جمعہ, ستمبر 07, 2018

عاطف میاں قادیانی اور باوا ریمتے

تحریر راجہ افتخار خان۔ باباجی
اس ماہر معاشیات کی بہت اہمیت ہے، ہیں جی۔ اس وقت پوری دنیا میں اس جیسا کوئی نہیں۔ 2014 سے یہی سنتے چلے آرہے ہیں
یہ اتنا بڑا اکانومسٹ ہے کہ حکومت اپنی ناس مارنے کو تیار ہے اس کےلئے۔ ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ کیا کہتے پنجابی میں "اسیں تے جاواں گے کوور دیاں کندھاں تک"۔ ہم تو اسکے پیچھے قبر کی دیواروں تک جائیں گے۔ 
بہت آسانی سے معاملہ ختم ہوسکتا تھا۔ حکومت رجوع کرلیتی اور بات ختم
لیکن
معاملہ کو علماء کرام کے سامنے رکھنے کا پروگرام
کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ سپریم کورٹ میں لایا جاوے۔ 
اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تبدیلی کے پیچھے کون لوگ تھے۔ 
اب اول صورت میں تو زیادہ فکر کی بات نہیں لیکن اگر سپریم کورٹ میں کھیل جاتا ہے تو چاہے تو "باوا ریمتے" ختم نبوت کے قانون کو ہی ادھیڑ کر رکھ دے۔ 
کیونکہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ فیصلہ آئین و قانون کے مطابق نہیں کرتا بلکہ جو اسکی مرضی ہوتی ہے وہ کرتا ہے۔ اقامے پر وزیراعظم کوجیل بیجھوا سکتا ہے اور سیکنڑوں بندوں کے مفرور قاتل کو باعزت کھر بھیج سکتا ہے۔ تھپڑوں کے پیسے ڈیم کو دلوا سکتا ہے، باجود کہ تھپڑ بندے کو پڑے، 
پس یہ طے ہوا کہ "باوے ریمتے کا قانون"چلتا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ 
ایک زمانے میں ایک ملک کے ایک گاؤں میں باوا ریمتے ہوتا تھا۔ جو اچھی اچھی باتیں سناتا تھا اورکبھی کبار لوگوں کے فیصلے بھی کرتا تھا۔ ایک دن گاؤن کے نڈھے بچوں نے کنوئیں میں "موت" دیا مل کے۔ گاؤں میں ہال ہال کار مچ گئی۔ اب مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ کنواں پاک کس طرح کیا جائے؟؟ معاملہ باوے ریمتے کی عدالت میں پیش ہوا۔ اب باوا جی نے فیصلہ دیا کہ "ہل کو کھڑا کرلو اور روٹیان پکا پکا کر اسکے اوپر رکھنا شروع کردو۔ جب ہل روٹیوں میں دفن ہوجائے، تو کنویں میں سے سو ڈول پانی نکال دیا جائے اور روٹیاں میرے گھر بھیج دو۔ 
کنواں پاک ہوجائے گا۔ 
ایک بابا جو بہت "کھوچل" تھا، بولا:
"پر باوا ریمتے ان بچوں میں تو تیرا لڑکا بھی تھا"۔ 

تس پر باوا ریمتے بولے" اہو، ہو۔ وہ تو ہے ہی بہوت رامدا" چلو اسطراں کرو" تسیں ہل لمی پالو اور اوپر روٹی روٹی کرلو"۔ 
جییسا کہ ہم نے بنی گالہ لینڈ میں خانجی کے گھر کے اجازت نامے بارے دیکھا ہے۔ کہ محکمے کو آرڈر دیا کہ "اجازت نامہ بنوا کر لاؤ:، لائے تو کہا کہ "اجازت نامہ ہوگیا ہے۔ کیس خارج"۔ چلو نکلو۔ 
تو جنابو۔ احوال کچھ یوں ہے کہ دونوں صورت میں ایک بات ہوگی۔ قادیانیت کے مسئلہ کو پھر سے کھڑا کیا جائے گا۔ بحثیں ہونگی۔ میڈیا ٹرائل ہوگا، کالم لکھے جاوین گے۔ انکے حق میں اور مخالفت میں دلائل دئے جاویں گے۔ ۔ اور ہمارا میڈیا تو پیسے لیکر انکے اشتہار اب بھی چھاپ دیتا ہے۔ یہ آج ہی آپ نے دیکھ لیا ہے۔ 
اگر تو فیصلہ انکے حق میں آیا تو پھر پرانے مظالم کا بدلہ طلب کیا جائےگا۔ چاہے تو قانون ختم نبوت کو ہی ختم کرنے کی تحریک پیش کردیں۔ 
اب انکا کورم بھی پورا، پی پی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ 
اگر فیصلہ خلاف آیا تو پھر پوری دنیا میں قادیانی اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کو پیٹیں گے۔ رنڈی رونا ہوگا اور چاہے تو بیس پچاس لوگ پھڑکوا بھی دیئے جاویں۔ 
نتیجہ ملک کے اندر دنگا فساد کا ہونا۔ اور اسکے بعد ہولوکاسٹ کی طرز کی کہانی بنا کر، اسرائیل کی طرز کا ملک پاکستان میں سے نکالنے کی کوشش کی جاوے گی تاریخ کی طرف تھوڑے سے بھی متوجہ لوگ جانتے ہین کہ ماضی قریب میں ایسا ہوچکا ہے۔ ایک صدی پہلے کا ہی تو قصہ ہے۔ 
عالمی تحریک ختم نبوت یقیناُ اس معاملہ کو بغور دیکھ رہی ہے۔
میں نے اپنے ایک اندیشہ کا مولانا سہیل باوا صاحب سے ذکر کیا تھا۔ تو انہوں نے بھی اسے درست قرار دیا۔ 
خدشہ یہ تھا کہ:
" میں نے کافی جگہ پر پڑھا اور سنا بھی کہ 1920 میں قادیانیوں کو ربوہ کی جگہ 100 برس کےلئے لیز پر دی گئی۔ اب سو برس پورے ہونے کو ہیں۔ قادیانی سرگودھا کے قریب کئی گنا قیمت دے کر زمینیں خرید رہے ہیں۔ اور اسکےلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ پیسہ۔ طاقت، دھمکی، لینڈ گریبنگ۔ اور لوگ بھی بیچی جارہے۔ بلکل فلسطینیون کی طرح۔ ایسے میں خان جی کی حکومت کا شروع میں ہی کئی لاکھ مکان بنانا۔ پہلے خطاب میں ہی سرکاری زمیںوں پر گھر بنانا۔ شیخ رشید نے ریلوے کی زمین کے بارے بھی یہی منشور دیا ہے۔ اور اس پر سونے کا سہاگہ قادیانی ماہرمعاشیات لانا جو ایکٹویسٹ بھی ہے۔ 

کہیں وہی فلسطین والا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا، کہ کچھ کچھ قوانین بنا کر۔ کچھ سرکاری زمینیں انکو الاٹ کی جائیں اور کچھ یہ خرید لیں۔ پھر ادھر اپنی آبادی بڑھائیں اور دو تین دھائیون بعد ایک اور قادیانی ریاست کا بطریق اسرائیل اعلان کردیا جائے جو پاکستان کے عین قلب میں واقع ہو؟؟؟ جب کوئی علاقہ کسی گروہ کی ملکیت ہوگا تو وہ پرائیویٹ پراپرٹی کہلائے گا۔ پھر ادھر انکے اپنے قوانین لاگو ہونگے۔ 
تب تک قادیانیت کو جسے ہم بھول گئے تھے۔ عوامی بحث میں لایا جائے اور میڈیا کےزریعے لوگوں کے دلوں میں اسکےلئے ہمدردیان پیدا کی جائیں۔ 
بات ہے خوفزدہ کرنے والی۔
اور صورت حال ہمارے اندازے سے زیادہ خراب ہے۔ آپ بھی سوچئے گا. اور دعا کیجئے کہ میرے اندیشے غلظ ثابت ہوں۔ 
بہرحال امید کی کرن یہ ہے کہ "وللہ خیرلماکرین"۔
#قادیانی_فتنہ


مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 17, 2018

کم کھانا ہی فائدہ مند ہے

تو پھر چینی نہیں کھانی چاہئے؟؟ بلکل بھی نہیں۔
وہ کیوں؟؟ پر چینی تو طاقت دیتی ہے۔ اب بندہ چینی نہ کھائے تو کیا کھائے؟؟
بلکل چینی طاقت دیتی ہے، اور مٹھائی کھائیں، پر آپ اس طاقت کا کرتے کیا ہیں؟؟
جواب ندارد
ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارا طرز زندگی بہت تیزی سے بدل گیا ہے۔ جسمانی مشقت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور خوراک کی دستیابی بہت ہی بڑھ چکی ہے۔

ہمارے دماغ وہی سوچتے ہیں۔ کہ یہ کھالو، یہ بھی کھالو، کھانا پلیٹ میں مت چھوڑو۔ کھانا بچے نہیں۔ یہ سب اس زمانے کی باتیں تھیں جب کھانا کم ملتا تھا اور مشقت زیادہ ہوتی تھی۔
اب اسکے الٹ ہوگیا ہے۔ تو سوچنا بھی الٹ ہوگا۔ کھانے سے پہلے سوچنا ہوگا مجھے بھوک ہے؟؟ کیا میرا پیٹ خالی ہے؟؟ اگر بھوک نہیں ہے تو کھانا مت کھاؤ۔ ناغہ کردو۔ اگر پیٹ خالی نہیں ہے تو کھانے میں دیر کردو۔
مٹھائی کھانی ہے تو 20 کلومیٹر پیدل چلنے کا بھی سوچ لو۔   کوشش کریں کہ آپ کی خوراک ہی آپ کی دوا ہو۔ اس لئے ٹھونسنے کی بجائے کیا کھا رہے ہیں؟؟ اور کیوں ؟؟ کے سوالات اپنے آپ سے کیجئے اور انکے جواب تلاش کیجئے۔

ایک مریضہ سے گفتگو، جسے شوگر، بلڈ پریشر۔ کولیسٹرول اور وزن زیادہ ہونے کے مسائل تھے, یہ سارے مسائل، بسیار خوری، چینی، نمک اور کاربوہائیڈریٹس کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہیں۔
یاد رکھیں، میٹابولک سینڈروم ہمارے آج کا گمبھیر مسئلہ ہے جس پر بگ فارما مال کما رہا ہے اور بات کرنے سے گریزاں ہے۔
کیونکہ اس کا مریض بیک وقت، شوگر کی دوائی۔ کولیسٹرول کی گولی، سٹامک پروٹیکٹر، بلڈپریشر کی گولی۔ وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں۔ پھر نیند کی گولیاں ، وزن کم کرنے کی دوا۔ بھی لینی ہوتی ہے۔ اسکے بعد سردرد اور جسم میں درد بھی شروع ہوتا ہے ، یہ تو عام سی بات ہے اب اسکی دوا بھی لازم ہوتی ہے۔   آپ کے اردگرد نظر دوڑانے سے کتنے ہی ایسے بندے ملیں گے جو اس صورت حال کا شکار ہیں۔ ان کو  غور سے دیکھیں۔ اور ان عادات کو ختم کریں، خوراک کو قابو  میں لائیں اور گیم وغیرہ شروع کریں۔   بیچ بیچ میں روزے بھی رکھ لیا کریں۔  ثواب کا ثواب اور فائدے کا فائدہ۔
ہاں یاد آیا، کینسر کے خلیات آکسیج کی کمی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اورشوگر  انکی خوراک ہوتی ہے۔ پس صبح کی سیر اور چینی کی کمی سے کینسر کے رسک کو بھی کم کرسکتے ہیں۔ پر صبح جاگنا " جوان دی موت اے"۔
۔ پہلے اپنی۔ پھر اگر ممکن ہو تو انکی بھی مدد کریں۔  ورنہ آپ کو میرے علاوہ اور کس نے یہ باتیں بتانی؟؟  ہیں جی۔  اب اپنی روزی پر لات مارنے کو کس کا دل کرتا ہے؟


مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 27, 2018

افراتفری کا حصہ مت بنو

نوازشریف نے غداری کردی ملک کے خلاف بیان دے دیا
یہ ڈاکو ہے، لوٹ کے لے گیا
اس پر مقدمہ چلایا جائے، اسکو پھاہے لگایا جائے
بلکل ٹھیک
آئی آیس آئی کے سابق چیف نے را کے سابق چیف کے ساتھ ملکر کتاب چھاپ دی
اوہو ہو، یہ تو بڈھا کھوسٹ ہے
اس پر مقدمہ چلایا جائے اسکو پھاہے لگایا جائے، 
بلکل ٹھیک
آئی ای آی کے ایک کرنل اوسامہ بن لادن کی خبر امریکیون کو دی تھی
اسکے بیٹے کا مشرف اور ایک بھارتی کے ساتھ ہسپتال کا کاروبار ہے
یہ سب رلے ہوئے، انکا کورٹ مارشل کرنا چاہئے۔ 
بلکل ٹھیک۔ 
اس سے پہلے ہم پنج ست وزراء توہین عدالت کے چکر میں گھر بٹھا چکے ہیں۔ 
چیف جسٹس متنازع ہوچکا ہے ۔ لوگ اسکو سرعام گالیاں دینے پر آچکے ہیں۔ 
یہ سب ادارے ہیں۔ وزیراعظم، سربراہ حکومت، فوج کا سربراہ، اینٹلی جیسنس ایجنسی کا سربراہ، عدلیہ کا سربراہ۔ یہ سب اپنے اپنے اداروں کی علامت ہوتے ہیں۔ یہ گندے تو ادارے گندے۔ 
پس تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ میندک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دینے سے مینڈک بہرہ ہوجاتا ہے۔ کے مصداق نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
ملک کے ہر ادارے کو ذلیل کرکے، رگید کر ملک میں ایک افراتفری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اداروں پر سے اعتماد ختم کرکے، بےاعتمادی اور بے یقینی کو جنم دیا جارہا ہے، اسکے بعد ہی افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ پوری دنیا سمیت ہمارے ملک میں بھی دودھ کے دھلے نہیں ہے سب، بلکہ حرامدے بھی ہین۔ ضمیر فروش ہر جگہ پاجاتے ہیں۔ 
لیکن انہی سے کام چلانا ہوگا۔ انکے بعد آنے والے کوئی انبیائے کرام میں سے نہین ہونگے، ان سے بھی غلطیاں ہونگی، جرائم بھی۔ پس غلطی اور جرم کو برا سمجھیں اور کہیں بھی 
لیکن
اپنے ملک کے اداروں کے خلاف خبریں مت پھیلائیں اور اس سازش کا حصہ مت بنیں۔ بلکہ اس طرح کی متنازع خبر آنے پر اسکو روکیں اور اسکی نشریات کو بند کرنے کا باعث بنیں۔ اور ٹی وی ٹالک شوز مت دیکھیں۔ یہ سب جانے کتنے پیسے کھا کر ادھر بیٹھ کر بواسیر کو پروان چڑھارہے اور اپنے دماغ ثانوی کو استعمال کرتے ہوئے زبانیں ہلا رہے
فیس بک، ٹوئیٹر اور وھاٹس اپ پر عدالت مت لگائیں۔
ورنہ نہ رہے گا بانس ن بجے گی بانسری 
ہم بحثیت قوم بہت ہی پریشان کن صورت حال کا شکار ہیں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 19, 2018

میٹابولک سینڈروم اور رمضان المبارک

میٹابولک سینڈروم  اور رمضان المبارک
Metabolic syndrome
تحریر  ڈاکٹر راجہ افتخار خان، ہومیوپیتھ ، کنسلٹنٹ ھیرنگ لیبارٹریز اٹلی۔
رمضان المبارک میں چونکہ سب سے اہم کام جو ہوتا ہے اور ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے وہ ہے کھانے پینے اور خواہشات کو قابو میں کرنا۔
اسی مد میں میٹابولک سینڈروم کو بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔
میٹابولک سینڈروم کیا ہے؟؟
یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کے اندر ہونے والی میٹابولک تبدیلیوں  کو معمول سے ہٹا کر پیدا کردہ ترتیب دیتے ہوئے جسم کی خود کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو تکلیف دہ اور بعد میں زندگی کےلئے بھی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
وضاحت کے طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ  اگر کسی شخص کا وزن اچانک بڑھ جائے ، بلخصوص پیٹ پر چربی کا جمع ہوجانا اور گردن موٹی ہوجانا، اور  بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول،  کا درجہ معمول سے زیادہ ہوجائے تو وہ شخص میٹا بولک سینڈروم میں انتہائی درجہ پر  مبتلا ہے۔ اگر ان چاروں فیکٹرز میں سے تین بھی موجود ہوں تو اسکو میٹابولک سینڈروم ہی کہا جاوے گا۔ اگر دو ہوں مثلا، وزن کا بڑھ جانا اور شوگر ،  یا کولیسٹرول اور بلڈپریشر کا زیادہ ہونا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میٹابولک سینڈروم کے رستہ پر چل پڑا ہے۔ اگر صرف وزن زیادہ ہوگیا  ہو تو اسکو میٹابولک سینڈروم کے راستہ کی طرف جانا کہا جائے گا۔ یعنی یہ بھی الارمنگ ہے۔ بلخصوص اس صورت میں  کہ اگر والدین یا موروثیت میں کسی کو اس  صورت حال کا سامنا رہا ہو تو۔
چونکہ یہ بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کی خود سے ہی پیدا کردہ صورت حال ہے تو اسکو دوا دے کر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی طریقہ علاج میں اسکا شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اب یہ ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طب یونانی ، اسپاجیریرک میڈیسن یا پھر اکوپنکچر یا سرجری۔ کسی طور پر اسکا فوری اور مکمل علاج ممکن نہیں۔

میٹابولک سینڈروم کیوں ہوتا ہے؟؟
اسکی وجوہات نامعلوم ہیں  جو وراثتی بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن اسکےلئے ایک بڑا فیکٹر خوراک میں غیرضروری طور پر چینی کا اضافہ ہے۔
یہ چینی جسم میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ وہ افراد جو محنت مشقت کا کام کررہے ہوتے ہیں یا پروفیشنل کھلاڑی وہ تو اس کو استعمال کرلیتے ہیں،  اسکے کے برعکس دفتری کام کاج کرنے والے، یا سہل و آسان زندگی گزارنے والے افرادکےلئے یہ فالتو چینی اور فوری توانائی کسی کام کی نہیں ہوتی بلکہ اسکو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
ہماری خوراک میں ھائی گلیسیمک انڈیکس  (high glycemic index food)کا اچانک اور بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں، چینی، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرینکس، بیکر ی اور مٹھائیاں، روٹی چاول ، پاستہ ، بریڈ اور گندم کے آٹے سے بنی ہوئی دیگر اشیاء،
سبزیوں میں آلو، مٹر، پھلوں میں، انگور، تربوز، کیلا، آم  وغیرہ ہیں۔  یہ وہ خوراکیں ہیں جنکے کھانے کے پندرہ سے تیس منٹ کے بعد آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار سے بڑھ جاتی ہے۔
اسکے علاوہ خوراک کی مقدار کا بہت زیادہ ہونا اور بار بار کھانا  بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوتاہے۔
ہوتا یوں ہے کہ جب جسم کے اندر گلوکوز کی بڑی مقدار پہنچتی ہے اور فوری طور پر توانائی دستیاب ہونے کی وجہ سے ہم چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ اب اس چستی کو فوری طور استعمال کرلیا جائے، جسمانی مشقت یا فیزیکل ایکٹیویٹیز کے ذریعے تو ٹھیک ہوگیا، ورنہ اس گلوکوز کو فوری طور پر  ٹھکانے لگانے کےلئے جسم انسولین کو پیدا کرتا ہے جس اس شوگر چربی کی صورت دیتا ہے، پھر کولیسٹرول کو خارج کیا جاتا ہے تا کہ اس گھومتی ہوئی چربی (فیٹ) کو کسی مناسب جگہ تک پہنچا کر ٹھکانے  لگائے (ڈیپازٹ کرنا)۔
گویا
اس ایک چینی یا گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے انسولین، چربی اور کولیسٹرول بیک وقت جسم میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سے خون کا  حجم بڑھ جاتا ہے اور بلند فشار خون( ہائی بلڈپریشر ) کا باعث بنتا ہے۔
ممکنہ خطرات
میٹابولک سینڈرم کی موجودگی   صحت کےلے ذیل کے خطرات کا باعث بن  سکتی ہے، ہارٹ اٹیکس(myocardial infraction)،    ذیابیطس ٹائپ 2، انسولین کے خلاف قوت مدافعت کا پیدا ہوجانا، شاک (cerobrovescolar disease)۔  جلد موت کا واقع ہوجانا۔

مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے، تو اسکا حل بھی سمجھ آگیا ہوگا؟
جی بلکل، چینی اور ھائی گلیسیمک انڈیکس والی خوراک کا بہت ہی کم استعمال۔
اگر آپ کو شوگر نہیں ہے
تو
کھانے میں سے، چینی۔ چائے کافی میں، شربت میں۔ جوسز، سافٹ ڈرنکس کولے وغیرہ  کو منع کریں
بیکری کا سامان اور مٹھائیاں منع کریں
روٹی، بریڈ، چاول  یا گندم کی دیگر اشیاء  سے دور رہیں۔
پھلوں میں سےتربوز،  کیلا، آم اور انگور سے پرہیز کریں
سبزیوں میں، آلو اور مٹر سے دور رہا جاوے۔
تیل اور بناسپتی گھی کی مقدار بہت ہی کم کردیں۔
اپنے کھانے کی مقدار کم کردیں۔
اب آپ کے دماغ میں آرہا ہوگا کہ کھایا کیا جاوے۔ تو جناب  باقی کا سب کچھ ہے۔
  آپ کے پاس گوشت، مچھلی مرغی، انڈے پنیر، دہی دودھ سب ہے۔ اسکے علاوہ  پھلوں میں خربوزہ۔ انار، انجیر، چیری، اسٹرابری، خشک میوے، آڑو، سیب خوب کھائیں۔
دالیں کھائیں، سبزیاں کھائیں۔ سبز پتے والی اور زمین پر اگنے والی سبزیاں اور زیرزمین اگنے والی سبزیاں۔
رمضان الکریم برکتوں کا مہینہ ہے اس میں  ویسے ہی رک جانے کا حکم ہے تو آپ اوپر دی گئی چیزوں سے رک کر اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت بحال کرسکتے ہیں۔

سحری کا پروگرام
ایک پیالہ  دلیہ، کارن فلیکس  نٹس  اور دودھ۔   چائے کی پیالی، پانی کے دو گلاس
یا پھر فروٹ ، چائے پانی کے دو گلاس
یا پھرآملیٹ، چائے، پانی کے دوگلاس
یا کچھ اور جو آپ کو پسند ہو دہی وغیرہ
افطار  کا پروگرام
دوعدد کھجوریں، اس سے زیادہ نہیں۔ پانی کا گلاس اور مغرب کی نماز
اسکے بعد، چار پکوڑے یا دو سموسے یا ایک پلیٹ چنا چاٹ، یا پھر گوشت یا دال  یا سبزیوں کا سوپ ، کھانا ایک نشت میں نہ کھائیں
اور جب بھوک ختم ہوجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔  اپنے کھانے بدلی کرتے رہیں۔ مصالہ جات نہ چھوڑیں، چسکا برقرار رہنا چاہئے۔
اس ضمن  میں مدد کےلئے اپنے ہومیوپیتھ سے آپ ایناکارڈیم، فیوکس، اینٹی مونیم کروڈ، نامی ادویات  ڈسکس کرسکتے ہیں۔
یاد رہے سینڈروم کو قابو کیا جاتا ہے اسکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات کو ختم کرنا ہوتا ہے جو اس سینڈروم کا باعث بنتے ہیں۔ خوراک  کا کم استعمال، خوراک کا محتاط استعمال، جسمانی وزش۔  اگر ضروری ہوتو کچھ ادویات بھی معالج کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں۔

اگر آپ کسی بات کی وضاحت درکار ہے تو کمنٹ میں لکھ دیجئے، جواب دینے کی بھرپور کوشش کی جائے گی





مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 09, 2018

وائرل ھیپاٹائیٹس ، ایک ایمرجنسی Hepatitis

دو دھائیاں قبل جہلم میں  فیملی فزیشنز ایسوس ایشن کا ایک جلسہ ہوا تھا۔ آپ سیمینار کہہ لو، اس کے مہمان خصوصی  ڈی سی صاحب تھے، اس میں جلسہ میں میرا مقالہ تھا  ہمیں ایڈز کی بجائے ھیپاٹائیٹس پر توجہ دینی چاہئے۔
ان دنوں میں ایڈز کا بول بالا تھا، مغرب میں  ایڈز کے کافی کیسز سامنے آچکے تھے اور اس کا علاج دریا فت نہ ہونے کی وجہ سے اسے ایک ہولناک عفریت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ہسپتالوں و دیگر این جی اوز کو اس  کی اگاہی اور روک تھام کےلئے متحرک کردیا گیا تھا۔

اس وقت وطن عزیز میں ایڈز کے پازیٹیو مریضوں کی تعداد  280 تھی، وہ بھی باہر سے آنے والے لوگ تھے۔ اب ایڈز کے پھیلنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، جنسی تعلقات  اور انتقال خون کے ذریعے۔ دوئم الذکر کو تو قابو کرنا آسان ہے بس خون  کو چیک کرلیں۔ جبکہ اولذکر مغرب کےلئے تو ایک المیہ ہے مگر  وطن عزیز  میں اسلامی تہذیب کی وجہ سے  شادی سے باہر جنسی تعلقات بہت کم ہوتے ہیں، اس میں  بڑی رکاوٹیں، گناہ کا تصور، مشترکہ خاندانی نظام اور ایک دوسرے کی خبرگیری رکھنے والا معاشرہ ہے، جس میں ایک دوسرے کا سارے خیال رکھتے ہیں۔ اور اسکے نتیجہ میں بہت سے دماغ فتور سے بھرے ہونے کے باوجود قابو میں رہتے ہیں۔ نتیجہ ایڈز جیسے مرض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
ہارے ملک میں میرے خیال سے  جو خطرہ تھا وہ تھا وائرل ھیپاٹئیٹس۔  میں چونکہ اس وقت سال سوئم کو پیتھالوجی  یعنی علم الامراض پڑھاتا تھا تو اس وجہ سے پڑھنا بھی پڑتا تھا۔  تب  ایک دھائی قبل یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے ہاں وائرل ھیپاٹائیٹس   بہت عام ہے۔
اس وقت 1997 میں یہ عالم تھا کہ ھیپاٹائیٹس بی 10 ٖفیصد لوگ پازیٹیو آرہے تھے اور سی ٹائپ 3 فیصد پازیٹیو آرہے تھےجبکہ اے ٹائپ ہر تیسرے بندے کو تھا۔ خیر اس ٹائپ A  سے وقتی طور پر کچھ زیادہ خطرہ  نہیں ہوتا۔ بہرحال ایک بیماری ہے۔ بندے کو تندرست نہیں کہا جاسکتا۔
 یہ سب اس طرح یاد آیا کہ   پرسوں رات کو ڈنر پر میں  ڈاکٹر  میکیلے فائیزنزا،  جو اینفکیشنز اور وائیرولوجی کے اسپیشلسٹ ہیں۔ ڈاکٹر بینانتی نوچو، ڈائیریکٹر ھیرنگ لیبارٹری اور ڈاکٹر ماریہ سالوینی جو ڈائیٹولوجسٹ ہیں کے ساتھ تھا۔ باتیں چلتے چلتے  وائرس کی دریافت، اسی کی دھائی میں ایڈز کا پادوا  میں پہلا کیس جو ڈاکٹر میکیلے نے تشخیص کیا تھا۔ پھر ھیپاٹئیٹس  اے  اور بی کا حوالہ آیا۔ اور ڈاکٹر میکیلے بتا رہا تھا کہ تب ایک قسم ہوتی تھی ھیپاٹائیٹس کی  No A, اور No B  ، مطلب یہ کہ وائرس ہوتا تھا پر یہ نہیں پتا چلتا تھا کہ کونسا ہے ، نہ اے ہوتا نہ بی ، بعد میں اسکا نام سی رکھ دیا گیا۔
کہتے لگے پادوا  کے یونورسٹی ھسپتال میں 80 کی دھائی میں 200 بستر تھے اور بھرے ہوتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ شہر کے ارد گرد نالیوں کا پانی سبزیوں کو لگایا جاتا تھا۔ اس سے پاخانہ کے فضلہ میں موجود ھیپاٹائیٹس بی کا وائرس ایک وبا کی طرح پھیل رہا تھا۔ ہم نے اس مسئلہ کو سمجھا اور پھر ضلعی کونسل نے اس مسئلہ کو حل کیا، بس پھر کیا تھا ھیپاٹائیٹس بی کا پھیلاو ختم ہوگیا۔
میں ساتھ ساتھ سوچ رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو یہ کچھ اب بھی ہورہا ہے، باوجود اس کے کہ ھیپاٹائیٹس بہت عام ہے پر پھر بھی گندے پانی والی سبزیوں کی کوئی روک تھام نہیں ہے۔ وائر ھیپاٹائیٹس بی ، خون ، جنسی روابط، ماں سے بچے کو اور پاخانہ ، لعاب دھن و پسینہ سے بھی پھیل سکتا ہے۔  یہ جان لیوا مرض  ہے جس سے جگر تباہ ہوجاتا ہے۔ اسکا علاج بہت ہی مشکل ہے وجہ اسکی بروقت تشخیص نہ ہونا ہے اور پھر علاج مہنگا بھی ہے۔ 
اگر حکومت اور انتظامیہ نہیں تو جہ دیتی تو بندے خود تو احتیاط کرسکتے ہیں۔ جہا ں تک ممکن ہے سبزیاں گھروں کی اگائی جائیں ، صاف پانی سے۔ ورنہ دیکھ بھال کر خریدی جاویں۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 17, 2018

پانچواں درویش ، راوی اور تماشہ

تو صاحبو ایک دفعہ کا ذکر ہے
کہ راوی بیان کرتا ہے ہے پانچواں درویش راوی چلتا چلتا چلتا، اور پھر چلتا چلتا ایک اور راوی کے پاس پہنچ گیا، وہ راوی تب کافی عرصے سے خاموش ہوچکا تھا، شاید فالج زدہ۔ اسکے اندر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ ہورہی تھی، ہر طرف خشکی اور ویرانی۔ راوی کے اس پار جاےکے لئے درویش کشتی کے انتظار میں بیٹھ رہا۔ کہ دریا ہے، بھلے سوکھا ہوا ہی سہی پر پھر بھی دریا کا احترام کرنا چاہئے۔
جیسے ہرجادو کا تماشا دکھانے والے کا احترام کیا جاتا ہے اور اسکو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ کچھ تماشہ گر جو بہت ہی بڑے ہوجاتے ہیں انکی پہنچ دنیا کے دوسرے کونے تک ہوجاتی ہے۔ اور پھر وہ  پلک جھبپکتے ہی سال میں دو چار بار لاہور آتا ہے    اور تماشہ دکھاتا ہے، یہ اب اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ علامہ  پروفیسر ڈاکٹر  کا اضافہ کرچکا ہے۔ ایسا جادوگر ہے جو ہرکام خواب میں کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم بھی خواب میں حاصل کرسکتا ہے۔
درویش  کا دوپہر کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے  حرارت سے دماغ ٹھکانے آیا  تو سر پر ہاتھ مار کر چلا اٹھا کہ خشک دریا میں بھی بھلا کشتیاں چلا کرتی ہیں،  پس چاروناچار درویش وہا ں سے اٹھا  اور دریا کے بیچو بیچ  خشک ریت کو سر پر ڈالتا اور اپنے آپ کو سخت سست کہتا ہوا آگے چل پڑا۔
راوی کے دوسری طرف اب ہر طرف  لاہور شہر آباد ہے،  پر درویشوں کو شہروں آبادیوں  سے کیا لینا دینا۔
چلتے چلتے  ایک پہر گزرگیا ، تب درویش کو ایک طرف سے شور ، روشنیاں اور بے ھنگم موسیقی سنائی دی۔ سادہ بندہ تھا۔ سمجھا شاید کوئی قبائلی رسم ہورہی ہے
چلو دیکھتے ہیں۔
دریش ادھر پہنچا  تو کیا دیکھا ایک بڑے سے میدان میں قناتیں لگئی ہوئی اسٹیچ سجا ہوا , ہر طرف چہل پہل، بہت سے لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے، کچھ جا بھی رہے تھے، البتہ تماشہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت تھی ، اسٹیج پر خوب رونق تھی۔ 
پورا ایک میلہ  لگا  ہوا تھا۔ درویش  میلہ دیکھنے بیٹھ  گیا بلکہ کھڑا ہی رہا۔  باوجود اسکے کہ جگہ بہت خالی تھی۔ بے شمار کرسیاں خالی پری ہوئی تھیں۔ 
باندر اور ریچھ کے ساتھ ساتھ اپنی دم پکڑنے والا کتا بھی تھا۔
پروفیسر  خود بھی موجود تھا۔ مگر درویش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تماشہ کروا  کون رہا ہے؟؟ کس نے اتنا خرچہ کردیا؟؟ اور کیوں؟
مگر کھیل دیکھتا رہا
کھیل بہت  اچھا  تھا، درویش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا، 
اور سوچتا رہا کہ  لوگ تھوڑے ہیں۔ 
لاہورئے بہوں خراب ہیں، ریچھ دیکھنے ہی چلے جاتے۔ ویسے بھی تو چڑیا گھر جاتے ہی ہو، اس بار تو باہر کھلے ہوئے تھے،
تماشہ ہورہا تھا
شاید
کھانا بھی مل جاتا۔
کرسیاں بھی کافی پڑئی تھیں "تشریف رکھنے" کو۔
بگڑے ہوئے لوگ۔
اپنے پیسے دیے کر ہی نان پائے کھاتے رہے۔
سرکس والے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
بقول عین:
یہ عقدہ تب کھلے گا
جب تماشہ ختم ہوگا
نوٹ۔
یہ ایک غیر سیاہ سی پوسٹ ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت یقینی ہوگی۔ نیزہم نے جیسا محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا۔ دروغ برگردن دریائے راوی


مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 31, 2017

میرا 2017 کا احوال

میرا یہ سال یوں رہا۔ 
جنوری میں سپاجیریک میڈیسن کے بنیادی کورس کا اغاز کیا۔ جسم میں آکسیجن کی کمی اور اسکے بد اثرات۔ ٹیومز وغیرہ کا پیدا ہونا، بڑھنا اور روکنا۔ 
فرروی میں فنکشنل میڈیسن کا بنیادی کورس شروع کیا، 
فروری میں ہی ایپلائیڈ کینیسولوجی کا کورس بھی شروع کرلیا، 
اب یہ ہوتا کہ جون تک ایک ویک اینڈ بیرگاموں اور ایک ویچنزا میں گزرتا۔ 
فرروی میں نیپلز گئے ھیرنگ لیبارٹریز کے سالانہ کنوینشن کے سلسلہ میں۔ 
مارچ میں ہومیوپیتھی ان ڈینٹیسری کا کورس شروع ہوا اور اس میں مجھے تعلیم دینی تھی۔تب مہینے مین ایک بار بولونیا بھی جانا ہوتا۔ اور ساتھ ہی میٹابولزم سینڈروم فنکشنل میڈیسن کی ایپروچ۔ 
اب ہر ویک اینڈ پر کورسز ہوتے اور دوران ہفتہ کام۔ 
مئی میں فلا ڈیلفیا کا دورہ رہا فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ایکسپو کے سلسلہ میں۔ بہت سے دوستوں سے ملاقات بھی ہوئی اور براعظم امریکہ مٰیں اپنے قدم رنجہ رکھے۔ بلکہ فرمائے۔ 
جون کا مہینہ بھی رمضان اور کورسز میں گزرا۔ 
بیس جولائی سے بھانجہ لوگ ادھر تشریف لائے یہ میرے لئے خوشی اور مسرت کے دن رہے۔ اور دس اگست کو ہم پاکستان عازم ہوئے۔ گھر، گھر والے، اباجی اور دیگر احباب، بس رونق شونق میں عید آگئی اور پھر 
عید کی اپنی رونقیں اور ہنگامے رہے۔ انکل اختر صاحب سے عمدہ کمپنی رہی، اللہ ہمارے بزرگوں کو سلامت رکھے۔ اس بار جو خاص بات رہی وہ اساتذہ کرام پروفیسر منظور ملک اور ڈاکٹر انعام اللہ مرزا صاحبان کی قدم بوسی اور ملاقات تھی۔
 
عید کے بعد واپسی اور پھر میٹابولک سینڈروم اور اسپاجیریک میڈیسن کا کورس
ستمبر کے آخیر میں سسلی کا دورہ رہا اور اکتوبر کے آخیر میں ہم فرینکفرٹ میں تھے۔ باقی وہی کورسز اور ہم، تو جنابو، اس برس خوب ہنگامہ رہا، گھومے بھی، تعلیم بھی کی، میٹابولک سینڈروم کو مختلف نقطہ نظر سے سیکھنے کا موقع بھی ملا 
بلکہ کہہ لیجئے کہ ہم اپنے آپ کو اس موضوع کا ماہر سمجھنے لگے ہیں۔
بقلم خود،
یعنی
پین دی سری
بہت کچھ سیکھا اور سکھایا۔ وللہ توانائیاں برابر رہیں۔ 
ابھی سال کا اختتام ہورہا ہے۔ آج ہم گھر پر ہی ہیں اور کل بھی گھر پر ہی رہین گے۔ صفائی ستھرائی کا پروگرام ہے۔ 
باقی نیا سال اللہ کرے گا امن اور سکون کا ہوگا، اللہ مالک ہے وہ اور بھی بہتریاں لائے گا۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش