کی گاڑی سے ایک ٹوٹی ہوئی نوکدار چھتری برآمد ہوئی جس کو بطور ہتھیار قبضہ میں لے لیا گیا۔ وہ چرن جیت سنگھ یہ بیان دے کر رو پڑا کہ اگر عدالت نے جیل میں بند کردیا تو کام بھی ختم ہوجائے گا اور سُبکی علٰیحدہ ہوگی۔ خیر عدالت نے اس وقت تو انکو چھوڑ دیا کہ جب تک کیس نہیں چلتا شہر سے باہر نہ جاؤ اور ہفتہ میں دو بار پولیس کے دفتر میں حاضری دو۔ اور آئیندہ منگنیاں کر کے اس طرح کے جشن منانے سے پرہیز کرو۔ دوران کاروائی جج صاحبہ، وکلاء، پولیس والے، عدالت کا سارا عملہ اور میں خود ہنستے رہے۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 17, 2006

پیروی مشرق کی

عباس جوکہ میرے عزیزِ غریبی ہیں، ولایت میں ہی پیدا ہوئے اور پاکستان دو بار ہی گئے ہیں۔ مگر آج کل میرے مہمان ہیں، کہ بھائی صاحب سے زندگی بھر ملاقات نہیں ہوئی، چلو مل ہی آئیں۔ تو ان کو جی آیاں نوں۔ مگر اصل خبر جو مجھے انکے ساتھ آنے والے انگریزی اخبار سے ملی ہے وہ یہ ہے کہ لنکا شائیر کے 49 سالہ مائیکل فیلپاٹ نے مقامی کونسل میں کل رات چھ کمروں کے
بڑے گھر کے حصول کی درخواست جمع کروائی ہے۔ ان چاچا جی کے 16 بچے ہیں جن کا تعلق مختلف پانچ خواتین سے ہے۔
مائیکل جی نے یہ بتایا ہے کہ میں‌ گھر میں ہونے والے شور کی وجہ سے گھر سے باہر “تنبو“ لگا کر اس میں‌سوتاہوں۔ لہذا کونسل مجھے کم سے کم 6 کمروں والا بڑا مکان دے۔ تاحال مائیکل جی 3 کمروں کے چھوٹے سے مکان میں نہیں تنگی سے گزارا کررہے ہیں جسکا کرایہ 69 پونڈ فی ہفتہ ہیں جبکہ مائیکل پکے حرام خور ہیں اور وہ سالانہ 26،500 پونڈ بےکاری الاونس کے طور
پر حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ ایک عدد زوجہ اور ایک حاملہ معشوق کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
خیرہمارے مشرق میں تو یہ خبر نہ ہوئی کہ انکے 16 بچے ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس حال میں ہیں۔ البتہ اگر حکومت ان کو سالانہ 26،500 روپیہ بھی دے تو یہ ایک خبر ہوگی۔

مکمل تحریر  »

پیر, فروری 20, 2006

استعفیٰ

اٹلی کے متعلقہ وزير نے استعفیٰ دے ديا ہے اور وزير اعظم بیرلسکونی نے کہا ہے ايسے غير زمہ دار بندے کي حکومت ميں کوئي جگہ نہيں۔ نائب وزيراعظم فرانکوفینی نے روم کي مسجد کا دورہ کيا ہے اور اسلامي ممالک کے سفارتکاروں سے معذرت کي ہے کہ بھائيو اگر ہمارا بھي بائيکاٹ ہوا تو پھر ہمارا کيا بنے گا، انہوں نے روتا منہہ بناکر بتایا کہ ہماری تو پہلے ہی مرغیاں بیمار ہیں ۔ بس ہميں معاف کرديا جائے۔
اپوزيشن والے حکومت کے مستفیٰ ہونےپر اصرار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے حکومت کے سارے اقدامات ناکافي ہیں اور اس سے برادر اسلامي ممالک کے اور ہمارے درميان اعتماد کا رشتہ ختم ہوگيا ہے۔ نہ صرف بلکہ مغرب اور اسلام کے درميان خليج وسيع ہوئي ہے ۔ جسے پاٹنامشکل ہوجائے گا۔ لہذا حکومت استعیفیٰ دے اور اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے، ویسے میری ہمدردیاں اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ آجکل کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ بیٹھک جو ہے۔
پاپائے روم نے کہا ہے کھ مذہب کي اسطرح توہيں قابل ملامت ہے اور اسکي اجازت نہيں دي جاسکتي۔ اور نہ ہی توڑپھوڑ کرنےکی۔ اور یہ بھی کہ عوام صبر سے کام لے اور مذاہب کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں جلتی ہوئی صلیب کو دیکھ کر کہی اور مذید کہا کہ مذہبی علامات کی توہین بند کی جائے۔ ۔
او آئی سی کا ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں‌ آیا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ لوگ صرف سکون کے وقت ہی اکٹھے ہوتے ہیں اور حلوہ کھاتے ہیں۔ مگر جب جلوہ دکھانے کا وقت ہو تو غائیب ہوجاتے ہیں گویا گدھے کے سرسے سینگ۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2006

جلتی پر تیل

ڈنمارک کے اخبار کی کارٹوں والی شیطانی سے لگنے والی آگ جس نے دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے اور آج ساری دنیا مظاہروں پر مظاہرے کررہی ہے ایک عام مسلمان بھی سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ مگر اٹلی کے ایک وزیر “کالدونی“ جنکا تعلق دائیں نسل پرست ناردن لیگ سے ہے نے اعلان کیا تھا کہ انہوں ان متنازع کارٹونوں کی شرٹس تیار کروائی ہیں اور وہ انکو تقسیم بھی کریں گے۔ آج ٹی وی کے ایک پروگرام میں انہوں نے اپنی قمیض کے بٹن کھول باقاعدہ طور پر وہ شرٹ دکھائی ہے۔
وزیر اعظم برلسکونی اپناعشائیہ ادھورا چھوڑ کر فی الفور “روم“ پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اس متعلقہ وزیر کا استعفیٰ طلب کرلیا ہے۔
حزب اختلاف کے لیڈر اور متوقع وزیر اعظم “ پیروڈی“ نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور وزیر کے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ حکومت کو معافی مانگنے کا بھی کہا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کی طرف سے صدر سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
ایک دوسرے وزیر نے ناردن لیگ کو کہا ہے کہ اگر وہ ان کی جماعت کے ساتھ رہنا چاہتی ہے توفوراُ اپنے روئے پر معافی مانگےاور نظر ثانی کرے۔
ادھر لیبیا میں اطالوی سفارتخانہ کا گھیراجلاؤ ہر چکا ہے جس میں گیارہ افراد کی ہلاکت اور 30 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اطالوی وزیر کی اس حرکت سے پوری اطالوی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور دنیا بھر میں‌ پہلے سے جاری پر تشدد مظاہروں میں اضافہ ہوگا۔ جبکہ حکومت کی پوزیشن بہت خراب ہوچکی ہے یاد رہے کہ اٹلی میں اپریل میں الیکشن ہو رہے ہیں اور حکومت کو پہلے ہی بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ اطالوی عوام وزیر کی اس حرکت پر اس کو لعن تعن کررہے ہیں اور مسلمانوں سے اپنی شرمندگی و ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 14, 2006

احتجاج پر احتجاج

آج گاڑی کے ریڈیو کے ذریعے اطلاع ملی کہ پاکستان میں بعد از پر امن احتجاج عوام ہنگامہ آرائی پر اترآئی ہے۔ گھیراؤ جلاؤ اور
سرکاری و نیم سرکاری املاک پر پتھراؤ اور ان کو آگ لگانا۔ مغربی اداروں بلخصوص میکڈونلڈ، کے ایف سی وغیرہ کا جلاؤ۔
میں اس طریقہّ احتجاج پر احتجاج کرتا ہوں۔ کہ نصاریٰ نے جو کیا وہ قابلِ مزمت ہے اور قابلِ نفرت بھی مگر اس طریق سے سوائے
ملکی و عوامی املاک ضیاع کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ ناروے، اٹلی، جرمنی کا سفارتی بائیکاٹ و معاشی قعطع تعلقی ایک
جائیزہے۔ احتجاج کو ممکنہ حد تک پر امن رکھنا ہم سب کی مشترکہ زمداری ہے۔
میرے خیال میں سب سے پسندید و انفرادی طریقہ اسلام آباد والوں نے اختیار کیا ہے اور اسکےلئے گدھوں کا استعمال نہایت انفرادیت کا حامل، جداگانہ اور اہلیانِ اسلام آباد کی ظرافت کا مظہر ہے۔

مکمل تحریر  »

پیر, فروری 13, 2006

نام نہاد آذادي صحافت

ڈنمارک کے اخبار کے کارٹون کے حوالہ سے یہ سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا کسی کی دل آزاری اور وہ بھی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی ، آزادی صحافت میں شامل ہے ؟
آج جبکہ نہ صرف ساري مسلم دنيا سراپا احتجاج ہے بلکہ اعتدال و حقيقت پسند غير مسلم بھي اس فعل کي پرزور مذمت کررہے ہيں۔ جبکہ دوسري طرف متعلقہ ممالک کي مصنوعات کا بائيکاٹ، احتجاجي جلسے جلوس، سفارتي تعلقات کا انقاط اور اموات تک واقع ہوچکي ہيں۔ اس کے باوجود ايک طبقہ ايسا بھي ہے جو ٰٰٰنام نہاد آزادئي صحافت کے نام پرٰ اس شرمناک حرکت کو نہ صرف درست قرار دے رہا ہے بلکہ مسلسل اسکا ارتکاب کيا جارہا ہے۔
آپ اس اس اہم موضوع پر اپنی راۓ کا اظہار فرمائیں۔
نيچے دئيے جانے والے ربط کا تعلق ايک آن لائين پٹيشن سے ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس پر کلک کرکے اپني پٹيشن ضرور درج کروائيں
اور دوست بلاگرز سے التماس ہے کہ اس ربط کو اپنے بلاگ پر ضرور جاري کريں۔ کہ برے کو برا کہنا تو بہرطور لازم ہے۔

مکمل تحریر  »

شاہ کي ڈائيري

“جن نکالنا“ کوئی آسان کام ہوتا تو ہر بندہ “جن نکالتا پھرتا“۔ یہ تو جن سے پوچھے یا پھر جس کا “جن نکلتا“ ہے اس سے۔ کیوں جن کا ایک ٹھکانہ گیا اور جس کا جن نکلتا ہے اسکو دوہری ضرب لگتی ہے اول ناک میں مرچوں کی دھونیوں کی اذیت اور دوئم ہماری فیس۔ آج کل دھندے میں‌مندا چل رہا ہے کیوں کہ آمدن کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جن نکلوانے میں دلچسپیاں کم ہورہی ہیں، شاید اسکی وجہ اسکولوں اور تعلیم کا عام ہونا ہی ہو، میں تو کہتا ہوں کہ اس اسکولوں کو “طبیلہ“ بنا دینا چاہئے بلکہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ان کو تالا ہی لگا دیا جائے کہ ان میں جنات ڈیرے ڈال سکیں اور ہمارے “ دھندہ کا مندا“ ختم ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کسی زیادہ آمدنی والے ملک چلا جاؤں۔ یورپ وغیرہ اور ادہر گوروں کے جن نکالوں۔ ویسے گوریوں کے جنات کا نکالنا کچھ اور ہی لطف ہوگا۔ (ہمارے دوست شاہ جی کی ڈائیری کا ایک ورق مؤرخہ 30 جون انیس سو ننانوے) ‌

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 04, 2006

موجیں

اردو میں عمومی استعمال ہونے والے لفظ جو دو معنی رکھتا ہے۔ اول الذکر تو پانی کی لہریں ہوتی ہیں اورموجیں کہلاتی ہیں۔ اب یہ لہریں سمندر کی ہوں تو بندے کی عالمِ ارواح میں واپسی کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور اگر دریا وغیرہ کی ہوں تو آپ یہ شعر کہ سکتے ہیں کہ “ موج ہے دریا میں‌بیرونِ دریا کچھ نہیں“۔ خیر ثانیاُ الزکر موجیں پنجابی سے اردو میں تشریف لاتی ہیں اور “ مزے“ میں ہونے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں۔ موج میں‌ہونا، موجیں کرنا، موجیں مارنا۔ عمومی استعمال ہونے والے فقرے ہیں جو معتلقہ فرد کی جذباتی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے شاہ جی کے خیال شریف میں‌ “موج وہ کرگیا ہے جو گدھے پر سوار ہے“۔ اب ان سے پوچھا کہ کیوں‌جناب ؟ تو جواب ملا کہ: گدھا ایک ایسی سواری ہے جس میں پیٹرول نہیں‌ڈلتا، پس گدھے کا سوار “ موجاں“ کرگیا ہے۔اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ ایک یورو 30 سینٹ سے بڑھ چکا ہے

مکمل تحریر  »

پیر, جنوری 30, 2006

روٹین چیک اپ

پرسوں میں اور خرم نزدیکی “بیرگاموں“ ائیر پورٹ پر کامران صاحب کو لینے گئے کہ بارسلونا سے برائے ملاقات تشریف لائے ہیں۔ برفباری کی وجہ سے فلائیٹ دیر سے آئی، اور ہمیں‌کوئی دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا، پس کافی پی، سیگریٹ پھونک کے ایک بینچ پر جا براجمان ہوئے۔ اردگرد کے سارے بینچ ہر ملک وقوم کےلوگوں سے بھرےہوئے تھے کہ بہت سی فلائیٹس لیٹ تھیں۔
دو پولیس والے ہمارے سامنے سےگزرے، اور میں نے خرم سے کہا کہ آئی سختی، کیوں کہ ابھی اس پولیس والے نے لمبی آنکھ کرکے دیکھا ہے۔ اور دو منٹ بعد وہ آن ہمارے سر پر کھڑےتھے۔ بون جورنو۔ کہاں کے ہو؟ پاکستانی؟ کاغذ دکھاؤ۔ کتنے عرصہ سے یہاں ہو؟ کیا کام کرتےہو؟ کونسی فلائیٹ کا انتظار ہے؟ آرہے ہو یا جارہے ہو؟ پھر ہمارے کاغذات لئے اور ایک ہمارے سر پر ہی کھڑا رہا کہ مبادہ کہیں بھاگ نہ جائیں۔ دوسرا کاغذات لے ہمارے نام وغیرہ وائرلیس پر چیک کرواتا رہا اور کوئی پندرہ منٹ کے بعد ہمیں واپس دے کر سب اچھا ہے کی رپورٹ دےکر چلتا بنا، میں نے اس سے پوچھا کہ ہمیں ہی بلخصوص کی چیک کیا گیا ہے۔ کیا شک ہوا تھا تم کو۔ تو جواب ملا کہ “ روٹین چیکنگ ہے“۔
خرم کہہ رہا تھا سر جی کوئی بات نہیں ‌اب تو ہمارے لئے یہ واقعی روٹین چیکنگ ہوگئی ہے، چاہے عوامی بندے ہوں یا وزراء۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 08, 2006

عید مبارک

تمام دوستاں کو میری طرف سے ایڈوانس میں عید مبارک اور جو حج مبارک کی سعادت کررہے ہیں انکو حج مبارک، جو بکروں کو قربان کررہے ہیں انکو بکرا مبارک اور جو بکروں پر قربان ہورہے ہیں (قیمتوں کی وجہ سے) اللہ انکی قربانی قبول فرمائے؛ اور جو اس سال قربان ہونے سے بچ گئے ہیں اللہ انہیں طویل عمری عطافرائے۔ اس ساری تمہید کے امابعد عرضِ وجوہ ہے کہ بندہ بمطابق پروغرام کل یہاں سے عازمِ پاکستان ہورہا ہے۔ اور پرسوں ادھر کی عید کو چھوڑ کر اگلے دن پاکستان میں عید منانے کی توقع ہے۔ جو دوست قربانی کا گوشت بھیجنا چاہیں ست بسم اللہ، میں کسی کو مایوس نہیں کروں گا۔ پاکستان میں بیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود وہاں بہت سے ایسی شخصیات موجود ہیں جنکو بہر حال نیٹ پر فوقیت حاصل رہے گی، ویسے بھی پاکستان جاکر بندہ دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ بہر حال کوشش کروں گا گاہے بگاہے حاضری دینے کی مگر وعدہ وعید کا کوئی چکر ہیں ہے۔ وسلام اور بیس تاریخ تک کےلئے اللہ حافظ

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 03, 2006

اطالوی تعمیرات

گزشتہ سے پيوستہ
دنیا کے گنے چنے ممالک کی طرح اٹلی ایک مشہور اور جانا پہچانا ملک ہے ، جسکی بہت سی وجوہات ہیں ، مثلاُ سلطنتِ روم اور روم، مسولینی اور دوسری جنگِ عظیم کی کُٹ، لاطینی دانتے اور پیزا کا مینار، مافیا، سسلی کے پکوان اور پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑہ ان کے علاوہ سب سے بڑی وجہ اٹلی ميں خود کی موجودگی ہے، یاد رہے کہ پرویز مشرف کو مابدولت کے بعد اٹلی کی
سرزمین پر قدمِ رنجہ فرمانے کو شرف حاصل ہوا۔
اٹلی اپنی تعمیرات اور معماروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے کہتے ہیں کہ اٹالین پوری دنیا میں تعمیرات کے ماہر ہیں مگر یہ بات وہ ہی کہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے اٹلی صرف ٹی وی پر دیکھا ہے اور بیوی سے سناہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو آج پيزا کا مینار ٹیرھا ہوکر سجدہ ریزہونےکی کوشش نہ کررہاہوتا اور نہ ہی اسے رسوں سے باندھ کے رکھنا پڑتا کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ بولونیا نامی شہر میں بھی انہوں نے اپنی تعمیرات کی کوالٹی کی شہرت کےلئے دو مینار تعمیرکئے ہیں ایک ساتھ میں جن میں سے ایک ٹیڑھا ہے؛ فوٹو بغل ميں بطور ثبوت لگا دي گئي ہے ، اگر پھر بھي يقين نہ آرہا ہو توخود جاکرديکھيں۔
پس آپ کہہ سکتے ہیں کہ اٹلی کی کوئی کل سیدھی نہیں، اور نہ ہی کوئی گلی ساری گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہیں۔ ۔ بلکہ اگر پھر بھی آپ یہ سمجھیں کہ اٹالین معمار دنیا میں سب سے ماہر ہیں تو پھر آپ کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔
جاري ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 01, 2006

بارے اٹلی کے

اٹلی مغرب میں ہوتا ہے اور مغرب میں یورپ کے واقع ہونے کی وجہ سے یہ بھی یورپ میں ہی واقع ہے۔ البتہ اس کو جنوبی یورپ میں شمار کیا جاتا ہے، اٹلی میں رہنے والے اٹالین ہوتے ہیں اور کچھ نہیں بھی ہوتے۔ جبکہ کچھ اٹالین اٹلی سے باہر بھی پائے جاتے ہیں۔ ادھر عمومی طورپر اٹالین نہیں بولی جاتی بلکہ بہت سی مقامی زبانیں انکو “دیالیطو“ کہاجاتا ہے بولتے ہیں۔ جبکہ جو اٹالین اٹالین بولتےہیں وہ بھی گالی دیالیطو میں ہی دیتے ہیں۔ اور لطیفہ بھی دیالیطو میں۔ اٹالین کہتےہیں کہ گالی اور لطیفہ مادری زبان میں ہی مزا کرتا ہے، ہمارے شاہ صاحب کا بھی یہی خیال ہے کہ ان معاملات کےلئے پنجابی ہی موزوں زبان ہے۔ جو بندہ اٹالین نہ بولتا ہے تو اٹالین سمجھتے ہیں کہ اسکا تو دماغ ہی نہیں ہے اور اگر آپ کہہ دیں کہ “میں انگلیزے جانتا ہوں“ فوراُ آپکے عالی دماغ ہونے کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ دوسری بہت سے قوموں کی طرح جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں پھینٹی کھائی اٹالین کےلئے بھی انگریزی زبان ایک “ ہوا“ ہے اور انگریز قابلِ گردن زنی۔ میں کہتا ہوں کہ اٹلی میرا دوسرا وطن ہے تو میرے پاس اس کے کچھ جواز موجود ہیں۔ اول یہ کہ اس کا موسم پاکستان کی طرح یہ ہے یعنی گرمیں میں گرم اور سردیوں میں سرد۔ برفاں۔ جی۔ اور بعد یہ کہ یہ بھی نقشہ پر شمالاُ جنوباُ لیٹا ہوا ہے۔ شمال میں پہاڑ اورجنوب سارے کا سارا سمندر کے بیچ۔ پھر شمال اور جنوب میں منقسم بھی تو ہے۔ بلکل پاکستان کی طرح۔ پنجاب کے خلاف سندھ تو یہاں پر بھی شمال والے زیادہ ترقی یافتہ اور مالدار ہیں، انڈسٹریلیسٹ۔ اور جنوب والے دہقان و ماہی گر۔ شمال والوں کا خیال ہے کہ جنوب والے انکی محنت کا پھل کھا رہے ہیں اور جنوب والے کہتے ہیں کہ شمال والے انکے ساتھ بانٹ کے نہیں کھاتے۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

نياسال مبارک ہو

میری طرف سے جملہ احباب کو نیا سال مبارک ہو
اللہ کرے آنے والا سال سب کےلئے خوشیوں برکتوں اور رحمتوں سے بھر پور ہو، ملک و قوم کےلئے سلامتی اور امن کے پیام بر ہو۔ پوری دنیا میں سکون اور چین ہو۔
اورہم سب کی خوہشات و تمنائیں پوری ہوں۔ آمین

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش