Tuesday, March 13, 2012

صوبے بنوالو

14 comments
فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

Friday, March 09, 2012

سنی، شعیہ یا مسلمان؟؟

10 comments
ابھی ٹی وی دیکھ رہا ہوں اور تکبیر چینل پر ایک مولبی صاحب بہت کڑیل قسم کی دھاڑی رکھ کر فرمارہے ہیں کہ وہ سنی ہی نہیں  جو پنج تن پاک کو نہ مانے،  شیعہ حضرات جو ہیں وہ خوامخواہ  سنیوں پر  الزام لگا رہے ہیں، 

میں نہیں سمجھ سکا کہ کیا یہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی مذاہب ہیں؟؟ جنکا مسلمانوں سے بھی کوئی لینا دینا ہے کہ نہیں؟؟  اور  یہ کہ  میں جو سیدھا سیدھا مسلمان ہوں ، جو اللہ کو ایک مانتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کے آخری نبی مناتا ہوں، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں، قرآن اور دیگر کتب اور انبیاء پر مکمل ایمان کی حالت میں ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے، کم از کم دانستہ ، کوئی ہے جو سمجھائے۔  

 میرا پھر کیا فرقہ ہوا؟؟

Thursday, March 08, 2012

ثقافتی ثالث،اٹلی میں تنتر منتر

0 comments
ساری روداد سننے کے بعد ہمارے علم میں  یہ بات بھی آئی  کہ اس گھر میں چند ماہ پیشتر کچھ لوگ آئے سادھو کی طرز کے جنہوں نے عجیب و غریب کپڑے پہنے ہوئے تھے اور منہ پر اور جسم پر رنگ ملا ہوا تھا،  جانے کس طرح گھر کے اندر گھس آئے اور انہوں نے کچھ توڑپھوڑ کی، کچھ اشلوگ پڑھے،  باپ گھر پر نہیں بلکہ عدالتی حکم پر کہیں اور رہ رہا ہے، بیٹا ماں کے کہنے سے باہر ہے اور وہ اپنی من مرضی کررہا ہے، اور اب یہ توڑ پھوڑ، شگون کچھ اچھا نہیں ہے، ارد گرد رہنے والی انڈین کمیونٹی کے بقول ان لوگوں نے کچھ اور گھروں میں اور پھر اس علاقے کے گردوارے میں بھی جاکرہلڑ بازی کی ، بدعائیں دیں اور کسی مائی کے بقول کچھ تنتر منتر بھی کیا، اٹالین لوگوں کے خیال میں یہ ٹن پارٹی تھی، کچھ انڈینز کے خیال میں یہ ڈھونگی تھے ، اس واقعہ سے چند دن پیشتر کسی نے چھوٹی بچی کو اسکول سے آتے ہوئے یا کسی اور موقع پر بیس یورو کا نوٹ پکڑا دیا جس پر کیسر کا رنگ ملا ہوتا تھا، انڈین معاشرے میں اسکو بھی تنتر گمان کیا گیا کہ اس گھر میں رہے گا اور اس گھر کی روزی بند ہوجائے گی،  آپ اور میں اگر ان سب چیزوں پر یقین نہ بھی کریں  اور فوراُ کہہ دیں کہ اوہو ہو یہ تو سب ٹھیٹیر اور ڈھونگ بازی ہے، سب ٹوپی ڈرامہ ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر یہ سب اسی گھر کے ساتھ ہی کیوں پیش آرہا ہے، ہر مصیبت انہی پر ہی کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکو کسی کی نظر لگ گئی ہو یا ان پر کسی نے جادو ٹونہ کردیا ہو، جس کو     بقول تنتر کہاجاتا ہے؟ یہ سب کچھ اٹلی میں ہی ہورہا ہے۔ 

Wednesday, March 07, 2012

ثقافتی ثالث، ہاتھ سے نکلتی اولاد

5 comments
گزشتہ داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے
اس خاندان کا بیٹا جو اب لڑکپن کی عمر میں  ہے اور ادھر اسکول پڑھنے کی وجہ سے اسکی مقامی  اطالوی زبان پر مناسب اور قابل استعمال حد تک دسترس ہے۔ یہ اس خاندان کا ترجمان ہے، کہیں پر جانا ہے کسی بھی دفتر یا محکمہ میں تو یہی ان کا چاچا بنا ہوتا ہے، اور ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہےکہ آپ کو کیا پتا، اس خاندان کی نگرانی کرنے والے لوگوں کے مطابق اس لڑکے نے ماں اور باپ کے ساتھ بدتمیزیاں بھی شروع کردی ہیں اور انکو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ کہ مجھے پچاس یورو دو نہیں تو  ۔ ۔ ۔،  مجھے لیوز کی جینز کی پینٹ لے کر دو نہیں تو، ۔۔۔۔ اسکول بھی اپنی مرضی سے جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے اتنے پیسے دو نہیں تو میں پولیس کو فون کردوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے، یا پھر سماجی خدمت والوں کو بلا لوں گا، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اپنی سے دوگنی عمر کے لوگوں سے ہے اور یہ کہ ان کا تعلق مختلف ممالک و مذاہب سے    کہے، زیادہ تر لچے ہیں اور کچھ پر نشہ کرنے و بیچنے کا بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے،   ان اداروں کے کارکنان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ لڑکا  پیسے دیتا رہا کہ اس کو عورتیں لا کردی جائیں،اب یہ پیسے کہاں سے اسکے پاس آتے رہے، اس بارے یہ علم ہوا کہ وہ پیسے اپنے والدین کو دھمکا کر ان سے لیتا رہا ہے،  ایک چودہ سولہ برس کا لڑکا اس روش پر چل نکلے کیا یہ نارمل ہے؟؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ       سب ٹھیک  ہے؟  کیا ان والدین کی اپنی اولاد پر پرورش پر شک نہیں کیا جاسکتا؟؟   کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ لڑکا جو خاندان کو اس معاشرے میں انسرٹ ہونے  میں معاون ہے اور پل کا کام کرتا ہے، اپنے آپ کو اتنا اہم سمجھنے لگا ہے کہ گویا وہ اپنے والدین کا بھی  چاچا ہے۔  کیا اسکو والدین کی کمزوری لیا جائے گا  یا ادھر کے اداروں کو اس تربیت کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟؟ 

Friday, March 02, 2012

ثقافتی ثالث، چلتے ہو تو اٹلی کو چلئے

4 comments
معاملہ  انڈیا سے تعلق رکھنے والے  ایک سکھ خاندان کا ہے، جو باپ   ، ماں، سولہ سالہ بیٹے  اور دو چھوٹی بیٹیوں  پر مشتمل ہے۔ باپ جو سن بانوے میں اٹلی آیا اور اسکاتعلق پنجاب کے ایک گھرانے سے ہے  جو زمین کا مالک ہے ، مطلب کھاتے پیتے لوگ،  ماں  اٹلی میں دس برس  بل آئی  ، شادی کے  چند برس بعد ، تب یہ لڑکا اسکی گود میں تھا،  دو چھوٹی بیٹیاں انکے ہا ں ادھر اٹلی میں  پیدا ہوئیں۔باپ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جہاں پر اسے مٹی وغیرہ کو ہٹانا ہوتا ہے، بہت ہی گندا اور بھاری کام، بقول اسکے بہت ہی غلیظ کام ، جو میرے علاوہ کوئی کرنے کو تیار ہی نہیں ہے، جبکہ میرے پاس اور کوئی چارہ  نہیں، پس اس نے شراب پینی شروع کردی اور ٹن ہوکے پیتا، وجہ اس لال پری کی یہ بیان کرتا ہے  کہ پیتا ہوں غم کو مٹانے کو اور ٹینشن کو گھٹانے کو۔
ماں انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکا دادا پنڈ کا لمبردار ہے نہ صرف  بلکہ گرہنتھی بھی ہے، اپنی طرف  امام صاحب کہہ لو۔     شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی  شادی کے پورے نو ماہ بعد انکے بچہ پیدا ہوا۔
یہ  ادھر بسنے والے ہر دوسرے خاندان کی  فوٹو اسٹیٹ ہے جو پنجاب سے ادھر آبسا،   یہ خاندان اداروں کی نظر میں اس وقت آیا جب   ایک شام کو  یہ بزرگ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ چہل قدمی فرماتے ہوئے سڑ ک  پر لڑھک  پڑے اور غین ہوگئے۔  بچیاں جو دس اور آٹھ برس کی ہیں اپنے والد کو سنبھال نہ سکیں اور  ڈرکر رونے چلانے لگیں،  چلتے پھرتے راہگیروں میں سے کچھ لوگ نزدیک ہوگئے اور کسی نے  پاس سے گزرتی ہوئی پولیس کی گاڑی کو ہاتھ دے لیا، ادھر پولیس  صرف مجرم ہیں پکڑتی بلکہ ہر ایمرجنسی میں آپ کی معاونت کرنے کی ذمہ دار ہے،  پس ایمبولنس بھی کال ہوگئی اور سردارجی کو  اٹھا کر ہسپتال پہنچادیا گیا، جہا ں پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ٹن  پڑے ہیں،  اور انکے اندر الکحل کی موجودگی  کا درجہ دوسو بیس پایاگیا ، بس الارم کھڑک گئے، کہ  دیکھو یہ کیسا باپ ہے جو اس حالت میں  پایا گیا کہ بجائے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرسکتا  خود سے بھی بے خبر ہے،  یہ واقعہ ایک برس پیشتر کا ہے، بس پھر تفتیش شروع ہوگئی اور ادارے حرکت میں آگئے، معاملہ عدالت تک پہنچا تو عدالت نے فوراُ فیصلہ سنا دیا کہ اس نشئی بندے کو اس طرح بچوں کے ساتھ نہیں رہنے دیا ، جاسکتا، بہت برا اثر پڑے گا ان پر،  پس   عدالت کے حکم پر سردار جی کوگھر سے بے دخل کردیا گیا، کہ جاؤ میاں اپنا بندوبست کرو،  اور   ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مسائل کی ماہر، ایک ایجوکیٹر،  اور ایک ثقافتی ثالث  کو تعینات کردیا گیا کہ لو جی  دیکھو ذرا اس خاندان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

ثقافتی ثالث

2 comments
ایک بندہ  جو دوسرے ملک میں جابستا  ہے اور مہاجر کہلاتا ہے ثقافتوں کے درمیان  پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ مہاجر ثقافتی ثالث کب بنتا ہے؟؟
ثقافتی ثالث ایک ایسا بندہ ہے جو کو اٹلی میں کچھ عرصہ سے رواج دیا گیا، ایک بندہ جو اٹلی کی زبان کو ہی نہیں بلکہ ادھر کے ماحول کو اور سماجی معاملات کو بھی اچھی طر ح سمجھتا ہو، نہ صرف بلکہ اپنے  یا دوسرے ملک کی ثقافت اور سماجی معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہو، جو ادھر کے رہن سہن کا ادھر کے معاملات سے موازنہ کرسکے،  سماجیات کے اس شعبہ میں اب اٹالین لوگ بھی بہت دلچسپی سے شامل ہونے لگے ہیں مگر۔۔۔
روداد ایک میٹنگ کی جو ویرونا یونیورسٹی اور سماجی و صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان تھی اس ملاقات میں کوئی بیس کے قریب لوگ  کی موجودگی  اس بات کی غماز تھی کہ معاملہ کچھ سیریس ہے،   یونیورسٹی کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کے تین پروفیسرز،  کوئی دس کے قریب  سماجی و معاشرتی اداروں اور غیر حکومتی  انجمنوں کے ماہرین،  پاکستان اور انڈیا کے پنجاب کے  مختلف علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  ہم تین بندے اور دو بندیاں۔  یہ بندے بھی وہ جومعاملات میں اپنی رائے رکھتے ہیں،  جو پنجاب کی ثقافت کو بھی جانتے ہیں اور اطالیہ کے معاملات زندگی پر بھر پور نظر ہی نہیں رائے بھی رکھتے ہیں۔  پنجاب سے اٹلی میں ہونے والی ہجرت کے فنامنا کو  دیکھنے  اور اسکا  مطالعہ کرنے کے پروگرام کی ایک نشست کا احوال ،  ایک کڑی نظر ہمارے ارد گرد  پر ۔ 
میری کوشش ہوگی کہ اس چار گھنٹوں کی نشست کا احوال من وعن کے ساتھ بیان کروں،   سب ایک ساتھ لکھنے کی بجائے مختلف حصوں میں  واقعات بیان کرتے ہوئے ، جو سوالات اٹھتے ہیں اور جو معاملات سامنے آتے ہیں انکا تجزیہ بھی  آپ کے ساتھ شئر کرسکوں

Thursday, February 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی

4 comments

ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


Wednesday, February 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

4 comments
راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


Saturday, February 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

3 comments
ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


Thursday, February 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

5 comments
سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ