ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

ہفتہ, جون 18, 2016

بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 

مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 


ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔  
شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 

میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 

  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔

دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 

تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 

اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔
مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔

نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔

مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



مکمل تحریر  »

سوموار, جون 06, 2016

روزے کی تیاریاں

اہو ہو کل روزہ پینڑاں ہے بابیو۔
ہیں جی، چل بچہ کچھ سامان ہی لے آئیں، 
دیکھ گھر میں کیا کیا ہے، کیا کیا لانا ہے
اچھا اور کچھ؟؟
پر دیکھنا روزہ بہت لمبا ہے، اوپر جون کا مہینہ بھی ہے
 
گرمی تو ہوگئی ہی ہوگی۔
 
جوس، نمبو، چار کلو چینی، شربت بھی تو پئیں گے
فروٹ، بابیو،
 
سارے فروٹ لانا، جو تازے ہیں وہ والے
ہاں اور کھجوریں بھی، وہ موٹی آلی، آچھا جی
اچار، الائیچی ہاں الائیچی اور دار چینی بھی، ان کا قہوہ پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔
 
سالن اچھا ہو، تاکہ دن کو بھوک نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کل کا سین تھا۔
 
آج پاکستان سے نسخے آرہے ہیں
 
پھکیوں اور معجونوں کے، قلاقند کے،
 
دیسی گھی اور مکھن
سرد مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔
 
تاکہ دن کو بھوک نہ لگے پیاس نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آج کا سین ہے۔
 
اور میں سوچ رہا تھا،
 
کہ اگر رمضان کے آنے کا مقصد بھوک اور پیاس سے بچنا ہی ہے تو پھر بندہ آرام سے دن کو کھانا کھائے اور پانی پئے۔ نہ رکھے روزے، آخر اللہ کو بھی تو ہماری بھوک اور پیاس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے،
 
وہ تو نیت دیکھتا ہے، وہ تو نیاز مندی دیکھتا ہے۔
 
مقصد تو تھا، کہ تو بھوک محسوس کر، پیاس محسوس کر، لڑائی جھگڑا ترک کردے، مسکین ہوجا۔
 
مسکین کی حالت کو محسوس کر، اور اسکی فکر کر۔
 
پر نہ ہم کو تو اتنا سوچنا ہی نہیں ہے۔
 اچھا آپ ہی بتاؤ روزے میں بھوک اور پیاس و کمزوری سے بچنے کے کچھ نسخے

سوری، یاد کرانا تھا، کہ رمضان میں عبادت ہوتی ہے،  نماز قرآن اور معافی  تلافی۔ دوسروں کا خیال رکھنا، 
نہ کہ پھاوے ہوئے پھرنا ۔ 





مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش

لوڈ ہو رہا ہے...