بدھ, جولائی 31, 2013

نیا اسلامی انقلاب، گانا بجانا

عبدلروف روفی کی غزل پر وہ بات کرے تو سنا ہے پھول جھڑتے ہیں کو سن کر یا رسول اللہ کہنے والے مولوی باؤ محمد حمید مرحوم کے عشق رسول کی ایک عام مثال تھی، ہم ہنستے تھے کہ مولوی یار یہ کسی اور چکر میں گا رہا ہے، مگر مولوی اپنے چکر میں یارسول اللہ کہہ کر ہاتھ چومتا ہوا ہے، آنکھوں کو لگاتا ہوا، بس سر سے اوپر بالوں تک لے جاتا، مولوی کی محبت اپنی جگہ پر اور غزل گانے والے کی نظر اپنی جگہ پر  لکھنے والے نہیں جہاں لگائی وہ تو علم نہیں کیوں کہ شاعر کا نام معلوم نہ ہوسکا، مگر ہم جہاں پر لگا رہے تھے وہ وہی تھی جہاں عموماُ ایسی غزلیں لگتی ہیں، ہماری غزل کا معشوق اور تھا اور مولوی جی کی کیفیت کہیں اور لے جارہی تھی، خیر بھلے آدمی تھے بھلی نباہ گئے اور جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گئے، 

آج جانے کیوں مجھے مولوئ جی بہت یاد آرہے، جب اس بلاگ کو لکھنے بیٹھا تو لگا کہ مولوی جی خود ہی سامنے مجسم آگئے اور کہہ رہے، یار ڈاکٹر جی سانوں بھل ہی گئے ہو، کدی یاد ہی نہیں کیتا، اب یاد تو بندہ دنیا دار جو ہے وہ دنیا والوں کو ہی کرے گا، جن سے لین ہے اور دین بھی، مگر جو ادھر سے نکل لئے انکا معاملہ اللہ کے سپرد، کبھی موقعہ ملے فرصت ہوئی تو یاد کرلیا، اور کہہ دیا اللہ مغفرت کرے۔  

مولوی محمد حمید اپنے آپ کو باؤ حمید کہلوانا پسند کرتے اور میں انکو مولبی جی کہنے پر مصر، کبھی بہت لاڈ پیار ہوا تو مولانا کہ لیا یا پھر حضرت جی تو بس پھر حضرت جی اپنا ہاتھ چوم لیتے، حضرت جی اٹلی میں ہمارے اولین رفقاء میں شام رہے، پہلے  سال کی سردیاں جب ایک کمرے میں 14 بندے ہوتے اور اوپر سے 3 مہمان بھی تو میں اور مولبی جی نے ایک سنگل بیڈ پر سوکر ایک رضائی میں گزار دی، انکے پاؤں میرا سر اور میرا سر انکا پاؤں۔ 

سدقے شالا انہاں پردیسیاں تیں گلیاں دے ککھ جہناں تیں  پہارے۔ 

مولوی جی کوئی باقاعدہ مدرسے کے طالبعلم نہیں رہے مگر بس دین نے انکو اپنے اندر سمولیا اور وہ اسلام سے زیادہ صوفی ازم کی طرف نکل گئے، مطلب پنجگانہ نماز اور ورد وظیفہ، پیروں کی باتیں، اور ولیوں کے قصے، جو شروع ہوتے ایک بزرگ نے ایک مقام پر فرمایا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کوئی اچھی بات ہی ہوتی، مولوی جی کی تعلیم عمومی مگر لگن پکی تھی،  ہم لوگ حوالہ مانگتے، مگر وہ اپنی بات پر پکے، بس جی جب لگن لگ گئی تو فیر لگ گئی، البتہ یہ قرآن اور حدیث کا حوالہ کم ہی ہوتا، مگر سادگی سے وہ اپنے رستے پر چلتے رہے، اور ہم اپنی لفنٹریوں پر، ہمارے حوالے اور دنیا داریاں اور انکے بغیر حوالے کی لگن اور سادگی، بس یہ درویشانہ عالم کہ کتنی باربحث ہوتی، زچ کرتے کہ مولوی تینوں ککھ پتا نہیں، مگر وہ ہنستے ہنستے نکل لیتے، سادیو ڈاکٹر جی تسیں نہیں سمجھو گے۔  البتہ ایک بات پکی تھی، مولوی جی میں کوئی شرعی عیب نہ تھا، باریش، یورپ میں بھی شلوار قمیض کہ بھئی مذہبی لباس ہے باوضو، نماز جہاں بھی وقت ہوگیا، پڑھ لینی نہیں تو موقع ڈھوندنا
 اللہ نے ان پر اپنا فضل رکھا اور دنیا کے معاملات وقت سے پہلے ہی سمیٹ کر مرحوم ہوگئے۔  اب تو شاید دو برس ہوگئے ہونگے، اللہ انکی مغفرت کرے اور انکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا کرے۔ 

تب یہ پہلی غزل تھی نوے کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے جب ہم مولوی کے ساتھ اس غزل پر جھگڑرہے ہوتے اور وہ اپنی کیفیت میں چلے جارہے، پھر اسکے بعد سنا کہ نعتیں باقاعدہ  غزل گوئی کی طرز پر گائی جانے لگیں، پھر قرآنی آیات کا گایا جانا بھی عام دیکھا گیا، پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ دکان چل نکلی ہے تو بہت سے گانے والوں نے نعتیں اور حمدیں گانا شروع کیں اور ہم نے انکو بہت برا بھلا کہا، مولبی لوگ تو فل تپے ہوئے ہوتے، پہلے غزل گو نعت پڑھنے والی طاہر سید تھی، فیر بس جیسے برسات میں کھنبیاں پھوٹتی ہیں ایسے غزل گو اپنی جون بدل کر نعتیے ہوگئے، بعئی ہمارے علم کے مطابق تو گانا اسلام میں شرعی طور پر منع کیا گیا، اور قرآن کو گاکر پڑھنے والوں پر لعنت کی گئی، تو فیر یہ اب جو چل رہا ہے، وہ کیا سین ہے۔ ؟؟؟ یہ سب اگر مولوی جی حیات ہوتے تو انکے ساتھ بحث ہونی تھی اور انہوں نےکہنا تھا سادیوں تہانوں نہیں پتا، چھڈو، انہاں نوں اپنا کم کرن دیو، تے تسیں اپنا کم کرو۔ 

تو ہم کون سا توپ لئے گھوم رہے انکے پیچھے، گائیں جی نعتیں گائیں حمدیں گائیں، ، قرآنی آیات گائیں اور ہم تو اپنا کام کررہے ہیں، پوری قوم اپنا کام کررہی ہے۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

دوھری شہریت اور اورسیز پاکستانی







اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 

جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔

پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر نہیں دیتے۔

پھر سن ستر میں بھٹو صاھب کی افراتفریح کی وجہ سے جب لوگوں نے ملک سے نکلنا شروع کیا تو  "باہرلے"  کا لفظ معرض وجود میں آیا ، خیر یار اسے طنزاُ بھی استعمال کرتے ہیں،  "" جی، جی، آپ تو    باہرلے ہیں جی ""،   خیر
باہرلے تین قسم میں تقسیم ہوئے پھر،  بیرون ملک رہنے والے پاکستانی،   دوھری شہریت والے اور غیر ملکی شہریت والے۔

بیرون ملک پاکستانی
Overseas-Pakistanis-Looted-By-Land-Mafias-State-Offers-No-Help
انکو اورسیز پاکستانی  بھی کہا جاتا ہے، انکے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور جہاں پر رہتے ہیں وہاں پر تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو تو انکو پاکستان ایمبیسی سے رجوع کرنا پڑتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ہوں انکو بےتوقیری کا سامنے بھی کرنا پڑتا ہے، بس پاسپورٹ نکالا نہیں کہ امیگریشن افسر کا منہ بدلا نہیں۔ میں خود کتنی بار کھجل ہوچکا ہوں،  جبکہ میرے ساتھ پورے کا پور ڈیلیگیشن دوگھنٹے تکے میرا انتطار کرتا کہ خان صاحب ذرا امیگریشن سے فارغ ہولیں،   ہم لوگ ادھر ووٹ نہیں ڈال سکتے،  سیاست نہیں کرسکتے، صرف کام کرو، کھانا کھاؤ،  ٹیکس دو،   کام ختم اور ہم بھی فارخ۔ مگر پاکستان جائیں تو پھر جیب سے ادھر کا پرس نکال کر دوسرا  ڈال لیا جس میں پاکستانی اردو والا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور بس پاکستانی ہوگئے پورے کے پورے۔ اللہ اللہ خیر سلہ


دوھری شہریت والے پاکستانی
Dual nationality bill Judge to be Barred from Holding Dual Nationalityیہ وہ اصحاب ہیں جو ادھر کی مقامی شہریت بھی لیتے ہیں ،ا دھر سیاست بھی کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور لیتے بھی ہیں۔  یہ صاحبان دوچہروں کی طرح دو پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، جب پاکستان آتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ نکال لیتے ہیں اور جب  ملک سے باہر ہوتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ غایب، گویا   ڈبل مزہ۔


غیرملکی شہریت والے
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی  مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور کسی دوسرےملک کی شہریت اختیار کرلی، یہ  بس غیر ملکی ہی ہوتے ہیں، انکو پاکستان جانے کےلئے بھی پاکستان کا ویزہ ایمبیسی سے لینا پڑتا ہے۔
پاکستان میں بھی انکےلئے اپنا اندراج پولیس میں کروانا لازمی ہے، کسی بھی معاملے میں یہ لوگ اپنے سفارتخانے کے ماتحت ہی ہوتے ہیں، جس طرح ایک شاعر صاحب کا آج انڈیا نے  پاکستان کے ثقافتی میلے سے واپس بلوالیا، جس طرح مجھے پولینڈ والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ مطلب فل غیر ملکی، یہ لوگ پاکستان میں سیاست تو کیا، جائیداد تک نہیں خرید سکتے۔ تاوقتیکہ باقائدہ اجازت نہ لے لیں۔ 

سوال اگر یہ ہو کہ  ان میں سے کون محب وطن ہے تو  جواب یہ ہوگا کہ جو وطن سے محبت کا اظہار کرے،  جو پاکستان کےلئے کچھ کرے، وہ پاکستان کےلئے اچھا ، وہی محب وطن ،  چاہے  وہ اندر والا، ہوکہ باہر والا ،  اکہری شہریت والا یا دوھری والا،  اور بھلے وہ گورا  ہی کیوں نہ ہو اسکو بھی نشان پاکستان ایوارڈا جاتا ہے۔

مگر جو حرامدے کام کرے گا   اسکو جوتے بھی پڑتے ہیں، ذرداری گو پاکستان کا صدر بن گیا ہے مگر لوگ اسے کتا کہنے میں ہچکچاتے ہیں، اسی طرح  رحمان ملک کی دہشت گردی،  حسین حقانی کی واردات ، ہو یا شیخ الاسلام کا فساد، سب قابل مذمت، مگر ایک بات ہے،
النیت والمراد
جیسی نیت ویسی مراد،   شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری المشور کینڈیوی  کے ساتھ بھی جو ہوا  ،   وہی ہوا ،  جو ہونا چاہئے تھا۔ 

مکمل تحریر  »

بابا افراتفری اور دوھری شہریت




چچا غالب ہمارے پسندیدہ چچا ہیں، یہ اردو   شاعری والے مرزا اسداللہ خان غالب  نہی ہیں بلکہ یہ ہمارے پنڈ کے ہیں اور پنجابی  ٹکا کے بولتے ہیں، والد صاحب کے کزن ہیں اور  راجہ غالب سلطان   لکھے جاتے ہیں،   ہمارے یہ چچاجی فل مخولیا  طبیعیت کے ہیں،  اتنے مخولیا کہ ہمارے اسکول کی تفریخ کوئی بھی افراتفریح کہتے،  ہم اسکول کی چھوٹی تفریح کرتے تو کتنی بار انکو باہر بابے لنگے کی دکان کے پاس کھڑے پایا اور اس دن بابا لنگا  ہمیں اور ہمارے درجے کے دیگر پنڈ کے لڑکوں کو  مفت میں  "پھلیاں مکھانے"  دیتا،  اور شام کو چچاغالب ہمیں چھیڑتے کہ  " اوئے تم لوگ  نکی افراتفری کے "ویلے" بابے  لنگے سے مفت پھلیاں  مکھانے کس چکر میں  کھارہے تھے۔ " بعد میں معلوم ہوا  کہ بابے لنگے کو انہوں نے خود ہی کہا ہوتا کہ میرے ہوتے ہوئے خبردار میرے بھتیجے بھانجوں سے پیسے لئے تو، اور خود اسکو پیسے چکا دیتے،  پورے پنڈ کے بچے ہی تو انکے بھتیجے بھانجے ہیں۔  اسی طرح بڑی تفریح کے وقت ہم گھر  روٹی کھانے جاتے تو  چچا غالب پھر ہمارے ساتھ مخول کررہے ہوتے  " کیوں بھئی ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہو،  ہر وقت افراتفری میں ہی رہتے ہو، کدی نکی، تے کدی وڈی۔ 

ایک دن میں نے پوچھ لیا چچا آپ تفریح کو افراتفریح کیوں کہتے ہیں تو فرمانے لگے کہ "پتر جی جس تیزی اور چستی سے تم لوگ بھاگتے ہوئے گھر آتے ہو، کھانا کھاتے ہو اور پھر بھاگتے ہوئے اسکول پہنچتے ہو، پھر بھی لیٹ ہوجاتے ہو اور ماسٹر سے ڈنڈے بھی روز کھاتے ہو۔  تو پھر تفریح  تو نہ ہوئی، یہ تو افراتفریح ہی ہے ، نری افراتفری۔  ہیں جی

چچا غالب ویسے بھی بہت پر مزاح بندے ہیں، ابھی بھی گو باریش ہوچکے مگر  وہی ہنسی، وہی  محبت، وہی چاہت، پاکستا ن  پہنچیں تو پہلے جن بندوں سے ملاقات ہوتی ہے ان میں سے ہیں اور جن کو مل کر احساس ہوتا کہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے مولانا  یعنی کہ ڈاکٹر صاحب قادری جی المعروف شیخ الاسلام کینیڈوی اچانک چھلانگ مار کر پاکستان آگئے اور انہوں  نے اپنے ناچنے والے پروگرام کی طرح پورے ڈھول تاشوں سے اچھل کود مچادی،  ہرروز کوئی نہ کوئی دھما چوکڑی، جلسہ، جلوس، ملک میں جب پانچ برس بعد الیکشن ہونے والے ہیں، عوام کوووٹ ڈالنے کا حق ملے گا، شاید بغیر خون خرابے کے خبیثوں سے جان چھوٹے، اور آنے والے انکی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اس سے بچنے کی کچھ تدبیر کریں اور مفادعامہ کی کچھ کام کرلیں۔ امید پر دنیا قائم ہے۔

مگر مولبی جی کا پروغرام  ہے کہ نہیں جی ایک ٹائم پاس حکومت ہو جو پہلے احتساب کرے، پھر الیکشن ہوں،  پر باوا جی سے بندہ پوچھے کہ  ایک طرح کی چھاننی سے ہی چھانو تو گند نکلے گا، اور جو بچے گا وہ ایک طرح کا مال ہی ہوگا، اگر آپ روز چھاننی بدلی کروگےتو ، پھر یہ جو نئے آنے والے ہیں انکے میرٹ کا تعین کون کرے گا، الیکشن ایک پراسس ہے جس  سے کچھ کچھ نہ کچھ گند صاف ہوتا رہتا۔ گو فل صفائی نہیں ہوسکتی۔  مگر پھر بھی۔ بصورت دیگر، وہی ون مین شو،  کون حکومت بنائے گا، کون بنوائے گا، انتظام کی ذمہ داری کس پر، محاسبہ ہوگا ؟ کون کرے گا۔ 


مولوی جی کو عدالت سے بھی صاف جواب ملا تو ایک نئی افراتفری ڈال دی کہ جی دوھری شہریت والوں کی  "بِیزتی  " ہوگئی، اب واقعی یہ کہ کہ جب کوئی بھی بندہ چوول کام کرے گا تو اسکی  بیزتی تو ہوگی، اگر پاکستانی شہریت والا مشرف کرے گا تو پاکستانی شہریت کی بیزتی، اگر دوھری شہریت والا  مولوی قادری اور حسین حقانی کرے گا تو دوھری شہریت کی بیزتی، اگر کوئی برطانوی شہریت والا جارج پٹھ کرے گا تو برطانوی شہریت پر  تھو، تھو ہو گی۔

پس  مسئلہ اکہری و دوہری شہریت نہیں ہے، بلکہ اعمال ہیں جیسی نیت ویس مراد، مولوی جی  کے ساتھ بھی وہی ہوا جو انکی نیت تھی۔   اللہ بڑا بے نیاز ہے

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 23, 2012

اٹلی جن اور قصائی

گزشتہ ہفتے ہمارے ادھر سول ہسپتا ل کے شعبہ نفسیات جسے پنجابی میں سائیکالوجی کہاجاتا ہے کی طرف سے ایک " کیارہ "  نامی خاتون کی کال آئی کہ  " ڈاکٹر جی ،  ہمارے لئے ٹائم نکالو، آپ کی مشاورت کی ضرورت الشدید ہے وہ بھی بہت ارجنٹ" ۔  ہیں جی ؟ ،  ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ضرور کوئی پنگا ہوگا، کچھ الٹا ہی ہوگا،  ورنہ اس سے پہلے مجھے شعبہ نفسیات والوں نے کبھی نہیں بلایا۔

ادھر  پہنچا تو  ڈاکٹر کیارہ  جو سائیکٹریک ہیں اور سوشل سائیکولوجی میں ماہر ہیں،  میرا انتظار کررہی تھیں،  بچاری بہت مشکور ہوئیں کہ  میں  نے اپنے قیمتی وقت سے " ٹائم " نکالا ہے، دو چار بار تو میں نے" کوئی گل نہیں "  کہہ کر بات آئی گئی کردی مگر اسکے بعد صرف سر کھجا کررہ جاتا۔بعد از طویل تمہید و بیان سیاق وسباق کے ،   انہوں نے آمدبر مطلب کے مصداق  جو کچھ بتایا اس کا خلاصہ بیان کردیتا ہوں اور اس کہانی کے نتیجہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ تو سنئے  ڈاکٹر کیارہ  کی زبانی۔


گزشتہ  ہفتے ہمارے پاس ایمرجنسی میں  ایک پاکستانی آیا ہے جس کی کچھ سمجھ نہیں آرہی، اس کی عمر چالیس برس ہے ، چھوٹی چھوٹی ترشی ہوئی داھڑی رکھی ہوئی ہے، سر پر ٹوپی مخصوص قسم کی  گول شکل کی، جس کے سامنے ایک کٹ سا ہے۔ کپٹرے پاکستانی شلوار قمیض، وہ بھی کچھ ایویں سا ہی۔ جسمانی طور پر کمزور، مگر لگتا ہے کبھی کافی بھرے جسم کا مالک رہا  ہوگا۔ کہتا ہے کہ اس پر جن آتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں،  اسکا نام محمد مالک  میر ہے،   تعلیمی لحاظ سے کچھ خاص پڑھا لکھا نہیں ہے،  شاید اپنے دستخط کرلیتاہے، ادھر اٹلی میں عرصہ دراز سے کوئی بیس برس سے مقیم ہے ، اطالوی زبان پر 
مناسب دسترس رکھتا ہےمطلب بات سمجھ سمجھا لیتا ہے۔  ہیں جی۔

میرے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ  " اسکا تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے، والد اسکا قصائی کا کام کرتا تھا، سات بہن  بھائیوں میں سے پانچویں نمبر پر ہے،  اسکے تین بچے ہیں جو پاکستان میں ہی ہیں  اور یہ کہ گزشتہ چھ برس سے ادھر بے روزگار ہے۔ پانچ برس سے پاکستان نہیں گیا، مطلب اپنے اہل خانہ سے دور ہے، پہلے اسکے پاس اپنا کرایہ کا فلیٹ تھا جو چھوٹ گیا،  ابھی اسکے پاس باقاعدہ رہائش بھی نہیں اور اپنے کسی گھمن نامی  خاص دوست کے ہاں رہتا ہے جو اس سے  کرایہ بھی نہیں لیتا۔ یہ گھمن جی آج تک  اسکا ہسپتال میں پتا کرنے نہیں آئے۔ 

جن کے آنے کے بارے اس نے بتایا کہ کہ میر جی کا کہنا ہے کہ " میں نے ایک بار ایک پاک جگہ پر پیشاب کردیا تھا جس کی وجہ سے جن مجھے چمٹ گئے ہیں اور ا ب تنگ کر رہے ہیں۔  مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ پیشاب کرنے والا واقعہ  اس وقت کا ہے جب وہ پاکستان میں تھا۔ مطلب کوئی بیس برس قدیم یا شاید اس سے بھی زیادہ،  ابھی وہ نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نہیں پڑھ سکتا ۔

ڈاکٹر کیارہ  کچھ یوں گویا ہوئیں "  ہم  نے آپ کے بارے بہت سنا ڈاکٹر جی،  کہ معالج بھی ہو اور پھر ثقافتی ثالث بھی ہو، آ پ نے نفسیات بھی پڑھی ہوگی۔ تو آپ ہمیں پاکستانی معاشرہ کے پس منظر میں اس کیس کی حقیقت بتاؤ۔

اب میں کیا بتاؤں۔   ایک بے روزگار آدمی کو جن  نہ پڑیں تو اور کیا ہو؟ آپ بتاؤ،  اول بات پاک جگہ پر پیشاب کرنے والی تو ،  یہ بات تو واقعی ہمارے ادھر مشہور ہے، مگر میرے خیال سے یہ کچھ ایسے ہی ہے جس طرح ہندو معاشرہ میں گائے ماتا کا کردار ہے، کہ بھئی یہ جانور چونکہ دودھ دیتا ہے مکھن بھی توقحط کے دنوں میں اسے "گائے ماتا" کا لقب دیا گیا کہ تب اس کا کام " ماں" کا ہی ہوتا ہے جو کھانے کو دیتی ہے۔ پاکستان میں عام مشہور ہے کہ فلاں بندے کو جن چمٹ گیا  کہ اس نے  چلتے پانی میں پیشاب کردیا تھا، فلا ں نے درخت کے سائے نیچے بول براز کردیا تھا  اور درختوں پر جنات کا ڈیر ہ ہوتا ہے،  کچھ ایسا ہی قبرستان کے بارے مشہور ہے۔  اب  اگر سوچا جائے تو چلتا پانی ،  سایہ  اور قبرستان  ہمارے لئے کس قدر اہم ہیں اور یہ بھی کہ انکو گندگی سے پاک رکھنے کا  اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ ادھر جن کا ڈیر ہ ہو اور وہ ہر مُوت کرنے والے کو چمٹے، کم سے کم  جو یہ کچھ سن لے گا وہ ان جگہوں  پر اپنی حوائیہ ضروریہ پوری کرنے 
سےفل بٹا فل گریز کرے گا۔

کچھ سوالا ت 
۔جن پاکستا ن ادھر کیسے پہنچا، ضرور پی آئی اے  سے آیا ہوگا، ایسے صورت میں اسکی ٹکٹ کو نسی ایجنسی سے بنی اور اسکا۔خرچہ کس نےبرداشت کیا؟

یہ جن صاحب  بیس برس تک کس چیز کو اڈیکتے رہے ، صرف تب ہی کیوں  چمٹے جب یہ بندہ  بے روزگار ہوگیا، اس سے 
 پہلے چمٹتے تو انکو کچھ یورو بھی مل سکتے تھے؟

پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہی بندوں کو جن کیوں چمٹتے ہیں ، اٹالین لوگ   پر حملہ آور نہیں  ہوتے۔ اسکی وجہ؟
کبھی آپ نے سنا کہ جن کسی  سید ، چوہدری، راجپوت، پٹھان ،  و اس طرز کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ۔ پڑے ہوں؟؟  میں نے تو نہیں سنا۔ہیں جی

 پھر یہ جنات قصائی ، نائی اور اس قبیل  کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے  پر ہی کیوں اکثر چڑھائی کردیتے ہیں؟؟؟ہیں جی


مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 23, 2012

کچھ حلال کچھ حرام


علی حسن  کا سوال:
سلام بھائی جان ۔آپ سے دو باتیں پوچھنی تھیں،آپ پڑھے لکھے ہیں، کافی عرصہ سے یورپ میں رہ رہےہیں
یہ بتائیں یہ خوراک میں حلال حرام کا کیسے خیال کیا جائے؟
چلو گوشت سے بچا جا سکتا لیکن لوگ تو کہتے ہیں دودھ تک حرام آ سکتا ہے، اب یہاں ایسٹونیا یا پولینڈ میں کیا کیا جائے اب زندہ تو رہنا ہے میں دودھ، ڈبل روٹی، میٹھے کیک وغیرہ میں بس سئور اور شراب کا دیکھ کر لے لیتا ہوں۔ میکڈونلڈ سے فش 
برگر مجبوری میں کھا لیتا ہوں لیکن ان کا تیل۔۔۔بس دل میں رہتا ہے کہ یار کیا کریں۔ کوئی مشورہ عنیایت کریں۔

ہمارا جواب:
بات حلال حرام کی ہو تو اس بارے واضع لائین موجود ہے، جس میں کسی دوجے کا نقصان کیا گیا ہو، یا اگلے کی مرضی شامل نہ ہو،  وہ مال حرام ہے، مثلاُ دوجے کی بیوی، چوری کی ہوئی مرغی،  چاہے آپ نے تکبیر دونوں پر پڑھی ہوئی ہو، دونوں حرام مطلق قرارپائیں گی۔

گوشت کو دیکھ کر لو کہ بیچنے والا مسلمان ہے اور سرٹیفیکیٹ دیتا ہے مطلب کہتا ہے " قمسیں اللہ دی اے حلال ہے  " تو آپ پر حلال ہوا، یا پھر کسی مستند کمپنی یاادارے کا سندشدہ۔   اور کیک سارے حلال ہیں، کہ حرام نشہ ہے نہ کہ میٹھا، اگر آپ الکحل کی موجودگی یا عدموجودگی پر فیصلہ کرتے ہو تو پھر دیکھ لو کہ ہر اس چیز میں الکحل موجود ہے جس میں خمیر اٹھایا جاتا ہے، مثلاُ آپ کے بند، نان،  خمیری روٹی وغیرہ ،  پھر حکم ہے کہ شراب کا ذخیرہ کرنا بھی حرام ہے  مگر سرکہ تیار کرنے کو،  واضع  رہے کہ سرکہ شراب سے ہی کشید کیا جاتا ہے مگر اسکے حلال ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ پس آپ کیک ، بروش اور اس قبیل کی دیگر ماقولات سے حظ اٹھاسکتے ہیں جب تک ان پر اینیمل فیٹ کی موجودگی کا لیبل نہ ہو، یورپین فوڈ ریگلولیشنز کے مطابق  اسکی موجودگی کی صورت میں اسے ظاہر کرنا لازم ہے، پس برانڈڈ مال ، مال حلال ہوا اور مقامی طور پر تیار کیا گیا مال مشکوک ، کہ کون جانے کس  جانور کی چربی ہے۔
لہذاحتٰی المقدور دوررہا جائے۔

فش برگر  پر گزرہ کرنے والے اسکے  تیل کے بارے میں مطمعن رہیں  کہ جو بندہ ککنگ کے بارے تھوڑا بھی جانتا ہے وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے  کہ جس تیل میں مچھلی فرائی کی جاتی ہے اس میں اگر آپ کوئی اور چیز فرائی کریں تو مچھلی کی بساند آئے گی۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہے میکڈونلڈز کےلئے، وہ کوئی پاکستانی تھوڑی ہیں کہ اسی تیل میں پکوڑے تلتے پھریں، ویسے سنا ہے کہ میک کا مال کوشر ہوتا ہے وللہ اعلم ، بہت سے پاکستانی ادھر اسی چکر میں  2 ہفتوں میں میک کھا کھا کر 10 کلو وزن بڑھالیتےہیں۔ ہم تو اسکے پاس بھی نہیں جاتے۔

پیزہ بھی لیتے وقت خاص احتیاط کیجائے کہ اس پر گوشت کسی صورت نہ ہو، نو میٹ،  خاص طور پر جب آپ اٹلی میں ہوں تو پھر آپ کے پاس ، نو میٹ کے بعد بھی بہت چوائس ہوتی ہے۔ اسکے انگریڈینٹس میں ، خمیری آٹا ، پنیر، ٹوماٹو ساس  اور مزید جو آپ کی مرضی ، لہذا مال حلال ، اگر پیسے دینے والا کوئی اور ہو توپھر پورا چسکا لو۔ ہیں جی۔

دودھ وغیر ہ کے بارے یہ کہ اگر یہ  گائے کا ہی ہوتا ہے اکثر ،  ادھر بھینس،  گدھی،  گھوڑی، بکری، سورنی کا ہوگا تو لازمی طور پر لکھا ہوگا اور اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔  ہیں جی، اب کو ئی  کم قمیت میں زیادہ قیمتی چیز کی ملاوٹ تو نہیں کرے گا۔

ویسے تومیں کچھ علم والا نہیں ہوں البتہ پڑھا لکھا ضرور ہوں، اگر آپ کو ایسا لگا تو ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، البتہ ایک عام بندےکے طور پراپنا  تجربہ تحریر کردیا ، اگر کوئ صاحب اس کو فتویٰ سمجھیں تو  ایسی کوئ بات نہیں ،  اگر کوئی اسکو غلط ثابت کرنا چاہئیں تو بھی ضرور کریں۔ ہاں ایک بات ہے کہ بطور ایک مسلمان کے جو عرصہ دراز سے ادھر غیر مسلم معاشروں میں رہ رہا ہے ، یہی طریقہ  سروائیول کا دکھائی دیا،  باقی اللہ جو بار بار کہتا کہ میں بخشنے والا ہوں، میں معاف کرنے والا ہوں، تو وہ  پوری امید ہے کہ ہمیں بھی بخشےگا اور ہم پر بھی رحم کرےگا۔ 


صرف کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے حلال حرام ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاُ سود، دوجے کا مال، دوست کے ساتھ دھوکا، فراڈ، وعدہ خلافی، جھوٹ، غیبت، تہمت وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی اس طرف زیادہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہیں جی۔  






مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 28, 2012

لڑکی واپس

ہماری گزشتہ پوسٹ میں تلبلاہٹ اور جھنجھاہٹ سے بہت سے احباب اور ہم خود بھی "تلووصیلہ"  تھے، مگر آج انہی محترمہ کا پیغام تھا جنہوں نے اس خبر کی نشاندہی کی تھی کہ وہ لڑکی واپس آچکی ہے اور یہ کہ وہ اپنے اس  " یار"  عرف کلاس فیلو یعنی کہ اسکی غیرملکی لڑکے کے گھر موجود تھی جس کے ساتھ دکاندار نے اسے دیکھا ۔

میری تلبلاہٹ پھر وہیں ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ گھر والوں کو اس طرح کے حالات کا شائبہ تک نہ ہو اور یہ کہ "ایڈے سادے وی نہ بنڑو" اور اپنے بچوں پر نظر رکھو بلکہ انکو بچاکررکھو،  بچوں کی حفاظت کا مطلب ان پر جبری کنٹرول قطعی نہیں ہے، بلکہ ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ آپ انکے اتنے قریب ہوں کہ وہ  اپنی ہر بات  آپ کے ساتھ شئر کریں اور لازمی طور پر آپ انکو کچھ صائب رائے ہی دیں گے، مگر ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے کہ بچوں کو اتنا ڈرا کر رکھا جاتا ہے اتنی ٹینشن دی جاتی ہے کہ  کوئی جائے مفر  نے پاکر کدھر جائیں ہم۔
اب کے جی تو چاہتا ہے کہ مرہی جائیں ہم
جو مرکے بھی چین نہ پائیں تو کدھر جائیں ہم   

اور یہ بھی کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی ہوتے ہیں اٹلی میں ذرا زیادہ ہوسکتے ہیں، مگر جب ایک معاملہ ایک گھر کا ہو تو اسے اخبار کی زینت بننے سے بچانا چاہیئے ،  کیونکہ پھر بات ایک گھر کی نہیں ہوتی بلکہ پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔
کہ یہ سارے ہی کنجر ہیں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 21, 2012

لڑکی غائب

ایک محترمہ نے بعذریہ فیس بک پوچھا کہ اگر مجھے اس بارے کچھ علم ہے، تو مگر میری لاعلمی پر  " ایل جورنو "  نامی اخبار کا لنک فراہم کردیا،
ساری  خبر کا ترجمہ میں ادھر کردیتا ہوں،  باقی آپ جانیں کہ کس نظر سے دیکھتےہیں۔

میری بیٹی غائب ہوگئی ہے، اسے تلاش کرنے میں میری مدد کی جائے۔
مونزہ ،  سولہ سالہ پاکستانی لڑکی غائب۔
باپ: " وہ تو اسکول میں پہنچی ہی نہیں"  اسکے پاس پیسے تھے نہ ڈاکومنٹس،  مگر ایک دکاندار نے اسے ایک لڑکے کی کمپنی میں دیکھا۔
اچانک ہی گم ہوگئی  نو جولائی سے،  اسکا نام ہے  عائشہ پروین،   پاکستانی، سولہ برس کی ہے،  لمبے سیاہ بال جو چہر ے کو فریم میں لاتے ہیں،  ایک میٹر ساٹھ کی قامت، متناسب جسم،  وزم چالیس کلو کے قریب،   سرکاری طور پر وہ صبح گھرسے اسکول جانے کو نکلی ، جہاں وہ  بنیادی زبان کی تعلیم لیتی ہے، اور یہ اسکول گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،  مگر عائشہ اس اسکول میں شاید کبھی گئی ہی نہیں۔

اسکول میں اس صبح اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں ،  نہ پروفیسروں نے اور نہ ہیں اسکے کلاس فیلوز نے،  اسکا باپ عجائب حسین عمر 53 برس قومیت پاکستانی ، جو اٹلی میں دس برس سے زیادہ کے عرصہ سے مقیم ہے اور باغبانی کا کام کرتاہے،  ہمت ہارچکا ہے۔ وہ ، اسکے اہل خانہ، دوست، ہم وطن سب ملکر اسی شام سے اسے تلاش کررہے ہیں۔  اسکا بڑا بیٹا بلال ، ذاتی طور پر پرچا کٹوانے گیا تھا دوسرے دن ہی کاریبینیری کے متعلقہ دفتر میں۔

باپ کے بقول: " ساڑے بارہ بجے تک جب وہ واپس گھر نہیں آئی تو ، میرا بیٹا اسے اسکول میں تلاش کرنے گیا مگر وہاں پر معلوم ہوا کہ وہ تو اسکول گئی ہی نہیں ،   ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کرنا شروع کردیا، ہسپتالوں میں ، مما ریٹا کے گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔،  تین برس قبل عجائب حسین نے اپنی فیملی کو مونزہ میں بلاکر اکٹھا کیا، جس میں اسکی بیوی کے علاوہ چھ بچے بھی ہیں، بیس برس سے بارہ برس کی عمر تک کے۔ مسلمان اور رسم ورواج کے پابند،  "مگر ہم ان بریشیا کے پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں"،  عجائب حسین ہاتھ اگے رکھ کر   بریشیا میں چند برس قبل والد کے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکی حنا سلیم کا حوالہ دے رہا تھا،  جس پر مغربی طرز حیات کو اپنانے کا الزام تھا۔

جبکہ ٹوٹی پھوٹی اٹالین میں ، گلہ بھر کر بیان کررہا تھا کہ جب سے عائشہ گم ہوئی ہے تب پوری فیملی پریشان ہے  " ہم نے تو کھانا تک نہیں کھایا"۔ عجائب حسین اس دوران متعدد بار پھٹ پڑ ا ، رونا ضبط کرلیا مگر  اسکے آنسو نہ نکلے۔ تصویر جو بنتی ہے وہ سب مگر واضع نہیں: لڑکی صرف اردو میں ہی بات کرسکتی تھی جو پاکستان کی قومی زبان ہے، اسے اٹالین کا ایک لفظ نہیں آتا تھا  جبکہ وہ دو برس سے  بیلانی نامی مڈل اسکول میں زیر تعلیم ہے ، عین ممکن ہے کہ اسکول کے اساتذہ نے ہی اسے بنیادی اٹالین کے اسکول میں میں پڑھنے کا مشورہ دیا ہو۔


باپ کے بیان کے مطابق اسکے دوست نہ تھے اور لڑکے تو بلکل بھی نہیں،  (مگر اس صبح ایک دکاندار نے اس لڑکی کو ایک غیر ملکی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے)، صرف ٹی وی دیکھ لیتی تھی، ( وہ بھی انڈین فلمیں )،  وہ انٹرنیٹ کا استعمال نہیں جانتی تھی اپنے بھائیوں کے برعکس،  "بس اپنے کمرے میں گھنٹوں چپ چاپ  پڑی رہتی،نہ تو احتجاج کرتی تھی ، نہ ہی  کوئی مطالبہ نہیں کرتی تھی، نہ  ہی پیسے مانگتی تھی،  کچھ بھی تو نہیں کہتی تھی"۔ گم ہونے کی صبح اس نے گلابی رنگ کی چھوٹے بازوؤں والی قمیض  پہنی،  براؤن رنگ کی  پنتلون اور جوتے، اور دوپٹہ سر ڈھانپنے کو۔  تفتیش کاروں  کا جبکہ خیال ہے کہ عائشہ خود ایک طرف ہوگئی ہے، اور یہ کہ اسے ممکنہ طور پر کسی  کی پناہ حاصل ہے،  شاید کسی ہم وطن کی۔

"یہ  میرے بچوں میں سے چوتھے نمبر پرہے"۔ عجائب حسین بیان کررہا تھا۔ میں تو بس اسکےلئے ایک دن ایک اچھا شوہر تلاش کرنا چاہ رہا تھا، اٹلی میں ایک لڑکی کےکرنے کے کام نہیں ہیں۔   ایک شوہر شاید باپ کا منتخب کردہ،  جو گرمیوں کے بعد بڑی بیٹی کی شادی کرنے کا اہتمام کررہا تھا " ایک ہم وطن دوست کے بیٹے کے ساتھ۔۔ ۔ "  مزید کچھ کہنا اس نے مناسب نہ سمجھا:میری بیٹی اس لڑکے کا فوٹو دیکھ پائی تھی اور انٹرنیٹ پر اس سے رابطہ بھی کیا تھا،  "اگر وہ اسے پسند نہ آتا یا وہ اس سے شادی نہ کرنا چاہتی تو اسکےلئے ایک اور تلاش کرلیتا۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

مکمل تحریر  »

اتوار, جون 17, 2012

ایک اور بیٹی ہلاک

پورے دن کی ڈرائیو سے تپا ہوا پرسوں جب واپس پہنچا تو وجاہت نے ایک میگزین سامنے رکھ دیا کہ جی اسکا ترجمہ کرو،     سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے، ایک صفحہ پر دو خبریں تھیں، ایک یہ کہ ایک پاکستانی نے اپنی دوسالہ بیٹی کو مارمارک کر ہلاک کردیا  اور دوسری یہ کہ ایک  جورجو نے اپنی بیوی کا گلادبا کر ہلاک کردیا اور پھر اسکی لاش کو جلادیا۔ پڑھ تو دونوں کو سرسری  نظر میں لیا  مگرادھ  گھنٹہ اسے کچھ کہہ  نہ سکا۔
مرنا مرانا تو خیر ہمارے لئے نئی بات نہیں  کہ بقول مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں،   یہ بات بظاہر لگتی بھی سیانی ہے اور دل کو سکون دینے والی بھی ہے،   کہ چلو جی ڈر ختم ہوا ،  مان لو کہ اگر کوئی زلزلہ آجائے تو ہم یہ فقرہ ادا کرکے  اورکلمہ پڑھ کر پرسکون ہوکر سوسکتے ہیں کہ جو ہوگا سو ہوگا، ا ٹلی میں ویسے بھی ان دنوں زلزلے دھڑا دھڑ آرہے ہیں (میرا اس میں کوئی قصور نہیں)،   اس بارے یاتو  مایہ  قوم کو دوش دیا جائے جن کے کیلنڈر کے مطابق اس برس  کے اختتام پر قیامت برپا ہوگی اور کیلنڈر ختم، یا پھر کسی مولبی سے پوچھا جائے کہ اس بارے شرع کیا کہتی ہے، جو بھی ہو مگر یہ  دوسروں کو مارنے پر کہیں فٹ نہیں ہوتی۔

بات ہورہی تھی  بسمہ کی  جو اڑھائی برس کی تھی اور باپ کہ بقول ،   وہ روتی تھی، اور چپ ہی نہیں کرتی تھی،  آنسو اور چیخیں تب تھمیں جب  باپ نے اس بچی کو لاتو ں اور گھونسوں پر لیا  اورپھر وہ باپ اس پھول سی بچی کو لہو میں لتھڑا ہوا چھوڑ کر گھر سے نکل گیا،  یہ واقعہ مارچ میں اٹلی کے شہر مودنہ میں پیش آیا،  بمطابق اخبار بچی 13 دن کومہ میں رہنے کے بعد بس فوت  ہوگئی،    کچھ دنوں بعد اچانک باپ محمدالیاس تبسم کو قتل عمد کےزیر دفعہ گرفتار کرلیا گیا، یہ گرفتاری اچانک ہی عمل میں آئی جبکہ پہلے بچی کی ماں ثوبیہ  روبینہ پر شک کیا جارہا تھا۔

معصوم بچی کو ماں باپ ہسپتال لائے اور کہا کہ یہ باتھ روم میں گر گئی تھی ، مگر ضربات اس بیان سے مطابقت نہ رکھتی تھیں لہذا ڈاکڑ کی رپورٹ پر ، ماں کے خلاف گھریلو تشدد اور بچوں پر ستم کی دفعات کے تحت  تفتیش شروع ہوئی، مگر بات جب کھلی تو معلوم ہوا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تب ماں دوسرے کمرے میں تھی،  باپ کام سے آیا تو بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا  جو چپ کرنے میں ہی نہ آرہی تھی  بس پہلے ہی تپا ہو اتھا تو اس کو پھانڈا لگا دیا۔  

سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سے اپنی اولاد کا رونا بھی برداشت نہیں ہوتا تو پھر اسکو ادھر زندہ رہنے کا کیا حق ہے، ماں باپ تو اپنا پیٹ کاٹ کر بھی  اپنے بچوں کو کھلادیتے ہیں مگر یہ کیسی ظالم  قسم  کی خود پرستی ہے کہ معصوم بیٹی کو رونے کا حق بھی نہیں دیتی،  کیا لوگوں میں انسانیت نہیں  رہی،   پاکستان میں تو مان لو کہ سب کچھ جائز ہے، ہر روز کی خبر کے مطابق ایک ادھ چار پانچ برس کی بچی سے زیادتی ہوتی ہے اور پھر اس قتل کرکے کسی نالے میں پھینک دیا جاتا ہے،  ادھر تو کوئی خیر پوچھنے والا ہی نہیں، مگر یہاں پر تو جرم کا چھپا رہنا  ناممکن سی ،بات ہے، مگر اس کے باوجود ہم لوگ ، ایسے ہاتھ چھٹ ہوئے ہین کہ بس اللہ کی پناہ۔  ہماری انسانیت کہاں کو نکل لی،  ہم لوگ کتنے حرامی ہوچکے ہیں

مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 25, 2012

یورپ میں مستقبل کی قیمت موت

بس جی کیا بتاؤں میں نے تو کہا تھا کہ ادھر آنے کا یہ طریقہ خطرناک ہے مگر وہ نہیں مانا کہ جیسے بھی ہے مجھے یورپ جانا ہے ادھر ۔    پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔  یہ چئرمین وحید آنسو پونچھتے ہوئے بتارہے تھے۔ 

آج اٹلی  میں یوم جمہوریہ کی چھٹی ہے تو کچھ احباب قدیمی سے ملاقات کا پروغرام بنا،  خان صاحب نے بتایا کہ ہمارے چئرمین وحید کے بھانجے کا انتقال دوہفتے پہلے ترکی سے یونان میں داخل ہوتے ہوئے ادھر موجود نہر کو عبور کرنے کے دوران ہوگیا  اور کوئی ایک ہفتے بعد نعش انہوں نے ادھر سے یونان جاکر تلاش کی اور پاکستان بھجوائی۔  چئرمین وحید کا تعلق  گوجرخان  کے دیہی علاقے سے ہے اور گزشتہ دس برس میں ہمارے حلقہ احباب میں  کیسے شامل ہوئے یاد نہیں مگر نہایت شریف اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اللہ انکو اور 
مرحوم کے دیگر لواحقین کو اس مصیبت پر صبر دے ۔  آمین 

وحید  صاحب بتلا رہے تھے کہ یہ ہمارا بہت لاڈلا اور پیارا بھانجا تھا، اسکی عمر بائیس برس تھی  اور اسکا ایک بھائی عمران پہلے ہی ادھر بسلسلہ روزگار موجود ہے، یہ والا بضد تھا کہ وہ مستقبل آزمائی کےلئے اٹلی آئے گا۔ میں نے اور  عمران نے بہت کوشش کی ہے اسے ادھر قانونی طور پر بلاونے کی مگر کوئی ترکیب کاریگر نہ ہوسکی، اور پھر ایک دن وہ کہنے لگا کہ ماموں ہمارے پنڈ کے دس بارہ لڑکے ترکی کے رستہ یونان جارہے ہیں میں بھی انکے ساتھ ہی چلا جاتا ہوں، پھر یونان سے کسی طرح اٹلی پونچ جاؤں گا۔ میں نے ذاتی طور پر اسے منع کیا کہ یہ راستہ خطر ناک ہے اکثر لوگوں کی جانیں جانے کی خبر آتی رہتی ہیں، سنا ہے بارڈر کراس کرتے ہوئےپولیس گولی بھی ماردیتی ہے۔ مگر اسکا جواب تھا ماموں لاکھوں لوگ ادھر پہنچ بھی تو گئے ہیں، ادھر پاکستان میں رہ کر بھی تو گزراہ نہیں 
ہورہا، نہ کوئی کام نہ کاج، نہ کوئی حال نہ مستقبل، ٹھیک ہے خطرہ تو ہے مگر ایک دفعہ پہنچ گیا تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 

مگر وہی ہوا جسکا ڈر تھا، نہر پارکرتے ہوئے کشتی الٹ گئی اور باقی تو سارے پار لگ گئے مگر یہ بچارہ جان کی بازی ہار گیا، 
میں سوچ رہا تھا کہ وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ملک میں امن اور سکون ہوگا اور لوگ اپنا مستقبل دیکھ پائیں گے اور انکو یورپ و امریکہ جاکر اپنا مستقبل بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، نہ ہی اس مستقبل کی قیمت جان کی شکل میں دینی پڑے گی۔ یہ خون جوگیا، یہ ایک نوجوان جو مستقبل کی بھینٹ چڑھا، یہ ایک جان جو گئی ، اسکا الزام کس کے ذمے ہے،؟؟؟ 
یہ لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟؟ اس جیسے اور لوگ جو جان کی بازی ہارگئے اور جو نہیں ہارے ان کا ذمہ دار کون ہے




مکمل تحریر  »

جمعرات, مارچ 08, 2012

ثقافتی ثالث،اٹلی میں تنتر منتر

ساری روداد سننے کے بعد ہمارے علم میں  یہ بات بھی آئی  کہ اس گھر میں چند ماہ پیشتر کچھ لوگ آئے سادھو کی طرز کے جنہوں نے عجیب و غریب کپڑے پہنے ہوئے تھے اور منہ پر اور جسم پر رنگ ملا ہوا تھا،  جانے کس طرح گھر کے اندر گھس آئے اور انہوں نے کچھ توڑپھوڑ کی، کچھ اشلوگ پڑھے،  باپ گھر پر نہیں بلکہ عدالتی حکم پر کہیں اور رہ رہا ہے، بیٹا ماں کے کہنے سے باہر ہے اور وہ اپنی من مرضی کررہا ہے، اور اب یہ توڑ پھوڑ، شگون کچھ اچھا نہیں ہے، ارد گرد رہنے والی انڈین کمیونٹی کے بقول ان لوگوں نے کچھ اور گھروں میں اور پھر اس علاقے کے گردوارے میں بھی جاکرہلڑ بازی کی ، بدعائیں دیں اور کسی مائی کے بقول کچھ تنتر منتر بھی کیا، اٹالین لوگوں کے خیال میں یہ ٹن پارٹی تھی، کچھ انڈینز کے خیال میں یہ ڈھونگی تھے ، اس واقعہ سے چند دن پیشتر کسی نے چھوٹی بچی کو اسکول سے آتے ہوئے یا کسی اور موقع پر بیس یورو کا نوٹ پکڑا دیا جس پر کیسر کا رنگ ملا ہوتا تھا، انڈین معاشرے میں اسکو بھی تنتر گمان کیا گیا کہ اس گھر میں رہے گا اور اس گھر کی روزی بند ہوجائے گی،  آپ اور میں اگر ان سب چیزوں پر یقین نہ بھی کریں  اور فوراُ کہہ دیں کہ اوہو ہو یہ تو سب ٹھیٹیر اور ڈھونگ بازی ہے، سب ٹوپی ڈرامہ ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر یہ سب اسی گھر کے ساتھ ہی کیوں پیش آرہا ہے، ہر مصیبت انہی پر ہی کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکو کسی کی نظر لگ گئی ہو یا ان پر کسی نے جادو ٹونہ کردیا ہو، جس کو     بقول تنتر کہاجاتا ہے؟ یہ سب کچھ اٹلی میں ہی ہورہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 07, 2012

ثقافتی ثالث، ہاتھ سے نکلتی اولاد

گزشتہ داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے
اس خاندان کا بیٹا جو اب لڑکپن کی عمر میں  ہے اور ادھر اسکول پڑھنے کی وجہ سے اسکی مقامی  اطالوی زبان پر مناسب اور قابل استعمال حد تک دسترس ہے۔ یہ اس خاندان کا ترجمان ہے، کہیں پر جانا ہے کسی بھی دفتر یا محکمہ میں تو یہی ان کا چاچا بنا ہوتا ہے، اور ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہےکہ آپ کو کیا پتا، اس خاندان کی نگرانی کرنے والے لوگوں کے مطابق اس لڑکے نے ماں اور باپ کے ساتھ بدتمیزیاں بھی شروع کردی ہیں اور انکو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ کہ مجھے پچاس یورو دو نہیں تو  ۔ ۔ ۔،  مجھے لیوز کی جینز کی پینٹ لے کر دو نہیں تو، ۔۔۔۔ اسکول بھی اپنی مرضی سے جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے اتنے پیسے دو نہیں تو میں پولیس کو فون کردوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے، یا پھر سماجی خدمت والوں کو بلا لوں گا، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اپنی سے دوگنی عمر کے لوگوں سے ہے اور یہ کہ ان کا تعلق مختلف ممالک و مذاہب سے    کہے، زیادہ تر لچے ہیں اور کچھ پر نشہ کرنے و بیچنے کا بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے،   ان اداروں کے کارکنان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ لڑکا  پیسے دیتا رہا کہ اس کو عورتیں لا کردی جائیں،اب یہ پیسے کہاں سے اسکے پاس آتے رہے، اس بارے یہ علم ہوا کہ وہ پیسے اپنے والدین کو دھمکا کر ان سے لیتا رہا ہے،  ایک چودہ سولہ برس کا لڑکا اس روش پر چل نکلے کیا یہ نارمل ہے؟؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ       سب ٹھیک  ہے؟  کیا ان والدین کی اپنی اولاد پر پرورش پر شک نہیں کیا جاسکتا؟؟   کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ لڑکا جو خاندان کو اس معاشرے میں انسرٹ ہونے  میں معاون ہے اور پل کا کام کرتا ہے، اپنے آپ کو اتنا اہم سمجھنے لگا ہے کہ گویا وہ اپنے والدین کا بھی  چاچا ہے۔  کیا اسکو والدین کی کمزوری لیا جائے گا  یا ادھر کے اداروں کو اس تربیت کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟؟ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 02, 2012

ثقافتی ثالث، چلتے ہو تو اٹلی کو چلئے

معاملہ  انڈیا سے تعلق رکھنے والے  ایک سکھ خاندان کا ہے، جو باپ   ، ماں، سولہ سالہ بیٹے  اور دو چھوٹی بیٹیوں  پر مشتمل ہے۔ باپ جو سن بانوے میں اٹلی آیا اور اسکاتعلق پنجاب کے ایک گھرانے سے ہے  جو زمین کا مالک ہے ، مطلب کھاتے پیتے لوگ،  ماں  اٹلی میں دس برس  بل آئی  ، شادی کے  چند برس بعد ، تب یہ لڑکا اسکی گود میں تھا،  دو چھوٹی بیٹیاں انکے ہا ں ادھر اٹلی میں  پیدا ہوئیں۔باپ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جہاں پر اسے مٹی وغیرہ کو ہٹانا ہوتا ہے، بہت ہی گندا اور بھاری کام، بقول اسکے بہت ہی غلیظ کام ، جو میرے علاوہ کوئی کرنے کو تیار ہی نہیں ہے، جبکہ میرے پاس اور کوئی چارہ  نہیں، پس اس نے شراب پینی شروع کردی اور ٹن ہوکے پیتا، وجہ اس لال پری کی یہ بیان کرتا ہے  کہ پیتا ہوں غم کو مٹانے کو اور ٹینشن کو گھٹانے کو۔
ماں انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکا دادا پنڈ کا لمبردار ہے نہ صرف  بلکہ گرہنتھی بھی ہے، اپنی طرف  امام صاحب کہہ لو۔     شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی  شادی کے پورے نو ماہ بعد انکے بچہ پیدا ہوا۔
یہ  ادھر بسنے والے ہر دوسرے خاندان کی  فوٹو اسٹیٹ ہے جو پنجاب سے ادھر آبسا،   یہ خاندان اداروں کی نظر میں اس وقت آیا جب   ایک شام کو  یہ بزرگ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ چہل قدمی فرماتے ہوئے سڑ ک  پر لڑھک  پڑے اور غین ہوگئے۔  بچیاں جو دس اور آٹھ برس کی ہیں اپنے والد کو سنبھال نہ سکیں اور  ڈرکر رونے چلانے لگیں،  چلتے پھرتے راہگیروں میں سے کچھ لوگ نزدیک ہوگئے اور کسی نے  پاس سے گزرتی ہوئی پولیس کی گاڑی کو ہاتھ دے لیا، ادھر پولیس  صرف مجرم ہیں پکڑتی بلکہ ہر ایمرجنسی میں آپ کی معاونت کرنے کی ذمہ دار ہے،  پس ایمبولنس بھی کال ہوگئی اور سردارجی کو  اٹھا کر ہسپتال پہنچادیا گیا، جہا ں پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ٹن  پڑے ہیں،  اور انکے اندر الکحل کی موجودگی  کا درجہ دوسو بیس پایاگیا ، بس الارم کھڑک گئے، کہ  دیکھو یہ کیسا باپ ہے جو اس حالت میں  پایا گیا کہ بجائے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرسکتا  خود سے بھی بے خبر ہے،  یہ واقعہ ایک برس پیشتر کا ہے، بس پھر تفتیش شروع ہوگئی اور ادارے حرکت میں آگئے، معاملہ عدالت تک پہنچا تو عدالت نے فوراُ فیصلہ سنا دیا کہ اس نشئی بندے کو اس طرح بچوں کے ساتھ نہیں رہنے دیا ، جاسکتا، بہت برا اثر پڑے گا ان پر،  پس   عدالت کے حکم پر سردار جی کوگھر سے بے دخل کردیا گیا، کہ جاؤ میاں اپنا بندوبست کرو،  اور   ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مسائل کی ماہر، ایک ایجوکیٹر،  اور ایک ثقافتی ثالث  کو تعینات کردیا گیا کہ لو جی  دیکھو ذرا اس خاندان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ثقافتی ثالث

ایک بندہ  جو دوسرے ملک میں جابستا  ہے اور مہاجر کہلاتا ہے ثقافتوں کے درمیان  پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ مہاجر ثقافتی ثالث کب بنتا ہے؟؟
ثقافتی ثالث ایک ایسا بندہ ہے جو کو اٹلی میں کچھ عرصہ سے رواج دیا گیا، ایک بندہ جو اٹلی کی زبان کو ہی نہیں بلکہ ادھر کے ماحول کو اور سماجی معاملات کو بھی اچھی طر ح سمجھتا ہو، نہ صرف بلکہ اپنے  یا دوسرے ملک کی ثقافت اور سماجی معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہو، جو ادھر کے رہن سہن کا ادھر کے معاملات سے موازنہ کرسکے،  سماجیات کے اس شعبہ میں اب اٹالین لوگ بھی بہت دلچسپی سے شامل ہونے لگے ہیں مگر۔۔۔
روداد ایک میٹنگ کی جو ویرونا یونیورسٹی اور سماجی و صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان تھی اس ملاقات میں کوئی بیس کے قریب لوگ  کی موجودگی  اس بات کی غماز تھی کہ معاملہ کچھ سیریس ہے،   یونیورسٹی کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کے تین پروفیسرز،  کوئی دس کے قریب  سماجی و معاشرتی اداروں اور غیر حکومتی  انجمنوں کے ماہرین،  پاکستان اور انڈیا کے پنجاب کے  مختلف علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  ہم تین بندے اور دو بندیاں۔  یہ بندے بھی وہ جومعاملات میں اپنی رائے رکھتے ہیں،  جو پنجاب کی ثقافت کو بھی جانتے ہیں اور اطالیہ کے معاملات زندگی پر بھر پور نظر ہی نہیں رائے بھی رکھتے ہیں۔  پنجاب سے اٹلی میں ہونے والی ہجرت کے فنامنا کو  دیکھنے  اور اسکا  مطالعہ کرنے کے پروگرام کی ایک نشست کا احوال ،  ایک کڑی نظر ہمارے ارد گرد  پر ۔ 
میری کوشش ہوگی کہ اس چار گھنٹوں کی نشست کا احوال من وعن کے ساتھ بیان کروں،   سب ایک ساتھ لکھنے کی بجائے مختلف حصوں میں  واقعات بیان کرتے ہوئے ، جو سوالات اٹھتے ہیں اور جو معاملات سامنے آتے ہیں انکا تجزیہ بھی  آپ کے ساتھ شئر کرسکوں

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی


ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 03, 2011

جمہوریت آمریت اور بچہ لوگ

بہت  دیر سے لائین  میں کھڑے  رہنے کے بعد میں نے بھائی  جان سے پوچھا کہ کیا یہ مٹی کا تیل ہم اپنے کھیت کی مٹی  سے  نہیں بنا سکتے؟؟ بھائی  جان نے ڈانٹ دیا کہ چپ کر اور ادھر کھڑا رہ نہیں تو تیل نہیں ملے گا  اور رات کو لالٹین نہیں جل پائے گی۔  تب میری عمر کوئی چھ برس تھی،   نا سمجھی اور بچپن کے دن مگر وہ منظر میں آج تک نہیں بھول سکا جب روح افزا کے شربت والی شیشی کی کالی  سی بوتل ہاتھ میں پکڑے بھائی جان گھر سے مٹی کا تیل لینے نکلے اور میں خوامخواہ ضد کرکے انکے ساتھ ہولیا۔

  سن 1976 کی بات ہے جب ملک میں یہی آج والی صورت حال  تھی، تیل مٹی کا  نہیں ملتا تھا تب مٹی کے تیل کا ستعمال بھی یہی تھا کہ  لالٹین میں ڈال لو  اور شام کو گھر میں روشنی کرلو، لالٹین بھی ایک  دو گھروں میں ایک  ادھ ہی ہوتی ،   نہیں تو  تارہ میرا کے تیل  والا چراغ جلتا  ، جو روشنی کم اورکڑوا  دھواں زیادہ دیتا،   اور یہ رواج بھی  تھاکہ  ہمسائیوں کا لڑکا کہہ رہا ہوتا     ماسی میری اماں کہتی ہے لالٹین میں تیل ڈال دو،  اور ہماری دادی جان  کہہ رہی ہوتیں بسم اللہ میرا پتر، لا ادھر کرلالٹین ،  رات گئے  لالٹین بجھا دی جاتی کہ اب چاند نکل آیا ہے اورچاندنی کی موجودگی میں روشنی کا کیا کام،  مگر بھائی  جان چیخ رہے ہوتے  کہ  ابھی نہیں میں نے پڑھنا ہے۔  

حیرت ہوتی کہ ہمارے ملک میں  مٹی اتنی ہے اور مٹی کا تیل نایاب؟؟  بچپن اور ناسمجھی کے سوالات۔۔۔۔ صرف یہی نہیں ، تب   چینی، آٹا ،  پیاز کچھ بھی تو  نہیں ملتا تھا۔  خیرسے چینی آٹا کے بارے میں ہمارے خاندان خود کفیل تھا  کہ چینی چچا جان پنڈی سے اپنی یونٹ سے  اپنی فوجی گاڑی میں بھجواتے   ،  آدھی پورے پنڈ میں فوراُ بانٹ دی جاتی اور آدھی اگلی پہلی تک  رکھ دی جاتی کہ بھئی کوئی  غمی خوشی ہوجائے تو کام آئے گی،   اگر مذید ضرورت پڑتی تو سرگودھا سے ہمارے رشتہ دار وں کے ہاں سے گڑ آجاتا ، جو بہت مزے کا ہوتا  اور ہم لوگ  اتنا کھاتے کہ   پھوڑے نکل آتے فیر  ڈاکٹر عنصر سے کوڑوا شربت بھی ملتا  اور ٹیکہ بھی لگتا۔     آٹے کے معاملے میں گھر کی گندم کی پسوائی کروانی ہوتی اور فکرناٹ،  ڈیپو کا یہ عالم ہوتا کہ چچا سرور المشور چاچا سبو کے نام ڈیپو تھا  اور پہلے تو چینی فی کن مطلب فی بندہ   ایک  کلو دیتا اور بعد میں اس نے  ایک پاؤ کردی تھی، پھر فی بندہ سے فی گھر کے حساب سے تقسیم ہونے لگی۔

ماسٹر قربان صاحب کو دیکھا کہ کپڑے پھٹے ہوئے اور برے حال  میں لڑکھڑاتےٹانگے سے  اترے،      ہیں انکو کیا ہوا؟؟   کوئی بتا رہا تھا کہ یہ لاہور جلوس کےلئے جارہے تھا ماشٹروں کی ہڑتال میں  اور رستہ میں حکومت کے کہنے پر انکو پولیس نے پھینٹی لگائی ہے۔  پھر دیکھا کہ بھائی جان بھی روز لڑلڑا کر آتے اور دادا جان  سے گالیاں کھاتے    مگر بد مزہ نہ ہوتے،  کہ جی کالج اسٹوڈنٹ یونین  کا حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کےلئے لڑے۔  کس کے خلاف لڑے ؟؟                       تب سمجھ نہ آتی۔

یہ زمانہ تھا بھٹو کے دور عنان کا ،   ملک بلکل اسی افراتفری کا شکار تھا جو آج ہے۔  ضروریات زندگی دستیاب نہ تھیں،   نہ ہی  ملک کے اندر کچھ سکون تھا، عوام بے چینی اور افراتفری کے عالم میں جی رہی  تھی،   فوجی روتے کہ اس بھٹو ٹن نے پاکستان توڑ دیا ہے ، بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا ہے،   اور مغربی پاکستان کو کل پاکستان قرار دے کر  اپنی  حکمرانی  کو جلا دی ہے،  اکثر  کوئی نہ کوئی  یہی کہہ رہا ہوتا کہ ایوب خان کے زمانے میں اچھے خاصے کام ہورہے تھے۔  ڈیم بن رہے تھے، صنعتیں لگ رہی تھیں، سڑکیں گلیا ں بن رہیں تھیں، کاروباری خوشحال ہورہا تھا،      ملک پینسٹھ کی جنگ لڑ کر آپ ایک قوم کی صورت میں سامنے آیا تھا  ، ہر کوئی وطن  پرستی کے جذبات سے سرشار تھا کہ  بھٹو نامی ایک ڈرامہ باز اٹھا اور اس نے روٹی کپڑا اور مکان کا فریب دے کر غریب لوگوں کو گھر سے نکال لیا،  ملک کے اندر وہ ہڑبونگ مچی کہ اللہ امان،     ایوبی حکومت ختم اور ملک میں پہلے اور واحد سول مارشل لاء کا نفاذہوا جس کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔  پھر وہ صدر بنا اور ملک کو ادھرتم ادھر ہم کر کے وزیر اعظم بن گیا،   مگر وہ ستر کی دھائی ملک کے اندر افراتفری  کےلئے یادگار  تھی، فوج کا مورال ڈاؤن،  عوام سڑکوں پر،  ہتھوڑا گروپ کا خوف،   چوریاں اور ڈاکے  ،   طلباء  اور ٹرانسپورٹروں کے فسادات،  اس یونین کا جلسہ اور اس یونین کا جلوس ،   نہ ہی کچھ کھانے کے ، نہ ہی تحفظ  ، نہ سکون نہ عزت،   مہنگائی تھی کہ دن بدن ہوشربا طور پر بڑھے جارہی تھی، قومیائے جانے کی وجہ سے صنعتیں بھیگی بلی بن چکی تھیں۔
 
ن دنوں میں ایک دم  ریڈیو پر خبر آگئی کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنھبال لیا ہے اور بڑی بڑی مونچھوں والا ایک جرنیل للکار رہا تھا  کہ اب جو فساد فی سبیل اللہ کرے گا ،  جو زخیرہ اندوزی کرے گا چوک میں الٹا لٹکادیا جائے گا،    چوری ، شراب  ، مجرا بازی، ہینکی پھینکی ،  چکری مکری سب منع  ، نہیں تو فوجی عدالت اور پھر بازارمیں کوڑے،    سنا تھا کہ جہلم  میں بھی کسی کو پڑے ۔

بس پھر کیا تھا جیسےجلتی  آگ پر پانی پڑ گیا ہو، چینی فوراُ بازار میں دستیاب ہوگئی، آٹا مل گیا، مٹی کا تیل وہی ڈپو کے بھاؤ  ہر جگہ دستیاب تھا،    مہنگائی  رک گئی  اور پھر سالوں چیزوں کی قیمتیں ادھر ہی ،  طلباء نے پڑھنا شروع کردیا ، صلوات کمیٹیا ں بن گئیں ،  زکوات کمیٹیاں بھی غریبوں کی امداد کو آگے بڑھیں، جتنی لچا پارٹی تھی سب مسجد کو پہنچی،   محلوں کے بدمعاش  چھپتے پھرتے۔
فوجیوں  کاجی پھر سے جذبہ شہادت سے شرشارہوا،  دفاع اور صنعت نے پھر سے ترقی کرنا شروع کردی،  ایٹمی صلاحیت حاصل ہوگئی،   ملک میں آنے والے افغان بھائیوں  کی کثیر تعداد کوبھی سنبھال لیا گیا،      افغانوں  کے ساتھ ملکر روسیوں کی  ایسی کی تیسی کردی، انڈیا کی فوجیں بارڈر پر لگیں تو صدر صاحب کرکٹ کے میچ دیکھنے پہنچے اور پھر جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا، انڈیا کی فوج چپکے سے بارڈرز سے واپسی کو نکلی۔ 
  
بھٹو کی موت بعذریہ عدالتی سزائے موت ،   پھانسی ہوئی ،   تو  دوسروں کو کیا دیتا اپنے خاندان کےلئے  محل اور عوام کےلئے غربت  چھوڑ گیا،    کچھ لوگ رونے والے تھے کچھ مٹھائی بانٹنے والے،   عوام نے کچھ خاص نوٹس نہ لیا ،  بس کچھ سیاسی جلسے جلوس اور بات ختم ۔ کسی نے کہا شہید ہے تو کسی نے کہا کہ اگر یہ شہید ہے تو اسے شہید کرنے والے کو کتنا ثواب ملا ہوگا۔ 

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ  یہ مرد مومن  جب شہادت کے درجہ کو پہنچا تو  ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں آنکھیں اشکبار تھیں،   لاکھو ں  کا مجمع جنازہ میں شریک تھا اور خاندانوں   کے خاندان ٹی وی کے سامنے بیٹھے دھاڑیں مار رہے تھے۔ ہمارے اپنےپورے پنڈ  میں بھی ماتم   بچھی ہوئی تھی،      اس نے ملک کو سب کچھ دیا مگر اپنے اہل خانہ  کےلئے ایک زیر تعمیر مکان چھوڑ، کچھ ہزار کا بنک بلنس  اور ملک کےلئے بڑھتی ہوئی معیشت، ایک نظام اور فعال ادارے۔   تب پاکستان عالم میں ایک راہنما  اسلامی ملک کے طور پر ابھر چکا تھا۔کچھ نے اسے آمر کہا اور کچھ نے مرد مومن اور  شہید کا خطاب دیا، مردہ بدست زندہ مسجد میں دفن کردیا گیا

ہم  بطور قوم اس بچے کی طرح ہیں جو اپنے اچھے برے کو نہیں پہچانتا ، جو جمہوریت کی لولی پاپ سے خوش ہوتا ہے مگر  سخت قوانین کی کڑوی گولی سے ڈرتا ہے   سمجھائے نہیں سمجھتا کہ  ہرچمکتی ہوئی جمہوریت سونا  نہیں ہوتی  ،   آج ہم مذہب کے ہر علمبردار کو جاہل و بنیاد پرست قرار دے رہے ہیں بلکہ دل کرتا کہ ہے مولویوں کو ڈاکو قراردے کر مار ہی دیا جائے۔ اہل مغرب نے جو کہہ دیا ،    جمہوریت ہے تو اس کے نام پر ذرداری،  گیلانی،  اعوان، ملک، الطاف سب  بھائی بھائی اور بھائی لوگ سر آنکھوں پر۔
                  
آج پھر لالٹین میں تیل نہیں، آٹا نہیں، چینی نہیں، مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے،  فوج کا مورال ڈاؤن ہے، قوم  بے حس ہے، چور ڈاکو،  ہڑ ہڑ کرتے پھر رہے ہیں،  لچے عزتیں اچھال رہے ہیں، زکوات کمیٹی تو دور کی بات وزارت حج  و مذہبی امور غبن پر غبن کئے جارہی ہے، فراڈئے ، قاتل  ، دھانسے والے سب حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور مجھے پھر انتظار ہے اس دن کا  جب پھر منادی کہہ دے گا ۔۔۔۔۔بس آج کے بعد بس۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہیرا پھیری کی، چکری مکری کی،  چوں چلاکی کی   اسکی شامت ،     پھر بچے پڑھنے لگیں گے،   پھر صنعت کا پہہہ چلنے لگے گا،      پھر آٹا ، چینی ، بجلی دستیاب ہوگی،  پھر  بدمعاشی کرنے والے کو چوک میں لکایا جائے گا،     اس وقت کا جب شریف آدمی سکون کا سانس لے سکے گا، 

اس وقت کا انتظار جب  میں اپنے اٹالین دوستوں کو کہہ سکونگا  کہ میاں میں تو چلا اپنے دیس  کہ ادھر راوی چین ہی چین لکھتا

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش