بدھ, مئی 25, 2011

تیرواں نشان حیدر

پنجابی زبان بہت ہی قدیم اور تلخ ہے بندے کے سر میں اینٹ مارنے کے بعد ہنس کے کہہ دیا جاتا ہے پاہیو اسیں تے مزاک کررہے سی۔ کر لو گل۔ یہ کیسے ہے سکتا کہ بندہ جہلم میں پیدا ہو اور فوج کے معاملات سے دور رہے جائے، ہمارے ادھر ہر دوسرا بندہ فوج کا موجودہ یا سابق یاپھر ہونے وال سروس مین ہے۔ مطلب انہوں جی ایچ کیو ادھر پنڈی میں بنا کر غلطی کی ہے کہ بھی ادھر جہلم میں ہوتا تو سارے جی رات کو گھر آرام فرماتے۔ مگر خیر۔ آرام تو وہ اب بھی کررہے ہیں، جہاں بھی افسر ہو اسکو آرام تو ملتا ہی ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی کتابوں میں نشان حیدر کہ بارے میں اتنا کچھ پڑھ چکے تھے پھر گھر میں چچاجان اپنی بقول انکے اپنے پی لیو پر آتے تو دو ماہ میں تمغہ بصالت سے لیکر نشان حیدر تک سارے مردان غازیان اور شہیدگان کے نام بمعہ جملہ کارنامہ جات زبانی ازبر کرواجاتے۔ پھر تاریخی کتاباں پڑھ پڑھ کر اپنے آپ کو کم از کم تاریخ اسلام یعنی اسلامی جنگجوؤں کا عالم سمجھتے اور دوسروں کو اس پر قائل کرتے رہے۔ پھر جان پھنسی شکنجے اندر اور فکرمعاش نے سب کچھ بھلا دیا، یہ کتاب اور وہ کتاب اس موضوع پر ریسرچ اس پرمسائل کا تازہ ترین حل۔ مگر یہ فوجی ہیرو کبھی کبھی آکر رات کو دماغ میں ٹھونگے مارتے ہی رہتے اور ساتھ میں ہمارے بزدل اور کم عقل ہونے پر قہقہے بھی لگاتے۔۔۔۔ کہ دیکھو کونسا بندے مارنے والے پیشہ اس نے اختیار کرلیا ہے اور مرنے کے فوائید اور شہید ہونے کے ثواب کو اسلامی کتابوں میں ہی پڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔ خیر دل کے پھھولے جلاتےر ہے مگر بقو ل ابے اب کے ہوئے کا کیا ہوت جب کھوتے چگ گئے کھیت۔ چڑیوں والا محاورہ صیح نہیں ہے۔ جملہ احباب آئندہ سے کھوتے ہی چگایا کریں اور کوشش کر کے محاورے غلت نہ بولا کرٰیں۔ کارگل کی جنگ کے ہیروز کو تمغہ جات کی تقسیم کے بارے میں ہم چپ رہے کہ ہمیں نہیں بھی ملا تو خیر ہےکہ ہماری حیات مبارکہ میں یہ پہلی تقسیم تھی۔ مگر اب کے ہم چپ رہنے کو نہیں ، سنا ہے کہ باباجی حاکم علی ذرداری یعنی کہ جناب والد گرامی حضور صدر پاکستان و پیپلز پارٹی و قبلہ دادا حضوور جناب بلاول ذرداری پہلے و بعد ازاں بلاول بھٹؤ ذرداری پکے چیئرمین پی پی پی پی پی مطلب پکی پکائی پانڈہ پھوڑ پارٹی و سسر مبارک مندجنابہ بے نظیر بھٹو مرحومہ و شہید شہدہ کو اس لیئے نشان حیدر دیا جارہا ہے کہ وہ اللہ آئی سے عین اسی دن بقول ہماری باجی جاناں کے اسی دن فوت فرما گئے تھے جس دن کراچی پی این ایس پر حملہ ہوا اور سست گاؤں والوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ لٹ کر لے گے۔ ( نوٹ جو ان نکات کا مطلب جان گیا ہے وہ دوسروں کو کان میں بتادیے) ۔ یہ بلاول بھٹؤ زرداری کے بارے میں یاد آیا کہ عربی زبان میں اگر کسی کو گالی دینا ہو تو اس کو ابن امی کہ کرپکارتے اور اسکی ہتک کرتے ہیں مطلب اس کے والد گرامی کا صحیح اندازہ لگانے کےلئےڈی این ایے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ اٹلی میں بھی سرنیم باپ کا ہی لیا جاتا ہے البتہ اگر با پ کا معاملہ شک و شہبہ میں مبتلا ہو تو ہی ماں کا سر نیم دیا جاتے ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری کے نام نامی کے بارے بندہ صحیح اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ یعنی کہ سوچ سوچ کر مت ہی ماری گئی ہے۔ وزیر اعظم جناب سیدیوسف رہ گیر گیلانی جنکے کچھ رشتہ دار قریشی اور باقی میانے کہلاوت ہونگے نے صدر پاکستان عرف صدر بی بی شہید کروا پارٹی کو اس نشان حیدر کی سفارش کردی ہے۔ تو جناب قاریئن آپ سے التماس ہے کہ آپ میں سے کل کلاں کوئی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوجائے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے غلطی سے کچھ بھی ہوسکتا ہے ( یہاں تک کہ ساتھ اور دو گیا رہ ہوسکتے ہیں، آپ وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور بندہ کو تیرواں نشان حیدر مل سکتا ہے، بقول غالب دل بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے۔) تو وہ کسی بھی جگہ ہونے والے بم دھماکے سے ایک دن پہلے بندہ کو اطلا ع کردیں تاکہ ہم موقع کی مناسب سے فوت فرما کر نشان حیدر حاصل کرلے اور یاد رہے کہ یہ تیرواں نشان حیدر ہوگا۔ بیچ کے نمبروں کی گنجائیش حفظ ماتقدم کےطور پر بہت سوچ بچار کرکے رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بندہ کو صرف نشان حیدر سے دلچسپی اسکے ساتھ ملنے والی لمبی رقوم اور مربعوں سے، باقی بندوق وردی، جھنڈا تو ہماری لحد مبارک پر رکھ دیے جائیں گے اور ڈنڈا کے آپ کو دینے بارے اسی دن یعنی کہ قبل از مرگ وصیت کردی جائے گی بقلم خود تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ۔ کون جانے کل کلا ں آپ کو ہی کوئی پوچھ بیٹھے کہ میں یہ ڈنڈا آپ کو کس نے دیا ہے؟

مکمل تحریر  »

منگل, مئی 03, 2011

پہلا سفر

شاہ جی کا خیال تھا کہ پیدل چل کر تین سو بچائے جاسکتے مگر داؤد بلکل راضی نہ تھا، اس کے خیال میں شاہ جی صرف اور صرف کنجوس ہیں اور کچھ بھی نہیں، میں البتہ شاہ جی کے ساتھ متفق تھا کہ ناران سے سیف الملوک جیپ پر جانے میں نہ صرف پیسے خرچ ہونگے بلکہ راستے کے بہت سے نظاروں سبھی محظوظ ہونے سے رہ جائیں گے، صابر کا خیال تھا کہ ہم دونوں غلط ہیں مگر وہ جو کڑیوں کی ٹولی ہے اگر وہ پیدل جائے تو ہم بھی پیدل اور اگر وہ جیپ پر جائے تو ہمارا جیپ پر جانا ہی لازم ٹھہرا، پس اسی بات پر داؤد کا بھی اتفاق ہے اور کہ وہ ہم سب کو کنجوسوں میں اور کھتریوں میں شامل کرتا ہوا چل پڑا، ظلم یہ ہوا کہ آدھ گھنٹا پیدل چلنے کے بعد ہم کڑیوں کے ٹولے سے آگے نکل گئے تھے اور صابر کی راہنمائی میں انکا انتظار کرنے لگے ایک پتھر پر بیٹھے، میں اور شاہ جی ادھر ایک چٹان پر لپک کرجھیل سے گرنے والے شور مچاتے دریا کو اپنے پرانے سے یوشیکا کے اندر بند کرنے کی احمقانہ کوشش کرنے لگے، داؤد کسی بکروال کے ساتھ گپیں ہانکنے لگا، اور صابرکڑیوں کے اس دریائے کنہار کی طرح کھنکھناتے ہوئے ٹولے کا انتطار کرنے لگا، کافی وقت گزرا تو شاہ جی کو فکر ہوا کہ لڑکیاں کدھر گئیں اور پر تشویش انداز میں صابر سے پوچھنے اوپر چلے گئے تو معلوم ہے کہ وہ تو نیچے سے جیپ میں بیٹھ چلی گئی ہیں، پس داؤد اور صابر کی وہی پرانی کتا کھائی چل پڑی کہ میں نے تجھے کہا تھا مگر تم یہ اور کہ میں وہ میں سفرکٹتا گیا اور اوپر جاکر معلوم ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جیپ ادھر تک ہی جا سکتی ہے اور اسکے بعد کڑیوں کو پیدل ہی جانا ہوگا، اب پھر صابر کی باچھیں کھل گئیں اور اس کے منہ سے رالیں ٹپکتی ہوئی صاف دکھ رہی تھیں، ابھی جاری ہے۔

مکمل تحریر  »

سوموار, مارچ 28, 2011

باپ ہونے کا ٹیسٹ

یہ ایک اٹالین ویب سایئٹ ہے جو باپ ہونےکے ٹیسٹ کو آفر کررہی ہے، کہ اگر آپ کو اپنے بچے کا باپ ہونا مانگتا ہے تو مڑا ادھر کو آؤ ڈی این آے کا ٹشٹ پاس کرو اور لازم ہے کہ انہیں پیسے بھی دو، پھر باپ کہلاؤ، بھائی اسکے بعد ہی کہلوایا جاسکے گا۔ اسلام نے اس بارے میں چودہ سو برس قبل ترتیب واضع کردی تھی کہ میں چار شادیاں کرلو مگر شادی سے باہر پنگے مت لو، طلاق کو آسان کردیا گیا، بیوہ کا پھر سے شادی کرنا برحق، مگر تاکا جانکی کرنے والے اور ادھر ادھر منہ مارنے والی اور والے کو پھنیٹی ، کسی صورت اجازت نہیں، یعنی کہ مشتری ہوشیار باش، مگر نہیں چونکہ ہم اس نئی صدی میں پیدا ہونے والی روشنی کی نئی کرن ہیں تو ہمیں مذہب جیسی وقیانوسی باتوں سے کیا لینا اور کیا دینا، ہم تو ٹھہرے ماڈرن لوگ بھئی پرانے وقتوں کی باتیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بہاتییں۔ مگر پھر دل میں ایک انجانا سا خوف ہے کہ اگر کسی کا ٹیسٹ نیگیٹو نکل آیا تو اس پر کیا بیتے گی؟؟؟ اسکا حل یورپ والوں نے تو یوں دیا ہے کہ بچہ کی پیدائیش پر اگر ماں اسکے باپ کا نام نہ بھی بتانا چاہے تو صر ف آپ نام لکھوا سکتی ہے کہ اس کی باپ بھی وہی ہے۔ ممکن میں پاکستان ابھی تک کسی نے ایسی صورت حال کے بارے نہ سوچا ہو تو ہو جائیے ہوشیار ۔۔۔۔ ہاں پھر خیال آتا ہے کہ اگر ماں کے نام سے ہی ہرجگہ کام چل جاتا تو پھر اس ٹیسٹ کو بیچنے کا لفڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟ مطلب دال میں کچھ کالا ہے جی بلکل ہے ۔ تو صاحب پھر ذرا بچ کہ

مکمل تحریر  »

سوموار, مارچ 21, 2011

لیبیا پر حملہ، جنگ ابھی جاری ہے

افغانستان کےبعد عراق حملہ ہوتا ہے اور اسے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ بش کے بعد اسکا پیش رو اوباہامہ تخت نشین ہوتا ہے مگر پروگرام جاری ہے، تیونس کے ساتھ مصر سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی تیل پیداکرنے والے سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ صدام کی طرح قزافی کو بھی ڈکٹیٹر قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ادھر بھی عراق کی طرح کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے شہبہ کا اعلان کرکے اپنے جنگی جنون کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں اپنے آپ سے بطور تاریخ کے ایک طالبعلم یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم پھر سے صلیبی جنگوں میں نہیں گھرے ہوئے؟؟؟ کشمیر میں ہونے والا ستم کبھی امریکہ بہادر اور فرانس و اٹلی کو دکھائی نہیں دیا نہ ہی اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اور لبنان پر حملہ نظر نہ آیا، امریکہ اپنی حفاظت میں افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے اور ایران کو دھمکیاں دے سکتا ہے لبیا پر عوام کو فوجی ستم سے بچانے کےلئے جا سکتا ہے اور فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی قرارداد کو ویٹو کردیتا ہے۔ عالمی مچھندروں کا یہ دھرا معیار ہمیں بھی تو دیکھنا ہوگا، اس بارے بات توکرنی ہوگی نہیں تو دل میں برا ضرور جاننا ہوگا کہ یہ ایمان کا آخری درجہ ہے

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 18, 2011

پاکیستانی مچھندر

نجابی زبان میں اکڑ بکڑ بمبا بو کا مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں نہ پنجابی بولنے والوں کو اور نہ اکڑ بکڑ پڑھنے والوں کو، چوہدری ریمنڈ گرفتار ہوا، تو ملک میں افراتفری آزاد ہوا تو بھی، سیاست کرنے والے سیاست کرتے رہے اور جان چھڑانے والے جان چھڑاتے رہے، ملک ہے کہ آج ہے کہ نہیں ہے مگر عوام کو سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کروانا ہمیشہ ہی کسی نہ کسی کا من پسند کھیل رہا ہے۔ جہمھوریت صرف اسی کےلئے ہے جو حکومت میں ہے اور جو حکومت سے باہر ہے اسکے بدترین آمریت ہے مگر ، یہ سارے قضئے اس وقت تک ہیں جب تک ملک باقی ہے۔ دنیا ساری میں جاسوس پکڑے جاتے ہیں اور چھوڑے بھی جاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ملک ہی داؤ پر لگادو، ملک میں اتنا رولا ڈال دو کہ اسکا ستیاناس ہی ہوجائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ملک کا ستیاناس کرنے کو یہ ذرداری کافی نہیں ہے جو اس کھیت میں عمران خان اور جماعت سلامی والے بھی سلامی لینے کو کود پڑے رہی رہ ایم کیو ایم تو وہ تو متحدہ قومی مرڈر کے پروگرام پر چل رہی ہے۔ آخر کو ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا لے گی۔ نواز شریف نے اس پردرد موقع پر خود کو در دل میں مبتلا کرلیا۔ پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ ہر موقع کی طرح اس بار بھی ملک صرف عوام کی ذمہ داری ہے۔ اس کا بچانا اسے سنوارنا اور آگے لے کر جانا جہاں یہ اسلام کا قلعہ بن سکے اگر سب کچھ مچھندروں پر چھوڑا تو پھر بجلی پانی تیل کچھ بھی تو نہیں بچا ملک میں رہا سہا ایک نام ہے اسکو مچھندروں سے بچا لو بچا لو بچالو

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 04, 2011

جنگی جرائم اور عالمی ضمیر

تیونس اور مصر کے بعد مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے اکثر ممالک اندرونی شورش کا شکار ہیں، جن میں سے لیبیا اور بحرین کے اندر تو باقاعدہ خانہ جنگی کی حالت ہے۔ میں ایک عام آدمی کی نظر سے ٹی وی دیکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کسی بین الاقوامی شازش کا نتیجہ ہوِ جیسا کہ گزشتہ اتنخابات کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہرے جن پر پوری مغربی دنیا ٹینشن لے گئی تھی اور پھر تہران میں برطانوی ایمبیسی کے درجن بھر اہلکاروں کی گرفتاری کی خبر آئی اور سب کچھ جہاں پر تھا اور جیسے تھا ایسے ہی ختم ہوگیا۔ جیسے ریمنڈ صاحب کی گرفتاری کے بعد سے پاکستان بھر میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن کمی آگئی۔ امریکہ بہادر اور سلامتی کونسل صاحب کو کشمیر، فلسطین، لبنان عراق، افغانستان میں ہونے والے جنگی جرائم تو نظر انداز نہیں آرہے مگر قزافی کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات ہونے کی باتیں بہت زور و شور سے ہورہی ہیں، یورپین یونین لے پالک کی طرح اس میں پوری طرح ہاں میں ہاں ملا رہی ہے، میں قذافی کے حق میں نہیں ہوں اور اس بات سے متفق ہوں کہ لیبیا میں انسانی حقوق کی پامالی بند ہونی چاہیے اور وہ بھی فی الفور، مگر اسکی قیمت لیبیا کی قومی آزادی نہ ہو۔ ایک عام آدمی سوالاٹھاتا ہے کہ کیا عراق اور افغانستان میں جنگی جرائم نہیں ہوئے؟ انکی تحقیقات کس نے کیں؟ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ہونے والے ڈرون حملوں میں بے گناہوں کا مرنا کیا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا اسرائیل کا فلسطین اور لبنان پر بار بار حملے کرنا اور شہری آبادیوں پر بمباری کرنا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا کشمیر ی عوام پر جاری مسلسل تشدد جنگی جرم نہیں ہے؟ امریکہ اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل قرارداد کو ویٹو کرے تو اسے جنگی جرم کیوں نہ کہا جائے؟ جواب ہے کہ چونکہ ان سارے خطوں میں امریکہ بہادر کو بلاواسطہ یا بلواسطہ فائدہ ہے لہذا یہ سارے سوالات اٹھانا گناہ عظیم ہےاس ضمن میں میرے اس مضمون اور اس جیسے دیگر مضامین پر سلامتی کونسل کی جانب سے اگر پابندیاں لگ جائیں تو عین حق بات ہے۔ آج کے عالمی ضمیر کے مطابق سچ اور حق صرف وہی ہے جس سے عالمی چوہدریز کو فائدہ ہے اور اگر کوئی صرف اپنے مفاد کی بات کرے تو لازم ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 19, 2011

تین سو یورو اور تین بندے

تین سو یورو اور تین بندے روم ایمبیسی میں پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست معمول کےمطابق جمع کروا کر سوچا کہ اب آئے بھی ہیں توایک صاحب جاننے والے ادھر فائیز ہیں انکے دیدار ہی کرتے چلیں، ڈاکٹر سمیر صاحب کہ ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھے کے شدید اصرار کے باوجود اندر پیغام بھجوادیا، اور ہمیں انتظار کرنے کا کہاگیا، خیر سے دس منٹ ایک گھنٹہ اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بقول کھلتے کھلتے افسرکھلا کے مصداق موصوف قریشی صاحب نمودار ہوئے کہ اہو لو جی کرلو گل میں ذرا اٹالینز کے ساتھ میٹنگ میں تھا اس لئے دیر ہوگئی، یہ پہلی چکری، یعنی چھوٹا چکر، اپنے دفتر میں لے گئے، خیریت دریافت ہوئی، چائے کا آرڈر دیا گیا اور پھر فرمانے لگے کہ ادھر رہنے کےلئے ضروری ہے کہ آپ اٹالین سیکھیں کہ روزمرہ کی ضرورت ہے میں نے انکو بتایا کہ صاحب میں تو عرصہ سے سکھلا رہا ہوں، فرمانے لگے کہ تو پھر ہمیں بھی سکھلا دیں، اب کے مکری، ہم حیرت زدہ تھے کہ یہ بندہ ایمبیسی میں روم کے اندر تعینات کردیا گیا ہے اور اس کو اٹالین نہیں آتی، خیر تعجب نہیں ہوا کہ یہ صاحب نہ تو اولین میں سے ہیں اور نہ ہی آخرین میں سے ، کہ انکے سابقین بھی صرف انگریزی سے اپنا کام چلاتے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں جبکہ برطانوی اور امریکی سفارتخانوں کا عملہ اٹالین بولتا ہے، اٹالین تو درکنار اردو، پنجابی پشتو تک بولتے ہیں اپنے میاں ریمنڈ لاہور والے کی مثال ہی لیجئے۔ افسرانہ انداز میں ارشاد ہوا کہ ہمارے لائق کوئی خدمت، میں نے عرض کیا کہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ میلان میں ڈیجیٹل پاسپورٹ شروع کروادیں کہ سارے پاکستانی تو شمال میں ہیں ان کو سہولت ہو جائے گی، روم کا چھ سو کلومیٹر کا سفر کرنے سے بچ جائیں گے ، تو حضرت یوں گویا ہوئے کہ منصوبہ پاس ہو چکا ہے مگر ابھی وقت لگے گا یہاں پر ایک ہزار یورو کی خریداری کرنی پڑ جائے تو اس کا بل پاس نہیں ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔ مکری کیوں کہ ڈیجیٹل پاسپورٹ کے نام پر کون سی توپ چلانی ہوتی ہے، ایک ڈیٹا انٹری کا کمپوٹر، ایک فنگر اسکینر اور ڈیجیٹل کیمرہ ، بس ہوگیا شروع کام۔ اتنا تو ہم تین بندے روم جانے آنے میں خرچ کر چکےہیں اگر ہمیں ہی کہتے تو ان پیسےسے ہی کام چل سکتا تھا کہ ہم نے وہ پیسے سفر کی مد میں بھی تو خرچ کرہی دیے اور منافع کے طور پر 1200 کلو میٹر گاڑی بھی چلائی، پندرہ منٹ کے کام کےلئے اگر یہ پیسے ہماری جیب میں رہتے تو دو ہی مصرف تھے یا پاکستان جاتے یا اپنی جیب میں رہتے اور جب جاتے تو خود سے ساتھ لے جاتے، کون جانے ہر روز کتنے لوگ روم جانے میں دو تین سو یورو کا نقصان کرلیتے ہیں، مگر یہ تو کچھ بھی نہیں ہم تو تین بندے مروا کر بھی اس سوچ میں ہیں کہ ریمنڈ کو سفارتی تحفظ حاصل ہے کہ نہیں۔ تین سو یورو تو کچھ بھی نہیں

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 15, 2011

مایا کا ہاتھ نہ آنا

میری دوست لوچیانا کا خیال تھا کہ اگر ہم لندن گے اور مایا کا سر نہ دیکھا تو پھر کیا دیکھا اور یہ کہ ایک دفعہ دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ جاؤ کے اور یہ بھی کہ یہ کسی پرانے خناس قسم کے جادو گر کا ہے جو مرکربھی آپ کے حواس پر چھا جاتا ہے۔ مجھے خود بھی مایا سے بہت لگاؤ ہے، بس جی چاہتا ہے کہ بہت سی مایا جمع ہو، پھر کچھ ہو یا نہ ہو۔ یوری اور میں خیر سے برٹش میوزیم کے سارے حصوں کا فوری دورہ کرکے جب جنوبی امریکہ کے حصہ میں پہنچے جہاں پر مایا صاحب کا ایک عدد سر موجود تھا تو معلوم ہوا کہ یہ حصہ تو دوپہر کے وقفہ کے سلسلہ میں بند ہے اور تین بجے دوبارہ کھلے گا، شام سات بجے ہماری فلایئٹ کا وقت مقرر تھا اور قائدہ کے مطابق پانچ بجے ادھر سٹین سٹیڈ کے ائرپورٹ پر ہونا چاہئے تھا مطلب ہمارے پاس صرف دو گھنٹے کا وقت تھا کہ ہم نے اسی میں برٹش میوزیم سے والتھم اسٹو پہنچ کر ہوٹل سے اپنا سامان لینا تھا اور پھر وکٹوریہ سے ٹرین پکڑنی تھی۔ خیر دو گھنٹے انتظارکرنا تھا، اس دوران سوچا کہ چلو مصر کے حصہ میں توتن کامن صاحب کے سونے کے ماسک کی ہی زیارت کرلیتے ہیں کہ اتنا سونا ایک ساتھ اور ایک چھت تلے شاید ہے کہیں اور دیکھنا نصیب ہو ، معلوم ہوا کہ ماسک صاحب کو دو ہفتہ قبل مصر کے قائرہ میوزیم میں روانہ کردیا گیا ہے۔ یعنی جہاں کی خاک وہیں کو لوٹی۔ بقول یوری بہت افسوس ہوا اپنے اوپر کہ ہم دو ہفتے پہلے کیوں نہ آئے اور میوزیم والوں پر بھی کہ انہوں نے ماسک کی واپسی جہاں انہوں نے کئی دھائیاں روکے رکھی ہمارا بھی انتظار کرلیتے تو کون سی قیامت برپا ہوجاتی، اس موقع پر ہمیں گورا صاحب کی بے بسی دیکھائی دی کہ دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ہماری آمد سے باخبر نہ تھے۔ پھر کیا تھا بھاگم بھاگ مایا صاحب کی طرف لوٹے تو وہاں پر ایک کالی کلوٹی افریقن بیٹھی تھی پہرے پر شاید انکو شک تھا کہ ہم اس کھوپڑی کو چرا کرآلہ دین کے چراغ کی طرح رگڑتے پھریں گے، حالانکہ ہمارے جی میں ایسی کوئی بات نہ تھی، مایا صاحب کی العمروف کھوپڑی کی تلاش شروع ہوئی، ہم کسی جانب مایا جی کو نہ پا کر اس سے پوچھے بغیر نہ رہ سکے، خاتون نہیایت درشت لہجےمیں بولی بلکہ دھاڑی کہ تمھیں معلوم نہیں کہ مایا صاحب کا ایک دانت خراب ہوگیا تھا اور اسی کی مرمت کےسلسلہ میں دو دنوں کےلئے ہسپتال میں داخل ہیں۔ پس اگلے ہفتے آؤ، چونکہ اگلے ہفتے تو درکنار اگلے گھنٹے آنا بھی ممکن نہ تھا، پس ہوگئی بقول لیاقت بھائی کے پھڑلو پھڑلو ، ہم بھاگم بھاگ والتھم اسٹو اور پھر وہاں سے ائیرپورٹ کو کیسے پہنچے ہمیں خود بھی معلوم نہیں، البتہ جب رائین ائر کے جہاز میں اعلان ہو اکہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لو میں کہ اب تو ہوا کے دوش چلے تو یقین ہوا کہ ملاتو کچھ بھی نہیں مگر ہاتھ سے بھی کچھ نہیں گیا۔ نتیجہ مایا کم ہی کسی کے ہاتھ آتی یا آتا ہے چاہے وہ اردو کی ہو یا ساؤتھ امریکہ والی ہو۔

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 06, 2011

ہمت مرداں

مصر میں ہمارے ہم مذہب اس بات پر مصر ہیں کہ انکے صدر مبارک انکےلئے مضرہیں، گو اس سارے قضیہ میں امریکہ بہادر کی کوئی غلطی نہیں مگر پھر بھی کچھ عناصر اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، کیوں یہ تو وہ ہی بتلا سکتے ہیں آج شام کو گزرتے ہوئے زاہد صاحب کہ صرف نام کے ہیں سے ملاقات ہوگئے میں نے گاڑی کی کھڑکی کھول کر احوال دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میاں کیا بتلاؤں کہ امریکہ بہادر کی مہربانیوں سے ادھر مصر، اردن لبنان میں پنگا پڑا ہوا ہے۔ اب امریکہ بہادر کو اور کوئی راستہ نہیں مل رہا اور القائدہ کے خلاف بے قائدہ جنگ کو بھوت بھی غائیب ہورہا ہے۔ لہذا یہ مصیبت اسلامی ممالک پر افتاد کردی گئی ہے۔ قسم سے یہ بلکل وہ صورت حال ہے اور احتجاج ہے جو ایران میں پس از الیکشن ہوا تھا، اور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا پھر کیاہو ؟ یہ کہ برطانوی سفارت خانےکے کم و بیش ایک درجن ایرانی ملازمین گرفتار اور قضیہ ختم ہوا، لوگ بھاگ اپنے اپنے گھروں کو گھر گھرستی کےلیے چل دیے۔ ستم یہ ہے کہ ان دنوں میں اس طرح کی بنیاد پرست حکومت صرف ایران میں ہی ہےجو یورپی سفارت خانوں کے ملازمین کو انکے ناجائز معاملات پر بازپرش کرسکتی ہے۔ ورنہ تو سارے حکومت پاکستان کی طرح ایک بندہ پکڑلیا ہے اور اسی بارے میں معافیاں مانگ رہے ہیں کہ جناب غلطی ہوگئی، اوریہ کہ یہ تو سارا پنجاب حکومت کا پنگا ہے اور پھر عدالتوں کا کیا دھرا ہے۔ انہیں ہی فیصلہ کرنا ہے ، ورنہ ہمارا کیا ہم تو آپ کے غلام ہیں آج پنجاب کی حکومت تڑوادیں عدالتیں اپنے ہاتھ میں دے دیں اور بس پھر دیکھں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا لکھوں آگے آپ خود ہی سیانے ہیں

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 27, 2010

حکایت ہے کہ ایک آدمی کو غم سے نڈھال روتے دیکھ کر فقیر نے پوچھا کہ میاں کیوں رو رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ میری ماں مرگئی ہے۔ فقیر بولا غم نہ کر پرسوں میری ہانڈی ٹوٹی مگر میں نے بھی صبر ہی کیا تھا تو بھی صبر ہی کر۔ آج پاؤل مرگیا، جسکا تھا اسے غم تو لازم ہوگا مگر بقول فقیر صبر کرے کہ 4 برس قبل ہماری ماں مری تو ہم نے بھی صبر ہی کیا تھا۔ آخر ک...ار

مکمل تحریر  »

سوموار, اکتوبر 04, 2010

دوسری پاکستانی عورت بھی قتل

اٹلی کے شہرمودنہ میں ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کا خاتمہ ہوا، یوں کہ بیٹی کے رشتہ کے تناظر میں صاحب صاحب خانہ نے اپنی بیوی کو ماردیا اور بیٹی شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ گئی ، اس سارے قضیہ میں انکے بڑا بیٹا جسکی عمر تقریباُ 19 برس تھی وہ بھی اپنے اباجی کے ساتھ شامل تھا۔ اٹالین اخبارات نے حناسلیم کو فوراُ بعد حوالہ دیا کہ اس سے اس کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی ہے، اس فیملی کے اٹھارہ برس سے کم کے اور 3 بچے ہیں۔ خیر سے جو ہو ا سو ہوا مٹی پاؤ، مگر بھائی جی مرنے والی تو مرگئی، مارنے والاسزا پاگیااور رہے گا جیل میں عمر بھر، سوال ہے کہ ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگاجن کی ماں ماردی گئی اور باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا، بھائی ماں کے قتل میں ملوث ہے تو بہن اس سارے قضئے کی وجہ ہے۔ صبح سے کئ مقامی لوگ فون کرکے پوچھ چکے ہیں کہ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ ایک اور بڑا مسئلہ ہےکہ اگر ایک اٹالین نے اپنی ماں کو گولی ماردی تو ایک خاندان کا کرائسس ہوا، اور ایک پاکستانی نے اپنی بیوی کو قتل کردیا تو سارے پاکستانیوں کو مؤرد الزام ٹھہرایا گیا۔ گویا اٹالین نے وہ حکم پڑھ لیا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیا یہ صرف اہل مشرق پر ہی لاگو ہوتا ہے ؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 24, 2010

خیبر پاس

بلا مبالغہ صبح جب اپنےآفس میں پہنچا تو مقامی صحافی آنا دیموریٹا آ نمودار ہوئی، ہاتھ میں ایک سرخ لفافہ پکڑے ہوئے، کہ یہ خیبر پاس کے عنوان سے ایک کتاب ہے جسکا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ کتاب کے مدرجات کا سرسری جائزہ لینے پر محسوس ہوا کہ خاصی مفصل ہےاور یہ بھی اس میں سکندر اعظم سے لیکر امریکی افغان جنگ تکے کے سارے احوال موجود ہیں جو خیبر پاس سے متعلقہ تھے۔ امریکہ اپریشن سے لیکر پاکستان اپریشن اور وہاں پر موجود فوجی تختیوں کی تصویریں تک۔ مجھے اردو میں اتنی مفصل کتاب کم ہی نظر آئی، المیہ ہمارے معاشرہ کا اور انحطاط یہ ہے کہ علم کم سے کم ہوتا جارہا ہے کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 07, 2010

چرچ میں نماز

چرچ میں افطار پر کوئی 200 کے قریب بندے مدعو تھے، پروگرام کا اہتمام چرچ کے ملحقہ تقریباتی ہال میں تھا، ان میں زیادہ تعداد عربی انسل مسلمانوں اور اطالوی نو مسلم کی تھی، پھر مسلمانوں کے ساتھ انکے غیر مسلم دوست بھی جوکہ زیادہ تر اطالوی ہی تھے۔ پھر چرچ سے تعلق رکھنے والے افراد ، جن میں اہم اس چرچ کے پادری، ایک اور چرچ کے نمائندہ بھی تھے۔ افطار پانی اور کھجوروں کے ساتھ ہوا اور ساتھہ ہی چھوٹے سے اسپیکر پر اذان کی آواز گھونجی ایک ساتھ نے فوراُ بعد اطالوی میں ترجمہ کیا اور ایک کونے میں چادریں بچھا کر باجماعت نماز کی اقامت شروع اور پھر ایک ہوئے محمود و ایاز۔ تین رکعت نماز کے بعد کھانے کا اہتمام تھا، جس میں مروکینی شوربہ، تیونس کی کس کس، پاکستانی بریانی، مصری ابلا ہوا گوشت، فلسطینی زیتون مرغی وغیرہ وغیرہ ، کھانے کے بعد تقریریں شروع ہوگئیں، ایک خاتون نے اسلام میں روزہ کی اہمیت بیان کی، پھر چرچ کے پادری صاحب نے اپنے مذہب میں روزہ کے بارے بیان کیا، پھر کونسل کے سابق امیگریشن کے کونسلر نے مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کی ضرورت بارے بیان کیا۔ پروگرام آپنے اختتام کو پہنچا اور سب اپنے اپنے گھروں میں۔ ہمارےپیارے پاکستان میں شاید شعیہ، سنی وہابی و دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہ میں نماز پڑھنا تو درکنار انکوچلادینے اور وہاں کے عبادت گزاروں کو قتل کرنا باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ کہیں ہم نے اپنے مذہب کی باہمی رواداری اور بھائی چارہ کو ترک تو نبہیں کردیا اور کہیں ہم اپنے دین کی اصلی تعلیمات کو بھلا تو نہیں بیٹھے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, ستمبر 04, 2010

چرچ میں افطار

آج ہمارے کچھ عیسائی دوستوں نے جو بہت مذہبی ہیں اور ہمارے مذہب کے ساتھ لگاوٗ کی قدر کرتے ہوئے ہماری افطار پارٹی کا اہتمام کیے ہوئے ہیں۔ یہ پروگرا م ایک چرچ کے ہال میں ہوگا۔ جہاں پر دونو ں مذاہب کے بارے میں بات ہوگی، افطار ہوگی اور نماز کے لئے جگہ دی جائے گی۔ کیا ہم یہ سب اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ بھی نہیں کرسکتے۔ بقول مملکت خداداد میں حضرت علی رضی اللہ کے جلوس پر دھماکہ، مسجد و مزار میں فائرنگ۔ ہم کس طرف جارہے ہیں اور کون سا راستہ اپنا چکے ہیں، ہمارا دین جو رواداری کا سبق دیتا ہے کیسے اسے بھلا بیٹھے ہیں؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 24, 2010

غصہ اور گالیاں

فیس بک پر ایک ویڈیو گھوم رہی ہے جس میں ایک صاحب نے سیالکوٹ کے دردناک واقعہ پر بے شمار غصہ اور غم کی حالت میں ایک پیغام ویڈیو ریکارڈ کرکے بس لانچ کردیا اور یار لوگوں نے اسے دنیا بھر میں گھما دیا۔ میں نے بھی کسی لنک کی وساطت سے وہ ویڈیو دیکھی ہے مگر مجھے وہ پیغیام کی بجائے غصہ ہی لگا ہے جس میں اس بندے نے اپنے اندر کا غبار نکالا اور گالیوں کی شکل میں سب کچھ باہر انڈیل دیا۔ غصہ انسان کو تب ہی آتا ہے جب اسکا کوئی نقصان ہوا ہو ، یا پھر ایسی صورت میں جب کسی مشکل کا شکار ہو اور اسکا حل تلاش نہ کر پارہا ہو، غصہ کی ایک اہم بات یہ کہ یہ تبھی آئے گا جب آپ کو اپنی بے گناہی اور معصومیت کا مکمل یقین ہو، مجرم دل بندہ میسنی سی صورت بنا لے گا یا چار گالیاں کھا کر بھی غصہ نہیں کرے گا۔ گالیوں اور غصہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور عمومی طور پر پہلے غصہ بلند آواز کی شکل میں پھر اور پھر اسکے بعدگالیوں کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے اور اسکے بعد ہاتھوں اور پھر ڈنڈوں اور دیگراوزاروں مثلاُ چھری چاقو، پستول، بندوق کلاشنکوف اور توپ وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ کل کا گالیاں دینے والا آج ہاتھا پائی نہ کرے، اور آج ہاتھا پائی کرنے والا کل کلاں دیگر اوزاروں پر نہ اتر آئے۔ اور اگر انکی تعداد زیاد ہ ہوگئی تو ؟؟؟؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 22, 2010

معاشرتی انحطا ط

سیالکوٹ کے المناک انسان سوز واقعہ کو دماغ سے نہیں نکالا جارہا، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی، مذہبی اور سماجی اقدار کو قطعی طور پر فراموش کرچکے ہیں۔ پولیس کی موجودگی میں دو انسانوں کا پر تشدد اور بے رحمی سے قتل عام، وہاں پر موجود لوگوں کی بے حسی اور اسے انجوائے کرنا، لاشوں کی بے حرمتی، سب دیکھ کر اس میں کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، نو گو ایریاز، سیلاب زدگان کی زبوں حالی اور انکا غصہ، عوامی بے حسی سب ملاکردیکھیں تو لگتا ہے کہ کل کلاں سیلاب زدگان بھی اپنی بدحالی پر پریشیانی کی بجائے غصہ کو اپنائیں گے۔ ایسی صورت میں ملک میں افرا تفری ہوگی اور پھر امریکن یورپی اور دیگر دنیا کے نام نہاد علمبردار ہماری معاشری حالت کو سدھارنے اور امن قائم کرنے کو آوارد ہونگے۔ خاکم بدہن

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 22, 2010

رات کو دیر سے گھر جانا

پاکستان میں تھے تو پرھنے کے دنوں میں صرف پڑھا جاتا اور ویک اینڈ پر اور چھوٹیوں میں رات رات بھر پہلے تو چھپن چھوتی (چھپنا ڈھونڈنا) اور پھر تاش کی بازیاں لگیں یار لوگ اپنی بیٹھک میں یا فارم پر یا کسی اور دوست کی بیٹھک میں تاش کےلئے براجمان ہوتے اور پھر بانگ سحر پر بھاگ لیتے، کہ بہت دیر ہوگئی ہے ماں جی سے چھتر پڑیں گے اور یہ کہ آئیندہ سے جلدی گھر جایاکریں گے، یعنی رات ایک بجے، چھتر واقعی پڑتے کہ باوجود کوشش کے کہ ماں جی کو پتہ نہ چلے دابے پاؤں چلتے مگر وہ پہلے ہی سے جاگھ رہی ہوتیں، اور بس اتنا اعلان کرتیں کہ کجنرا اس ویلے ایا ہیں، سوجا، سویرے تیرا مکو ٹھپساں(خبیث تم اس وقت آئے ہو، ابھی سو جاؤ، صبح تجھے چھترول ہوتی ہے) اور پھر صبح منہ چڑھا کر دن چڑھے جب اٹھتے اور ناشتہ کے بعد اماں سے تین چھتر اور بیس گالیاں پڑتیں۔ دوسرے دن جاتے ہیں منڈلی کو کہتے کہ بھی میں تو بارہ بجے گھر چلا جاؤں گا کہ آج بہت بےعزتی خراب ہوئی ہے۔ پس اس دن بھی جب بازیاں لگ جاتیں تو شاہ جی میرے ساتھی ہوتے اور ارشد مودی اور نیدی ہمارے مخالف، دیکھنے والے بھی پانچ ساتھ ہوتے اور یہ ساری کابینہ تھی، فیصلہ ہوتا کہ اگر تم نے جلدی جانا تو مخالفوں کو کوٹ کرو، مگر کوٹ تھا کہ ہوکر نہ دیتا اور ہم پھر تین بجے باقیوں کے ساتھ گھر جاتے اور اگلے دن پھر چھتر کھاتے۔ بہت سالوں بعد یہ روایت چلتی رہی، کابینہ کے بندے اکثر دوسرے شہروں میں پڑھنے اور ملازمت کرنے چلے گئے بشمول ہمارے مگر ویک اینڈ پر سارے گھر اور پھر وہی جمعہ کو چھتر و چھتری۔ حتٰی کہ جب ہم کالج میں لیکچرار تھے اور ایک شام کا کلینک بھی تھا تب بھی یہی روٹین رہی۔ مگر پھر صرف گالیاں پڑتی تھیں۔ عرصہ سے اٹلی میں براجمان ہیں تو یہاں پر بھی ایسے ہی رہا، رات کو جاگنے کی عادت نہ گئی، پہلے سال پڑھتے رہے اور پھر دوستوں کے ساتھ شام کو باہر نکلنا مگر یہاں پر رات کو جس وقت بھی آؤ پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا بھلے نہ آؤ، روم میٹ کو کیا؟ اور جب پوچھنے والے گھر پر ہوں تو ہمیں باہر کیوں جانا ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 20, 2010

بڑے

بڑوں کے کام نرالے ہی ہوتے ہیں اور بڑے خود بھی، ہمارے دوست خان صاحب ایتوار کو ہمارے ہاں تشریف لائے، ایک مشترکہ دوست کے ہاں فاتحہ خوانی کو جانا تھا، ٹی وی پر خبرتھی کہ چاچی ھیلیری آرہی ہیں، جبکہ لالہ ہالبروک ابھی حال ہی میں چند روز قبل واپس گیا ہے، اسی دوران انڈیا عظیم سے ایک لالہ جی تشریف لائے اور لال بھبھوکا ہوکر واپس ہولئے، میں خان صاحب کو کہہ رہا تھا کہ جب بھی ایسا لالوں کا ایک ساتھ وزٹ ہوتا ہے تو گلہ ضرور دبتا ہے یا خود پاکستان کا یا پھر پاکستان کے ذریعے کسی اور کا، اندازہ تھا کہ کسی اور کا ہی ہو۔ مگر قرعہ اپنے نام ہی نکلا، کل معلوم ہوا کہ افغانستان کو چرس، افیون اور جعلی قیمتی پتھر بڑی تعداد میں انڈیا کو دینا ضروری ہیں لہذا گزرنے کی اجازت ہے، پھر یہ کہ انڈیا نے بھی تو ادھر جاسوس، ڈانگ مار، کند ٹپ قسم کےلوگ بھجوانے ہیں تو اسے بھی اجازت ہے۔ پاکستان کو بھی کاغذوں میں اجازت ہے کہ وہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کرے گا، مقر خان صاحب پوچتھے ہیں کو افغان حکومت کو خود کابل باہر اور امریکی فوجیوں کو چھاونیوں سے باہر جانے کی اجازت طالبان سے لینی پڑتی ہے، پاکستان حکومت کونسا کارڈ کھیل رہی ہے میرے خیال سے تو پاگل پن کا، آپ کے خیال میں کیا سیانی بات ہوسکتی ہے جو ملکی مفاد میں ہو؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 09, 2010

جعلی ڈگری والے اراکین کی سزا

جعلی ڈگریوں والے ممران پارلیمنٹ کو گنجا کرکے اور جعلی ڈگری ہاتھ میں دیکر بمعہ انتخابی نشان کے کھوتے پر بٹھایاجائے اور بازار میں پھرایا جائے ہر بندے کو درخواست کی جائے کہ وہ اسے دو جوتے مارے، تین دن کے بعد انکو گھر میں نظر بندکردیا جائے اور یہ کہ یہ لوگ ایک برس کےلئے محلے کی نالیاں صاف کیا کریں، ساری زندگی کےلئے ان پر سرکاری، نیم سرکاری ملازمت بند، کاروبار کی اجازت نہیں، پاسپورٹ ضبط اور بیرون ملک سفر پر پابندی۔ سیاست سے ہمیشہ کےلئے بلیک لسٹ، بلکل جس طرح چائنا میں جعل سازی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے کچھ لوگ ٹی وی پر نیہایت بے شرمانا انداز میں کہتے ہیں کہ وہ قانون ہی کالا تھا اور میں اس کو نہیں مانتا، میاں نا ں مانو مگر جھوٹ بولنے والوں اور جعل سازوں کو ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں۔؟؟؟؟ مگر پارٹیاں ہیں کہ پھر انہیں لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں بلکہ انکو مشیران خاص بھی مقرر کیا جارہا ہے۔ کہ میاں کوئی بات نیہیں ڈگری جعلی ہے تو کیا ہوا حکومت کے مزے تو لوٹو، پنجابی کا محاورہ بے شرماں دے ٹہوے تے اک جمیاں، تے کہن لگے کہ کیی ہویا یاراں نے تے چھاویں ہی بہنا ہے، یعنی بے شرموں کی پیٹھ پر آک اگا تو کہنے لگے کہ کیا ہوا یاورو کو تو سائے میں ہی بیٹھنا ہے، در فٹے منہہ ہت تیری کسے کتا رکھن والے دی

مکمل تحریر  »

سوموار, جولائی 05, 2010

اٹلی میں پہلی شاددی کی دعوت

اٹلی ایک ایسا ملک ہے جہاں خاندانی قوانین بہت سخت ہیں اور یہ کہ اس سختی سے بچنے کےلئے عوام نے شادی کرنا کم کردیا، ہمارا سابق کولیگ جوانی عمر نہیں، اس کا نام ہے جسکو انگریز جان کے پکارتے ہیں ایک دن بہت فری ہوکر بتلا رہا تھا کہ مجھے اپنی منگیتر کے ساتھ رہتے ہوئے 23 برس ہوگئے ہیں اور ہمارے 3 بچے بھی ہیں، سوچ رہے ہیں کہ ہم اب شادی کر ہی لیں، میں نے پوچھا کب تک متوقع ہے یہ شادی؟ بولا معلوم نہیں ابھی تو صرف سوچ ہی رہے ہیں ہوسکتا ہے آنے والے سالوں میں کرہی لیں۔ بہرحال ابھی تک میں کنوارہ ہی ہوں۔ یہاں پر ضروری ہے کہ یاد دلایا جائے کہ ایک عورت بغیر شادی کے اگر بچہ پیدا کرتی ہے تو اسکی مرضی ہے کہ اسکے باپ کا نام لکھوائے یہ نہیں۔ ویسے ایک بات اور بھی کہ اول تو لوگ شادیاں ہی نہیں کرتے پھر اگر کربھی لیں تو بچے نہیں اسی وجہ سے اٹلی کی شرح پیدائش چند برس قبل صفر تھی، مگر آج کل کچھ بہتر ہے کہ غیرملکیوں کے ہاں بچوں کی پیدائش بکثر ت ہورہی ہے۔ حکومت نے لوگوں کو لالچ دیا ہوا ہے کہ فی بچہ 1200 یورو ماں کو اور 8 ماہ کی چھٹیا ں بمعہ تنخواہ اور اگر بیوی جی کام نہ کرتے ہوں مطلب ہاوس وائف کو 500 ماہانہ ایک برس کےلئے۔ غیر ملکیوں کے تو مزے ہیں، بچوں کے بچے اور مفت میں یوروز بھی، یعنی چوپڑیاں بھی اور دو دو بھی، اس بارے میں کوئی کلام نہیں۔ ھیلینا ہمارے کورس کی سیکرٹری تھے جو ہم 45 کے قریب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بریشیا کی تاریخ اور شہر کے اہم مقامات کے بارے میں کررہے تھے، پاکستان سے واپس آیا تو ھیلینا کی ای میل موجود تھی کہ اگر میری شادی پر چرچ میں تشریف لاوٗ تو میرے لئے باعث صد افتخار ہوگا، لو جو چونکہ اس فقرہ میں بندہ کا نام تھا تو جانا لازم ٹھہرا، پھر بنگلہ دیش کے زمان کا فون کہ میں بھی جاوٗں گا تم بھی لازم چلو، برازیلین مونیکا کا اصرار کے ایک ساتھ چلیں ، بیلوروس کی اولیسیا کا بھی اصرار کہ چلو ہی چلو، پھر میری اپنی بھی خواہش بھی اور تجسس بھی کہ اٹالین لوگ شادی کیسے کرتے ہیں، سنا تو تھا مگر دیکھنے کی خواہش تھی۔بلکل قصہ حاتم طائی بے تصویر کے مصداق، اولیسیا میرے آفس میں مقر رو قت پر پہنچی اور پھر زمان ہمیں پک کرنے آگیا، مقررہ وقت پر ہم لوگ پہنچے ایریا میں ، چونکہ کسی کو بھی چرچ کی درست لوکیشن کا علم نہ تھا ، تو سوچ رہے تھے کہ کسی سے پوچھیں، ایسے میں ہی دلہن اور دلہا ایک سجی سجائی بابا قائداعظم کے زمانے کی پرانی کار میں نظر آئے ہمارے ہاتھ ہلانے پر انہوں نے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور ہماری گاڑی فوراُ انکے پیچھے، لو جی فوراُ انکے پیچھے آنے والی گاڑیوں نے جن پر پھول بھی لگے ہوے تھے کہ براتی ہیں ہارن بجانا شروع کردئے، گویا کہ رہے ہوں، اوئے تہاڈا کجھ نہ رہے تسیں کتھوں آوڑے ہو۔ چرچ میں 2 گھنٹے پر مشتمل تقریب تھی جس میں میوزک بھی تھا، دعائیہ مجلس بھی اور پھر دلھا دلہن نے ایک دوسرے کو سب کے سامنے قبول کیا اور اچھے برے حالات میں ایک ساتھ رہنے کی قسم کھائی، ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں اور پھر پادری صاحب کی طرف سے اذن ہوا کہ اب دلھا دلھن ایک دوسرے کا بوسہ لیں، اس سے پہلے بھی وہ بوسے لے ہی رہے تھے مگر اس کو مقدس بوسے کا نام دیا گیا، پھر نکاح نامہ پر دستخط اور کا م ختم، آخری تقریب نو بیہاہتہ جوڑا پر چاول پھینکنے کی تھی، لوگ جلدی سے باہر نکلے اور چاولوں کے پیکٹ کھول کر کھڑے ہوگئے جس کے پاس ہماری طرہ نہیں تھے انکو دائیں بائیں سے امداد مل گئی ، بس یار لوگ تاک میں کھڑے ہوگئے جونہی دولھا دلھن باہر نکلے تو ہر بندہ بچہ بن گیا،، خوب کس کر انکو چاول مارے گئے ، کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے بچے ذہین پیدا ہونگے ، اگر ہوئے تو، پھر مبارک بادیں اور معانقہ اور پھر اپنے اپنے کام پر، جس کے پاس زیادہ وقت تھا وہ انکے ساتھ ایک بار میں ڈرنک پینے اور جام ٹکرانے چلا گیا۔ ہم تو سدا کے عدیم الفرصت ٹھہرے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش