Friday, July 17, 2009

قانونی حیثیت کا حصول، طریقہ کار

ما بعد اعلانات اور تبدیلیوں کے، گزشتہ روز حکومت نے اسمبلی میں گھریلو ملازمیں کو قانونی حیثیت دینے کے بارے قانون کا مسودہ پیش کردیا ہے، بعذریہ حلف نامہ خاندانوں کی معاونت و مرفحالی کےلئے کی گئی کاروائی کے۔
اٹالین، یورپی نیشنل، یا وہ غیریورپی جوکارتادی سوجورنو کے حامل ہیں، ان گھریلو ملازمین کو باقاعدہ طور پر کام دے سکیں گے جو 30 جون سے انکے پاس غیرقانونی طور پر ملازم ہیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر مالک کو ایک بیان حلفی جمع کروانی پڑے گی جس کے عوض بطور جرمانہ اسے مبلغ 500 یورو فی ملازم خزانہ میں جمع کروانا پڑے گا اور اسکے علاوہ اسکے خلاف کوئی مذید قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی۔
ہر خاندان زیادہ سے زیادہ ایک فرد کو بطور گھریلو ملازم اور 2 افراد کو معذوروں اور عمررسیدہ افراد کی دیکھ بھال کی مدد میں رکھ سکے گا۔ اس کےلئے انکو کم سے کم 20 ہزار یورو کی سالانہ آمدن ظاہر کرنا ہوگی، اگر خاندان میں صرف ایک بندہ کمائی کرنے والا ہے اور اگر ایک سے زیادہ کمانے والے ہوں اور کم سے کم آمدنی کی مد میں 25 ہزار یورو ہیں۔
معذور و عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کےلئے ملازم رکھنے کےلئے کم سے کم آمدن کی حد کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن اس صورت میں ذاتی معالج یا محکمہ صحت asl کی طرف سے خاندان میں معذور فرد کی موجودگی کے بارے میں ایک سرٹیفیکیٹ کی ضروت ہوگی۔ مگر یہ خاندانی معالج ہی ہوگا جو دو افراد کی معاونت کی ضرورت ہونے کے بارے سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔
جس نے گزشتہ فلوسی 2007 اور 2008 کے تحت ملازم کےلئے درخواست جمع کروائی تھی وہ اس کی قانونی حیثت کےلئے درخواست دے سکے گا مگر اس صورت میں خود بخود فلوسی کے ذریعے جمع کروائی گئی درخواست کو خارج کردیا جائے گا۔
ملازمین و مالکان کو اٹلی سے اسوقت تک نہ ہی نکالا جاسکے گا اور نہ ہی انکے خلاف کوئی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی مد میں فوجداری مقدمہ قائم ہوسکے گا جب تک انکی درخواستیں زیر غور ہوں گی اور قانونی حیثیت کے حصول کی صورت میں انکے خلاف بلکل کسی قسم کی کاروائی نہ کی جا سکے گی۔
ایک دفعہ درخواست کے معائنہ کے بعد اسکے قابل قبول ہونے کی صورت میں مالک اور ملازم دونوں کو امیگریشن آفس میں کونٹریکٹ پر دستخطوں کے بلایا جائےگا۔ اس موقع پر، ملازم اپنے اخراجات پر پرمیسو دی سوجورنو کے حصول کےلئے درخواست دے سکے گا، جس کے اخراجات آج تک مبلغ 70 یورو ہیں اور سیکورٹی کے قانونی کے لاگو ہونے کےبعد ان میں اضافہ ہوجائےگا۔
وہ شخص جس کو ماضی میں کاغذات کی عدم موجودگی یا اسکی پرمیسو دی سوجورنو کے ختم ہوجانے کی وجہ سے اٹلی سے نکالا گیا یا نکلنے کا حکم دیا گیا بھی اپنی قانونی حیثیت کے لئے درخواست دے سکے گا۔ البتہ جس کو سیکیورٹی، دہشت گردی اور مجرمانہ کاوائیوں کی مد میں، یا کسی ایک جرم کی مد میں جسے کے لئے باقاعدہ گرفتاری عمل میں لائی جاسکے، نکالا گیا یا نکلنے کا حکم دیا جا چکا ہے کے بارے کچھ نہ ہو سکے گا۔
احتیاج، زیادہ ہوشیار بننا مناسب نہ ہوگا کہ اگر آپ غلط بیان حلفیاں جمع کروائیں گے تو یہ ایک جرم ہوگا اور جعلی کاغذات کا پیش کرنے کی سزا چھ سال تک قید ہوسکتی ہے

Thursday, July 16, 2009

عورتیں مردوں کے برابر

آج کے اخبار لیگو کے مطابق، یہاں پر خواتین کی پینشن کی عمر کو ترتیب وار بڑھا کر مردوں کے برابر 65 برس کردیا جائےگا، اسوقت سرکاری ملازم خواتین کو 60 برس کے بعد جبکہ مردوں کو 65 برس کے بعد پینشن پر جانے کا حق ہے،
گزشتہ کئی برسوں سے عورتیں ہر شعبہ زندگی میں مردوں کی برابری کےلئے کوششاں ہیں، چند ماہ پہلے روم میں پارلیمنٹ کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور انکو بےوقوف بنانے والے مردوں نے احتجاجی جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ نعرہ تھا کہ ہمیں مردوں کے برابر کرو۔ حکومت نے کہا کہ لوجی ہوجاؤ مردوں کے برابر اور انہی کی عمر میں پینشن کو جاؤ، پس2010 میں پیشن کی عمر 61 برس اور بلترتیب 2018 میں 65 برس ہوجائے گی۔
اور برابری کرو۔۔۔۔

Friday, July 10, 2009

اٹلی میں غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔

آج کی خبروں کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ اور فلاحی امور کے وزیرا کے درمیان اٹلی کے اندر موجود بغیر کاغزات کے غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی، اس قانون کا اطلاق ستمبر سے ہوگا البتہ ابھی تک اسکی تکنیکی تفصیلات کا طے ہونا باقی ہے، اس قانون کے مطابق اٹلی کے اندر موجود بغیر کا غزات کے لوگ چاہے انکا تعلق کسی بھی ملک سے ہو گھر میں کام کا کرنے کا معاہدہ جمع کروا کر رہائشی پرمٹ حاصل کرسکیں گے، یہ معاہدہ اطالوی نیشنل یا پھر زیادہ عرصہ سے یہاں پر رہنے والے لوگ جو کارتا دی سوجورنو کے حامل ہیں ہی جاری کرسکیں گے۔
یاد رہے کہ چند ہی دن پہلے یہا ایک نیا قانون تحفظ کے نام سے پاس ہوا ہے جس کے مطابق اٹلی میں غیر قانونی رہنا ایک جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا مقرر کی گئی ہے اور غیرقانونی رہنے والوں کی مدد کرنے والے بھی پہلے جرمانہ کیا جائے گا، اس کی مخالفت تمام انسانی حقوق کی تنظیموں اور ویٹیکن نے اسے وحشیانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کی تھی۔

Saturday, June 27, 2009

مسلمان اور مسلمان

میاں جی طالبان بہت اچھے ہیں، لشکر طیبہ والے ان سے بھی اچھے ہیں، اسامہ بن لادن بھی بہت اچھا اور اسکی القاعدہ بھی اچھی، لشکر جھنگوی بھی اچھا اور سپاہ صحابہ بھی، وہ تمام بھی جن کو میں نہیں جانتا اور شاید آپ بھی نہ جانتے ہوں
مگر وہ اسلام اور مذہب کے نام پر توپ اٹھائے پھرتے ہیں، مزاروں پر دھماکے، جنازوں میں بلاسٹ،مسجدوں اور امام بارگاہوں میں کلاشنکوف بردار محافظ، سب اظہار ہے اس بات کا کہ لوگ مذہب کےلئے کس قدر کوششاں ہیں،
مگر ایک بات سب بھول رہے ہیں، کہ "لا اکرہ فی الدین، اور پھر وہ حدیث فرمان نبوی کہ جس کے ہاتھ، پاؤں اور زبان سے کسی کو نقصان پہنچے وہ ہم میں‌سے نہیں" یہ ہم میں‌ سے مراد میرے خیال شریف میں تو مسلمان ہی ہوسکتے ہیں،
تو پھر آپ بتائیں کہ یہ کون لوگ ہیں؟؟؟؟ انکا تعلق اگر نبی صلی علیہ وسلم سے نہیں ہے تو پھر کس سے ہے اور کون سا جہاں ہورہا ہے؟؟؟؟ مسلمان کو تنگ کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟؟؟

Friday, February 27, 2009

بمبئی دھماکے اور بریشیا کے پاکستانی

قصہ کچھ یوں ہے کہ آج کل اٹلی کے تمام ٹیلی ویژن چینلز پر بریشیا کے مدینہ ٹریڈرز پر چھاپے کی خبر ہے کہ اس جگہ سے بمبئی کے ہوٹل میں رقم بجھوائی گئ، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ رقم مبلغ 36ہزار یور تھی اور بھجنے والے انڈین تھا، کوئی کہتا ہے کہ دکان سیل ہوچکی ہے۔
مگر اصل صورت یہ ہے کہ اس ایجنسی سے کوئی 270 کے قریب یورو انڈیا منتقل ہوئے۔ جسکا ریکارڈ اس ایجنسی کے پاس ہے اوردکان اپنا کام کررہی ہے۔ یورپین میڈیا اور خصوصاُ اٹالینز کو تو خدا غیرملکیوں کے خلاف کوئی خبر دے مگر ہمارے لوگ بھی ان سے کچھ کم تو نہیں۔
اپنے دوستوں سے التماس ہے کہ کسی بھی بارے میں بیان جاری کرنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیا کریں کہ حقیقت کیا ہے۔
خوامخواہ کی افوائیں پھیلانا ایک بڑا اخلاقی اور مذہبی جرم ہے۔

Sunday, January 25, 2009

شادی ایک اختیاری رشتہ

شادی وہ واحد قانونی رشتہ ہے جو انسان کے ساتھ پیدائشی نہیں ہوتا، ورنہ بہن، بھائی، والدین، اولاد، چچا، کزن، ان سب کو اختیار کرنا کسی بھی انسان کے اختیار سے باہر ہے، بلکہ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو یہ رشتے چاہتے نہ چاہتے ہوئے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی فوت بھی ہوجائے تو یہ ہی کہاجاتا ہے کہ فلاں کا باپ، بہن، خالہ یا کزن فوت ہوگیا ہے، گویا رشتہ بہر صورت برقرار ہے۔
مگر شادی کا رشتہ ایسا ہو کہ جب چاہا ختم کردیا، تین طلاق اور میاں بیوی غیر ہوگئے۔ باوجود اس نا پائیداری کے شادی سب سے زیادہ قربت کا رشتہ ہے۔ ہر رشتہ میں کچھ حدود ہوتی ہیں مگر میاں بیوی کا ایسا قربت کا رشتہ ہے کہ انکے درمیان کچھ بھی تو نہیں ہوتا، گویا شادی دو بندوں کے ایک ہونے کا نام ہے۔
ہم ساری زندگی میں زمداریوں سے نبرد آزما رہتے ہیں تو پھر اس زمہ داری سے گھبرانے کا مقصد؟میں تو کہتا ہوں کہ جنہوں ابھی تک شادی نہیں کی وہ کرلیں اور جو کرچکے ہیں اس پر قائم رہیں، مجھے ذاتی طور پر ہمیشہ دکھ ہوتا جب سنتا ہوں کہ فلاں فلاں میں علیحدگی ہوگئی ہے۔
شومئی قسمت کہ رہتا بھی ایسے معاشرے میں ہوں جہاں اول تو شادی ہوتی ہیں نہیں ہے اور اگر ہوجائے تو ہنی مون پر طلاق کی بات شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے انسان کو سارے رشتے ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا ورنہ۔۔۔۔۔۔

Monday, September 15, 2008

اناللہ واناالیہ راجعون۔

پاک فضایہ نے امریکی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا، یہ دو دنوں میں دوسری ایک ہی طرز کی اور ایک اچھی خبر ہے، کم اس کم امریکیوں کی"کھوتی تھاں" بیٹھ جائے گی، امریکی بچے مجھے تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے " کمزور پر غصہ آتا ہے اور طاقتور پر ترس" کے مصداق ہر اس جگہ "پنگا" لینے سے گھبرائے نظر آتے ہیں جہاں آگے سے منہہ پر پڑے، جو ہم سے ٹکرائے گا وہ برباد ہوجائے گا،
آج کی خبروں کے مصداق قبائلیوں نے فوج اور ہموطنوں کے شانہ بشانہ بلکل اسی طرح دفاع کا اعادہ کیا ہے جیسے انگریز کے خلاف کیا گیا تھا، پہاڑوں کی چوٹیوں پر مورچے بن رہے ہیں اور انگریزوں کے زمانے کے مورچوں کی پھر سے صفائی ہورہی ہے۔ جنرل کیانی کی تصویر 200 روپئے میں فروخت ہورہی ہے۔ اس بندے کی اللہ حفاظت کرے ہماری قوم کے دلوں میں دھڑک رہا ہے کہ یہی وہ آواز ہے جو ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ایک زندہ قوم ہیں "ورنہ مردے بھی کیا خاک جیا کرتے ہیں" کے مصداق ہمارے پاس کیا ہے۔ وہ صدر مزاری جو مزاروں پر چادریں چڑھاکر امریکہ کو سدھارا یا وہ سید جو میراثیوں کے موافق ایک دن کہتا ہے کہ ہم زندہ ہیں اور دوسے دن اپنے زندہ نعش ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
اناللہ واناالیہ راجعون۔