سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

منگل, فروری 10, 2015

کچھ ھیکرز کے بارے میں۔

ھیکرز جنات ہوتے ہیں اور انکے پاس وہ طاقت ہوتی ہے کہ بس بندے کے کمپوٹر میں سے ہرچیز کھینچ کے لے جاتے ہیں، پاسورڈ، کریڈٹ کارڈز کی معلومات اور جانے کیا کیا ، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہمیں اخبارات اور رسائل سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ حال وائرس کا بیان کیا جاتا ہے۔
بقول چچا غالب کے :

پس از مرے گھر سے یہ ساماں نکلا،۔۔۔۔۔ کچھ حسینوں کے خطوط  چند تصویر بتاں
اگر یہ شعر الٹا محسو س ہورہا ہے آپ کو تو برائے مہربانی ادھر ادبی تنقید کرنے کی بجائے، سائنسی موضوع پر توجہ مرکوز فرمائیں،  تو
جب آپ کے کمپوٹر میں ہی کچھ نہیں ہونا تو نکلنا کیا؟؟؟  توجنابو، ایویں ای ٹینشن لینے کی لوڑ  نہیں ہے۔ آپ کے کمپوٹر میں سے ھیکرز کو مرتے مرجائیں  "مینگو مطلب امب" بھی نہیں ملنے  والا۔
تو صاحبو اگر آپ کا تعلق اس گروہ سے ہے تو اس تحریر کو پڑھ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں اور فوراُ سے پیشتر  اس لنک پر کلک کرکے نکل لیں اور اپنے وقت کو کسی اچھے کام میں برباد کریں۔ تہاڈی مہربانی۔
چونکہ آپ ابھی تک یہی سطور پڑھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ پڑھتے جائیں۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کے اختتام تک آپ خود ھیکر بن چکے ہوں، یا محلے میں دستیاب پانچ سات ھیکرز کو پہنچاننے کے قابل ہوجاویں گے۔
تو جناب ایسا بھی کچھ نہیں ہونے والا، بس یہ ہوگا حد سے حد کہ آپ  کو کچھ اندازہ ہوجائے گا کہ آپ پر ھیکرز نے حملہ کردیا ہے اور آپ کی تھوڑی سی توجہ اپنے کمپوٹر کو انا للہ وانا الیہ راجعون ہونے سے بچا سکتی ہے۔
مقاصد۔
ھیکنگ کے جو مقاصد ہیں ان میں تو شامل ہے کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات،  آپ کے کریڈیٹ کارڈز کے بارے میں معلومات، اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیلات  آپ کے کمپوٹر سے اڑا لی جائیں۔
اب بندہ پوچھے کہ ان کا وہ کریں گے کیا؟؟ تو جناب یہ کریں گے کہ آپ کے بنک میں سے  پیسے اڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ آپ کے کریڈٹ کارڈز میں  سے پے منٹس کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیل آپ کے کاروباری مخالفین کو بیچ کر پیسے کمانے کی کوشش  کی جائے گی۔ مگر یہ سب کچھ ایک عام کمپوٹر یوزر سے متعلقہ نہیں ہے، اگر آپ اپنے کمپوٹر سے اپنا بینک اکاؤنٹ  نہیں آپریٹ کرتے، کریڈٹ کارڈ آپ کے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ اپ عیدو عید ہی استعمال کرتے ہیں یا صرف رشتہ داروں کو جلانے کو رکھا ہوا ہے ۔ آپ بزنس کی بجائے کسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے ہیں تو پھر جناب آپ دودھ پی کر سوجائیں، آپ کا کوئی کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔ 
ہاں آپ کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا فیس بک  اکاؤنٹ ھیککردیا جاوے اور آپ کو زک پہنچانے کی کوشش کی جائے  یا ای میل ھیک  کرلی جائے اور آپ کی میلز ضائع ہوجائیں۔ تو جناب  ایسی صرف میں آپ کا مالی نقصان تو ہوگا نہیں البتہ خواہ مخواہ کی ٹینشن البتہ ہوگی اور وہ بھی مفت میں۔
پس آپ کو اگلی قسط کا انتظار کریں
جس میں ہم ان کا طریقہ  واردات بیان فرمائیں گے اور اسکے بعد انکا تدارک بھی بیان ہوگا۔
تب تک آپ اسی پر کمنٹس کرتے رہیں 

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 07, 2015

میں کیا ہوں؟؟؟


اسکول کے زمانے سے ہی تاریخ پڑھنے کا  بہت شوق تھا،  صرف تاریخ ہی کیا، سفرنامے، آپ بیتیاں، جغرافیہ ہو ،  یا پھر کوئی اورموضوع، بس کتاب ہونی چاہئے اور وہ بھی نصاب کی نہ ہو،  یہ نسیم حجازی کے اور ایم  اسلم راہی کو موٹے موٹے ناول لاتے اور راتوں رات پڑھ کر سوتے۔ عمران سیریز، عنایت اللہ، سے لیکر شہاب نامہ تک پڑھ ڈالا مگر ان ساری کتابوں کے اندر اپنا کوئی ذکر تک نہ تھا، نہ کوئی حوالہ نہ  کوئی نام و نشان۔
تاریخ ابن خلدون کی کئی جلدیں کھنگال ماریں۔ یہ اسکندر اعظم سے لیکر انگریزوں کی آمد و جامد تک سب دیکھ مارا۔ مگر وہی ڈھاک کے
تین پات، اپنے بارے کچھ بھی نہیں ملا، گویا اپنا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہی حال پوری تحریک پاکستان میں رہا، پوری تحریک پاکستان میں اپنا کوئی حصہ نہیں نظر آیا،  سرسید احمدخان ، مولانا برادران، علامہ اقبال ، قائد اعظم،  لیاقت علی خان اور بہت سے لوگوں بلکہ رہنماؤں (کہ وہ لوگ نہیں تھے)  تک کے حالات زندگی پڑھ ڈالے مگر اپنے بارے مجال ہے جو چار الفاظ بھی ملے ہوں یا کہیں ذکر ہوا ہو۔

پھر تاریخ پاکستان  کا مطالعہ ہوا،   کیا پہلے افراتفری کے سال، پھر ایوب خان کی ترقی اور بحالی کے سال۔  اپنا اس میں کوئی کردار نہ تھا، نہ کسی نے لکھا ، کوئی حوالہ نہیں ہے۔ ہاں سنہ اکہتر بہتر کی افراتفری میں ایک اندراج اپنے نام کا یونین کونسل کے رجسٹر پیدائش میں درج پایا گیا۔ اس میں اپنا کوئی عمل دخل نہ تھا، کہاں پیدا ہوئے، نام کس نے  رکھا، کیا رکھا، کیوں رکھا، سب کسی اور نے طے کیا اور ہم آموجود ہوئے، پھر گاؤں کے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ جن اساتذہ  کے پاس پڑھا، جو کلاس فیلو تھے، یہ بھی اپنا فیصلہ نہ تھا۔

دنیا کی کچھ سمجھ آنے لگی کالج میں داخل ہوئے، اچھا ۔   تیرے لئے اس کالج کے فارم جمع کروا آیا ہوں، یہ رسید ہے، فلاں تاریخ کو داخلہ کی فہرست لگے گی۔ جاکر اپنا نام کلاس سیکشن دیکھ آنا، یہ بھائی جان کا فرمان تھا۔ اور میں اچھا جی کہہ کر رہ گیا۔
چل ہومیوپیتھی پڑھ لے، سنا ہے کہ بہت اچھا طریقہ علاج ہےاور  کہ ادھر پڑھنا کم پڑھتا ہے اور نقل بہت لگتی ہے، بس بندہ پاس ہوجاتا ہے۔ تو بھی ڈاکٹر بن جائے گا۔ سستے میں۔ چل ٹھیک ہے، ورنہ تیرے پاس ہونے کے چانس کم ہیں،  میں اچھا جی ٹھیک ہے۔

پہلا سال اسی پر رہے، مرمرا کر پاس ہوئے۔ اگر سالوں میں محنت کرنے کی جانے کیوں عادت سی ہوگئی۔ اور ہم پوزیشنیں  لینے والوں میں سے ہوگئے، اس میں اپنا کوئی کمال نہیں تھا، مجبوری تھی۔ کسی نے کہہ دیا کہ پڑھا کرو۔ ہم پڑھنا شروع ہوگئے۔ تعلیم ختم کی تو اسی سال ایک لیکچرار کی سیٹ خالی ہوئی، اس  پر درخواست دے دی۔ تعیناتی ہوگئی۔ کیسے ہوئی اپنا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

پھر ایک کانفرنس کے بارے معلومات ملیں جو پولینڈ ہورہی تھی۔ ویزہ اپلائی کیا ، اگلوں نے انکار کردیا، اسکے کچھ دن بعد ہونے والی کانفرنس کا ویزہ لیکر ادھر جاپہنچے،  رات کا ٹرانزٹ لنڈ ن کا رہا ، ماموں شاہد نے بہت شور کیا کہ ادھر ہی رہ جا، کنجرا،  تیری کوئی ازیل وغیرہ ہوجائے گی، تیرا ویاہ کروا دیا ں گا۔   نہیں۔ اٹلی آگئے، ادھر آکر پیسے کمانے میں لگ گئے،  نوکریاں کیا کیا کیں اور کیوں کیں، ان میں اپنا کوئی عمل دخل نہیں، جو پوسٹ کسی نے بتادی میں نے اپلائی کردیا۔  جس نے بلا لیا  وہ کام شروع کردیا۔ سفر، ادھر جا ادھر جا۔ کام کے چکر میں  برازیل تک گھوم آئے۔

ایک بزنس کرنے کی ناکام کوشش کی، چار سال بعد نتیجہ۔ صحت کی خرابی چلنے پھر نے سے معذور ، بستر پر۔ بس کاروبار بھی ٹھپ۔
پھر اللہ نے صحت واپس کی، اور  دوستوں کی راہنمائی سے پولے پولے ہومیوپیتھک معالجات میں آگئے، تین سال بہت مزے سے گزرے۔ مگر اس میں بھی اپنی کوئی قابلیت نہ تھی۔ بس سبب بنتے رہے۔
پڑھتے، پڑھاتے، یہ فیس بک ، یہ بلاگ۔ یہ دوست احباب، یہ ملاقاتیں ۔ یہ سب چلتا ہی رہا اور ہم پھر سے کمر کی سرجری کروا کر بستر پر،
آج ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا، اس کمرے میں  اور اس بستر پر، اور میں صبح سے سوچ رہا کہ ساری دنیا کا نظام تو پھر بھی چل رہا۔ میرے ہونے نہ ہونے سے تو کوئی فرق نہیں  پڑا  اور نہ ہی پڑنے والا۔ 

تو پھر میں کیا ہوں؟؟؟  شاید کچھ بھی نہیں۔
اس دنیا کے اندر میرا کیا کردار ہے؟؟؟ کچھ بھی نہیں۔
تو پھر؟؟؟؟


مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 24, 2014

ڈڈھو نکالنا

ڈڈھو   نکالنا
جون  میں شمالی پنجاب کی گرمی بہت شدید ہوتی ہے، خاص طور پر جہلم کی سطح مرتفع  کی گرمی  جہاں پر درجہ حرارت شدید ہو جاتا ہے ، پچاس  سینٹی گریڈ تک تھرمامیٹر کا پارہ پہنچ جاتا ہے۔  گویا اب تھرما میٹر پھٹا کہ پھٹا ،  ہر طرف   دھوپ کی چمک اور گرم لو۔ 
ایسے میں گھاس تک جل جاتی ہے اور جانوروں کےلئے سبز چارہ کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان تو کیا جانور تو جانور بھی چھپتے پھرتے ہیں، درختوں کے سائے تلے ہوں یا دیوار کی اوٹ میں ایک جیسی جی جلانے والی گرمی سب کو تپائے ہوئے ہوتی ہے۔  کسی پل آرام نہیں ہوتا

دریا کر کنارے رہنے والے تو دریا کے پانی میں گھس جاتے ہیں مگر وہ بھی کب تک ۔ باہر نکلیں تو پھر دو تین منٹ بعد وہی حال ہوتا ہے۔
چونکہ گھاس و سبزہ سب خشک ہوچکا ہوتا ہے تو  رات کو شبنم بھی نہیں ہوتی۔ گویا بلکل خشکی اور شدید گرمی۔ ایسے ماحول میں جب سب جی جلائے بیٹھے ہوتے ہیں تو سہ پہر کو جانے کب کسی من چلے کو    " ڈڈھو"  نکالنے کی پہلی بار سوجھی۔     اور پھر ایک رواج ہی  بن گیا بس۔

ڈڈھو پنجابی میں مینڈک کو کہتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بڑا سا  ہوتا ہے۔  ساون کے موسم میں جب برسات سے ہر طرف جل تھل ہوتی ہے تو نظر آتا ہے گویا یہ ساون کے ہرے بھر ے موسم کی علامت ہوا۔

تقریب اس میں یہ ہوتی ہے کہ  لڑکے بالے    مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں پر پانی پھینکتےہیں اچانک سے،  کہ انکو ٹھنڈ پڑے، انکا تراہ نکلے۔  عام طور پر اس شدید گرمی میں ٹھنڈا پانی بہت خوشگوار ہوتا ہے اور ہر بندے پر اسکا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ تو نمازی لوگ دعائیں دیتے ہیں۔ اور اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ ابرکرم برسا دیتا ہے۔
یہ تو ہو گیا   ڈڈھو نکالنے کا سنجیدہ پہلو۔ اسکے ساتھ ساتھ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ دعائیں دینے کی بجائے گالیاں دینے لگتے ہیں،
کہ "تہاڈی ماں نوں۔۔۔۔  ،   تہاڈی پہینڑں نوں۔۔۔۔۔۔
اب لڑکے بالے اس بات کا برا منانے کی بجائے اس بات کا مزاق  بنا لیتے ہیں اور ٹھٹھا بنا لیتے ہیں ، ادھر "باباز "گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ادھر لڑکے بالے اور بڑے بوڑھے قہقے لگا رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں کوئی من چلا یہ کرتا ہے کہ نالی میں  سے دیکھ داکھ کر  کہیں نہ کہیں سے ، کیچڑ سے لتھڑا ہوا مینڈک کسی ڈبے میں ڈال لاتا ہے اور جو بابا یا مائی سب سے زیادہ گالیاں دے رہا ہوتا ہے اس پر پھینک دیا جاتا ہے
بس پھر ادھر سے پرزور گالیاں پڑرہی ہوتی ہیں اور ادھر سے پرزور قہقہے

اب ہم بڑے ہوگئے ہیں اور عرصہ سے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نہیں علم کہ اب بھی ڈدھو نکالا جاتا ہے یا نہیں  مگر فیس بک پر ایک بابا پکڑا گیا ہے۔ ان دنوں ایسا ہی ۔  بات بے بات گالیاں دیتا ہے اور آج میں نے پوچھ لیا ، باوا جی آپ کی گالیاں دینے کی تربیت کس استاد نے کی؟؟ بہت مشاق ہیں آپ اس شعبہ میں تو اپنے استاد کا نام تو بتائیں۔
بس پھر   وہی  ادھر کی گالیاں اور ادھر کے قہقہے



مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 14, 2014

چاچاجی کھاآئے او؟؟؟

سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا    زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء  طالبعلمی سے میری مراد کالج  کے وہ برس  ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔  ہائے ہائے وہ  نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔

جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے  انکو ایک تانگے  والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ 

عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا  نظر آتا تھا۔  میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے  تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے بالے کہتے ہیں چاچا جی، انکل جی  اور ہم دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں اوئے باز آجا، کتھوں دا چاچا، کہڑا انکل؟

یہ تانگے والاپورے جہلم شہر میں مشہور تھا،   خیر تب جہلم شہر تھا ہی کتنا،   مگر چاچے کی دھوم تھی ہر طرف۔
چاچے کی وجہ شہرت اس تانگے بان کی گالیاں  اور اسکی چھیڑ تھی "چاچا جی کھا آئے او؟"

کسی آتے جاتے نے چاچے کو کہہ دیا  کہ چاچا جی کھا آئے ہو، اور چاچے نے اسٹارٹ ہوجانا، تیری ماں  دا۔۔۔۔ کھا آئیاں
تیری پہنڑ دا ۔۔۔۔۔ کھاآئیاں۔    اور اسکے بعد چاچے نے آدھے گھنٹے تک اسٹارٹ رہنا،  تیری میں۔   تیری میں۔۔۔  ،
اور یار لوگ ان گالیوں کا مزہ اٹھاتے ، ہنستے ، دانت نکالتے اور ٹھٹھہ کرتے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ فسادی لوگ چاچے کو بلخصوص اس وقت چھیڑتے تھے، جب اسکےتانگے میں خواتین اور وہ بھی بلخصوص "کالج کی کڑیاں "سوار ہوتیں اور چاچا اسٹارٹ ہوجاتا،   شریف "کڑیاں "  بہت شرمندہ ہوتیں اور یارلوگ دونوں کا حظ اٹھاتے۔بعد میں سنا کہ عورتوں نے چاچے کے تانگے میں بیٹھنا ہی ترک کردیا۔ اور جو اردگرد ہوتیں وہ اپنا منہ چھپا لیتیں،  چاچا  بہت ننگی اور موٹی موٹی گالیاں دیا کرتا تھا اور علٰی طول دیا کرتا تھا۔ 


ہمارے زمانہء طالبعلمی سے قبل ہی یہ چاچا ایجاد ہوچکا تھا۔ تو جنابو اس کا کریڈٹ ہم اپنے سر نہیں لے سکتے۔   تب اسے  " چاچاجی کھا آئے ہو"  کہا جاتا تھا۔  پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس چاچے کی کمر اور جھک گئی ،  عینک کے شیشے مزید دبیز ہوتے گئے،  سرکے بال اور داہڑی کے بال بھی کچھ مزید  سفید ہوتے گئے،  اب چاچا  کمزور ہوچکا تھا جسمانی طور پر اور یارلوگوں نے  "چاچاجی" کی بجائے " باباجی کھا آئے ہو"  کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔

مگربابے کی گالیاں اور آواز کی گھن گرج وہی رہی۔

ہرچیز کا ایک وقت اور ایک رواج ہوتا ہے اور اسکے  بعد وہ  روٹین اور نرگسیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ پس باباجی کھا آئے او کو بھی لوگوں نے چھیڑنا  ترک کردیا ۔

مگر باباجی جو کہ عادی ہوچکے تھے اس " رولے " کے ۔  تو انکو پھر اس بات پر گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ "آج سارے کتھے مرگئے او؟ آج سب کو چپ لگی ہوئی ہے؟؟   اوئے تہاڈی میں  ماں نوں۔۔۔۔۔ ،  تہاڈی پہنڑں   نوں۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تب کوئی ہنستا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کےلئے وہ گالیاں روٹین بن چکی تھیں،  لوگ نرگسیت کا شکار ہوچکے تھے۔ 

اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ باباجی نے تانگہ چلانا ترک کردیا ہے اور مسجد کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔  اسکے بعد کا کچھ علم نہیں

معالجات کی تعلیم کے دوران جب الزائمر کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ اسکا پہلا فیز ہے۔ اسکے بعد مریض بھولنے شروع ہوجاتا، اورمذہب کے قریب ہوجاتا ہے،  پھر مختلف خیالی چیزوں یا واقعات کا بیان کرنا، اور پھر آخیر میں وہ کیفیت ہوتی ہے جسکو پاگل پن کہا جاتا ہے۔


فیس بک  ہمارا آج کا شہر ہے  اور پورا ایک محلہ بھی، جس پرہمارے دن کے کئے گھنٹے بلکہ کئی بار تو پورا پورا دن ہی گزر جاتا ہے۔ 

ادھربھی گزشتہ دنوں ایک ایسا کردا ر ایکٹو تھا۔ جو ہر کسی کو ہر بات پر مغلظات بک رہا تھا۔  یہ موٹی موٹی گالیاں دے رہاتھا۔ سب کی ماں بہن ایک کررہا تھا۔

اب لگتا ہے بھولنے کے فیز سے گزر رہا،   کہ کہہ رہے کہ میں نے تو آپ کو گالیں نہیں، اچھا نہیں بھی دیں تو بھی معذرت کرلیتا ہوں۔
میری اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ الزائمر کے سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمائے اور انکے لواحقین سے درخواست ہے کہ انکا باقاعدہ علاج کروایا جائے، یہ مرض قابل علاج ہے، اس میں مریض کے ارد گرد کےلوگوں کو بہت حساس رہنا پڑتا ہے۔ بہت حوصلہ سے ، تاکہ مریض کی صحت کی بحالی  کو حاصل کیا جاسکے۔



مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 16, 2014

ویلنٹائن ڈے منانا ہمارا


ویسے تو  ادھر اٹلی میں رہتے  ہوئے  کئی برس ہوگئے ہیں مگر ویلنٹائن ڈے کے بارے کچھ خاص علم نہیں ہوتا،  آتا تو ہر برس ہے اور گزر بھی جاتا ہے، جبکہ عمومی طور پر کام پر ہوتے ہیں تو سب ادھر مصروف ہوتے ہیں، کسی کو سر کان کھرکنے کی فرصت نشتا۔  اتنے مین کسی کو یاد آگئی اور اس   نے کہ  دیا کہ لو جی آج ویلنٹائن ڈے ہے، اچھا اچھا  لو جی کیا بات ہے، مبارکاں ۔ ۔    ہیں جی      اور پھر یار باگھ اپنے اپنے کام کاج میں سر گھسیڑلیتے ہیں،   کہ ادھر کام کرنا پڑتاہے، حرام خوری کی گنجائش ناں۔            ا     ور  اگر اس دن چھٹی ہوتو  سو کر گزرتی ہے، اب سوئے بندے کو کیا علم کہ ویلنٹائن ڈے آیا کہ نہیں آیا۔

   یا پھر پھول فروشوں کی دکا  ن  کے سامنے سے گزرتے ہوئے معلوم ہوجاتا ہے کہ لو جی  بھائی جان ویلٹائن ڈے آرہا۔    ہیں جی  پھول جو بھیچنے اگلے نے۔   پھر سپر مارکیٹ میں کوئی دو دن پہلے چاکلیٹ کے خانہ  میں ایک پوسٹر دل کا بنا کر لگا دیا جاتا ہے اور دل کی شکل والے سرخ ڈبے میں کچھ چاکلیٹیں مہنگے داموں  سج جاتی ہیں شیلفوں میں۔   آخر کوئی دکان داری بھی کوئی چیز ہے  ، ہیں جی ،   ہاں جی   اس دن ترکیب یہ ہوتی ہے کہ ہر کوئی اپنی چاہتے کے اظہار کےلئے یہی دو طریقے اپناتا ہے، بیوی یا محبوبہ کو پھول اور بچوں کو چاکلیٹ دے کر آئی لو یو  کہہ دیا جاتا ہے ،   ہیں جی۔  اگوں تسیں آپ سیانڑے ہو۔۔

پاکستان میں تھے تو اس کا کچھ علم نہ تھا کہ کیا بلا ہے اور کس چیز کے ساتھ لگا کے اسکو کھانا ہے۔ کرلو گل   ، بقول ہمارے شاہ جی  کے ، ہوسکتا ہے تب ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی نہ  ہو،    پر ادھر آکر علم ہوا کہ یہ تو صدیوں پرانا تہوار ہے،  بس ایک دوسرے سے محبت جتلانے کا تہوار، موسم بہار کا پہلا تہوار ہے جب پھول کھلے ہوتے ہیں تو پس دکان داری شروع ہوگئی۔  ویسے شاہ صاحب کی بات اس لحاظ سے صد فی صد درست ہے کہ تب پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی کوئی نہیں تھا۔

ادھر آکر بھی ہم نے اس کو بہت برس تک لفٹ نہیں کرائی۔ کہ سانوں کی، جیسے ہماری عید کا انکو کچھ نہیں ہوتا، ایسے ہی انکے  تہواروں کا ہمیں کیا،   بس دن کلنڈر پر چھٹی نظر آگئی اس دن ہم بھی خوش ہولئے کہ لو جی خان جی کل تو چھٹی ہے پکی، سرخ والی، ہیں جی، رج کے نیندراں پوریاں کرساں۔  ہیں جی۔  اور  ویلنٹائن ڈے کی تو کلینڈر کی بھی چھٹی نہیں  ہوتی  ۔ بس فیر سانوں  کی۔   ہیں جی۔

یہ لوگ گو ہمیں عید منانے سے روکتے نہیں بلکہ مبارک باد بھی دے دیتے ہیں لگے ہاتھوں کہ سنا ہے خان جی کل تمھارا تہوار ہے تو ہماری طرفوں مبارک باد قبولو ، ہیں جی۔  اسی  طرح ہم شکریہ ادا کرتے ہوئے انکے تہواروں  پر مبارک باد دینے میں چوکس رہتے۔ کہ  نیک تمناؤں کے تبادلہ سے محبت میں  اضافہ ہوتا ہے،  اگر نہیں بھی ہوتا تو امکان لازم ہے۔   اگر متکلم ثانی کوئی میم یا اطالوی خاتون ہو تو مبارک بادوں تو تقریباُ فرض کرلیا جاتا ہے کہ یہی موقع ہوتا ہے جب انکے ساتھ گال سے گال لگا کر چومی دی جاتی ہے ، ہیں جی، پھر تو مبارک بنتی ہے کہ نہیں۔  باوجود اسکے کے المولبیان الباکستان فرماتے ہیں کہ کافروں کو مبارک باد نہیں  دینی چاہئے مگر ہم کہتے ہیں کہ کافر کو ہی تو دینی بنتی  ہے مبارک باد، ہیں  جی۔

گزشتہ چند برسوں سے چونکہ  سیٹلائیٹ چیلز بھی دستیاب ہیں اور سوشل میڈیا بھی متحرک ہے اور  ہر  ایرا غیرا ادھر ماشٹرلگا ہوا ہے تو ویلٹائین ڈے کی خبر کوئی ہفتے بھر پہلے ہی ہوگئی جاتی ہے۔ اس برس بھی کوئی ایک ہفتہ قبل حیاداری  کے حق میں، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف ہال ہال کرکے  نوٹس اور اسٹیٹس آنے شروع ہوئے تو علم ہوگیا۔ جی  ویلنٹائن ڈے آگیا ہے اور المولبیان الباکستان  پوری طور پر  ڈیڈاروں کی طرح چھڑ چکے ہیں۔  اس ایک ہفتے میں ویلنٹائین کی ماں بہن ایک کی گئی، اسکو منانے والوں کے   کانوں کو بھی پگلا ہوا سیسہ ڈال کر بند کیا گیا۔   بقول اپنے حکیم علی صاحب کے  ہر طرف تھیا تھیا اور پھڑلو پھڑلو مچی ہوئی تھی۔

اٹالین اخبارات اور ٹی وی  پر معمول کی ہی خبریں تھیں،   وہی کرونکس ،   سیاست وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔۔۔ ہیں جی انکو دلچسپی ویلنٹائن ڈے سے ہوتو ۔ پر تہوار موجود ہے بیچ بیچ میں کسی پروگرام میں اسکا ذکر آجاتا، یا پھر دکاندار کے سودے کے اشتہار۔  دکان داری تو آپ کو علم ہے کہ جدھر چلتی ہو یار لوگ ادھر ہی دکان بڑھالے جاتے ہیں۔ ۔


کل صبح روٹین میں ہی اپنے کام کاج پر نکلے، دو ڈاکٹرز کولیگز سے ملاقات تھی۔  پھر دوپہر کو ایک اور دوست کے ساتھ لنچ تھا اسکے ساتھ ایک کیس ڈسکس کرنا تھا۔ ، پھر ایک مریضہ کو دیکھنا تھا، ادھر کوئی اڑھائی گھنٹے کی  میٹنگ رہی۔ مگر ویلنٹائن ڈے کا ذکر کہیں نہیں ہوا،  نہ ہی کسی نے مبارک باد دی، ہاں ہر چوک پر بنگالی سرخ گلاب بیچنے کو تلے ہوئے تھے اور انکی کوشش رہی کہ مجھے بھی پانچ یورو کے تین پھول تھمادئے جاویں، جو عام دنوں میں وہ دو یورو کے بیچتے ہیں، پر یہ تو دکانداری ہوگئی ، ہیں  جی اسکو چھڈو، کاٹھ مارو۔



آج  دن بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کا موقع ملا تو جیو والوں نے نسیم وکی کے ساتھ پورا پروگرام فٹ کیا ہوا تھا۔ اور اسکو دیکھ کر انکی چالیں  اور حرکات دیکھ کر اپنے  علامہ مرحوم کا  جواب شکوہ کا مصرع یاد آگیا
یہ وہ مسلماں ہیں جن کو دیکھ کے شرمائیں یہود


اپنے المولبیان الپاکستان سچے ہیں ،  ہمارے ملک میں نودولتئے  اور حرام کی کمائی سے یکا یک امیر بننے والے جو ہیں وہ  اب ویلنٹائن ڈے منارہے اور کھل کھلا کر منارہے، جس طریقہ سے  وہ منارہے اسکو اٹالین بھی دیکھ کر شرماجائیں۔  ہیں جی۔








مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 14, 2013

جشن آزادی 2013 مبارک



چونکہ اب رات کے ہمارے ادھر بارہ بج چکے ہیں تو کمپوٹر نے وی تاریخ بدلی کردی ہے، مطلب چودہ اگست ہوئی، سن سنتالی سے لیکر سنا ہے منارہے ہیں، مگر ہمیں بھی کوئی 30 برس باہوش ہوگئے تب سے کی تو پکی گواہی ہے، جلسے، جھنڈیاں، تقریریں، سب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے دیوانے ہیں، 

سربراہاں مملکت کی تقریریں، قوم سے خطابات پہلے بھی ہوتے رہے اور کل بھی ہوگا، شاید نواز شریف کرے گا۔  وہی بڑی بڑی باتیں ہونگی، بلند بانگ قسم کے دعوہ جات اور حال جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارے ساتھ کے حالات یا بدتر حالات والے ممالک میں چین اور انڈیا کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، ایران کو دیکھا جاسکتاہے، ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر 

مگر یہ کہ آپنا ایک قدم پیچھے کوئ ہی آرہا ہے، امریکہ نے کہا تھا کہ میں تھمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادوں گا، تو انہوں نے ذرداری بھٹو اینڈ کو ہمارے اوپر مسلط کرکے وہ کام کردیا، آج ملک میں نہ امن ہے نہ امان، نہ بجلی نہ پانی، سفر کی سہولیات، ہوائی ریلوئے اور جہاز رانی بیٹھ گئی ہے، اسٹیل مل سے لیکر چھوٹے ادارے تک خسارے میں ہیں گوڈے گوڈے


میں بندہ قنوطی نہیں ہوں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ نئی حکومت کل ہی یہ باندر کلے باندھ دے، مگر کچھ نہ کچھ کرتے تو نظ آئیں، بہت سے کام ہونے والے ہیں جو گزشتہ 18 برس میں انفراسٹرکچر کی ترقی رکی ہوئی ہے وہ بحال کرنا ہوگا، ادارے بنانے ہونگے۔ 

ابھی ہماری حکومت چاہے وہ مرکزی ہے  کہ خیبر پختون خواہ کی یا بلوچستان کی وہ اپنی گڈ ول شو کررہی ہیں، رہی بات سندھ میں تو وہاں وہ پرانی چوولیں ہی ہیں، جو برسوں سے اقتدار اور حکومتی پارٹیوں سے چمٹ کر اپنے وزراء بنوا کر انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں
نئی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ فوراُ عوامی فلاح اور ملکی بہبود کے کام کریں، فیصلے مشکل بھی لینے ہونگے، قوم پر بوجھ بھی ڈالنا ہوگا۔ قوم بوجھ اٹھائے گی بھی، مگر کچھ ہوتا ہوا تو دکھے، ایک قومی پالیسی سامنے آئے، اور ساری جماعتیں بلکہ آنے والی حکومتیں تک اسی پر چلیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ وللہ 

یاد رہے پی پی کو صرف ووٹ نہیں ملے اور اسکا بمعہ اے این پی اور ایم کیو ایم دھڑن تختہ ہوا ہے، اور اگر ان حکومتوں نے ڈیلور نہ کیا، کچھ کر نہ دکھایا تو عوام اب کو کھانے والی جگہ پر بھی ماریں گے اور تشریف پر بھی چھترول ہوسکتی ہے، کچھ سیاہ ست دان ٹنگے بھی جاسکتےہیں، تو مشتری ہوشیار باش، پھرنہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 

رہی بات ملک دشمنوں کی تو انکو معلوم ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کوئی کاغذ کی پتنگ نہیں ہے جو بو کاٹا ہوجاوے گی، چاے وہ آزادی کے دنوں کی ریشہ دوانیہ ہوں اور بیانات کہ یہ ملک تو ایک برس نہیں چل سکے گا یا اکتہر کی خباثت، کارگل کا پنگا اور مشرف کا ڈرامہ ہو یا نیو ورلڈآرڈر کی ریشہ دوانیہ مگر پاکستان ہے اور رہے گا۔ 

ایک طرف ہم نے سپریم کورٹ، فوج اور نادرہ جیسے ایکٹو اور کارکردگی والے ادارے بنا لئے ہیں تو دوسری طرف دفاع کی فل تیاری ہے۔  اب وقت ہے کہ سیاہ ست دان بھی سیکھ لیں پارلیمان بھی ایک ڈیلیور کرنے والا ادارہ بن جاوے تو فیر ستے ہی خیراں ہیں جی


سب کتا کھائی اور چوول خانے کے سب کو جشن آزادی مبارک، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ، اور امن و امان کی تمنا کے ساتھ

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 04, 2013

چاؤ! (اردو بلاگ نگاروں کی پہلی سمندر پار کانفرنس) بندے وصول پائے

داغ بیل
لاہور میں ہونے والی المشہور آل پاکستان اردو بلاگز کانفرنس کے فوٹو و اسٹریمنگ پورا دن   دیکھ دیکھ کر ہم شدید جیلسی کا شکار  ہوچکے تھے، مطلب دل سڑا ہوا تھا۔ پاکستان  جا نہ سکتے تھے،  جی جی وہی غم روزگار،  اور ادھر چپکے پڑے رہنا دشوار تھا۔ پس اپنی فسادی طبیعت کے زیر اثر یاسر خواہ مخواہ جاپانی جی سے رابطہ ہوا ، ویسے تو وہ عام بندے کا حال بیان کرتے ہیں مگر اس بار ہم نے انکو  اپنی روداد سنائی ،اور  کہ مرشد کچھ کرنا چاہئے ، مرشد بھی بھرے پڑے تھے،  کہنے لگے کہ خیال تو نیک ہے مگر کہاں، ؟؟ میں نے کہا کہ ادھر ہی آجاؤ ،  میرے پاس ، وینس میں۔
وینس مشہور ہے، اردو کے لئے تو نہیں مگر سیر سپاٹے و لچے پن کی وجہ سے، فل ٹورسٹ پوائنٹ ہے  اور سمندر کے کوئی 7 کلومیٹر اندر آباد شہر، عمارات قدیم و بندے جدید ،  رہائشی لوگوں سے سیاحوں کی تعداد کہیں زیادہ، اندازہ لگاؤ، کہ ایک رہائشی بندے کے حصے 700 سے زیادہ بستر آتے ہیں،   یار لوگ ادھر یا تو ہنی مون کے لئے  آتے ہیں یا  پھر رومانٹک  سیر سپاٹے کےلئے ، ہم  اردو کو اپنی محبوبہ  مان کر  کام چلا لیں گے،    مان گئے اور یوں بندہ نے اعلان کردیا کہ چلو اللہ کرے گا  کچھ بندے  اکٹھے ہو ہی جاویں گے،  علی حسان ، ٹالن  والے ، چشم و چراغ سانتا فامیلیا ملتانو، مطلب ملتان سے شاہ جی، اس طرف سے، رابطہ ہوا تو وہ ترنت تیار،   خاورکھوکھر جی سے بات ہوئی چڑھتے سورج کی سرزمین سے تو وہ بھی تیار، بلکہ انکی باتوں سے تو یہ بھی اندازہ تھا کہ سارے جلسہ کا خرچہ وہی اٹھائیں گے،  یاسر صاحب  کا بھی خیال تھا کہ  خاور کھوکھر امیر بندے ہیں، یہ کام وہی کریں تو اچھا،  ویسے خاور صاحب سے میری ازمہ قدیم کے دور کی سلام دعا ہے، تب ہم کوئی بیس کے قریب بلاگر ہوتے تھے،  ہیں  جی۔  جاوید گوندل صاحب  بے لاگ ، سے اسپین میں رابطہ ہوا فیس بک کے ذریعے مگر ، ٹیلی فون کرنے کی فرصت نہ مل سکی،  اسکائیپ پر وہ دستیاب نہ تھے۔

پاکستان سے مولوی محمد سعد  مذلہ عالیہ  بھی تیار تھے اگر ہم ، ٹکٹ پاسپورٹ  ویزہ وغیرہ کے اخراجات  اپنے ذمہ لیتے تو، مگر ایسا تکنیکی وجوہات کی بنا پر ممکن نہ تھا، ایک صاحب کا دبئی سے بھی دل للچایا  مگر انکی چھٹیاں ساتھ نہ دیتی تھیں،  جب اعلان ہوا کہ روٹی کپڑا اور مکان اپنے اپنے ذمہ ، ہم صرف ادھر کے انتظامی امور سر انجام دیں گےتو، پاکستان سے بہت سے ممکنہ شرکاء ، جو بس پاؤں بہ رکاب و نے بہ دست تھے، نے  اسے وجہ دل شکنی جانا اور  اور پھر ہمارے پروگرام کے صفحہ پر منہہ بھی نہ کیا۔  چلو جی  البتہ جرمنی سے عمیر ملک   صاحب نے کنفرمیشن دے دی، جی وہی پانچویں درویش والے  بزرگ۔

پروگرام 
پروگرام  اپریل  کے اختتامی ہفتہ کا طے پایا،  اسکی دو وجوہات تھیں،   بہار کا  موسم  اور اٹلی کا نظر آنا، سردیوں میں سب کچھ ڈھکا ہوا ہوتا ہے سردی کیوجہ  سے،  سب کچھ سے مراد زمین پہاڑ وغیرہ  ہیں، سبزہ ، پھول  وکلی  نایاب،  ہوں بھی تو بس ایویں  شہدے سے۔  دوسری وجہ  یہ تھی کہ ہمارے ادھر 25 اپریل کو یوم آزادی کی چھٹی تھی، جمعرات کی، جمعہ کو ایک چھٹی کرنے  پر  ویک اینڈ شامل کیا جاسکتا تھا،  رونق کے چانس زیادہ تھے،   ویسے بھی ادھر یورپ میں کام کے دن کام اور چھٹی کے دن ہی چھٹی ہوتی ہے، ہاں اگر کسی ماہ بیچ ہفتہ کے کوئی چھٹی آجاوے تو وارے نیارے۔

پروگرام کی ترتیب کچھ یوں طے کی تھی کہ اگر دس تک بندے ہوجاتےہیں تو پھر وینس یونیورسٹی کے شعبہ  لسانیات الشرقیہ  کے ہال میں ایک مرکزی سیشن ہوتا،  دوسرا پادوا یونیورسٹی کے  شعبہ لسانیات کے ساتھ اور تیسرا،  بریشیا  میں پاک اٹلی پریس کلب   کے ساتھ، مطلب پاکستانی کمونٹی کے ساتھ ایک ملاقات، مگر  بیل منڈے نہ چڑھی،  علی نے فروری میں ٹکٹ کی نقل فیس بک پر پیسٹ کردی۔   مگر شرکاء کی تعداد کو دیکھتے ہوئے دوسروں کو تکلیف دینا مناسب  نہ سمجھا اور اپنی گاڑی میں ہی جلسہ گاہ قائم کرلی،    خیال ہوا کہ شرکاء کی مہمانداری ، مطلب  روٹی کپڑا اور مکان  کا ذمہ اپنے سر ہی لیا جائے،   ہیں ہی کتنے جنے، بس کانفرنس کو ملاقات  یاراں میں تبدیل کردیا گیا اور اسکی فارمل حیثیت ختم شد۔

جلسہ نےچونکہ ایک ملاقات کی شکل اختیار کرلی تھی،پس  میں   پوری  ڈیموکریسی سے  میں سب سے پوچھتا گیا کہ اس کے بعد یہ کرلیں، ادھر کو چلیں اور سارے شرکاء یہ سر ہلاتے پاءے جاتے۔ 

شرکاء
یاسر خوامخواہ جاپانی    صاحب کے سرکاری  طور پر معذرت کرلینے   اور خاو ر کھوکھر صاحب کے سلیمانی ٹوپی پہننے کے بعد ملغ دو عدد شرکاء بچے جو باہر سے آرہے تھے،  علی احسان  ایسٹونیا سے اور   عمیر ملک  جرمنی سے، انکے شہر کا نام مجھے آج تک یاد نہیں ہوسکا ، بس یہ سمجھ لو کہ لیپزگ سے ایک گھنٹے کے سفر پر ہے بقول انکے، اب   ایک ہفتہ پہلے  مجھ پر انکشاف ہوا کہ  پھنس گئے،   علی  احسان  ادھر بیرگامو ائیر پورٹ پر  23  تاریخ کو آرہے مطلب  منگل کو 2 بجے  اور  انکی اتوار 28 کی واپسی وہیں سے ہے،  اور عمیر ملک  وینس مارکوپولو  پر آرہے 24 تاریخ کو صبح  نو بجے اور واپسی سوموار 29 کو وہیں سے کررہے ہیں۔  مطلب ایک مجھ سے 230 کلو میٹر شمال میں اور دوسرے 70 کلو  جنوب میں ،    علی کو تو  میں نے  سوکھے منہہ کہہ دیا تھا کہ تم خود ہی آجانا،  یا کسی کو بھیج دوں گا   جو اردو بلاگز کا بورڈ پکڑے کھڑا ہوگا اور بعد میں تمہیں ٹرین پر بٹھا دے گا، بندہ راضی ہوگیا۔   اور عمیر کو نزدیک سے پک کرلوں گا ۔مگر  ایسا نہیں ہوا۔   دل نہیں مانا   ، کہ بندہ اتنی دور سے آئے اور وہ بھی پہلی بار ، اور اسے ائیر پورٹ  لینے بھی نہ  جاؤں،  صبح ہی گاڑی لے کر پولا پولا نکل لیا اور عین وقت مقررہ پر آمد کے گیٹ کے سامنے  موجود تھا،  رائن ائیر    ہے تو شہدی ائر لائن کہ دوران پرواز کھانے پینے کے بھی پیسے وصولتی ہے، پی آی اے کی طرز پر شاہی چوول، مگر اکثر پی آئی اے کے برعکس  اپنے مقررہ وقت سے 10 منٹ پہلے ہی پہنچتی ہے ، پس اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وللہ  سامنے کھڑا ہوگیا گیٹ کے، بھانت بھانت کے لوگ نکل  رہے تھے ،  اور میں سوچ رہا تھا کہ  علی کو دیکھا بھی  نہیں ، نہ اس نے مجھے، نہ میرے ہاتھ میں بلاگرز کا کارڈ ہے، ایک دوجے کو کیسے پہچانیں گے۔   پھر ایک بندہ نکلا باہر  ، دیکھتے ہی بے اختیار ہاتھ ہل پڑا اور وہ حضرت بھی بغیر جھجکے  ادھر کو آلپکے، یہ گلے ملے گویا کوئی دو جنموں کے بچھڑ ہوئے اور بس پھر  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک بولتا ہی رہا، ہمارے پاس بہت کچھ تھا  کہنے سننے کو، جس پر بات ہوتی رہی، بلا وقفہ،  بریشیا سے ان کو ایک ڈونر کباب کھلایا گیا کہ 3 بجے اور کیا ملتا،  اور پادووا کو روانہ ہوءے، وہی پولے پولے، موٹر وے پر نہیں بلکہ لوکل روڈ پر کہ چلوں کچھ منظر نظارہ  ہوجاوے۔  ہیں جی۔

دوسرے دن  ہم صبح ہی ایک گھنٹہ  لے کر  دونوں ایک ساتھ ایئر پورٹ  وینس مارکو پولو کو پہنچے،  10 منٹ لیٹ تھے، عمیر کا ایس ایم ایس  آچکا تھا اور اسے لیٹ ہونے کی اطلاع باہم کرچکے تھے،  ائیر پورٹ  کے اندر پہنچ کر میں ادھر آمد کی طرف کو تیز قدموں سے جارہا تھا کہ اہو ہو ، لیٹ ہوگئے ،  ادھر علی نے کہا وہ ایک بندہ عینک والا بیٹھا ہوا ہے، میں عمیر کی فیس بک پر عینک والی فوٹو ہی دیکھی تھی اور مجھے عینک ہی یاد تھی،  ہم ادھر کو لپکے تو وہ بندہ بھی تاک میں تھا کہ ہماری طرف کولپکا،  یہ بھی جس تپاک سے ملا، لگا کوئ اپنا ہی بچھڑا ہوا پیس ہے ۔

پادووا واپس آکر عمیر کو ناشتہ کے بعد سونے کا موقع دیا گیا اور میں اور علی ( اب چونکہ ہم ایک دوسرے کےساتھ فری ہوگئے ہیں لہذا شارٹ نام ہی چلیں گے) مطلب میں، عمیر اور علی، چلو جی،  باہر چہل قدمی، ڈرائیو کو نکل لئے۔اصل میں میرا ایک کام تھا۔ جو ائیر پورٹ سے واپسی پر رستہ میں کرنا تھا، بھول گیا، پھر 30کلو کا فاصلہ طے کرکے گیا، تو اگلا بندہ نکل چکا تھا، اور میں پرس ایک بار پر کافی پنیے کے بعد چھوڑ آیا، بیچ میں ڈرائیونگ لائسنس اور بنک کارڈ بھی تھے، پھر بھاگا بھاگا واپس گیا تو مل گیا مطلب 120 کلو کا پینڈ خوامخواہ میں اور علی بچارہ میرے ساتھ ایویں ہی کھجل ہوگیا۔ 

شرکاء کی کوالٹیفیکشن
  دونوں حضرات تالابان علم ہیں ،  اور نہایت برخوردار طبیعت کے واقع ہوئے ہیں،  ذاتی طور پر ان سے ملک کر مجھے ایسے لگا کہ بہت اچھے مسلمان ہیں،  علم  حاصل کرنا ہر مسلمان  مرد  اور عور ت پر فرض ہے کو دل جمی سے نبا   رہے ہیں،   بس عورت کا اس پورے پروگرام میں دور دور تک نام و نشان نہ تھا،   جس کو ہم اچھا مسلمان قرار دیتے  یا کردیتے۔  اول الزکر  ایسٹونیا میں واحد پاکستانی  طالبعلم ہیں اور سب سے زیادہ تعلیم یافتہ  پاکستانی بھی،  میرے خیال میں کیونکہ ادھر ہیں ہی کل تین جنے۔  مارکیٹنگ میں  پی ایچ ڈی کررہے ہیں،  دعا ہے کہ اللہ انکی شاگردی سے پاکستانیوں کو بچائے ۔ ثانی الزکر ادھر جرمنی میں بڑی برخورداری سے  موبائیل سافٹ انجینرنگ کررہے ہیں  ،  بس امید ہے جلد ہی کسی ملٹی نیشنل  کمپنی کے ہتھے چڑھ جاویں گے،  جو پاکستان کے حالات ہیں لگتا نہیں کہ انکا ادھر ٹکنا ممکن ہو، ہا ں اگر سیاہ ست یا اس طرح کا کچھ اور شغل اختیار کرلیں تو۔   میرے بارے میں دیگر جضرات سے معلوم کرلیجئے ،   اب بندہ اپنے بارے کیا لکھے، اچھا لکھے تو اپنی منہہ میاں مٹھو،  اور برا لکھنا اور اپنے کیڑے نکالنا  وہ بھی اپنے بارے ، یہ تو ممکن ہی نہیں، سو کریں  پاکستانی ہیں۔ یا یا

جاری ہے Inizio modulo



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش