اتوار, جولائی 13, 2014

اسرائیل، عیسائی عرب اور شعیہ سنی ریاستیں


شمالی اٹلی کے شہر پادوا  (Padova) میں ہم لوگ ڈاکٹر ز کےلئے بنیادی ہومیوپیتھی کا ایک کورس متعارف کروا رہے ہیں،  اس سلسلہ میں میری مدد میری کولیگ اور بہت اچھی دوست  "ڈاکٹر دوناطیلہ"   (Donatella)کررہی  ہے۔  اسی سلسلہ میں ہمیں ایک کانفرنس ھال کی  ضرورت  ہے ،  مجھے رابطہ دیا گیا ایک ہوٹل کا جنکے ہاں کانفرنس ھال بھی ہے  اور ریسٹورنٹ بھی۔   یہ رابطہ مجھے دونا طیلہ نے دیا اور تاکید کی کہ   ریکاردو   ( Riccardo،انگریزی ریچرڈ  ) کے ساتھ  بات کرلو اور پہنچ جاؤ موقع پر ، بس میں نے فون کیا  ملاقات طے کی اور پہنچ گیا وقت مقررہ پر۔

ریکاردو بہت اخلاص سے ملا،  اس نے ہوٹل کا روٹین کے مطابق وزٹ کروایا،   ساری سیٹنگ دکھائی ، اچھا ہوٹل ہے فور اسٹار ،    کشادہ کانفرنس ہال، ریفریشمنٹ ایریا ، بہترین  کچن اور کمرے، مطلب سب کچھ جس کی ہمیں ضرورت تھی ۔ کرایہ  وغیرہ  کی بات ہوئی اور آخر میں مجھے کہنے لگا کہ تمھیں   کچھ پینے کی آفر کرسکتا ہوں؟؟
میں ۔۔ نہیں ،  بہت شکریہ ،  میں روزہ سے ہوں۔
ریکاردو۔۔ اوہ  ہو، مسلمان ہو؟؟
میں ۔۔ ہاں ہوں۔
ریکاردو۔۔تم اٹالین تو نہیں ہو؟ کہاں سے ہو؟؟
میں    ۔۔نہیں تو ۔   ابھی تک پاکستانی ہوں،   وہیں  پیدا ہوا تھا، وہیں پر تعلیم تعمیر ہوئی اور اب بہت برسوں سے ادھر ہوں۔
ریکاردو ۔۔ ہاں وہ تو تمھاری بات چیت سے ہی لگ رہا کہ  کافی عرصہ سے ہو،  ویسے تمھارے نام سے ہی میں سمجھ گیا تھاکہ برصغیر سے ہے کوئی، تو ملا ہاتھ ، میں  اسرائیلی شہری ہوں۔  مگر عرب ہوں۔
میں ۔۔ بہت خوشی ہوئی ، پھر تو ہم دونوں مسلمان ہوئے؟؟
ریکاردو ۔۔ پرجوش طریقے سے ہاتھ ملاتے ہوئے،  نہیں میں مسلمان تو نہیں ہوں  عیسائی ہوں، مگر عرب ہوں۔  عرصہ تیس  برس سے ادھر رہ رہا ہوں،  میں فلسطینی عرب ہوں پر اب اسرائیلی شہریت رکھتا ہوں، ہم فلسطینی  بھی عجیب  ہیں، وطن تو ہمارا  اسرائیلیوں کے قبضہ میں چلا گیا ہے اور ہم بھی اب تقسیم ہوگئے ہیں،   شامی فلسطینی، اسرائیلی فلسطینی،  لیبنانی فلسطینی، اردنی اور پتا نہیں کون کون سے۔
میں۔۔  مگر ریکاردو، یہ شام، فلسطین ،  لبنان، مصر سب چھوٹے چھوٹے ملک ہی تو ہیں،  اور سب ہیں بھی عرب ہی،  تو پھر ایک ہی بات ہوئی  کہ نہیں؟؟
ریکاردو۔۔ہاں  ،   بات تو   ایک ہی ہے ،   ہم  سب عرب ہیں، ہماری زبان ایک ہے، ہماری تہذیب ایک ہے، کھانے اور تہوار ایک ہیں، فرق ہے صرف مذہب کا، تو میں تمھیں یہ بتا  دوں کہ صرف مذہب کا فرق کچھ زیادہ نہیں ہوتا،  ہم لوگ صدیوں سے عیسائی ہیں، پر کبھی احساس ہی نہیں ہوا،     میں تمھیں بتاؤں   کہ میرا باپ جب ذبح کرتا تھا دنبہ تو مکہ کی طرف منہ  کرکے کرتا تھا  اور تکبیر پڑھتا تھا، سبحان اللہ  وللہ اکبر ولاالہ الااللہ ۔ حالانکہ وہ عیسائی ہی  ہے مگر یہ تو تہذیب کی اور رواج کی بات ہے۔ عیدین سب کی ہوتی ہیں، رمضان آتا ہے تو ہم لوگ روزہ  دار کے سامنے کھانا پینا بہت برا سمجھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمارے لئے سب سے بڑی بات ہے ہمارا عرب ہونا،  گو کہ    میں بھی اسرائیلی شہری ہوں مگر اسرائیلی شہری ہونا اور بات ہے اور یہودی ہونا اور بات ہے،   اسرائیل ایک راشسٹ ملک ہے، اور یہودی  راشسٹ قوم،  کہنے کو تو اسرائیل ایک جمہور ی ریاست ہے مگر صرف یہودیوں کےلئے، عربوں کے ساتھ جو ہوتا ہے چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے عیسائی،  وہ بہت ہی برا ہے،  ہم تیسرے درجہ کے شہری ہیں ،  اور جو کچھ ہمیں سمجھا جاتا ہے اسکا  اندازہ  ائرپورٹ پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ جو کتے والا سلوک ہم سے ہوتا ہے، جو ہر غیر یہودی سے ہوتا ہے۔
اب دیکھو یہ جو کچھ غزہ میں ہورہا ہے،   یہ ایک بڑی پلاننگ کا حصہ ہے،  اب غزہ کی پٹی کو بھی ختم کرد یا  جائے گا، مسلمانوں  اور عربوں کو صاف کردیا جائے گا اور پھر اسرائیلی سرحد بڑھنی شروع ہوجائے گی شام اور عراق کی حدود میں۔

 اس بات کی منصوبہ بندی گزشتہ صدی میں ہی کر دی گئی تھی۔  اسرائیل کے ارد گرد کا علاقہ چھوٹے  چھوٹے ممالک میں تقسیم کر  کے انکو آپس میں لڑا دو،    تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ نہ  کرسکیں، سن لو اس خطہ میں عراق ایسا ملک تھا جو اسرائیل سے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا تھا،  اور  گریٹر اسرائیل  کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتا  تھا۔ بس اس کو ملیامیٹ کردیا گیا، سوریا ایک ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھاتا تھا ، اس کی بھی ناس ماردی گئی، اسی طرح  مصر میں آنے والی اسلامی حکومت اسرائیل کےلئے خطرہ بن سکتی تھی اسکو بھی قابو کرلیا گیا۔ ، دوسری  شفٹ کے طور پر مجاہدین  اسلام کو خلافت کے نام پر شام اور عراق میں وہ فساد ڈالنے کو بھیجا گیا ہے کہ ان ممالک  میں وہ  افراتفری نافذ ہوجائے کہ کوئی کسی کو پوچھنے کےلئے باقی ہی نہ رہے، لوگوں کو زندگی اور موت کی پڑی رہے، مذہب، ثقافت، مسلمانیت یا کچھ اور کی ہوش ہی نہ رہے۔

سن لو  کہ اب عراق کو شیعہ اور سنی ریاستوں میں تبدیل کردیا  جائے گا۔   بھئی کیوں؟؟ کیونکہ    سارا خطہ عرب ہے، سارے مسلمان ہیں تو اس خطہ میں یہودی ریاست کیسے وجود میں آسکتی ہے،   یا  اسکا وجود کیسے پنپ سکتا ہے،  وہ اسی صورت میں ہے،  جب ایک شیعہ ریاست ہے، ایک سنی ہو، ایک کرد ہو،  لیبنانی ، شامی ، مصری اردنی مصری ریاستیں تو پہلے ہیں موجود ہیں مگر وہ مذہب یا فرقہ کے نام پر نہیں ہیں، صرف     اسرائیل ہی ہے مذہب کے نام پر،  اس کا تو کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ہے۔   اب جب دیگر شیعہ ، سنی ریاستیں بنیں گی تو کہا جاسکے کہ "جناب اگر مذہبی فرقہ کی بنیاد پر ریاستیں بن سکتیں ہیں تو  یہودی تو ایک الگ مذہب ہے، انکی اپنی ریاست تو لازم   طور پر بنتی ہی بنتی ہے"۔ 


ایسے ہی  یہ جو مجاہدین اسلام چل نکلے ہیں یہ مسجدیں ، خانقاہیں اور مزارات کو اکھیڑ رہے ہیں، یہ گریٹراسرائیل کا ہراول دستہ ہے، یہ تمھارے طالبان کی طرح  ہی ہیں، جنکا کام صرف اور صرف ملک اور خطہ میں دہشت ، افراتفری اور شورش پھلانا ہے، کہ کوئی نظام زندگی رائج نہ ہوسکے اور عربوں اور مسلمانوں کوصرف زندگی بچانے کی جدوجہد تک ہی محدود رکھا جائے کیونکہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ قوم  اپنے ارد گرد بھی دیکھتی ہے۔   جوکہ گریٹر اسرائیل کےلئے شدید اور بڑی رکاوٹ ہے،  ویسے اس وقت بڑی رکاوٹ پاکستان اور اسکی  فوج ہے کہ یہ خطے میں واحد مسلمان ملک ہے جس میں اپنے مکمل دفاع کی ہی صلاحیت موجود نہیں ہے بلکہ یہ گریٹر اسرائیل کے راستہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، پھر ایران اور پھر ترکی، اور سب سے آخر میں سعودی عرب کا نمبر آئے گا، کہ اگر پہلے اس پر ہاتھ  ڈالیں تو ساری دنیا کے مسلمان ممالک اسکے ساتھ ہیں۔

ریکاردو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سرجھکا ہوا تھا،   میں بھی خاموشی سے بغیر کچھ کہے سرجھکا کر  مصافحہ کرکے نکل آیا۔


مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

نوزائیدہ بچوں کےلئے مائیکروچپ 14 مئی سے لازم



 مائیکرو چپ زیر جلد ٹشو کے اندر اپلائیڈ انٹیگریٹڈ سرکٹ ہے، مائیکرو چپ کا حجم چاول کے دانے کے برابر ہے اور یہ این ڈبلیو او نامی پیسو ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ مائیکرو چپ بلخصوص بچوں کے اغواء اور انکی گمشدگی کے  واقعات کی روک تھام میں مفید ہیں۔  کئی ممالک میں مائیکرو چپ کا استعمال ہورہا ہے اور یہ کہ بچوں کو ویکسین کے ساتھ ہی اسے لگا دیا جاتا ہے۔ 

آئیندہ برس 2014 کے مئی سے مائیکروچپ کا پورے یورپ میں اطلاق ہوجائے گا۔  اور مائیکروچپ لگوانے کی 
پروپوزل لازم ہوجائے گی۔

سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے سب بچوں میں مائیکروچپ پیدائیش کے وقت زیرجلد ٹشو میں فوری طور پر انسٹال کردی جائے گی۔ 

مائیکروچپ میں موجود معلوماتی کارڈ میں نام،  تاریخ پیدائش، بلڈ گروپ  جیسی بنیادی معلومات کے علاوہ  ایک  بہت ہی طاقتور جی پی ایس ریسور بھی موجود ہوگا،  جو ایک بہت طاقتور بیٹری سے کام کرے گا، یہ بیٹری ہر دو برس کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں تبدیلی ہوسکے گی۔ 

مائیکروچپ کے اندر موجود جی پی ایس ایک بہت جدید اور باصلاحیت ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوگا جس میں غلطی کی گنجائش پانچ میٹر یا اس سے کم کی ہوگی۔ اس کا رابطہ براہ راست ایک سیٹلائیٹ کے ساتھ ہوگا، جو کنکشن منجمنٹ کا ذمہ دار ہوگا۔ کوئی بھی خواہش مند بندہ خود یا اپنے بچوں کو مائیکروچپت  بلکل مفت میں انسٹال کروا سکے گا، باوجود اسکے کہ وہ یکم مئی 2014 سے پہلے پیدا ہوا ہو۔ اسکےلئے اپنے متعلقہ مقامی مرکز صحت میں ۔
سے متلقہ فارم لے کر اس پر درخواست دینی ہوگی۔



 بہبود آبادی کی مشاورتی کمیٹی سی سی سی پی کے فیصلہ کے مطابق اس تاریخ سے پہلے ہونے پیدا ہونے والے افراد کےلئے بھی مائیکروچپ کی انسٹالیشن لازمی قرار دی جائے گی مگر ایسا ممکن 2017 سے پہلے نہیں ہوسکے  گا۔  مائیکروچپ کی انسٹالیشن بلکل بے درد ہوگی، کیونکہ حقیقی طور اسے بائیں کہنی میں ایسے مقام پر زیر جلد انسٹال کیا جائے گا جہاں یہ نروز یعنی اعصاب کو متاثر نہیں کرے گی۔ 

آخر کار اس دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوجائے گا۔ یہ مائکروچپ بچوں کے اغواء کے واقعات کی روک تھام  اور انکے گمشدگی کی صورت میں تلاش میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔  جنکی وجہ سے ان سالوں میں پوری دنیا کا سکون برباد ہوا۔ اور یہ کہ بالاخر اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس دنیا میں شاہی قسم کے اچکوں اور بدمعاشوں کو قابو کیا جاسکے گا۔ 

اخبار یہ نہیں لکھتا ہے اس مائیکروچپ سے بندے پر ڈرون حملے بھی باآسانی ہوسکیں گے۔ یہ آپ خود سمجھ لیں

MICROCHIP, NEWBORN BABY, 







مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 14, 2013

لالہ، ملالہ اور عالمی بدمعاش


لالہ  ہم لوگ پٹھانوں کو کہتے ہیں، پنجابی میں بڑے بھائی کو بھی کہا جاتا ہے، آجکل لالہ کے بجائے ملالہ ملالہ ہوئی پھری ہے،  یہ ایک سولہ برس کی چھوٹی بچی ہے  جس کو پاکستان  میں پسماندگی کے سمبل کے طور پر استعمالا جارہا ہے،     مجھے ملالہ کے بارے علم نہیں ہے۔   زیادہ سوات کے بارے بھی  نہیں کہ ایک بار ہی جانا ہوا،    تب وہاں روای چین لکھتا تھا اور بڑے مزے سے اپنی فیملی کے ساتھ  بھی ادھر لالوں کی مہمان نوازی  اور گرمیوں میں  دریاءے سوات کے ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہوسکتے تھے۔    یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے  کوئی 1995 کے اردگرد کا ذکر ہے،  جولوگ اس  کے بعد بھی ادھر کو ہولئے وہ میرے گواہ ہیں کہ مزے کی جگہ ہے۔



پھر  افغانستان پر امریکی حملہ اور  اسکے فوراُ بعد پاکستانی طالبان کا قیام  ، بس سب کچھ تبدیل ،    یہ پاکستانی طالبان ایک سوالیہ نشان ہیں،  دھماکہ یہ مسجد میں کرتے ہیں،   جنازہ  و مزار کو تو بلکل بھی نہیں بخشتے،  اسکول ہو ، کہ بازار، ہسپتال  یا پھر پولیس اسٹیشن   ، پار کرجاتے ہیں اڑا کے رکھ دیتے ہیں، نہیں چھیڑا انہوں نے تو کسی چرچ کو نہیں  چھیڑا، بھئی مذہبی رواداری بھی کوئی چیز ہے،  عام آدمی  جو بازار میں خریداری کررہے ہوں ، مزدور جو اپنی روزی کے چکر میں ہوں،  ان سے نہیں بچ سکتے، مگر بہت حیرت کی بات ہے انہوں نے آج تک کسی جواء خانہ، کسی  کلب، کسی فیشن شو  یا پھر کسی لچر ٹی وی چینل کو کبھی نہیں چھیڑا۔ شکل انکی شدید اسلامی ہے،  یہ دھاڑی، یہ  پگڑی ،  نام امارت اسلامیہ افغانستان والے طالبان کا،   نام سے پہلے ملا ضرور لکھنا اور کام  سارے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف،  اسکول بند، نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے، دھماکہ جنازہ میں،   بندہ پوچھے وہ کونسے مذہبی ہیں جو اپنی ہی عبادت گاہ کے دوالے   ہورہے،  اسی کو ہی تباہ کرنے پر تلے ہوءۓ۔

اب تو کہا جاسکتا ہے  انکا کام صرف دہشت پھیلانا  ہے اور کچھ نہیں،   بندہ پوچھے کہ اس سے وہ حاصل کرنا کیا چاہتے تھے؟؟؟   انکا مقصد کیا تھا اس فساد فی لارض سے ؟؟؟   مستفید کون ہوا اس کاؤس سے؟؟؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہر بندہ جانتا ہے  اور جو نہیں جانتا اسے بتلانے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کا یہ لالوں کا علاقہ سوات ، گزرشتہ کئی دہائیوں سے  مشکلات کا شکارہے،  روس کے افغانستان پر حملہ کے نتیجہ میں آنے والی امیگریشن کا رخ اس طرف ہونے کی وجہ انکی معاشرت و  زبان کا ایک ہونا تھا۔   جغرافیائی طور پر پہاڑوں اور دشوارگزار،  وادیوں  پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ،موسم کی شدت اور برفباری و سردی کا طویل سلسلہ،  اس علاقے کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہا۔   انگریز کے وقت سے اسکی حثیت ایک غیرمستقل  حیثیت ہونے کی وجہ سے،  وہاں ترقیاتی کام خاطر خواہ نہ ہوپایا،  مشرف صاحب اور ذرداری حکومتیں بھی اپنی امریکہ تولیہ پالیسی کی وجہ سے ادھر  توجہ دینے سے کنارہ کشی کرتی رہیں۔

ایسے میں ملالہ ظہور پزیر ہوئی،  ایسے وقت میں جب فوج نے ادھر کنٹرول سنبھال لیا اور اسکول کھل گئے، لڑکیا ں لڑکے سب اسکول کو جانے کے قابل ہوگئے،  طالبان کو قابو کرلیا گیا،    روز خبریں آرہی ہیں کہ ادھرآج میلہ لگا ہوا ہے، آج کرکٹ کا ٹورنمنٹ ہورہا،   مگر ملالہ جی کے بیانات سے لگتا ہے کہ ادھر بس برے حالات ہیں اور 8 برس پہلے جو اسکول جلاءے جاتے تھے اب بھی وہی ہے۔  ملالہ کے بیانات سے زیادہ  ڈر اسکو دئے جانے والے پروٹوکول سے لگ رہا، کبھی تو وہ  اوباہامہ کی چہیتی ہوتی ہے،  اسکی سولویں سالگرہ   کا اقوام متحدہ  میں منا یا جانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے،   سوال یہ نہیں  ہے کہ ملالہ کا جنم دن کیوں منایا گیا؟  سوال یہ ہے کہ ملالہ علاوہ دیگر  پاکستانی بیٹیوں کو بھی تو گولیاں لگیں، ان پر تو بھی تو ستم ہوءے، کشمیر میں  کتنی ملالاؤں پر کیا نہیں بیتا،  کتنی ملالاءں اور اس کی عمر کی لڑکیا ں امریکن ڈرونز کا شکار ہوئیں اور ماری گئیں، بغیر جانے کہ انکا قصور کیا تھا،  فلسطین میں  کیا ملالائیں موجود نہیں، کیا وہ   کچھ نہیں لکھ سکتیں، کیا وہاں کوئی  بی بی سی کا نمائندہ نہیں جو فلسطین کی ملالہ کے بلاگ کی نوک پلک سنوارے؟؟ اقوام متحدہ کا ان معصوم ملالاؤں کے بارے کیا خیال ہے جو گزشتہ 70 دہائیوں سے پس رہیں  ظلم کی چکی میں؟؟؟؟ 
 
آگے کیا ہوگا؟؟؟    وقت کا قاضی   فیصلہ سنائے گا وقت آنے پر ہی ،  مگراب تک کی  تاریخ تو یہی ہے کہ مغرب نے یہ چوتھی عالمی جنگ  اپنے میڈیا سے لڑی اور لڑرہے،  جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ انہوں نے ہی کیا،   گیارہ ستمبر سے اسامہ بن لادن تک،  صدام حسین عراق کے جراثیمی ہتھیار اور تیل پر قبضہ،  لیبیا  پر حملہ اور مصری حکومت کا تختہ الٹنا، ایران  اور پھر سوریا  کی شورش، پاکستان میں مولبی قادری کی شورش اور نظام کو سبوتاژ کرنے کا پروغرام  ،   اور اب ملالہ کی پروجیکشن  دیکھو ،  اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔  مجھے تو یہ سب عالمی بدمعاشوں کی ایک اور چال لگ رہی،  ہمارا میڈیا تو انکی بولی بول رہا، ادھر سوشل میڈیا پر بھی،  یورپی لوگ پاغل ہوئے بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اٹالین ٹی وی دیکھتے ہیں اور برلسکونی کو ووٹ دیتے ہیں۔  اب ملالہ ملالہ کرتے پھر رہے ہیں، جیو نیوز بتلا رہا کہ  کسی بینڈ نے آئی ایم ملالہ  بھی گادیا۔ ہور دسو، ڈرون حملوں میں مرنے والی ملالوں کا شاید حساب دینے کی بجاءے اس پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش 




مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

دوھری شہریت اور اورسیز پاکستانی







اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 

جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔

پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر نہیں دیتے۔

پھر سن ستر میں بھٹو صاھب کی افراتفریح کی وجہ سے جب لوگوں نے ملک سے نکلنا شروع کیا تو  "باہرلے"  کا لفظ معرض وجود میں آیا ، خیر یار اسے طنزاُ بھی استعمال کرتے ہیں،  "" جی، جی، آپ تو    باہرلے ہیں جی ""،   خیر
باہرلے تین قسم میں تقسیم ہوئے پھر،  بیرون ملک رہنے والے پاکستانی،   دوھری شہریت والے اور غیر ملکی شہریت والے۔

بیرون ملک پاکستانی
Overseas-Pakistanis-Looted-By-Land-Mafias-State-Offers-No-Help
انکو اورسیز پاکستانی  بھی کہا جاتا ہے، انکے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور جہاں پر رہتے ہیں وہاں پر تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو تو انکو پاکستان ایمبیسی سے رجوع کرنا پڑتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ہوں انکو بےتوقیری کا سامنے بھی کرنا پڑتا ہے، بس پاسپورٹ نکالا نہیں کہ امیگریشن افسر کا منہ بدلا نہیں۔ میں خود کتنی بار کھجل ہوچکا ہوں،  جبکہ میرے ساتھ پورے کا پور ڈیلیگیشن دوگھنٹے تکے میرا انتطار کرتا کہ خان صاحب ذرا امیگریشن سے فارغ ہولیں،   ہم لوگ ادھر ووٹ نہیں ڈال سکتے،  سیاست نہیں کرسکتے، صرف کام کرو، کھانا کھاؤ،  ٹیکس دو،   کام ختم اور ہم بھی فارخ۔ مگر پاکستان جائیں تو پھر جیب سے ادھر کا پرس نکال کر دوسرا  ڈال لیا جس میں پاکستانی اردو والا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور بس پاکستانی ہوگئے پورے کے پورے۔ اللہ اللہ خیر سلہ


دوھری شہریت والے پاکستانی
Dual nationality bill Judge to be Barred from Holding Dual Nationalityیہ وہ اصحاب ہیں جو ادھر کی مقامی شہریت بھی لیتے ہیں ،ا دھر سیاست بھی کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور لیتے بھی ہیں۔  یہ صاحبان دوچہروں کی طرح دو پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، جب پاکستان آتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ نکال لیتے ہیں اور جب  ملک سے باہر ہوتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ غایب، گویا   ڈبل مزہ۔


غیرملکی شہریت والے
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی  مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور کسی دوسرےملک کی شہریت اختیار کرلی، یہ  بس غیر ملکی ہی ہوتے ہیں، انکو پاکستان جانے کےلئے بھی پاکستان کا ویزہ ایمبیسی سے لینا پڑتا ہے۔
پاکستان میں بھی انکےلئے اپنا اندراج پولیس میں کروانا لازمی ہے، کسی بھی معاملے میں یہ لوگ اپنے سفارتخانے کے ماتحت ہی ہوتے ہیں، جس طرح ایک شاعر صاحب کا آج انڈیا نے  پاکستان کے ثقافتی میلے سے واپس بلوالیا، جس طرح مجھے پولینڈ والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ مطلب فل غیر ملکی، یہ لوگ پاکستان میں سیاست تو کیا، جائیداد تک نہیں خرید سکتے۔ تاوقتیکہ باقائدہ اجازت نہ لے لیں۔ 

سوال اگر یہ ہو کہ  ان میں سے کون محب وطن ہے تو  جواب یہ ہوگا کہ جو وطن سے محبت کا اظہار کرے،  جو پاکستان کےلئے کچھ کرے، وہ پاکستان کےلئے اچھا ، وہی محب وطن ،  چاہے  وہ اندر والا، ہوکہ باہر والا ،  اکہری شہریت والا یا دوھری والا،  اور بھلے وہ گورا  ہی کیوں نہ ہو اسکو بھی نشان پاکستان ایوارڈا جاتا ہے۔

مگر جو حرامدے کام کرے گا   اسکو جوتے بھی پڑتے ہیں، ذرداری گو پاکستان کا صدر بن گیا ہے مگر لوگ اسے کتا کہنے میں ہچکچاتے ہیں، اسی طرح  رحمان ملک کی دہشت گردی،  حسین حقانی کی واردات ، ہو یا شیخ الاسلام کا فساد، سب قابل مذمت، مگر ایک بات ہے،
النیت والمراد
جیسی نیت ویسی مراد،   شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری المشور کینڈیوی  کے ساتھ بھی جو ہوا  ،   وہی ہوا ،  جو ہونا چاہئے تھا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 05, 2012

پاک چین رشتہ داری زندہ باد

لوجی پاک چین دوستی ایک اور قدم آگےبڑھی اور ہماری ایک کزن کی شادی ایک چینی نژاد  یوسف  سے بمعہ تمام مقامی رسومات اسلام آباد میں بخیر خوبی انجام پائی، بغیر ہماری شرکت ، مگر ہمارے اہل خانہ ہماری نمائندگی کو ادھرموجود تھے،  بقول ہماری خاتون اول کے مہمان آپس میں چینی زبان میں گفتگو کررہے تھے جبکہ ہمارے ساتھ انگریزی میں ، جبکہ کوئی کوئی بندہ اردو بھی بولتا تھا۔ ابھی ولیمہ چین میں ہوگا ،  جس کےلئے مہمان چین تشریف لے جائیں گے۔ مگر اندیشہ یہ ہے کہ ہوسکتا  ہے کہ ادھر ہمارے چینی رشتہ دار اردو و انگریزی بولنے سے انکاری ہوجائیں،  اور مہمانوں کی جان پھسی شکنجے اندر۔ 

   جناب  پاک چین دوستی ، پاک چین رشتہ داری  میں تبدیل ہوئی۔


اللہ اس نو بیاہتا جوڑے کوخوش خرم رکھے 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 04, 2012

میمو اور میں

نصیر صاحب  میرے تالاب علم ہیں ادھر ، کچھ دن اٹالین مجھے سے پڑھ کیا لی بس شاگرد ہی بیٹھ گئے ، اور ایسے بیٹھے جیسے کوئی بیمار کی جڑوں میں بیٹھتا ہے،  ہر وقت سر جی یہ اور سرجی وہ ،  البتہ بندے بہت لیجنڈ اور پر مغز ہیں، جب بہت تپے ہوئے ہوں تو پھر آگ اگلنے کو میرے پاس،  انکا    اور  دیگر  احباب کا  دسمبر سے  یہ  خیال  ہے کہ نئے سال میں بدلے گا کچھ نہ کچھ،  عام بندوں کا یہی خیال تھا بشمول میرے۔   کیا بدلے گا اس بارے کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے سنجیدگی سے اس بارے سوچا،   اس وقت سب کچھ تو گزشتہ برس کا ہی چل رہا ہے،  وہی بجلی کی بندش،  گیس کی عدم دستیابی،  نوکری نہیں  ہے تو تنخواہ کوئی نہیں، رشوت، مہنگائی،  دہشت گردی، چوربازاری، معاشی و سماجی عدم تحفظ۔
اٹلی میں برلسکونی سے پہلے بائیں بازو کی حکومت تھی اور پروڈی وزیراعظم تھا،  حکومت بڑے منت سماجت  سے اور چند ایک ووٹوں سے بنی اللہ  اللہ کرکے ،  مگر ایک وزیر کی بیوی پر رشوت لینے کا الزام لگا اور وزیر صاحب نے نہ صرف خود استعیفٰی دیا بلکہ  ساتھ ہی حکومت بھی دھڑام سے گری، ایک تو اسکی وجہ یہ تھی کہ اکثریت کھو بیٹھی اور دوسری مورال  کا جانا ۔
ہمارے یہاں ملک کے صدر کے جہیتے سفارتکار پر ملکی دفاع پر سودے بازی کا الزام لگا  چاہے جس نے ہی لگایا مگر حرام ہے کہ حکومت  نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے، کبھی کچھ کبھی کچھ،  حقانی نے استیفیٰ دیا  تو عوام کے کان کھڑے ہوگئے، صدر صاحب بیمار ہوکر دبئی جا لیٹے ادھر وزیر باتدبیر تھے کہ انکا موت نکالنے پر تلے ہوئے تھے، وزیراعظم کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق  فرماگئے کہ اگر صدر پر کوئی الزام آیا تو میں اپنی گردن دوں گا،    اوپر سے رونقی وزیر اور اب نصف صدر جماعت بھی پروفیسر، ڈاکٹر ملک بابر اعوان وکیل ، ماہر لطیفہ جات و فضول بیانات  نے اپنے پرمغز بیانات سے جلتی پر تیل کا کام کیا اور  اب یہ حال ہے کہ ہر پاسے میمو میمو ہورہی ہے، 
بابا بھلے شاہ کے بقول
میمو میمو کردی میں آپے میمو ہوئی،   میمو ہی مینوں آکھو سارے حکومت نہ اکھو کوئی

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 05, 2011

بون اور ڈنڈہ

سوئس سے نکلے اور سینٹ گلین سے آسٹریا میں جاگھسے، وہاں سے پھر جرمنی میں اور  فرینکفورٹ کی طرف منہ کرلیا کہ سہیل بھائی کا کوئی یار ادھر رہتا ہے اس سے بھی مل لیں گے اور فرینکفورٹ کی سیر بھی ہوجائے گی کہ بھئی آخر کار انٹر نیشنل شہر ہے دیکھنا چاہئے۔   ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا،   اگر تھا تو یہ کہ  ہم چاروں ہیں علامہ صاحب، سہیل بھائی ، جمیل میاں جو ہمارے  مشاق ڈرائیور بلکہ پائلٹ تھے،  اور راقم، تب نئے لائسنس یافتہ مگر گاڑی چلانے کا مطلق تجربہ نہ تھا  ،  دس چھٹیاں ہیں اور یہ اوپل آسٹرا گاڑی ہے کہیں جانا ہے،  کہاں ؟؟ کون جانے،  رات زیورخ  پہنچے اور پوچھا کہ بھئی ادھر کیا دیکھا جاسکتا ہے، جواب آیا کہ اہو ہو، تمھیں ملوم نہیں کہ ادھر آج اسٹریٹ پریڈ کی رات ہے بس تم ادھر جھیل کو نکل لو جدھر لوگ جارہے ہیں فیر میلہ لگتا ہی ہوگا۔ سٹریٹ پریڈ  کو لو پریڈ بھی کہا جاتا ہے، عوام اور مشٹنڈا پارٹی، چرسی و عشاق سارے ہی ایک ساتھ ہوتے ہیں  سڑکو ں پر سرعام میوزک کنسر ٹ اور عوام کی ناچ مستی، جوڑے ٹن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بوس و کنار میں مصروف، شرابی لوگ شراب کی بوتلیں لئے گھوم رہے، دوشیزائیں نہائت غربت کےعالم میں بس دو چیتھڑون سے جسم چھپانے کی کرشش میں ناکام، عوام ناچ رہی ہے اور گارہی ہے۔ پی رہی اور پلارہی،   ہم نے بھی حسب توفیق  میلہ دیکھا (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)،  صبح صادق کے وقت ادھر پوہ  پھوٹی  ادھر یارلوگ  اپنی اپنی راہ کو چل دئے، ہم بھی  دو گھنٹے گاڑی میں ہی نیند کو چکمہ دے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھو، خود ایک بار  اور جمیل کو دو بار کافی پلوا کہ گاڑی اس نے چلانی ہے، اسکی نیند پوری طرح اڑنی چاہئے،  نکل پڑے  جرمنی کے راستوں میں ،بھول جاتے اور کسی اور شہر کی طرف نکل لیتے، پھر علامہ صاحب  جو جرمنی میں رہ چکے تھے اور جرمن زبان سے کماحقہ واقفیت بھی رکھتے تھے  بقول انکےعلامہ صاحب  کو  بھیجا جاتا بلکہ وہ ہمارے  خود ساختہ ناویگیٹر بنے ہوئے تھے، اور خالصہ جی کی پریڈ کے موافق سجا، کھبا کراتے جاتے، پھر شور مچا دیتے کہ ڈائیریکشن جو بابے نے بتائی تھی وہ نہیں مل رہی،  لگتا ہے راستہ بھول گئے ہیں اہو ہو ہو، ایدھر ہی گاڑی روکو اور میں اس مائی سے راستہ کے بارے علم حاصل کرکے آتا ہوں، کہہ کر گزرتی ہوئی لڑکی کو تاک کر روک لیتے اور دس منٹ گٹ مٹ کرتے، یا یا یا کرنے کے بعد واپس آتے اور ماتھے پر دو ہاتھ مارکرکے فرماتے لو جی فیر چوک گیا راستہ واپس مڑو اور ساٹھ کلومیٹر پر فیر ڈائیریکشن ملے گی۔ چلو،  اور ہم چلتے رہے، مطلب ہم بیٹھے رہے اور گاڑی چلتی رہی،  رستے میں علامہ صاحب کے موبائیل پرکال آگئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ فرینکورٹ کو ہاتھ لگا کر ادھر بو ن کو نکل چلو کہ میری لالا جی سے بات ہوئی ہے اور وہ رات کے کھانے پر ہمارا انتظار کریں گے۔  یہ لالا جی موصوف علامہ صاحب کے برادر کبیر مرزا ضیاء  صاحب ہیں جو ادھر آخن یونیورسٹی کو ڈاکٹر قدیر کےبعد ٹاپ کرنے والے دوسرے غیر ملکی اور دوسرے ہی پاکستانی ہیں،  اور یہ کہ بون کے حلقہ 
کے موٹروے کے انچارج انجینئر ہیں۔

بون پہنچے تو رات کے پہر تھے ، وسط اگست کا سورج ڈوب چکا تھا، مرزا صاحب نہ میری طرف دیکھا اور کہنے لگے اسٹریٹ پریڈ سے ہوکر آئے ہو؟؟ ان بزرگوں کے بالوں میں رات کے ستارے ابھی تک چمک رہے ہیں،  کھانا ہمارے انتظار میں  ٹھنڈا ہو چکا تھا  جو ہم پھر سے گرم کرکے  مرزا صاحب نے ہمیں بڑی محبت سے کھلایا کہ  بھئی میں نے آج کوئی ایک ماہ بعد گھر میں اور وہ بھی پاکستانی کھانا بنایا ہے، برتن بھی انہون نے  دھوئے کہ علامہ صاحب گلاس پر پانی کے نشان چھوڑ دیتے ہیں اور ہم تینوں تو ہیں ہی خیر سے مہمان، اور اوپر سے پہلی بار آئے ہیں۔

پھر ہم نکلے شہر کی سیر کو دو کاروں میں بھر کے،   مرزا صاحب نے کمال محبت سے ہمیں کمپنی دی اور پورا شہر پھرا دیا، ساتھ میں بھر پور تبصرہ بھی،  سٹی ہال کے سامنے رکے اور فوٹو سیشن ہوا کہ بھئی یادگاری فوٹو  بن جائیں گے۔  مرزا صاحب کو درخواست کی گئی کہ جناب ہم دلی سے آنےو الے چارسواروں کےگروپ کی تصویر بنادیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے،  مرزا صاحب کافی دیر کوشش کرتے رہے اور پھر بولے یار یہ جھنڈا نہیں آرہا،  فوراُ  جمیل کے منہ سے جواب نکلا کہ ڈنڈا تو آرہا ہے ناں
بس پھر قہقہے ابل پڑے۔
اور وہ تصویر بغیر جھنڈے کے ہی بنی البتہ ڈنڈہ ہمارے عقب میں غور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ 

آج کل  بون کا عالمی سطح پر اور خبروں میں پورا چرچا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی  کانفرنس میں پاکستان کا جھنڈانہیں آرہا، مگر بہوتوں کو ڈنڈہ ضرور آرہا ہے، حامد قرضئی سے لیکر چاچی ہیلری کلنک ٹیکن تک سبھی باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں،  اگر اس طرح کی غیرت دس بار ہ برس پہلے ہی کھالی ہوتی تو آج سو چھتر بھی نہ کھانے پڑتے اور  نہ ہی سو گنڈھے 

مکمل تحریر  »

بدھ, نومبر 30, 2011

چاچی کا دکھ


امریکی وزیرخارجہ چاچی ہلری کلنک ٹیکن نے فرمایا ہے کہ ’مشترکہ مفادات پر تعاون سے منہ موڑ کر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ مجھے انتہائی افسوس ہے اور امید ہے کہ شاید کہیں کوئی ایسا راستہ ہو کہ مستحکم، محفوظ اور پُرامن افغانستان کے لیے کی جانے والی ان عالمی کوششوں میں ہمیں پاکستان کی شرکت سے فائدہ ہو سکے۔
سوال ہے چاچی جی کہ اس میں فائدہ کس کو ہوگا ، امریکہ کو ، بھارت کو، نیٹو کو یا پھر افغانستان کو، مگر اس سارے لفڑے میں پاکستان کا کیا مفاد ہے؟؟؟ بے عزتی کروانا، چھتر کھانے، برا بننا، دھشت گردی جھیلنا، معاشی عذاب کا سامنا کرنا، انڈیا کے تلوے چاٹنا، مشرف سے لیکرذرداری و گیلانی جیسوں کو برداشت کرنا اور آخیر میں فوجی مروانا ، کیا یہ فائدہے؟؟؟ہیں، ویسے حاصل جمع تو ابھی تک یہی ہے۔
اگر کسی کو کوئی اور فائدہ بھی نظر آئے تو مجھے بھی بتلائے؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش