منگل, مارچ 28, 2006

تیز رفتار نیٹ

آج ہمارے آئی ایس پی آر نے جو کہ ٹیلی کام اطالیہ ہے ہمارےہاں ایک نیا سسٹم انسٹال کردیا ہے جسکے بعد اب نیٹ سپیڈ 20 م ب پ س ہو گئی ہے اور ساتھ ہی ہم ٹی وی سے بھی میل بھیج سکتے اور موصول کرسکتے ہیں۔ مزید سکائی ٹی وی بھی بعذریہ نیٹ لائین ( فون کنیکشن جو ایک ہی موڈیم کے ساتھ ہے) دیکھ سکتے ہیں اس وقت کوئی 20 کے قریب مفت چینل ہیں اور مذید آمد متوقع ہے، انکا وعدہ ہے کہ 6 ماہ تک آپ کو مفت سروس فراہم کی جائے گی اور اس دوران سروس کو مزید بہتر بنا دیا جائے گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سروس ابھی تجرباتی بنیاد پر ہے گویا ہم تختہ مشق ہوئے اور جب نتائج ٹھیک نکل آئیں گے تو ہم پر ہی ادائیگی کرنی واجب ہوجائے گی

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 26, 2006

لطیفہ

کل ہفتہ تھا مگرمقامی عدالت سے فون آگیا کہ جی حاضر ہوجائیں۔ فارغ وقت میں ترجمانی کا کام ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کم لوگ ہی ہیں جو اٹالین اچھی بول لیتے ہیں خاص طور پر ہندوستانی، چونکہ انکی اکثریت پنجاب سے ہے اور وہ بھی دیہات سے۔ اس لئے انکا ہاتھ بٹانے چلا جاتا ہوں۔ کچھ پیسے بھی بن جاتے ہیں اور نئے نئے کیس بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر کل کا کیس کچھ عجیب ہی تھا۔ بلکہ عجیب کیا ایک لطیفہ ہی تھا۔ وہ اس طرح کی چاروں سکھ ایک ساتھ میں کام کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کی منگنی ہوئی اور سارے مل کر جشن مناتے رہے، وہی شراب نوشی۔ اور خوب ”ٹُن” ہوکر گاڑی لے کر گھومنے چلے شہر کے مضافات کی طرف چل نکلے، رات کا سماں تھا ان کو سڑک کے کنارے کھڑا برازیل کا ایک ”کُھسرا” (ہیجڑا) نظر آگیا اور جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے یہ لگے اس سے چھیڑخانیاں کرنے۔ کچھ دیر کے بعد وہ کھسرا تپ گیا اور ادھر گھومتی گھامتی پولیس بھی آگئی۔ اب ہیجڑے نے انکو اشارہ دے کر روک لیا اور کہہ دیا کہ مجھے لوٹنے والے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنی عزت و دولت بچائی ہے۔ اور مزید یہ کہ ان کی گاڑی سے ایک ٹوٹی ہوئی نوکدار چھتری برآمد ہوئی جس کو بطور ہتھیار قبضہ میں لے لیا گیا۔ وہ چرن جیت سنگھ یہ بیان دے کر رو پڑا کہ اگر عدالت نے جیل میں بند کردیا تو کام بھی ختم ہوجائے گا اور سُبکی علٰیحدہ ہوگی۔ خیر عدالت نے اس وقت تو انکو چھوڑ دیا کہ جب تک کیس نہیں چلتا شہر سے باہر نہ جاؤ اور ہفتہ میں دو بار پولیس کے دفتر میں حاضری دو۔ اور آئیندہ منگنیاں کر کے اس طرح کے جشن منانے سے پرہیز کرو۔ دوران کاروائی جج صاحبہ، وکلاء، پولیس والے، عدالت کا سارا عملہ اور میں خود ہنستے رہے۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 17, 2006

پیروی مشرق کی

عباس جوکہ میرے عزیزِ غریبی ہیں، ولایت میں ہی پیدا ہوئے اور پاکستان دو بار ہی گئے ہیں۔ مگر آج کل میرے مہمان ہیں، کہ بھائی صاحب سے زندگی بھر ملاقات نہیں ہوئی، چلو مل ہی آئیں۔ تو ان کو جی آیاں نوں۔ مگر اصل خبر جو مجھے انکے ساتھ آنے والے انگریزی اخبار سے ملی ہے وہ یہ ہے کہ لنکا شائیر کے 49 سالہ مائیکل فیلپاٹ نے مقامی کونسل میں کل رات چھ کمروں کے
بڑے گھر کے حصول کی درخواست جمع کروائی ہے۔ ان چاچا جی کے 16 بچے ہیں جن کا تعلق مختلف پانچ خواتین سے ہے۔
مائیکل جی نے یہ بتایا ہے کہ میں‌ گھر میں ہونے والے شور کی وجہ سے گھر سے باہر “تنبو“ لگا کر اس میں‌سوتاہوں۔ لہذا کونسل مجھے کم سے کم 6 کمروں والا بڑا مکان دے۔ تاحال مائیکل جی 3 کمروں کے چھوٹے سے مکان میں نہیں تنگی سے گزارا کررہے ہیں جسکا کرایہ 69 پونڈ فی ہفتہ ہیں جبکہ مائیکل پکے حرام خور ہیں اور وہ سالانہ 26،500 پونڈ بےکاری الاونس کے طور
پر حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ ایک عدد زوجہ اور ایک حاملہ معشوق کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
خیرہمارے مشرق میں تو یہ خبر نہ ہوئی کہ انکے 16 بچے ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس حال میں ہیں۔ البتہ اگر حکومت ان کو سالانہ 26،500 روپیہ بھی دے تو یہ ایک خبر ہوگی۔

مکمل تحریر  »

سوموار, فروری 20, 2006

استعفیٰ

اٹلی کے متعلقہ وزير نے استعفیٰ دے ديا ہے اور وزير اعظم بیرلسکونی نے کہا ہے ايسے غير زمہ دار بندے کي حکومت ميں کوئي جگہ نہيں۔ نائب وزيراعظم فرانکوفینی نے روم کي مسجد کا دورہ کيا ہے اور اسلامي ممالک کے سفارتکاروں سے معذرت کي ہے کہ بھائيو اگر ہمارا بھي بائيکاٹ ہوا تو پھر ہمارا کيا بنے گا، انہوں نے روتا منہہ بناکر بتایا کہ ہماری تو پہلے ہی مرغیاں بیمار ہیں ۔ بس ہميں معاف کرديا جائے۔
اپوزيشن والے حکومت کے مستفیٰ ہونےپر اصرار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے حکومت کے سارے اقدامات ناکافي ہیں اور اس سے برادر اسلامي ممالک کے اور ہمارے درميان اعتماد کا رشتہ ختم ہوگيا ہے۔ نہ صرف بلکہ مغرب اور اسلام کے درميان خليج وسيع ہوئي ہے ۔ جسے پاٹنامشکل ہوجائے گا۔ لہذا حکومت استعیفیٰ دے اور اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے، ویسے میری ہمدردیاں اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ آجکل کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ بیٹھک جو ہے۔
پاپائے روم نے کہا ہے کھ مذہب کي اسطرح توہيں قابل ملامت ہے اور اسکي اجازت نہيں دي جاسکتي۔ اور نہ ہی توڑپھوڑ کرنےکی۔ اور یہ بھی کہ عوام صبر سے کام لے اور مذاہب کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں جلتی ہوئی صلیب کو دیکھ کر کہی اور مذید کہا کہ مذہبی علامات کی توہین بند کی جائے۔ ۔
او آئی سی کا ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں‌ آیا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ لوگ صرف سکون کے وقت ہی اکٹھے ہوتے ہیں اور حلوہ کھاتے ہیں۔ مگر جب جلوہ دکھانے کا وقت ہو تو غائیب ہوجاتے ہیں گویا گدھے کے سرسے سینگ۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2006

جلتی پر تیل

ڈنمارک کے اخبار کی کارٹوں والی شیطانی سے لگنے والی آگ جس نے دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے اور آج ساری دنیا مظاہروں پر مظاہرے کررہی ہے ایک عام مسلمان بھی سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ مگر اٹلی کے ایک وزیر “کالدونی“ جنکا تعلق دائیں نسل پرست ناردن لیگ سے ہے نے اعلان کیا تھا کہ انہوں ان متنازع کارٹونوں کی شرٹس تیار کروائی ہیں اور وہ انکو تقسیم بھی کریں گے۔ آج ٹی وی کے ایک پروگرام میں انہوں نے اپنی قمیض کے بٹن کھول باقاعدہ طور پر وہ شرٹ دکھائی ہے۔
وزیر اعظم برلسکونی اپناعشائیہ ادھورا چھوڑ کر فی الفور “روم“ پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اس متعلقہ وزیر کا استعفیٰ طلب کرلیا ہے۔
حزب اختلاف کے لیڈر اور متوقع وزیر اعظم “ پیروڈی“ نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور وزیر کے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ حکومت کو معافی مانگنے کا بھی کہا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کی طرف سے صدر سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
ایک دوسرے وزیر نے ناردن لیگ کو کہا ہے کہ اگر وہ ان کی جماعت کے ساتھ رہنا چاہتی ہے توفوراُ اپنے روئے پر معافی مانگےاور نظر ثانی کرے۔
ادھر لیبیا میں اطالوی سفارتخانہ کا گھیراجلاؤ ہر چکا ہے جس میں گیارہ افراد کی ہلاکت اور 30 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اطالوی وزیر کی اس حرکت سے پوری اطالوی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور دنیا بھر میں‌ پہلے سے جاری پر تشدد مظاہروں میں اضافہ ہوگا۔ جبکہ حکومت کی پوزیشن بہت خراب ہوچکی ہے یاد رہے کہ اٹلی میں اپریل میں الیکشن ہو رہے ہیں اور حکومت کو پہلے ہی بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ اطالوی عوام وزیر کی اس حرکت پر اس کو لعن تعن کررہے ہیں اور مسلمانوں سے اپنی شرمندگی و ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 14, 2006

احتجاج پر احتجاج

آج گاڑی کے ریڈیو کے ذریعے اطلاع ملی کہ پاکستان میں بعد از پر امن احتجاج عوام ہنگامہ آرائی پر اترآئی ہے۔ گھیراؤ جلاؤ اور
سرکاری و نیم سرکاری املاک پر پتھراؤ اور ان کو آگ لگانا۔ مغربی اداروں بلخصوص میکڈونلڈ، کے ایف سی وغیرہ کا جلاؤ۔
میں اس طریقہّ احتجاج پر احتجاج کرتا ہوں۔ کہ نصاریٰ نے جو کیا وہ قابلِ مزمت ہے اور قابلِ نفرت بھی مگر اس طریق سے سوائے
ملکی و عوامی املاک ضیاع کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ ناروے، اٹلی، جرمنی کا سفارتی بائیکاٹ و معاشی قعطع تعلقی ایک
جائیزہے۔ احتجاج کو ممکنہ حد تک پر امن رکھنا ہم سب کی مشترکہ زمداری ہے۔
میرے خیال میں سب سے پسندید و انفرادی طریقہ اسلام آباد والوں نے اختیار کیا ہے اور اسکےلئے گدھوں کا استعمال نہایت انفرادیت کا حامل، جداگانہ اور اہلیانِ اسلام آباد کی ظرافت کا مظہر ہے۔

مکمل تحریر  »

سوموار, فروری 13, 2006

نام نہاد آذادي صحافت

ڈنمارک کے اخبار کے کارٹون کے حوالہ سے یہ سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا کسی کی دل آزاری اور وہ بھی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی ، آزادی صحافت میں شامل ہے ؟
آج جبکہ نہ صرف ساري مسلم دنيا سراپا احتجاج ہے بلکہ اعتدال و حقيقت پسند غير مسلم بھي اس فعل کي پرزور مذمت کررہے ہيں۔ جبکہ دوسري طرف متعلقہ ممالک کي مصنوعات کا بائيکاٹ، احتجاجي جلسے جلوس، سفارتي تعلقات کا انقاط اور اموات تک واقع ہوچکي ہيں۔ اس کے باوجود ايک طبقہ ايسا بھي ہے جو ٰٰٰنام نہاد آزادئي صحافت کے نام پرٰ اس شرمناک حرکت کو نہ صرف درست قرار دے رہا ہے بلکہ مسلسل اسکا ارتکاب کيا جارہا ہے۔
آپ اس اس اہم موضوع پر اپنی راۓ کا اظہار فرمائیں۔
نيچے دئيے جانے والے ربط کا تعلق ايک آن لائين پٹيشن سے ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس پر کلک کرکے اپني پٹيشن ضرور درج کروائيں
اور دوست بلاگرز سے التماس ہے کہ اس ربط کو اپنے بلاگ پر ضرور جاري کريں۔ کہ برے کو برا کہنا تو بہرطور لازم ہے۔

مکمل تحریر  »

شاہ کي ڈائيري

“جن نکالنا“ کوئی آسان کام ہوتا تو ہر بندہ “جن نکالتا پھرتا“۔ یہ تو جن سے پوچھے یا پھر جس کا “جن نکلتا“ ہے اس سے۔ کیوں جن کا ایک ٹھکانہ گیا اور جس کا جن نکلتا ہے اسکو دوہری ضرب لگتی ہے اول ناک میں مرچوں کی دھونیوں کی اذیت اور دوئم ہماری فیس۔ آج کل دھندے میں‌مندا چل رہا ہے کیوں کہ آمدن کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جن نکلوانے میں دلچسپیاں کم ہورہی ہیں، شاید اسکی وجہ اسکولوں اور تعلیم کا عام ہونا ہی ہو، میں تو کہتا ہوں کہ اس اسکولوں کو “طبیلہ“ بنا دینا چاہئے بلکہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ان کو تالا ہی لگا دیا جائے کہ ان میں جنات ڈیرے ڈال سکیں اور ہمارے “ دھندہ کا مندا“ ختم ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کسی زیادہ آمدنی والے ملک چلا جاؤں۔ یورپ وغیرہ اور ادہر گوروں کے جن نکالوں۔ ویسے گوریوں کے جنات کا نکالنا کچھ اور ہی لطف ہوگا۔ (ہمارے دوست شاہ جی کی ڈائیری کا ایک ورق مؤرخہ 30 جون انیس سو ننانوے) ‌

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 04, 2006

موجیں

اردو میں عمومی استعمال ہونے والے لفظ جو دو معنی رکھتا ہے۔ اول الذکر تو پانی کی لہریں ہوتی ہیں اورموجیں کہلاتی ہیں۔ اب یہ لہریں سمندر کی ہوں تو بندے کی عالمِ ارواح میں واپسی کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور اگر دریا وغیرہ کی ہوں تو آپ یہ شعر کہ سکتے ہیں کہ “ موج ہے دریا میں‌بیرونِ دریا کچھ نہیں“۔ خیر ثانیاُ الزکر موجیں پنجابی سے اردو میں تشریف لاتی ہیں اور “ مزے“ میں ہونے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں۔ موج میں‌ہونا، موجیں کرنا، موجیں مارنا۔ عمومی استعمال ہونے والے فقرے ہیں جو معتلقہ فرد کی جذباتی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے شاہ جی کے خیال شریف میں‌ “موج وہ کرگیا ہے جو گدھے پر سوار ہے“۔ اب ان سے پوچھا کہ کیوں‌جناب ؟ تو جواب ملا کہ: گدھا ایک ایسی سواری ہے جس میں پیٹرول نہیں‌ڈلتا، پس گدھے کا سوار “ موجاں“ کرگیا ہے۔اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ ایک یورو 30 سینٹ سے بڑھ چکا ہے

مکمل تحریر  »

سوموار, جنوری 30, 2006

روٹین چیک اپ

پرسوں میں اور خرم نزدیکی “بیرگاموں“ ائیر پورٹ پر کامران صاحب کو لینے گئے کہ بارسلونا سے برائے ملاقات تشریف لائے ہیں۔ برفباری کی وجہ سے فلائیٹ دیر سے آئی، اور ہمیں‌کوئی دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا، پس کافی پی، سیگریٹ پھونک کے ایک بینچ پر جا براجمان ہوئے۔ اردگرد کے سارے بینچ ہر ملک وقوم کےلوگوں سے بھرےہوئے تھے کہ بہت سی فلائیٹس لیٹ تھیں۔
دو پولیس والے ہمارے سامنے سےگزرے، اور میں نے خرم سے کہا کہ آئی سختی، کیوں کہ ابھی اس پولیس والے نے لمبی آنکھ کرکے دیکھا ہے۔ اور دو منٹ بعد وہ آن ہمارے سر پر کھڑےتھے۔ بون جورنو۔ کہاں کے ہو؟ پاکستانی؟ کاغذ دکھاؤ۔ کتنے عرصہ سے یہاں ہو؟ کیا کام کرتےہو؟ کونسی فلائیٹ کا انتظار ہے؟ آرہے ہو یا جارہے ہو؟ پھر ہمارے کاغذات لئے اور ایک ہمارے سر پر ہی کھڑا رہا کہ مبادہ کہیں بھاگ نہ جائیں۔ دوسرا کاغذات لے ہمارے نام وغیرہ وائرلیس پر چیک کرواتا رہا اور کوئی پندرہ منٹ کے بعد ہمیں واپس دے کر سب اچھا ہے کی رپورٹ دےکر چلتا بنا، میں نے اس سے پوچھا کہ ہمیں ہی بلخصوص کی چیک کیا گیا ہے۔ کیا شک ہوا تھا تم کو۔ تو جواب ملا کہ “ روٹین چیکنگ ہے“۔
خرم کہہ رہا تھا سر جی کوئی بات نہیں ‌اب تو ہمارے لئے یہ واقعی روٹین چیکنگ ہوگئی ہے، چاہے عوامی بندے ہوں یا وزراء۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 08, 2006

عید مبارک

تمام دوستاں کو میری طرف سے ایڈوانس میں عید مبارک اور جو حج مبارک کی سعادت کررہے ہیں انکو حج مبارک، جو بکروں کو قربان کررہے ہیں انکو بکرا مبارک اور جو بکروں پر قربان ہورہے ہیں (قیمتوں کی وجہ سے) اللہ انکی قربانی قبول فرمائے؛ اور جو اس سال قربان ہونے سے بچ گئے ہیں اللہ انہیں طویل عمری عطافرائے۔ اس ساری تمہید کے امابعد عرضِ وجوہ ہے کہ بندہ بمطابق پروغرام کل یہاں سے عازمِ پاکستان ہورہا ہے۔ اور پرسوں ادھر کی عید کو چھوڑ کر اگلے دن پاکستان میں عید منانے کی توقع ہے۔ جو دوست قربانی کا گوشت بھیجنا چاہیں ست بسم اللہ، میں کسی کو مایوس نہیں کروں گا۔ پاکستان میں بیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود وہاں بہت سے ایسی شخصیات موجود ہیں جنکو بہر حال نیٹ پر فوقیت حاصل رہے گی، ویسے بھی پاکستان جاکر بندہ دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ بہر حال کوشش کروں گا گاہے بگاہے حاضری دینے کی مگر وعدہ وعید کا کوئی چکر ہیں ہے۔ وسلام اور بیس تاریخ تک کےلئے اللہ حافظ

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 03, 2006

اطالوی تعمیرات

گزشتہ سے پيوستہ
دنیا کے گنے چنے ممالک کی طرح اٹلی ایک مشہور اور جانا پہچانا ملک ہے ، جسکی بہت سی وجوہات ہیں ، مثلاُ سلطنتِ روم اور روم، مسولینی اور دوسری جنگِ عظیم کی کُٹ، لاطینی دانتے اور پیزا کا مینار، مافیا، سسلی کے پکوان اور پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑہ ان کے علاوہ سب سے بڑی وجہ اٹلی ميں خود کی موجودگی ہے، یاد رہے کہ پرویز مشرف کو مابدولت کے بعد اٹلی کی
سرزمین پر قدمِ رنجہ فرمانے کو شرف حاصل ہوا۔
اٹلی اپنی تعمیرات اور معماروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے کہتے ہیں کہ اٹالین پوری دنیا میں تعمیرات کے ماہر ہیں مگر یہ بات وہ ہی کہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے اٹلی صرف ٹی وی پر دیکھا ہے اور بیوی سے سناہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو آج پيزا کا مینار ٹیرھا ہوکر سجدہ ریزہونےکی کوشش نہ کررہاہوتا اور نہ ہی اسے رسوں سے باندھ کے رکھنا پڑتا کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ بولونیا نامی شہر میں بھی انہوں نے اپنی تعمیرات کی کوالٹی کی شہرت کےلئے دو مینار تعمیرکئے ہیں ایک ساتھ میں جن میں سے ایک ٹیڑھا ہے؛ فوٹو بغل ميں بطور ثبوت لگا دي گئي ہے ، اگر پھر بھي يقين نہ آرہا ہو توخود جاکرديکھيں۔
پس آپ کہہ سکتے ہیں کہ اٹلی کی کوئی کل سیدھی نہیں، اور نہ ہی کوئی گلی ساری گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہیں۔ ۔ بلکہ اگر پھر بھی آپ یہ سمجھیں کہ اٹالین معمار دنیا میں سب سے ماہر ہیں تو پھر آپ کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔
جاري ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 01, 2006

بارے اٹلی کے

اٹلی مغرب میں ہوتا ہے اور مغرب میں یورپ کے واقع ہونے کی وجہ سے یہ بھی یورپ میں ہی واقع ہے۔ البتہ اس کو جنوبی یورپ میں شمار کیا جاتا ہے، اٹلی میں رہنے والے اٹالین ہوتے ہیں اور کچھ نہیں بھی ہوتے۔ جبکہ کچھ اٹالین اٹلی سے باہر بھی پائے جاتے ہیں۔ ادھر عمومی طورپر اٹالین نہیں بولی جاتی بلکہ بہت سی مقامی زبانیں انکو “دیالیطو“ کہاجاتا ہے بولتے ہیں۔ جبکہ جو اٹالین اٹالین بولتےہیں وہ بھی گالی دیالیطو میں ہی دیتے ہیں۔ اور لطیفہ بھی دیالیطو میں۔ اٹالین کہتےہیں کہ گالی اور لطیفہ مادری زبان میں ہی مزا کرتا ہے، ہمارے شاہ صاحب کا بھی یہی خیال ہے کہ ان معاملات کےلئے پنجابی ہی موزوں زبان ہے۔ جو بندہ اٹالین نہ بولتا ہے تو اٹالین سمجھتے ہیں کہ اسکا تو دماغ ہی نہیں ہے اور اگر آپ کہہ دیں کہ “میں انگلیزے جانتا ہوں“ فوراُ آپکے عالی دماغ ہونے کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ دوسری بہت سے قوموں کی طرح جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں پھینٹی کھائی اٹالین کےلئے بھی انگریزی زبان ایک “ ہوا“ ہے اور انگریز قابلِ گردن زنی۔ میں کہتا ہوں کہ اٹلی میرا دوسرا وطن ہے تو میرے پاس اس کے کچھ جواز موجود ہیں۔ اول یہ کہ اس کا موسم پاکستان کی طرح یہ ہے یعنی گرمیں میں گرم اور سردیوں میں سرد۔ برفاں۔ جی۔ اور بعد یہ کہ یہ بھی نقشہ پر شمالاُ جنوباُ لیٹا ہوا ہے۔ شمال میں پہاڑ اورجنوب سارے کا سارا سمندر کے بیچ۔ پھر شمال اور جنوب میں منقسم بھی تو ہے۔ بلکل پاکستان کی طرح۔ پنجاب کے خلاف سندھ تو یہاں پر بھی شمال والے زیادہ ترقی یافتہ اور مالدار ہیں، انڈسٹریلیسٹ۔ اور جنوب والے دہقان و ماہی گر۔ شمال والوں کا خیال ہے کہ جنوب والے انکی محنت کا پھل کھا رہے ہیں اور جنوب والے کہتے ہیں کہ شمال والے انکے ساتھ بانٹ کے نہیں کھاتے۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

نياسال مبارک ہو

میری طرف سے جملہ احباب کو نیا سال مبارک ہو
اللہ کرے آنے والا سال سب کےلئے خوشیوں برکتوں اور رحمتوں سے بھر پور ہو، ملک و قوم کےلئے سلامتی اور امن کے پیام بر ہو۔ پوری دنیا میں سکون اور چین ہو۔
اورہم سب کی خوہشات و تمنائیں پوری ہوں۔ آمین

مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 28, 2005

احباب کا شکریہ

میں اپنے ان سارے مہربانوں و دوستوں کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے آج مجھے سالگرہ پر مبارک باد کے پیغام بعذریہ ای میل، ایس ایم ایس، اور فیکس روانہ کیئے اور انکا بھی جنہوں نے فون اور پوسٹ والوں کے پیسے کھرے کئے۔جملہ احباب کا نیک خواہشات اور دعاؤں میں یاد رکھنے کا بہت شکریہ۔
بالخصوصہ لنڈن سے اپنی بہت ہی محترم دوست بوچھی صاحبہ کا مشکور ہوں جنہوں نے کل رات کوہی ایک ایس ایم ایس کرکے مجھے بھی یاد دلا دی ورنہ میں تو ہمیشہ کی طرح بھولا ہوا تھا۔

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 26, 2005

اردو کا مستقبل

کوئی قوم دوسری زبان میں ترقی نہیں کر سکتی تو یہاں یورپ میں انہوں نے اپنے امیگریشن قوانین سے لے کر کرنسی تک ایک کرلی ہے زبان ایک نہیں کر سکے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ماہانہ رسالہ “اسپرانتو“ میں بہت سال پہلے تب میں پاکستان ہوا کرتا تھا پڑھا تھا کہ: “ یورپین پارلیمینٹ میں یورپ کی مشترکہ اور رابطہ کی زبان انگریزی کرنے کا بل پیش ہوا تو جرمنی کے وزیرِخارجہ نے نقطہّ اعتراض پر کہا تھا کہ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پورے یورپ میں صرف انگریز ہی درست بول سکیں اور وہ یونین کا اقتدار سنبھال لیں ایسا کبھی نہیں ہوگا“ تاریخ گواہ ہے کہ اہل اسلام نے اپنے علمی عروج کے زمانہ میں یونانی نہیں سیکھی بلکہ یونانی علوم کو عربی میں منتقل کیا، پھر جب اہلیانِ یورپ نے ترقی کی تو انہوں نے بھی عربی زبان جو علوم کا گڑھ تھی نہیں سیکھی مگر القانون کو اپنی زبانوں میں سترویں صدی تک پڑھایا۔ پس ہم کہہ سکتےہيں کہ کسی بھی غیر ملکی زبان سیکھنے کا مطلب قربانی دینا ہے اپنے معاشرے کی اور ثقافت کی۔ انگریزی سیکھنا کبھی معیوب نہیں مگر اسکے پیچھے پاگل ہوجانا اور اپنی زبان کو نیچ سمجھنا معیوب ہے
غیر ملکی زبان سیکھنا معیوب نہیں بلکہ اس کا اپنانا معیوب ہے۔ یہ بات آپ انگریزی کی واضع مثال سے خود ہي جانتے ہيں۔ آج کل کے دور میں انگریزی سیکھے بغیر جدید علوم پر دسترس حاصل کرنا ناممکن ہے لیکن بحیثیت قوم ترقی کرنے کے لیے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ہمیں اردو کو ترویج دینا ہوگی
میری ایک کزن پاکستان سے ہسٹو پیتھالوجی میں سپیشلائزیشن کر رہی ہیں، انہوں نے مجھےپاکستان سے روانگی پر کہا کہ بھائی مجھے سرجیکل پیتھالوجی کی ایک فلاں والی کتاب چاہیے لازماُ انگریزی میں مگر یہاں احوال یہ ہے کہ اٹالین میں وہ کتاب دستیاب ہے مگر انگریزی والی یو کے سے منگوانی پڑے گی اور ڈاک کا محصول بھی چارج ہوگا۔ یہاں پر انگریزی کتاب نایاب ہے مطلب انگریزی سکھانے والی تو بہت ہیں مگر انگریزی میں علم والی نہیں ہیں۔
پاکستان میں توبشمول اردو سب کی حالت ہی پتلی ہے، مگر ہندوستان میں بھی ایسا ہی دکھ رہا ہے۔ اور میرے خیال میں اسکی واحد اور پہلی وجہ اردو دانوں کی بے اعتنائی ہے، ہم اردو کی محبت میں دو غزلہ بلکہ سہ غزلہ بھی لکھ سکتے ہیں مگر جاوا کا پروگرام اردو میں ترجمہ نہیں کرسکتے۔ بولیں گے پنجابی اور لکھیں گے اردو، جبکہ علم انگریزی میں حاصل کریں گے تو اردو کا مستقبل تو لازم مخدوش ہوگا۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 22, 2005

موبائیل فون

ہمارے وطن عزیز پاکستان میں موبائیل فون تو عام ہوگیا ہے۔ مگر ہم نے اسے ایسے ہی لیا ہے کہ بس اتفاقاُ ہاتھ آگیا تو لے لیا، جیسے پاکستان ہر بندہ ہر جگہ پر موبائیل لئے پھرتا ہے۔ اور فون کی گھنٹی بجنے کی دیر ہے چاہے کتنی بھی اہم مجلس کیوں نہ ہو یا کوئی بھی اہم موضوع مگر فون پر جواب دینا ضروری ہے جبکہ باقی کے لوگ منہہ دیکھا کریں۔ ہمارے یہاں مساجد میں بھی دورانِ نماز موبائیل اکثر بج رہا ہوتا ہے اور صاحبِ فون اسے اس لئے بند نہیں کررہے ہوتے کہ اس سے نماز کو حرج ہوگا، بھلے باقیوں کی نماز کا ستیاناس ہوجائے، اور باقیوں کا بھی یہ حال ہے کہ بعد میں کوئی بندہ اسے کو یہ تک نہیں کہے گا کہ “ میاں کچھ خیال کرو“۔ میرا کافی دفعہ اتفاق ہوا ہے ادھر گرجوں میں جانے کا بھی، تو وہاں پر شاز ہی ہمیں موبائیل کی گھنٹیاں سننے کو ملتی ہیں، اسی طرح یہاں پر اٹلی میں ہسپتالوں کو بھی موبائیل سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ہستال ہوں یا مسجد ہم لوگ اخلاقیات سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سال کے آغاز میں اٹلی میں ایک نیا قانون آیا تھا کہ کسی بھی عوامی جگہ (دفتر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، بلڈنگ کی سیڑیاں، ریلوے اسٹیشن، ائرپورٹ اور دیگر بند جگہیں وغیرہ) پر سیگریٹ پینا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ جس پر 35 سے لیکر 350 یورو تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ اس دن سے میں نے نہیں دیکھا ہے کہ کسی بندے نے ان جہگوں پر سیگریٹ پیا ہو اور نہ ہی سنا ہے کہ کسی کو جرمانہ ہوا ہے۔ قانون بنا، صبح اخبار میں آیا اور پھر عمل ہوگیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اور یہ بھی کہ یورپ میں اٹالینز کو جاہل اور گنوار قوم قرار دیا جاتا ہے، میرے دوست ظہیر ہیں وہ شمالی اٹلی میں جرمن علاقے میں مقیم ہیں۔ بقول انکے جرمن یہ کہتے ہیں کہ اٹالین“ کھوتے“ ہیں اور انکو زندگی گزارنے کا شعور ہی نہیں ہے۔ ہمارے بارے میں جانے کیا کہتے ہونگے۔

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 05, 2005

گورا صاحب

شانی صاحب لندن کے سٹین سٹید ائیر پورٹ پر ہمارے استقبال میں موجود تھے۔ اور میں اور ”یوری” رات کے قریباُ بارے بجے وہاں جا پہنچے۔ برمنگھم کا سفر تین گھنٹوں میں طےکیا، گھر پہونچے، ہلکا سا ناشتہ کیا اور سو گئے۔ صبح آٹھ بجے اٹھے تو شانی صاحب ابھی تک بدستور خراٹے مار رہے تھے، خیر ہمارے نہانے دھونے تک کھٹک پھٹک سے انکی آنکھ بھی کھلی، ناشتہ کے بعد ہم لوگ جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر سے باہر نکلےتو دن کی روشنی میں معلوم ہوا کہ ہم تو گجرات کی ریلوے کالونی میں گھوم رہے ہیں۔ ساری سڑک پر دومنزلہ ایک جیسے سرخ اینٹ کے ایک چمنی والے مکان، دائیں ہاتھ کو درازہ اور بائیں کو ایک کھڑکی؛ جس میں لٹکتے ہوئے سفید پردے؛ سارے صحن کی ڈھیڑ فٹی دیوار اور ہر صحن میں ایک گلاب اور ایک ہی چیڑ کا درخت۔ بندہ اگر گھر کانمبر بھول جائے تو بخدا کبھی اسے تلاش نہ کرسکے۔ شانی صاحب کے گھر کی دیوار پر ایک خوبصورت بلی بیٹھی ہوئی تھی۔ میں ”یوری” سے کہا کہ بلی فوٹو کھینچ لو، پوچھنے لگا کہ تمہیں بلیوں سے بہت پیار ہے؟ نہیں بلکہ یہ فوٹو سند رہے گی اور بوقتِ ضرورت کام آئے گی۔ کہ یہ شانی صاحب کے گھر کو دوسروں سے متفرق کرنے والی واحد چیز ہے۔ اب واپسی پر اگر بلی کو کسی دوسرے نے چھیچھڑے ڈال دیے تو؟ بس سٹاپ کے پاس سکھوں کی دکان سے ٹکٹ خریدے، بس کے بنگالی ڈرائیور کو دکھا کر سوار ہوئے، ایک موٹی سی کالی سے معذرت کرکے اسکے ساتھ والی پر براجمان ہوا ہی تھا کہ ایک پاکستانی ٹکٹ چیکر آدھمکا۔ سلام لیکم، ٹکٹ دکھاؤ اور میں نے اسکے منہہ کی طرف دیکھتے ہوئے ٹکٹ سامنے کردیا۔ میری پچھلی نشست پرایک جوڑا غالباُ عربی میں کھسر پھسر کررہا تھا۔ شانی صاحب اشارہ سے بتا رہے تھے کہ یہ برمنگھم کی جامع مسجد ہے اور اسکا شمار یورپ کی بڑی مساجد میں ہوتا ہے اور اسکے ساتھ ہی ایک بڑا گردوارہ بھی ہے۔ اور میں ان سے پوچھ رہا تھا: سر وہ گورا صاحب نہیں ملے، کدھر ہوتے ہیں آجکل؟ شانی صاحب حیران ہوئے: کون سے ؟ وہی جنکے بارے میں ہم سے ہمشہ پڑھا اور سنا ہے کہ برطانیہ میں گورے ہوتے ہیں توکہاں ہوتے ہیں؟ شانی صاحب حسبِ عادت اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر بولے: ہم جو آگئے ہیں اب گوروں کا ادھر کیا کام؟

مکمل تحریر  »

جنرل نالج

جنرل نالج جسے معلوماتِ عامہ ترجمہ کیا جاتا ہے، انگریزی کا لفظ اور اردو میں دیگر بہت سے انگریزی، فارسی اور عربی الفاظ کی طرح مستعمل ہے بس یار لوگ اسے اردو کا حصہ ہی تو سمجھتے ہیں۔ جیسے کلاس فیلو کو۔ میرے دوست جمیل میرا تعارف کروائیں تو نہایب روانی سے جب یہ کہتے ہیں کہ ”یہ میرے کلاس فیلو ہوا کرتے ہیں جسے انگریزی میں ہم جماعت کہا جاتا ہے” اور واقعتاُ احباب اسکا نوٹس نہیں لیتے کہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ ہاتھ ملا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، تو میں اسکا بہت حظ اٹھاتا ہوں۔ میرے ایک اور دوست ہیں بلکہ بڑے پیارے دوست ہیں مولوی صاحب، اب وہ عام زندگی میں مولوی نہیں مگر مولویوں کے ساتھ انکی اٹھک بیٹھک ہونے اور اپنی نیچی داڑھی کی وجہ سے ”مولوی” کہلاتے ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں مگر علماّ کی محافل سے اس حد تک مستفید ہیں کہ عام دنیاوی بات کو بھی نہیں عالماُ انداز میں کر جائیں کہ آپ کو احساس تک نہ ہو۔ اگر آپ انکو ذاتی طور پر نہیں جانتے تو اندیشہ ہے کہ پہلی ملاقات میں آپ انکو بیت کی درخواست کر بیٹھیں مگر تیسری ملاقات میں پچھتائیں۔ بہت عرصہ پہلے کسی سفر میں ہم تین چار احباب تھے جن میں مولوی صاحب بھی شامل تھے تو واپسی پر انہوں نے جان تنگ کی ہوئی تھی اپنی باتوں اور فضول بحث کی وجہ سے ۔ ہماری گفتگور پھرتی پھراتی انگریز اور اسکی چالاکیوں کی طرف جانکلی ، اپنے عالمانہ انداز میں فرمانے لگے: یہ گورا جو ہے ناں یہ بہت شاطر اور چالاک ہے، دیکھی فیر گورے کی قدرت؟ جس نے لوہے میں سے پانی نکال دیا”۔ اب بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی تو دریافت کیا ”وہ کیسے؟”۔ فرمانے لگے ” لوجی سامنے کی بات ہے نلکا”۔ اور ہم مان گئے۔ بات سے بات نکلتی ہوئی فوج اور فوج کے جرنیلوں کی چل نکلی۔ اور میں نے ازراہ تفنن پوچھ لیا کہ” حضرت یہ جو انگریزی فوج کا جرنیل ہوا کرتا تھا ”جنرل نالج” یہ بڑا ظالم آدمی تھا، برطانوی راج کے دوران اسنے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو بہت تنگ کردیا تھا۔” حضرت صاحب نے فوراُ گفتگو کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمانے لگے: ”ہاں یار۔۔ میں نے پہلے بھی اسکا بہت ذکر سنا ہے اور میرا بھی خیال ہے کہ واقعی یہ جنرل نالج بہت ظالم اور خبیث تھا”۔ مولوی صاحب جنرل نالج کو حقیقت میں قابض برطانوی فوج کا جرنل سمجھ رہے تھے اور برا بھلا کہ رہے تھے، ادھر ہمارا ہنس ہنس کر یہ حال ہوگیا تھا کہ گاڑی سائیڈ پر روکنی پڑی۔

مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 04, 2005

منافقت

ہمارا مسلم قوم کا ایک عظیم المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایک اہم فرض کو ترک کئے ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ “ علم حاصل کرنا ہر مسلمان عورت اور مرد پر فرض ہے“ مگر ہمارے علماء نے اسے فرضِ کفایا بنا دیا۔ حساب، الجبرا، لوگرتھم، جراہی، کیما وغیرہ کے علوم مسلمان سائینس دانوں کی مہربانیاں ہیں جنکا آج بھی یورپ کے نصاب اعتراف کرتے ہیں۔ مگر دوسری طرف آج ہم کہتے ہیں کہ جو حساب میں تیز ہو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا، کسی بھی شعبہ میں مہارت ایک بندہ کرلے تو سب بری۔ عورتوں کی تعلم بند، اور گائناکالوجی کو غیر شرعی قرار دیا جاتا ہے۔ رونا تو اس بات پر آتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے جب ساری دنیا ان پڑھ تھی تو کہا جاتا ہے کہ “ جو قیدی دس پچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اسکا جزیہ ادا ہوا“۔ فن تحریر میں ایک انقلابی ترقی آتی ہے اور دنیا آج بھی انسانی ترقی کے ادوار میں طلوع اسلام کو ایک اہم موڑ تسلیم کرتی ہے مگر آ ج جب لوگ چاند پر پہنچ چکے ہیں اور ادھر بستی بسانے کے چکر میں ہیں تو ہم اسکے دکھنے اور نہ دکھنے پر اتفاق نہیں کر سکتے۔ کیا یہ ساری منافقت کی نشانیاں نہیں؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش