بدھ, جولائی 01, 2015

پہلا روزہ، کچھ یادیں

جب پوری طرح  ہوش و حواس سنبھالے اور جب سے یاداشت  نے کام کرنا شروع کیا تھا پوری طرح تو ہم پہلا روزہ رکھ چکے تھے، مطلب "چڑی روزہ"  جو صبح آٹھ بجے ناشتہ کے وقت رکھا جاتا تھا اور دوپہر کو کھولا جاتا ، پھر شام تک افطاری  کے دسترخوان تک "سفید ٹوپی" پہن کے روزہ داروں کے ساتھ روزہ کھولاجاتا۔ یا پھر پہلا اور آخری روزہ رکھ کر باقی کے روزے بیچ میں آجانے کا اعلان ، یہ بھی ہمیں نہ ملا۔ 


جب سے یاد ہے وہ یہ کہ روزے موسم " چیت بیساکھ " کے تھے، جس کو اردو میں موسم بہار کہا جاتا ہے۔ ایسے میں صبح کی خنکی میں سحری کےلئے جاگنا  اپنی جگہ مزیدار بات تھی۔ میں  چونکہ اپنی نوعیت کا سب سے چھوٹا بچہ تھا ، بڑے بھائی صاحب مجھے سے کوئی پندرہ برس بڑے تھے پس سب روزہ داروں کو دیکھ کر "بڑوں کے جوتے میں پاؤں" کب ڈلا  ، کچھ یاد نہیں ہے۔ 

البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ہمارے داداصاحب مرحوم جو بہت ہنس مکھ انسان تھے ہم انکو  "اجی جی"  کہتے ہیں۔ پہلے روزے کی سحری کو اٹھتے ہی نعرہ ماردیتے ہنستے ہوئے،  " گئے روز ے سوہاوڑے ، باقی رہ گئے نو تے  وی"  ( گئے روزے پاک باقی رہ گئے  نو اور بیس۔)  اور سب ہنس دیتے۔ کہ  "اجی جی" ابھی تو پہلے روزے کی سحری شروع ہوئی ہے ،   جواب ملتا  " بس پترو شروع ہوگئے تے مک گئے"   ۔   یوں ہنستے کھیلتے سحری میں روزہ رکھا جاتا۔ تازہ روٹی کی دیسی گھی میں بنی ہوئی چوری اور گنے کی شکر۔ ساتھ میں تازہ  دھی کا ادھ رڑکا۔  ادھر کہیں دور سے ہوٹر بجتا اور الحمدللہ۔  روزے داروں نے روزے رکھ لئے۔ 

روزہ کی افطاری کا وقت شروع ہوتا تو تیاری میں  سب سے پہلے گھر میں گھومتا ہوا سب سے موٹا ککڑ پکڑا جاتا اسکا سالن بنتا اور میں تازہ جو کے ستو اور گڑ کا شربت  ایک بڑی سی بالٹی میں بنتا،  کھجوریں ، تندور کی روٹیاں اور  پہلے روزے کی افطاری کی بھاگ دوڑ لگ جاتی۔  جا میرا پتر  " اپنی دادی شاد "کو افطاری پھڑا آ،   وہ تو تیرے ساتھ بہت پیار کرتی ہے۔ جابچہ بھاگ کرے دادی فرمان کو بھی پکڑآ ،وہ ماسی مختوماں بھی تو ہے،  جابچہ، جابچہ۔ 

اور ایسے میں افطاری کا وقت ہوجاتا، اور اجی جی ختم شریف شروع کردیتے، کافی دیر تک قرآن کی تلاوت ہوتی پھر تفصیل سے دعا مانگی جاتی جس میں سب فوت شدگان کو نام بنام یاد کیا جاتا، ادھر دعا ختم ہوئی ادھر ہوٹر  بجا اور ادھر روزہ کھلا اور ادھر سب بھاگے مسجد کی طرف۔

دوسرے دن آٹھ تے وی ، پھر ست تے وی، اور پھر جب پندرواں روزہ  ہوجاتا تو پھر  "اجی جی " گنتی چھوڑ دیتے۔ کہ اب روزے مہمان رہ گئے ہیں اور مہمانوں کے جانے کے دن نہیں گنا کرتے۔
اللہ ان سب مرحومین کی مغفرت کرے, زندوں کا روزہ قبول کرے اور نہ رک
ھنے والوں کو روزہ چکھنے کی توفیق عطافرمائے

نوٹَ
یہ تحریر لکھنے کی تحریک دینے کےلئے محترمہ کوثر بیگ صآحبہ کا بہت ہی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ جنکا حکم نازل ہوگیا، بھائی اپنے پہلے روزے بارے لکھ دو۔ 




مکمل تحریر  »

جمعہ, مئی 29, 2015

جہلم کے لوکاٹ

لوکاٹ  گزشتہ ہفتے ادھر سپر مارکیٹ میں دکھائ دے گئے،مہنگے تھے مگر اٹھالائے،   ادھر کم ہی نظرآتے ہیں، ویسے بھی ہم کونسا کھانے پینے کے شوقین واقع ہوئے ہیں۔ بس صرف پیٹ بھرنے کو کھالیتے ہیں یہ اور وجہ ہے کہ باوجود اتنی کسرنفسی کے پیٹ ہےکہ بڑھتا ہی جارہا ہے، گویا  بقول :
" زیستن برائے خوردن، نہ کہ خوردن برائے زیستن"

حالانکہ اگر آپ ہم سے قسم بھی اٹھوا لیں تو ہم یہی کہیں گے کہ  "خوردن برائے زیستن ، نہ کہ زیستن برائے خردن"۔  اچھا نہ  مانو، ویسے ماننے والی  "حالت " بھی کوئی نہیں ہے ادھر۔

خیر لوکاٹ لے کے آگئے بس فوری طور پر انکو "غسل" کروایا گیا اور یہ بسم اللہ پڑھ ڈالی ہم دو بندے کھانے والے تھے اور فی بندہ کوئی تین تین لوکاٹ ہاتھ آئے، ایک کلو کے ڈبے میں اب تھے ہی چھ تو اور کتنے ہاتھ آتے۔ تو جنابو۔ وہی ذائقہ وہی خوشبو۔ صرف پلے ہوئے خوب تھے۔ مجھے تو پاکستان کے لوکاٹ یاد آگئے ۔

لوکاٹ اور کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جہلم کے پہاڑی علاقہ اور سطح مرتفع پوٹھوہار کا مقامی پھل ہے، ویسے ہم مقامی پھل "بیر" کو قرار دے چکے ہیں مگر مان لو۔ یہ بات تسلیم کر لینے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جہلم اور پوٹھوہار میں لوکاٹ کو پھل بہت پڑتا ہے، ہمارے لئے لوکاٹ سے پہلی شناسائی تھی تایا احمد مرحوم کے گھر، ادھر سے جون کی دوپہر کو جب وہ سور ہے ہوتے تو ہم لوکاٹ توڑنے چھت پر سے انکے گھر اترچکے ہوتے، ادھر عصر کی اذان ہوتی تو ادھر تائی کی گالیاں اسٹارٹ ہو جاتیں۔ واہ واہ کیا زمانے تھے، منہ کا ذائقہ ان گالیوں سے ذرا خراب نہ ہوتا۔ شاید انکو پتا ہوتا تھا کہ کون کون تھا اور اوپر والے دل سے گالیاں دیتیں ۔ تب تک ہم سارے مشٹنڈے سر پر ٹوپیاں  پہن کر مسجد با جماعت، بس پھر شام کی نماز باجماعت پڑھ کر ہی مسجد سے نکلتے اور جانے کیسے یہ ہو جاتا کہ تقریباً سب کو گھر سے جوتے پڑتے۔ کہ لوکاٹ تو توڑے مگر درخت کی ٹہنیاں کیوں کھنیچیں۔  

دوسرا لوکاٹ کا  مقام تھا اسلامیہ ہائی اسکول میں جب داخل ہوئے تو وہاں پچھلی طرف والے سائیکل اسٹینڈ کے پاس لوکاٹ کے درخت یہ اونچے اور پھل سے لدے ہوئے، تیسرا ٹھکانہ پھر ہوا بلال ٹاؤن۔ جہاں کوٹھیوں کے باہر کی طرف لوکاٹ کے پھل سے لٹکتے ہوئے درخت ہوتے مگر انکا پھل توڑنے کو حوصلہ نہ پڑتا۔ تب مارکیٹ سے پھل خرید کرکھانے کی عیاشی کم ہی ہوتی تھی۔ یہ تبھی ممکن تھا جب کوئی مہمان آتا تو سیمنٹ کے کاغذی توڑے سےبنے ہوئے لفافے میں پھل ڈال کرلاتا۔ ہم سارا وقت اس لفافے کو دیکھا کرتے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ گھر سے کوئی شہر جاتا کسی کام سے تو پھل آتے۔ تب پھل کم ہوتے تھے اور انکی خوشی زیادہ، اب پھل زیادہ ہیں اور انکی خوشی کم ۔


ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ لوکاٹ چینی درخت ہے اور چین کے جنوب اور مشرق میں پایا  جاتا تھا۔ آج بھی چین اور جاپان لوکاٹ  کی پیداوار کےلئے بڑے ملک ہیں مصر برازیل اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ۔
ویسے پاکستان میں عام پایاجانے والا درخت ہے ، ہمارے اردگرد کلرکہار اور کوہستان نمک کے علاقہ میں عام ملتا ہے، جنگلی طور پر بھی۔ اسی طرح شیند یہ ہے کہ جہاں آجکل اسلام آباد کا شہر موجود ہے یہ ساری وادی لوکاٹ کے جنگلات سے بھری ہوئی تھی۔ ، بیری کے سائیز کا ہوتا ہے یہ بڑے بڑے پتے اور کافی سارے پھل،  اسکی شکل خوبانی سے ملتی جلتی ہے اور ذائقہ آم سے، کچھ کہنے والے یہ بھی کہتا ہیں کہ لوکاٹ آم اور خوبانی کی پیوندکاری کے نتیجہ ہے۔ جیسے آڑو آلوبخارے اور خوبانی کی پیوندکاری کا ۔ پس ثابت ہوا کہ اس خوبانی کو پیوندکاری کروانے کا بہت شوق ہے، ہیں جی ۔  مجھے تو کچھ "ٹھرکی" قسم کا پھل "معلوم" ہوتا ہے یہ ۔

لوکاٹ کے بارے کچھ معلومات
اچھا جی لوکاٹ کے بارے گپ بازی ختم اور کچھ سنجیدہ معلومات۔  ( بلاگ سے چوری کرنے والے حضرات  ادھر سے کاپی کرنا شروع کریں) ۔
نباتاتی نام  Eriobotrya japonica ہے اور اسکو پھولدار اور پھل دار پودوں میں شمارکیا جاتا ہے اور اس  کو Rosaceae  قبیلہ میں شامل کیا جاتا ہے، جیسے سیب، خوبانی، آلوبخارا  وغیرہ۔  اسے Japanese Plum اور Chinese Plum کے علاوہ Japanese Medlar
بھی کہاجاتا ہے، چینی زبان میں اسے "لوگاٹ" اطالوی میں  Nespolo اور عربی میں " اکیدینیا" کہاجاتا ہے، دیگر زبانوں میں اسکے نام جاننے کےلئے آپ خود " باوے گوگل " کی منت سماجت کریں۔
درخت کی اونچائی دس سے پندرہ فٹ اور سائز درمیانہ ہوتا ہے جیسے اس قبیل کے دیگر درخت ہوتے ہیں، پتوں کا سائز چار انچ سے لیکر دس انچ تک ہوسکتا ہے۔ لکڑی اسکی فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے مطلب ضاع کچھ بھی نہیں۔
پھل پوٹاشیم میگنیشم اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے، مطلب ڈالڈا گھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ اس میں چکنائی اور سوڈیم کی مقدار بہت  کم ہوتی ہے   اسکی طرح اس میں شوگر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے ۔

طبی فوائد۔
لوکاٹ کے پتے cyanogenic glycosides (including amygdalin)  کی موجودگی کی وجہ سے کچھ زہریلے اثرات رکھتے ہیں،  بلغم کو خشک کرنے اور جھلیوں کی ریشہ دار رطوبت کی زیادتی کو کنٹرول کرنے کےلئے مفید ہیں، قدیم چینی طب میں اسکے پتوں  کا شربت تر و بلغمی کھانسی کےلئے مروج ہے ہے اور مریض کو سکون فراہم کرتاہے۔
لوکاٹ کے پتے antioxidants   ہیں اور جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج کےلئے نیز بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے کےلئے بھی استعمال ہوتے ہیں، جلد پر انکا یہ اثر  دیکھا گیا ہے کہ جلد تروتازہ و جھریوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ مطلب "منڈا جوان" ہوگیا۔
شوگر کےلئے مفید۔
لوکاٹ کے پتوں کا جوس Triterpens کی موجودگی کی وجہ سے شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار کو قابو کرنے میں کافی حد تک معاون پایا گیا ہے۔  اسی طرح  پتہ و گردہ کی پتھریوں، کے ساتھ ساتھ جلد کے کینسر  اور عمومی وائرل حملہ میں میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔
اسی طرح جگر میں مختلف کیمائی مادوں کے جمع ہوجانے وجہ سے ہونے والی جگر کی بڑھوتر ی  LIVER HYPERTROPHY میں بھی مفید ہے اور جگر کی صفائی کے کام آتا ہے۔
اسی طرح خوبانی کے باداموں  کی طرح لوکاٹ کے بیج بھی Amigdalina, vitamina B17 حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، تو جناب جب تک آپ کو ہنزہ کی خوبانیاں دستیاب نہیں تب تک اپ جہلم کے لوکاٹ کے بیج  "چبائیں" ۔
تو پھر ہوجائے چلو چلو جہلم چلو؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 22, 2014

سولہ دسمبر ڈھاکہ سے لیکر پشاور تک، کردار وہی

سنہ اکہتر سے لیکر دوہزار چودہ تک، سقوط ڈھاکہ سے لیکر ، پشاورکے دھماکہ تک
کچھ کردار اور انکے بیچ مشابہت و تعلق بہت ہی عجیب ہے، میں جانتا گیا اور حیران رہتا گیا۔ 
 عوامی لیگ کا نام پہلے عوامی مسلم لیگ تھا بعد میں عوامی لیگ ہوگیا  مسلم  لیگ سے تعلق توڑلیا گیا ، اور پھر اسکا لیڈر بنا  شیخ مجیب الرحمان، جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی اپنائی
پھر نئی عوامی مسلم لیگ بنی  اور اسکا سربراہ شیخ رشید پھر نعرہ جلاؤ گھراؤ کی پالیسی اپنانے کی کوشش کی۔


جرنل غلام عمر کو اکہتر وار میں چیف وار کریمنیل  ڈیزائینر  کہا گیا۔  
اسکا بیٹا اسد عمر آجکل پاکستان  تحریک انصاف کا روح رواں ہے۔ اور احتجاجی تحریک کے صف اول کے لیڈران میں سے ایک ہے۔

جرنل امیر عبدللہ خان نیازی    نے اکہتر کی جنگ میں ہتھیار ڈلوائے، اور سرینڈر کی دستاویز پر دستخط کئے۔ اکرام اللہ خان نیازی کا چچازاد ہے جو عمران خان نیازی کا والد ہے۔

 وہ تاریخ  16 دسمبر تھی۔ تب  فسادی کردار مکتی باہنی تھی اور جیت ہندوستان کی ہوئی۔

ان تینوں نے چارماہ سے پاکستان کا گھیراؤ کئے رکھا اور پھر 16 دسمبر کو پاکستان بند کرنے کا اعلان کردیا،  سوشل میڈیا کی جوت پرچھات کے بعد اٹھارہ کی تاریخ تبدیل کی۔ مگر

16 دسمبر کی علامتی تاریخ  کو  140 معصوم بچوں کی جانیں گئیں اور پھر سے زخم ہرے ہوگئے۔ 
اب اس خونریزی کا ذمہ دار پاکستانی طالبان کو قراد دیا گیا مگر جیت کس کی ہوئی؟؟؟؟؟
اللہ کرے باقی سب وہ نہ ہوجو تب ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ16 دسمبر سے پہلے لکھا تھا، مگر آج شئر کرہی دیا۔ 


مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 25, 2014

کیکٹس کے پھول اور محبت

کیکٹس کو ہمارے ہاں تھوہر ہی کہا جاتا ہے، شہدہ سا خود رو پودا، جسکی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی فائدہ نہ نقصان،  انگریزی  میں اسے کیکٹس کہا جاتا ہے فوراُ ماڈرن ہوکر گملے اور ڈرائینگ روم میں چلا جاتا ہے اٹالین اسکو  pianta grassa چربی والا پودا بھی کہتے ہیں

تھوہر یا  انڈین  انجیر  cactus indica المشہور چھتر تھوہر، ہمارے ہاں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم۔ یہ چوڑے اور موٹے موٹے پتے، قدآدم سے بھی بلند، اور انگل انگل کانٹے، بس چبھے کہ چبھے۔
میرا کیکٹس سے پہلا تعارف ہوا جب دریا کے کنارے پھسل کر تھوہر کے کانٹے چبھوا لئے ۔ کانٹو ں کا درد اور چبھن بھی اور چچا کی گالیاں بھی کہّ اکھاں کھول کر چلیا کر کھوتیا "    ۔۔۔تب تھوہر ہی ہوتی تھی اور دریا کے کنارے کسی ظالم نے لگا دی تھی کہ کٹاؤ سے باز رہے اور لوگ اوپر کے کھیت میں  سے راستہ بنانے سے باز رہیں،  مگر راستہ بھی بنا اور تھوہر بھی رہی،  لوگ بھی چلتے رہے اور کانٹے بھی چھبتے رہے۔
لوگ  گزرتے بھی رہے اور گالیاں بھی دیتے رہے۔ ابھی تک دے رہے ہونگے۔  تھوہر سخت جانہوتا ہے، خشکی اور دھوپ میں خوب بڑھتا پھولتا ہے اسی لئے مئی جون  میں جب گرمی سب کچھ جھلسا دیتی تو انکے ہاں پھول کھلے ہوتے ہیں، ساون بھادوں میں جب سب کچھ ہرا بھرا ہوتا ہے انکے ہاں موت پڑی ہوتی ہے، کہ کیکٹس یا تھوہر کی جھڑہیں زیادہ لمبی نہیں ہوتی اور پتے بھی نہیں ہوتے یا بہت کم،  اور ان  میں چربی  طرز کا لیس دار مادہ بہت ہوتا ہے، اسلئے نمی اور اسے پیدا ہونے والی پھپوندی انکےلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
پھول انکے بہت خوش نما ہوتے ہیں اور پیلےیا سرخ ، گلابی  رنگوں میں ہوسکتے ہیں، دہکتی ہوئی جون کی دوپہر میں دمک رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر موٹے سے جامنی رنگ کے پھل بھی لگتے ہیں  جسکو انڈین انجیر  ficus indica   کہا جاتا ہے، بس تو جنابو  آجکل ہورہی اسکی مشہور وزن کم کرنے لئے، آج بھی ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ تین پھل روز کھانے سے آپ چھٹیوں کے دوران بڑھایا ہوا وزن ایک ماہ میں کم کرلو۔  لیس دار مادہ  کی موجودگی اسکے قبض کےلئے   مفید ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
تھوہر کی دوسری قسم جو میرے علم میں تھی وہ تھی ڈنڈا تھوہر، وہی نہ پھل نہ پتا، بس ڈنڈا سا اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ نہ کام  نہ کاج، لگے رہو۔


کیکٹس سے  میرا  دوسرا  اور گہرا تعارف
کیکٹس گرانڈی فلورس cactus grandiflorus  ، یہ چھوٹے سائز کا پودا ہے، پودا کیا جی بس ٹہنیاں ہی ہوتی ہیں، اور کانٹے، یا پھر سال بھر میں چند پھول ، جو  اکتوبر کی بھیگی راتوں میں  کھلتے ہیں۔  جو میکسیکو کے صحرا میں پہلے پہل دیکھا گیا پھر اسکو  بربر اور شمالی فریقہ سے صحراؤں  میں دیکھا گیا۔گرانڈی فلورس کا مطلب ہے بڑے پھول والا، حقیقت بھی یہی ہے کہ کیکٹس کے جو بڑے بڑے پھول ہوتے ہیں ان میں اسکا شمار ہوتا ہے، رات کو کھلتا ہے اور صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔ پھول کی رنگت سفید دودھیا ، گلابی مائل ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک سی پتیاں ہوتی  ہیں، ہلکی سی خوشبو ہوتی ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ جہاں پر یہ پھول کھلا ہو اس کے ادھ کلومیٹر میں موجود درد دل کے مریض سکون محسوس کرتے ہیں، ویسے ہومیوپیتھک معالجات میں اسے درد دل کے واسطے ہی استمعال کیا جاتا ہے، اور ایسی صورتوں میں جب دل پر بوجھ اور دل کے ارد گرد سختی اور جکڑن محسوس ہورہی ہو، سر پر فشارخون کی وجہ سے ایسا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، جیسے لوہے کا شکنجا کسا ہوا تو۔ اس کا مدر ٹنگچر مفید ہوتا ہے۔

جب اس کیکٹس کے بارے سب کچھ پڑھ چکے ڈاکٹر منظور ملک صاحب سے ، تو کچھ مزید علم کی طلب ہوئی۔  ایک نرسری میں گیا اور اس نے بتایا کہ بادشاہو کیکٹس تو  کوئی سینکڑوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ اچھا؟؟  تو پھر اس نے کہا کہ مجھے تو اتنا علم نہیں جمعرات کو ناصر صاحب آتے ہیں انکے پاس کوئی تین سو قسم کا کیکٹس ہے۔  پھر نرسریاں تھی اور ہم تھے۔
بس ناصر صاحب سےملاقات ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ بس وہ  ساتھ ساتھ مجھے اپنے کیکٹس کے بچے بھی دیتے رہے، اور میں بھی پھر ماہر ہوگیا، کہ ادھر سے ادھر سے ٹہنی  شاخ، پکڑ لاتا اور لگا دیتا اپنے گملوں میں،سن ستانوے میں جب پاکستان چھوڑا تو کوئی سوا تین سو کے قریب  کیکٹس بڑے چھوٹے میرے گھر میں تھے۔

لو بتاؤ ہے کوئی کرنے والی بات۔ا

ان میں سے آدھے سے کم خریدے ہوئے تھے اور باقی تبادلہ اور تحائف۔  اور کچھ دیکھتے بھالتے جیب میں ڈالے ہوئے، جب کوئی پیسے لے کر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو ایک زیربچہ تو پھر؟؟؟ آپ ہی بتاؤ۔

میرے پاس ایک کیکٹس تھا بلکل گول سا، اوپر ابھار موٹے موٹے ہر ابھار پر کانٹے اطراف کو مڑے ہوئے۔ اسکے اوپر ایک پھول کھلتا تھا، جامنے رنگ کا، مگر کیا ہی نازکی اور چمکیلی  رنگت۔  اسکا نام مجھے کبھی بھی یاد نہیں ہوسکا۔

اٹلی سے میری واپسی پہلی بار ہوئی گھر میں تو دوسرے دن ہی ادھر کلی بنی اور چوتھے دن پھول کھل پڑ،  اماں جی کہنے لگیں پتر پتا ہے اس کیکٹس نے گزشتہ تین برس پھول نہیں  دئے ، ابھی تو آیا ہے تو یہ جیسے خوشی منا رہا ہے۔ پھر یہی ہوتا، جس ماہ میں پاکستان جانا ہوتا  پھول دیتا، جس برس نہیں جانے ہوا پھول نہیں آئے اس پر۔  جس سال دو بار جانا ہوا دو بار پھول۔ گویا پکی محبت کا اظہار۔
ابا جی پر اکٹس  کا حملہ ہوا تو مفلوج ہوگئے۔ ایسے میں بابا صادق نے کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے تھوہریں گھر میں رکھی ہوئیں اور تھوہر دوزخ کا  درخت ہے، پس اس وجہ سے یہ ساری مصیبت آئی ہوئی ہے آپ کے اوپر۔
ہوا یہ کہ ابا جی نے پھنکوا دئے سارے کیکٹس باہر، مجھے خبر ملی تو میرے آنسو نکل گئے۔  ایک شوق تھا، ایک محبت تھی جو سارا دن ولقد ر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی پڑھنے والوں کی نظر ہوگیا۔
مان لو کہ پودوں میں دل ہوتا ہے۔ جیسے چھوٹے بچے آپ کو پہچان لیتے ہیں، چند دن  یا ہفتوں کا بچہ مجھے سے مانوس ہوتا ہے اور کھیلنا شروع کردے گا، ایسے ہی کیکٹس بھی مجھے سے مانوس ہیں۔

پھر بہت سے کیکٹس برازیل میں دیکھنے کو ملے ، کوئی ہزار ہا قسمیں، پوچھو کچھ نہیں ، پوری نمائش ہی تھی۔ میں گھنٹوں گھومتا رہا  اور یاد کرتا رہا۔ کہ یہ بھی اپنے گھر میں تھا، یہ بھی اپنے پاس تھا۔ جیسے آپ کتابیں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ پڑھ چکے، یہ گھر میں ہے۔ یہ فلاں جگہ پر دیکھی تھی۔  بس ایسے ہی۔

ادھر ایک میرے دوست ہیں اٹالین آلےساندرو، اسکے گھر گیا تو کیکٹس لگے دیکھے تو اجازت لے کر دیکھنے چلا گیا۔ وہ بھی میرے ساتھ ، تھا میں آپے آپ ہی اسکو بتاتا چلا گیا۔ اسکے پھول اس قسم کے ہوتے ہیں، اسکے اس رنگ کے، اسکے پھول کی جسامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ میرے پاس تھا، یہ بھی ، یہ بھی۔ یہ تو بہت ہی زیادہ تھے۔ یہ ایکی نوپسی  Echinopsi تو کتنی قسموں کے تھے میرے ادھر۔
اور پھر دل کو بوجھل بوجھل سا لئے واپس آگیا۔

چوتھے دن آلے ساندرو کا فون آگیا، آجاؤ فوراُ تمھیں ایک چیز دکھانی ہے۔ گیا۔ تو ؑایکینوپسی کا بڑا سا پھول تھا۔ کہنے لگا عام طور پر یہ اگست میں پھول دیتا ہے اور بس۔ مگر اس بار حیرت ہے کہ اس نے ستمبر میں بھی پھول دیا اور باقی کے بھی تیاری کررہے ہیں۔
یار تو آتا جاتا رہا کر۔



تب مجھے یاد آیا کہ میں نے وہ  میری آمد کی خوشی منانے والے کیکٹس کی کہانی سنائی تھی اسے، سادہ  بندہ ۔ یقین کرگیا۔
ایسا کب ہوتا ہے۔ پودے تو بے جان ہوتے ہیں، انکو کیا احساس ، کوئی آئے کوئی جائے انکو کیا فرق؟؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 24, 2014

ڈڈھو نکالنا

ڈڈھو   نکالنا
جون  میں شمالی پنجاب کی گرمی بہت شدید ہوتی ہے، خاص طور پر جہلم کی سطح مرتفع  کی گرمی  جہاں پر درجہ حرارت شدید ہو جاتا ہے ، پچاس  سینٹی گریڈ تک تھرمامیٹر کا پارہ پہنچ جاتا ہے۔  گویا اب تھرما میٹر پھٹا کہ پھٹا ،  ہر طرف   دھوپ کی چمک اور گرم لو۔ 
ایسے میں گھاس تک جل جاتی ہے اور جانوروں کےلئے سبز چارہ کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان تو کیا جانور تو جانور بھی چھپتے پھرتے ہیں، درختوں کے سائے تلے ہوں یا دیوار کی اوٹ میں ایک جیسی جی جلانے والی گرمی سب کو تپائے ہوئے ہوتی ہے۔  کسی پل آرام نہیں ہوتا

دریا کر کنارے رہنے والے تو دریا کے پانی میں گھس جاتے ہیں مگر وہ بھی کب تک ۔ باہر نکلیں تو پھر دو تین منٹ بعد وہی حال ہوتا ہے۔
چونکہ گھاس و سبزہ سب خشک ہوچکا ہوتا ہے تو  رات کو شبنم بھی نہیں ہوتی۔ گویا بلکل خشکی اور شدید گرمی۔ ایسے ماحول میں جب سب جی جلائے بیٹھے ہوتے ہیں تو سہ پہر کو جانے کب کسی من چلے کو    " ڈڈھو"  نکالنے کی پہلی بار سوجھی۔     اور پھر ایک رواج ہی  بن گیا بس۔

ڈڈھو پنجابی میں مینڈک کو کہتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بڑا سا  ہوتا ہے۔  ساون کے موسم میں جب برسات سے ہر طرف جل تھل ہوتی ہے تو نظر آتا ہے گویا یہ ساون کے ہرے بھر ے موسم کی علامت ہوا۔

تقریب اس میں یہ ہوتی ہے کہ  لڑکے بالے    مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں پر پانی پھینکتےہیں اچانک سے،  کہ انکو ٹھنڈ پڑے، انکا تراہ نکلے۔  عام طور پر اس شدید گرمی میں ٹھنڈا پانی بہت خوشگوار ہوتا ہے اور ہر بندے پر اسکا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ تو نمازی لوگ دعائیں دیتے ہیں۔ اور اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ ابرکرم برسا دیتا ہے۔
یہ تو ہو گیا   ڈڈھو نکالنے کا سنجیدہ پہلو۔ اسکے ساتھ ساتھ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ دعائیں دینے کی بجائے گالیاں دینے لگتے ہیں،
کہ "تہاڈی ماں نوں۔۔۔۔  ،   تہاڈی پہینڑں نوں۔۔۔۔۔۔
اب لڑکے بالے اس بات کا برا منانے کی بجائے اس بات کا مزاق  بنا لیتے ہیں اور ٹھٹھا بنا لیتے ہیں ، ادھر "باباز "گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ادھر لڑکے بالے اور بڑے بوڑھے قہقے لگا رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں کوئی من چلا یہ کرتا ہے کہ نالی میں  سے دیکھ داکھ کر  کہیں نہ کہیں سے ، کیچڑ سے لتھڑا ہوا مینڈک کسی ڈبے میں ڈال لاتا ہے اور جو بابا یا مائی سب سے زیادہ گالیاں دے رہا ہوتا ہے اس پر پھینک دیا جاتا ہے
بس پھر ادھر سے پرزور گالیاں پڑرہی ہوتی ہیں اور ادھر سے پرزور قہقہے

اب ہم بڑے ہوگئے ہیں اور عرصہ سے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نہیں علم کہ اب بھی ڈدھو نکالا جاتا ہے یا نہیں  مگر فیس بک پر ایک بابا پکڑا گیا ہے۔ ان دنوں ایسا ہی ۔  بات بے بات گالیاں دیتا ہے اور آج میں نے پوچھ لیا ، باوا جی آپ کی گالیاں دینے کی تربیت کس استاد نے کی؟؟ بہت مشاق ہیں آپ اس شعبہ میں تو اپنے استاد کا نام تو بتائیں۔
بس پھر   وہی  ادھر کی گالیاں اور ادھر کے قہقہے



مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 14, 2014

چاچاجی کھاآئے او؟؟؟

سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا    زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء  طالبعلمی سے میری مراد کالج  کے وہ برس  ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔  ہائے ہائے وہ  نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔

جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے  انکو ایک تانگے  والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ 

عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا  نظر آتا تھا۔  میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے  تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے بالے کہتے ہیں چاچا جی، انکل جی  اور ہم دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں اوئے باز آجا، کتھوں دا چاچا، کہڑا انکل؟

یہ تانگے والاپورے جہلم شہر میں مشہور تھا،   خیر تب جہلم شہر تھا ہی کتنا،   مگر چاچے کی دھوم تھی ہر طرف۔
چاچے کی وجہ شہرت اس تانگے بان کی گالیاں  اور اسکی چھیڑ تھی "چاچا جی کھا آئے او؟"

کسی آتے جاتے نے چاچے کو کہہ دیا  کہ چاچا جی کھا آئے ہو، اور چاچے نے اسٹارٹ ہوجانا، تیری ماں  دا۔۔۔۔ کھا آئیاں
تیری پہنڑ دا ۔۔۔۔۔ کھاآئیاں۔    اور اسکے بعد چاچے نے آدھے گھنٹے تک اسٹارٹ رہنا،  تیری میں۔   تیری میں۔۔۔  ،
اور یار لوگ ان گالیوں کا مزہ اٹھاتے ، ہنستے ، دانت نکالتے اور ٹھٹھہ کرتے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ فسادی لوگ چاچے کو بلخصوص اس وقت چھیڑتے تھے، جب اسکےتانگے میں خواتین اور وہ بھی بلخصوص "کالج کی کڑیاں "سوار ہوتیں اور چاچا اسٹارٹ ہوجاتا،   شریف "کڑیاں "  بہت شرمندہ ہوتیں اور یارلوگ دونوں کا حظ اٹھاتے۔بعد میں سنا کہ عورتوں نے چاچے کے تانگے میں بیٹھنا ہی ترک کردیا۔ اور جو اردگرد ہوتیں وہ اپنا منہ چھپا لیتیں،  چاچا  بہت ننگی اور موٹی موٹی گالیاں دیا کرتا تھا اور علٰی طول دیا کرتا تھا۔ 


ہمارے زمانہء طالبعلمی سے قبل ہی یہ چاچا ایجاد ہوچکا تھا۔ تو جنابو اس کا کریڈٹ ہم اپنے سر نہیں لے سکتے۔   تب اسے  " چاچاجی کھا آئے ہو"  کہا جاتا تھا۔  پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس چاچے کی کمر اور جھک گئی ،  عینک کے شیشے مزید دبیز ہوتے گئے،  سرکے بال اور داہڑی کے بال بھی کچھ مزید  سفید ہوتے گئے،  اب چاچا  کمزور ہوچکا تھا جسمانی طور پر اور یارلوگوں نے  "چاچاجی" کی بجائے " باباجی کھا آئے ہو"  کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔

مگربابے کی گالیاں اور آواز کی گھن گرج وہی رہی۔

ہرچیز کا ایک وقت اور ایک رواج ہوتا ہے اور اسکے  بعد وہ  روٹین اور نرگسیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ پس باباجی کھا آئے او کو بھی لوگوں نے چھیڑنا  ترک کردیا ۔

مگر باباجی جو کہ عادی ہوچکے تھے اس " رولے " کے ۔  تو انکو پھر اس بات پر گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ "آج سارے کتھے مرگئے او؟ آج سب کو چپ لگی ہوئی ہے؟؟   اوئے تہاڈی میں  ماں نوں۔۔۔۔۔ ،  تہاڈی پہنڑں   نوں۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تب کوئی ہنستا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کےلئے وہ گالیاں روٹین بن چکی تھیں،  لوگ نرگسیت کا شکار ہوچکے تھے۔ 

اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ باباجی نے تانگہ چلانا ترک کردیا ہے اور مسجد کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔  اسکے بعد کا کچھ علم نہیں

معالجات کی تعلیم کے دوران جب الزائمر کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ اسکا پہلا فیز ہے۔ اسکے بعد مریض بھولنے شروع ہوجاتا، اورمذہب کے قریب ہوجاتا ہے،  پھر مختلف خیالی چیزوں یا واقعات کا بیان کرنا، اور پھر آخیر میں وہ کیفیت ہوتی ہے جسکو پاگل پن کہا جاتا ہے۔


فیس بک  ہمارا آج کا شہر ہے  اور پورا ایک محلہ بھی، جس پرہمارے دن کے کئے گھنٹے بلکہ کئی بار تو پورا پورا دن ہی گزر جاتا ہے۔ 

ادھربھی گزشتہ دنوں ایک ایسا کردا ر ایکٹو تھا۔ جو ہر کسی کو ہر بات پر مغلظات بک رہا تھا۔  یہ موٹی موٹی گالیاں دے رہاتھا۔ سب کی ماں بہن ایک کررہا تھا۔

اب لگتا ہے بھولنے کے فیز سے گزر رہا،   کہ کہہ رہے کہ میں نے تو آپ کو گالیں نہیں، اچھا نہیں بھی دیں تو بھی معذرت کرلیتا ہوں۔
میری اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ الزائمر کے سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمائے اور انکے لواحقین سے درخواست ہے کہ انکا باقاعدہ علاج کروایا جائے، یہ مرض قابل علاج ہے، اس میں مریض کے ارد گرد کےلوگوں کو بہت حساس رہنا پڑتا ہے۔ بہت حوصلہ سے ، تاکہ مریض کی صحت کی بحالی  کو حاصل کیا جاسکے۔



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 15, 2014

ہم ناشکرے

میں نے موبائل کو وقت دیکھنے کو جیب سے نکالا تو    انجلین کا وھاٹس اپ پر میسج آیا ہوا تھا،    کہ کام سے فارغ ہو کر مجھے فون کرلیا، آجکل  ترقی ہوچکی موبائل فون کی وجہ سے گھڑی ، ڈائیری  پین وغیر ہ  سے فراغت ہے، بس فون سے ہی کام چلاتے ہیں تو بس ہر وقت ساتھ ہی ہوتا ہے اپنے۔  جس دن فون گھر رہ جائے تو بس واپس آ کر  لینا ہوتا ہے ، اسکے سوا  اپنی دنیا  ادھوری ہے، ممکن ہے سب کی ہی ہو،  آخر ہم آزادی اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں۔

انجلین کو فون کیا تو  کہنے لگی کہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ذاتی قسم کی اگر فارغ ہوتو  کہیں چل کرے کافی پیتے ہیں۔
ہر ملک کا اپنا اپنا رواج ہے ،  پاکستان میں یار باش سیدھا سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ آؤ جی خانجی گپ مارتے ہیں اورگاوں دیہات میں تو چائے کافی  کا بھی  ٹنٹہ نہیں پالا جاتا، ادھر کھیتوں کے بیچوں بیچ  کسی بنے پر بیٹھ  اور ہوگئے شروع ، چاہے تو 3 گھنٹے ادھر ہی گزر جاویں، خیر پاکستان میں اگر کسی لڑکے لڑکی کو ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ بہن  بھائی ہیں اگر شکل ملتی  ہے تو اگر نہیں تو پھر میاں بیوی ہونگے، تیسری صورت میں  پھر پھانڈا ہی ہے۔ ۔  اسی طرح ملک یونان میں بھی بول دیتے ہیں آؤ جی گپ لگانے چلیں، مگر اس کی صورت یا تو چہل قدمی ہوگی یا پھر وہی کافی اور بس پھر گھنٹے ادھر ہی۔

یہ انجلین بھی ایویں ہی ہے،  ہرچھوٹی سی بات کا ایشو بنانا اسکے پیچھے بس ہے، اور باتیں کرنے کی شوقین، فارماسسٹ ہے اور ایک فارمیسی میں کام کرتی ہے، میری اسکی ملاقات  پہلی بار کام کے سلسلہ میں ہی ہوئی تھی، ہم فوراُ ہی دوست قرار پائے ، میرے لئے بہت معاون ہے، نئے شہر میں جہاں آپ کا جاننے والا کوئی نہ ہوجسکو آپ کام کے علاوہ مل سکیں یا بات بھی کرسکیں  تو ایسے میں جو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے وہ  ہی سب سے اچھا دوست ہوتا ہے۔کوئی بھی چھوٹا موٹا کام ہو، یا کوئی معلومات چاہئیں ہوں تو بھاگی پھرتی ہے، اور تب دم لے گی جب جان مار کر کام پورا کر نہ لے تو۔ دل کی بہت اچھی ہے۔ 

میں  بمطابق پروگرام سات بجے  اسکی   فا رمیسی کے سامنے گاڑی میں تھا، کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگئی، چہرے سے ہی تھکاوٹ اور مایوسی عیاں تھی، چاؤ، چاؤ اور وہ گاڑی میں میرے ساتھ والی سیٹ پر گر سی پڑی، اسنے حسب عادت سیٹ بیلٹ کھینچا   اور ہم شہر کی دوسری طرف کوئی چار کلو میٹر دور اپنے مخصوص کیفے کی طرف رواں دواں تھے، چھٹی کا وقت ہونے کی وجہ سے گاڑیا ں ہی گاڑیاں تھیں، ٹریفک بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔  اور ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے،   وہ بولے جارہی تھی، میں نے اندازہ لگا لیا کہ اسکو کام کچھ بھی نہیں تھا، بس بچاری نے دن کی بھڑاس نکالنے کو میرا ساتھ مانگ لیا۔ اپنی سارے دن کی روداد، گاہکوں کے روئیے ، اپنے دوسرے کولیگز کی رکھائی، پھر بات ٹریفک کی طر ف چل پڑی ،    ہماری گاڑی کے آگے ایک بس لگی ہوئی تھی جی  وہی پبلک ٹرنسپورٹ  والی جو ہر پانچسو میٹر پر رکتی باقاعدہ اور سواریاں اتارتی چڑھاتی، انجلین کہہ رہی تھی کہ  دیکھو سارا دن کام کرنے کے بعد میرے ساتھ یہی ہونا تھا،  آج تو دن ہی بہت برا ہے، میری تو قسمت ہی پھوٹی ہوئی ہے،  اب دیکھو یہ بس سامنے لگ گئی ہے، گویا ایک دیوار ہی تو بن گئی  ہے ہمارے سامنے، ہمارا اتنا خوبصورت شہر ہے بند ہ اس کا نظارہ بھی نہیں کرسکتا، بس کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا، ایسے لگ رہا جیسے ہم دو اندھے ہوگئے ہوں اور سامنے اس پیلی دیوار کے سوائے کچھ  نہیں ہے۔

میں سٹرک کی دوسری طرف دیکھ رہا تھا، ادھر فٹ پاتھ پر ایک شخص اپنی سفید چھڑی لہراتا ہوا چل رہا تھا، سفید چھڑی کا مطلب یہ شخص نابینا ہے۔ ہماری گاڑی کھڑی تھی بس کے پیچھے اور بس کھڑی تھی اپنے اسٹاپ پر،  شاید سواریاں زیادہ تھیں یا آگے ٹریفک بلاک تھی،  میں  نے انجلین کی توجہ اس نابینا کی طرف دلوائی ، جو فٹ پاتھ کے کنارے ایک کھمبے کی طرف بڑھ رہا تھا،  اسکی  زمین  کے اوپر رینگی ہوئی چھڑی جب کھمبے سے مس ہوئی تو تھوڑی اوپر اٹھی  اور پھر اس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر کھمبے کو محسوس کیا، اور اپنا راستہ بدل لیا۔

میں انجلین سے بغیر سوچے سمجھے کہ اسے کیسا لگے  کہہ  رہا تھا کہ  دیکھو میڈم ایک ہم ہیں   کہ ایک بس سامنے ہے تو اس کو  ہی روئے  جارہے، کہ ہمارے سامنے پیلی شیٹ لگ گئی ہے، ہمیں کچھ نظر نہیں  آرہا،باوجود اسکے کہ ہم دائیں بائیں دیکھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں،    اور ایک ایک وہ شخص ہے جس کے سامنے ایک  و ہ ہے جس کے سامنے شاید اندھیری دیوار ہے،  صرف سامنے ہی نہیں  چاروں طرف، مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہے،  اور ہمارے چہروں پر  تناؤ ہے، سچ تو یہ  ہے  کہ ہم لوگ ناشکرے ہیں۔ اور بس


ترجمہ،  پنجابی سے اردو، بنا مطلب کھیت کی منڈیر، پھانڈا مطلب مارکٹائی پروگرام۔ 



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش