منگل, جون 02, 2015

مائیکروسافٹ ونڈوز 10کا مفت میں حصول

آج یہاں پر اٹلی میں قومی چھٹی ہے " یوم جمہوریہ" مگر صبح روزمرہ کے وقت پر آنکھ کھل گئی، کوشش کی "پاسے مارنے کی"  ،  کمبل منہ پر لیا، مگر ہم تھے کہ "نندیا پور" سے کوسوں دور پائے گئے۔ 
روٹین بن جانے کی یہ بڑی مصیبت ہے، چونکہ گھر میں ٹی وی نہیں رکھا ہوا اس وجہ سے کمپوٹر کو "اشٹارٹ" کرلیا۔ 

یہ "آئکون " صاحب بہادر نظر آرہے تھے،

  ادھر کلک کرنے پر علم حاصل ہوا کہ  اس پرانی ونڈوز 7 کو نئی ونڈوز 10 سے مفتےمیں اپگریڈکرنے کی دعوت ہے،

 شاید مائکروسافٹ والے بندہ کو بہت قدیم  "ونڈوز یوزر" قرار دے چکے تھے۔ اور انکو یہ بھی علم تھا کہ یہ بابا نئی ونڈوز کے چکر میں کمپوٹر بدلی نہیں کرتا، جب تک کہ کمپوٹر اپنے ہاتھ کھڑے نہ کردے۔ 
اپنا کیا ہے اپنے ہاں تو ابھی تک وہ پرانا 258 ایم بھی ریم والا کمپوٹر بھی پڑا ہوا ہے۔ بھلے اب استعمال نہیں ہورہا مگر کام تو کررہا ہے۔ 
تو جناب ونڈوز کے اسے نئے آئیکون پر کلک کرنے سے ایک اور نیلی ونڈوز کھلی جس نے میری ای میل طلب کی اور اس طرح اپنی ونڈوز 10 کی نئی کاپی بک ہوگئی ہے۔ 
اس کے بعد یہ آئیکون موجود ہے اور اب اسکو کلک کرنے سے یہ ونڈوکھل کر ہمیں صبر دے رہی ہے

مائیکروسافٹ کا وعدہ ہے کہ وہ ونڈوز 10 کو نہ صرف مفت میں اپگریڈ کرے گا بلکہ یہ اسکی مکمل کاپی ہوگی۔ ٹرائل ورژن نہیں ہوگا اور اسے مکمل اسپورٹ حاصل ہوگی۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں ونڈوز 7 بھی نہیں اور آپ ونڈوز vista استعمال کررہےہیں، تو آپ صبر کریں اس وقت کا جب تک مائیکروسافٹ والوں کو آپ کی یاد نہیں آجاتی۔  اگر آپ کی ونڈوز 7 ہی ہے اور آپ کو یہ آئکون موصول نہیں ہوا تو عین ممکن ہے کہ آپ کی وندوز کی کاپی رجسٹرڈ ہی  نہ ہو یا پھر چوری کی ہو۔ یہ تو آپ کو بہتر علم ہوگا۔ بصورت دیکھر اپنی ونڈوز کے کنٹرول پینل مین اپڈیٹس چیک لیں۔ 

مذید معلومات کےلئے آپ براہ راست یہاں کلک  کریں اور مائیکروسافٹ سے راہنمائی حاصل کرلیں۔ 


مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 28, 2013

میلانو اور چور بڑھیا





میلان اٹلی کا شمالی بڑا شہر اور اسکا معاشی ہب،
 میلان  کی سٹاک  مارکیٹ  کے اتار چڑھاؤ  کا اثر پورے یورپ کی منڈیوں پر ہوتا ہے ۔  میلانو جہاں فیشن اور مارک کا چلن ہے، کہا جاتا ہے کہ یورپ کا سارا فیشن ادھر سے ہی نکلتا ہے، ڈوم سے لیکرگلیریا ویٹوریو ایمانوئیولے اور اس کے ارد کا علاقہ فیشن اور مہنگی شاپنگ کا گڑھ ہے، یہاں پر آپ کو صرف فلمی اسٹارز ہی نہیں بلکہ وزرائے مملکت بھی بھاؤ تاؤ کرتے اور شاپنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جارجو ارمانی، حوگو، اور اس طرح کے بہت سے نام پنے بڑی بڑی دکانوں اور ایمپوریمز کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور قیمتیں اتنی کہ بڑے بڑوں کا پتا پانی ہوجاوے، کسی نے یہاں حناربانی کھر اور سید یوسف رضاگیلانی کو اور بندے نہیں نے ادھر عارف لوہار کو ونڈو شاپنگ کرتے پایا، ہمارے دوست شاہ جی کے بقول مولانا طاہر القادری جب ہمی جمی میں اٹلی آتے تھے تو میلان شاپنگ کےلئے 
ضرور جاتے اور بات ہے کہ ادائیگی انکے مریدین ہی کرتے ، ہیں جی مطلب مال مفت میلان میں بھی ۔


ڈوم سے کوئی اڑھاءی کلومیٹر کے فاصلے پر ویا آرکیمیدے ہے، وہاں پام سپر مارکیٹ میں اینجلا نامی 76 برس کی معمر خاتون داخل ہوئِ، اندر جاکر اس نے اپنا چشمہ نکالا اور لگا کر گوشٹ کی قیمت بہت محتاط انداز میں دیکھنے لگی، گویا اسکی روز کی پراکسی  تھی،  کافی دیر گوشت کا وہ ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے وہ سوچتی رہی  اور پھر واپس ریک پر رکھ دیا ، یہ گوشت کا سب سے کم قیمت پیس تھا، پھر خاتون   آپنی  شاپنگ کارٹ  جس میں کاریئے  کی بریڈ کا ایک پیکٹ اور ٹیونا  فش  کا  170 گرام ایک ٹن  پیک تھا  کو  دھکیلتے  ہوئے  آگے  بڑھ کر چیز فورماجو گرانا پادانا کے ریک پر رکی اور اسکا سب سے کم  قیمت  ٹکڑا اٹھایا اور غور سے اسکی قیمت دیکھنے لگی  اور پھر اس پر ہاتھ ہولے ہولے پھیرنے لگی، شاید اسکے ذائقہ  کومحسوس کررہی تھی،  پھر وہ  بھی واپس  رکھ دیا ۔  واپس  پے منٹ کاؤنٹر کی طرف مڑنے ہی والی تھی تو اچانک اسکی نظر ٹک ٹاک کی میٹھی اور خوش ذائقہ  گولیوں  کی ڈبی  پڑی  ،   یہ ڈبی جسکی قیمت  75 سینٹ تھی  ادھر کسی نے ایسے ہی رکھ دی تھی ۔

خاتون کے چہر ے  پر ایک مسکراہٹ سی چھا گئی  ، شاید اسکا ذائقہ اور مٹھاس  یاد آگئی اور جانے کیسے  اسکا ہاتھ بڑھا اور وہ ڈبی اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لی۔

 
     یہ سین مارکیٹ  کا مینجر  اپنے دفتر میں بیٹھا دیکھ  رہا تھا اس  کا ہاتھ  فورا ُ   انٹرکام کی طرف بڑھا  اور سکیوریٹی  آفیسر   کو اس سین  سے مطلع کیا۔

اور جب خاتون اپنا سامان آپنی کارٹ  سے پے منٹ کاؤئنٹر  پر رکھ چکیں تو  سیکیوریٹی آفیسر نے خاتون کو اپنا  بیگ چیک کروانے کو کہا، اب  خاتون کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس  نے اپنا بیگ کھول دیا ، سیکیوریٹی آفیسر نے ٹک ٹاک کی ڈبی  نکال کر خاتون کو اپنے ساتھ  دفتر میں  چلنے کو کہا، خاتون  کانپتے ہوءے قدموں سے اسکے پیھے ہولی ۔

مینجر  نے نہایت غصہ سے خاتون  سے پوچھا کہ آپ نے چوری کیوں کی، تو خاتون کو صورتحال  کی سنجیدگی کا احساس ہوا ، اسکی انکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ڈبڈباتی ہوئی آواز میں معذرت خواہانہ لہجے  میں  بولی :   میں کوئی عادی چور نہیں ہوں ،   میں اسکے پیسے بھی دینے کو تیار ہوں۔

مگر مینجر نہ مانا اور اس نے پراکسی کے طور پر پولیس کو فون کردیا

17.45 منٹ
پولیس کے دو کارپورل  آرتورو اورفرانچیسکو،  ٹھیک  3 منٹ کے بعد مارکیٹ کے اندر داخلہ ہوئے اور سیدھے مینجر   کے دفتر کو پہنچے  تب خاتون کے ماتھے پر پسینہ آچکا تھا،  کارپورل انتونیو نے مینجر کا بیان سنا اور پھر خاتون کی طرف دیکھا، تو خاتون نے باقاعدہ رونا شروع کردیا،  تھوڑا دلاسہ تسلی  کے بعد وہ خاتون کچھ یوں گویا ہوئیں، میں کوئی عادی چور نہیں ہوں، میں ایک مجبور پنشنر ہوں، میں نے اپنی ساری جوانی  کام، محنت مزدوری کی اور اپنا مکان بنایا، اپنے بچوں کی تعلیم و پرورش  کی ، اب وہ بڑے ہوگئے ہیں تو اپنے اپنے گھروں کو ہولئے ، انہوں  نے کبھی میری خبر نہیں لی،   اب  میری پنشن اتنی ہی ہے  کہ ایک ہفتہ اس سے چلتا ہے اور باقی ماہ صرف ٹیونا اور کارئے بریڈ  سے کام چلتا ہے وہ بھی دن میں ایک بار۔ گوشت، پنیر اور سلاد کا ذائقہ صرف پنشن کے پہلے دن ہی افورڈ کرسکتی ہوں۔ آج جب یہ ڈبی میرے سامنے آئی تو مجھے یاد آگیا کہ اسے چکھے ہوئے 16 برس ہوگئے ہیں، میں اب اس عیاشی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی،  جہاں یہ چیزیں ہوتی ہیں  وہاں میں کبھی گئی  ہی نہیں  مگر آج نہ جانے کس نے یہ ڈبی  ادھر رکھ  دی اور نہ جانتے  ہوئے میں نے یہ ڈبئی  اپنے بیگ میں منتقل کرلی۔میں اپنی پینشن میں جو معمولی سی ہے اپنا گزارہ کرتی آئی ہوں مگر آج جانے کیسے یہ ہاتھ چوک گیا، یا آنکھ چوک گئی۔ 

کارپورل آرتورو نے  پوچھا کہ آپ کی پنشن  کتنی ہے تو جواب ملا 350 یورو،  اور اس  کوصورت حال کی سمجھ آگئی  ، کہ جب میں  1780 یورو میں گزارہ  تنگی سے ہوتا ہے تو اس بچاری کااس معمولی رقم میں  کیسے ہوگا۔ فرانچیسکو نے  مینجر کو کہا کہ خاتون کو  قانونی  طور پر وارننگ دے کر چھوڑا جاتا ہے اور یہ کہ اسکا جو باقی کا سامان  ہے اس کے پیسے میں دیتا ہوں ، اسکو اپنی دادی  یاد آگئی تھی  جو اب اس دنیا میں نہیں تھی،  مگر اپنی پنشن  سے بھی  اسکو ٹک ٹاک کےلئے پیسے دیا کرتی تھی۔ تب تک ارد گرد بہت سے بندے اکٹھے ہوچکے تھے اور وہ مینجر کو لعن طعن کررہے تھے، ایک بندے نے معمر خاتون کےلئے کچھ اور کھانے کا سامان بھی لے لیا تھا۔ 

Arturo Scungio e Francesco Console
اور پھر ان دونوں پولیس والوں نے خاتون کو اپنی گاڑی میں اسکے گھر  پر چھوڑا اور نکل گئے۔
اس محلے کے لوگ ان دنوں اس واقعہ کا چرچہ کررہے ہیں جو بہت معمولی سا ہے مگر ایک بڑے معاشری تغیر کی نشاندہی کررہا ہے، ایک بڑے خلاء کی نشاندہی جو آئیس برگ کی طرح اوپر سے جتنا معمولی ہے نیچے اتنا ہی  بڑا ہے۔ مگر مینجر کو فل گالیاں مل رہی ہیں اور پولیس والوں کو شاباش دی جارہی ہے۔ 

یہ خبر میلانو  کے مقامی اخبار میں چھپی اور  مجھ  تک بعذریہ فیس بک پہنچی، ادھر بہت سے بندوں نے کمنٹس کیئے ہوئے تھے، کوئی سپر مارکیٹ کے مینجر کو گالیا ں دے رہا تھا تو کوئی اس پام چینل کی سپرمارکیٹس  کا بائی کاٹ کرنے کو کہہ رہا تھا، کوئی پولیس والوں کوشاباش دے رہا تھا،  کوئی حکومت کو کوس رہا تھا۔ کوئی مقامی حکومتوں  کے لتے لے رہا تھا۔
مگر کسی نے بھی نہیں کہا کہ ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والےبزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کا خیال رکھنا چاہئے ۔  
اس بارے آپ کا کیا کہنا ہے کس کو قصور وار ٹھہرایا جاوے؟؟ کون قصور وار ہے اس واقعہ کا ؟؟؟   

Milano, Via Arcimide, ladra Vecchia,  

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 04, 2013

چاؤ! (اردو بلاگ نگاروں کی پہلی سمندر پار کانفرنس) بندے وصول پائے

داغ بیل
لاہور میں ہونے والی المشہور آل پاکستان اردو بلاگز کانفرنس کے فوٹو و اسٹریمنگ پورا دن   دیکھ دیکھ کر ہم شدید جیلسی کا شکار  ہوچکے تھے، مطلب دل سڑا ہوا تھا۔ پاکستان  جا نہ سکتے تھے،  جی جی وہی غم روزگار،  اور ادھر چپکے پڑے رہنا دشوار تھا۔ پس اپنی فسادی طبیعت کے زیر اثر یاسر خواہ مخواہ جاپانی جی سے رابطہ ہوا ، ویسے تو وہ عام بندے کا حال بیان کرتے ہیں مگر اس بار ہم نے انکو  اپنی روداد سنائی ،اور  کہ مرشد کچھ کرنا چاہئے ، مرشد بھی بھرے پڑے تھے،  کہنے لگے کہ خیال تو نیک ہے مگر کہاں، ؟؟ میں نے کہا کہ ادھر ہی آجاؤ ،  میرے پاس ، وینس میں۔
وینس مشہور ہے، اردو کے لئے تو نہیں مگر سیر سپاٹے و لچے پن کی وجہ سے، فل ٹورسٹ پوائنٹ ہے  اور سمندر کے کوئی 7 کلومیٹر اندر آباد شہر، عمارات قدیم و بندے جدید ،  رہائشی لوگوں سے سیاحوں کی تعداد کہیں زیادہ، اندازہ لگاؤ، کہ ایک رہائشی بندے کے حصے 700 سے زیادہ بستر آتے ہیں،   یار لوگ ادھر یا تو ہنی مون کے لئے  آتے ہیں یا  پھر رومانٹک  سیر سپاٹے کےلئے ، ہم  اردو کو اپنی محبوبہ  مان کر  کام چلا لیں گے،    مان گئے اور یوں بندہ نے اعلان کردیا کہ چلو اللہ کرے گا  کچھ بندے  اکٹھے ہو ہی جاویں گے،  علی حسان ، ٹالن  والے ، چشم و چراغ سانتا فامیلیا ملتانو، مطلب ملتان سے شاہ جی، اس طرف سے، رابطہ ہوا تو وہ ترنت تیار،   خاورکھوکھر جی سے بات ہوئی چڑھتے سورج کی سرزمین سے تو وہ بھی تیار، بلکہ انکی باتوں سے تو یہ بھی اندازہ تھا کہ سارے جلسہ کا خرچہ وہی اٹھائیں گے،  یاسر صاحب  کا بھی خیال تھا کہ  خاور کھوکھر امیر بندے ہیں، یہ کام وہی کریں تو اچھا،  ویسے خاور صاحب سے میری ازمہ قدیم کے دور کی سلام دعا ہے، تب ہم کوئی بیس کے قریب بلاگر ہوتے تھے،  ہیں  جی۔  جاوید گوندل صاحب  بے لاگ ، سے اسپین میں رابطہ ہوا فیس بک کے ذریعے مگر ، ٹیلی فون کرنے کی فرصت نہ مل سکی،  اسکائیپ پر وہ دستیاب نہ تھے۔

پاکستان سے مولوی محمد سعد  مذلہ عالیہ  بھی تیار تھے اگر ہم ، ٹکٹ پاسپورٹ  ویزہ وغیرہ کے اخراجات  اپنے ذمہ لیتے تو، مگر ایسا تکنیکی وجوہات کی بنا پر ممکن نہ تھا، ایک صاحب کا دبئی سے بھی دل للچایا  مگر انکی چھٹیاں ساتھ نہ دیتی تھیں،  جب اعلان ہوا کہ روٹی کپڑا اور مکان اپنے اپنے ذمہ ، ہم صرف ادھر کے انتظامی امور سر انجام دیں گےتو، پاکستان سے بہت سے ممکنہ شرکاء ، جو بس پاؤں بہ رکاب و نے بہ دست تھے، نے  اسے وجہ دل شکنی جانا اور  اور پھر ہمارے پروگرام کے صفحہ پر منہہ بھی نہ کیا۔  چلو جی  البتہ جرمنی سے عمیر ملک   صاحب نے کنفرمیشن دے دی، جی وہی پانچویں درویش والے  بزرگ۔

پروگرام 
پروگرام  اپریل  کے اختتامی ہفتہ کا طے پایا،  اسکی دو وجوہات تھیں،   بہار کا  موسم  اور اٹلی کا نظر آنا، سردیوں میں سب کچھ ڈھکا ہوا ہوتا ہے سردی کیوجہ  سے،  سب کچھ سے مراد زمین پہاڑ وغیرہ  ہیں، سبزہ ، پھول  وکلی  نایاب،  ہوں بھی تو بس ایویں  شہدے سے۔  دوسری وجہ  یہ تھی کہ ہمارے ادھر 25 اپریل کو یوم آزادی کی چھٹی تھی، جمعرات کی، جمعہ کو ایک چھٹی کرنے  پر  ویک اینڈ شامل کیا جاسکتا تھا،  رونق کے چانس زیادہ تھے،   ویسے بھی ادھر یورپ میں کام کے دن کام اور چھٹی کے دن ہی چھٹی ہوتی ہے، ہاں اگر کسی ماہ بیچ ہفتہ کے کوئی چھٹی آجاوے تو وارے نیارے۔

پروگرام کی ترتیب کچھ یوں طے کی تھی کہ اگر دس تک بندے ہوجاتےہیں تو پھر وینس یونیورسٹی کے شعبہ  لسانیات الشرقیہ  کے ہال میں ایک مرکزی سیشن ہوتا،  دوسرا پادوا یونیورسٹی کے  شعبہ لسانیات کے ساتھ اور تیسرا،  بریشیا  میں پاک اٹلی پریس کلب   کے ساتھ، مطلب پاکستانی کمونٹی کے ساتھ ایک ملاقات، مگر  بیل منڈے نہ چڑھی،  علی نے فروری میں ٹکٹ کی نقل فیس بک پر پیسٹ کردی۔   مگر شرکاء کی تعداد کو دیکھتے ہوئے دوسروں کو تکلیف دینا مناسب  نہ سمجھا اور اپنی گاڑی میں ہی جلسہ گاہ قائم کرلی،    خیال ہوا کہ شرکاء کی مہمانداری ، مطلب  روٹی کپڑا اور مکان  کا ذمہ اپنے سر ہی لیا جائے،   ہیں ہی کتنے جنے، بس کانفرنس کو ملاقات  یاراں میں تبدیل کردیا گیا اور اسکی فارمل حیثیت ختم شد۔

جلسہ نےچونکہ ایک ملاقات کی شکل اختیار کرلی تھی،پس  میں   پوری  ڈیموکریسی سے  میں سب سے پوچھتا گیا کہ اس کے بعد یہ کرلیں، ادھر کو چلیں اور سارے شرکاء یہ سر ہلاتے پاءے جاتے۔ 

شرکاء
یاسر خوامخواہ جاپانی    صاحب کے سرکاری  طور پر معذرت کرلینے   اور خاو ر کھوکھر صاحب کے سلیمانی ٹوپی پہننے کے بعد ملغ دو عدد شرکاء بچے جو باہر سے آرہے تھے،  علی احسان  ایسٹونیا سے اور   عمیر ملک  جرمنی سے، انکے شہر کا نام مجھے آج تک یاد نہیں ہوسکا ، بس یہ سمجھ لو کہ لیپزگ سے ایک گھنٹے کے سفر پر ہے بقول انکے، اب   ایک ہفتہ پہلے  مجھ پر انکشاف ہوا کہ  پھنس گئے،   علی  احسان  ادھر بیرگامو ائیر پورٹ پر  23  تاریخ کو آرہے مطلب  منگل کو 2 بجے  اور  انکی اتوار 28 کی واپسی وہیں سے ہے،  اور عمیر ملک  وینس مارکوپولو  پر آرہے 24 تاریخ کو صبح  نو بجے اور واپسی سوموار 29 کو وہیں سے کررہے ہیں۔  مطلب ایک مجھ سے 230 کلو میٹر شمال میں اور دوسرے 70 کلو  جنوب میں ،    علی کو تو  میں نے  سوکھے منہہ کہہ دیا تھا کہ تم خود ہی آجانا،  یا کسی کو بھیج دوں گا   جو اردو بلاگز کا بورڈ پکڑے کھڑا ہوگا اور بعد میں تمہیں ٹرین پر بٹھا دے گا، بندہ راضی ہوگیا۔   اور عمیر کو نزدیک سے پک کرلوں گا ۔مگر  ایسا نہیں ہوا۔   دل نہیں مانا   ، کہ بندہ اتنی دور سے آئے اور وہ بھی پہلی بار ، اور اسے ائیر پورٹ  لینے بھی نہ  جاؤں،  صبح ہی گاڑی لے کر پولا پولا نکل لیا اور عین وقت مقررہ پر آمد کے گیٹ کے سامنے  موجود تھا،  رائن ائیر    ہے تو شہدی ائر لائن کہ دوران پرواز کھانے پینے کے بھی پیسے وصولتی ہے، پی آی اے کی طرز پر شاہی چوول، مگر اکثر پی آئی اے کے برعکس  اپنے مقررہ وقت سے 10 منٹ پہلے ہی پہنچتی ہے ، پس اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ وللہ  سامنے کھڑا ہوگیا گیٹ کے، بھانت بھانت کے لوگ نکل  رہے تھے ،  اور میں سوچ رہا تھا کہ  علی کو دیکھا بھی  نہیں ، نہ اس نے مجھے، نہ میرے ہاتھ میں بلاگرز کا کارڈ ہے، ایک دوجے کو کیسے پہچانیں گے۔   پھر ایک بندہ نکلا باہر  ، دیکھتے ہی بے اختیار ہاتھ ہل پڑا اور وہ حضرت بھی بغیر جھجکے  ادھر کو آلپکے، یہ گلے ملے گویا کوئی دو جنموں کے بچھڑ ہوئے اور بس پھر  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک بولتا ہی رہا، ہمارے پاس بہت کچھ تھا  کہنے سننے کو، جس پر بات ہوتی رہی، بلا وقفہ،  بریشیا سے ان کو ایک ڈونر کباب کھلایا گیا کہ 3 بجے اور کیا ملتا،  اور پادووا کو روانہ ہوءے، وہی پولے پولے، موٹر وے پر نہیں بلکہ لوکل روڈ پر کہ چلوں کچھ منظر نظارہ  ہوجاوے۔  ہیں جی۔

دوسرے دن  ہم صبح ہی ایک گھنٹہ  لے کر  دونوں ایک ساتھ ایئر پورٹ  وینس مارکو پولو کو پہنچے،  10 منٹ لیٹ تھے، عمیر کا ایس ایم ایس  آچکا تھا اور اسے لیٹ ہونے کی اطلاع باہم کرچکے تھے،  ائیر پورٹ  کے اندر پہنچ کر میں ادھر آمد کی طرف کو تیز قدموں سے جارہا تھا کہ اہو ہو ، لیٹ ہوگئے ،  ادھر علی نے کہا وہ ایک بندہ عینک والا بیٹھا ہوا ہے، میں عمیر کی فیس بک پر عینک والی فوٹو ہی دیکھی تھی اور مجھے عینک ہی یاد تھی،  ہم ادھر کو لپکے تو وہ بندہ بھی تاک میں تھا کہ ہماری طرف کولپکا،  یہ بھی جس تپاک سے ملا، لگا کوئ اپنا ہی بچھڑا ہوا پیس ہے ۔

پادووا واپس آکر عمیر کو ناشتہ کے بعد سونے کا موقع دیا گیا اور میں اور علی ( اب چونکہ ہم ایک دوسرے کےساتھ فری ہوگئے ہیں لہذا شارٹ نام ہی چلیں گے) مطلب میں، عمیر اور علی، چلو جی،  باہر چہل قدمی، ڈرائیو کو نکل لئے۔اصل میں میرا ایک کام تھا۔ جو ائیر پورٹ سے واپسی پر رستہ میں کرنا تھا، بھول گیا، پھر 30کلو کا فاصلہ طے کرکے گیا، تو اگلا بندہ نکل چکا تھا، اور میں پرس ایک بار پر کافی پنیے کے بعد چھوڑ آیا، بیچ میں ڈرائیونگ لائسنس اور بنک کارڈ بھی تھے، پھر بھاگا بھاگا واپس گیا تو مل گیا مطلب 120 کلو کا پینڈ خوامخواہ میں اور علی بچارہ میرے ساتھ ایویں ہی کھجل ہوگیا۔ 

شرکاء کی کوالٹیفیکشن
  دونوں حضرات تالابان علم ہیں ،  اور نہایت برخوردار طبیعت کے واقع ہوئے ہیں،  ذاتی طور پر ان سے ملک کر مجھے ایسے لگا کہ بہت اچھے مسلمان ہیں،  علم  حاصل کرنا ہر مسلمان  مرد  اور عور ت پر فرض ہے کو دل جمی سے نبا   رہے ہیں،   بس عورت کا اس پورے پروگرام میں دور دور تک نام و نشان نہ تھا،   جس کو ہم اچھا مسلمان قرار دیتے  یا کردیتے۔  اول الزکر  ایسٹونیا میں واحد پاکستانی  طالبعلم ہیں اور سب سے زیادہ تعلیم یافتہ  پاکستانی بھی،  میرے خیال میں کیونکہ ادھر ہیں ہی کل تین جنے۔  مارکیٹنگ میں  پی ایچ ڈی کررہے ہیں،  دعا ہے کہ اللہ انکی شاگردی سے پاکستانیوں کو بچائے ۔ ثانی الزکر ادھر جرمنی میں بڑی برخورداری سے  موبائیل سافٹ انجینرنگ کررہے ہیں  ،  بس امید ہے جلد ہی کسی ملٹی نیشنل  کمپنی کے ہتھے چڑھ جاویں گے،  جو پاکستان کے حالات ہیں لگتا نہیں کہ انکا ادھر ٹکنا ممکن ہو، ہا ں اگر سیاہ ست یا اس طرح کا کچھ اور شغل اختیار کرلیں تو۔   میرے بارے میں دیگر جضرات سے معلوم کرلیجئے ،   اب بندہ اپنے بارے کیا لکھے، اچھا لکھے تو اپنی منہہ میاں مٹھو،  اور برا لکھنا اور اپنے کیڑے نکالنا  وہ بھی اپنے بارے ، یہ تو ممکن ہی نہیں، سو کریں  پاکستانی ہیں۔ یا یا

جاری ہے Inizio modulo



مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 20, 2013

اٹلی اور یورپ میں رہنے والے ہوشیار

مشتری ہوشیار باش، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

آپ نے فوریکس کا نام سنا ہوا ہے، تیل اور سونے مطلب گولڈ مارکیٹ میں بڑا نام ہے، کرنسی کی مارکیٹ میں بھی اس کمپنی کا اچھا حصہ ہے۔ Xforex اور euro4x کی طرح کی یا ان سے ملنے جلتے ناموں کی سائیٹس و فیس بک و دیگر سوشل میڈیا میں آپ کو نظر آئیں گی، جو آپ کو اچھی آمدن مطلب چار چھ ہزار یورو ایک ماہ میں کما کر دینے کا دعوہ کرتے نظر آویں گے۔

ہوشیارِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔سوبار ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فراڈ ہیں۔

 یہ آپ سے سب پہلے تین چار سو یور بنیادی انویسٹمنٹ کے نام پر اپنے ادھر منتقل کرولیں گے اور پھر آپ انکو ڈھونڈتے رہو، آپ ایک دفعہ انکو فون کرلو، یا اپنا نمبر دے دو کسی طریقہ سے، بس پھر آپ کو یہ کال پر کال، انکی اٹالین بولنے سے میرا اندازہ ہے کہ یہ لوگ رومانیہ یا البانیہ وغیرہ کے ہیں۔ آپ کو پہلی کال میں ہی ٹرانزیکشن کروانے کا کہیں گے۔ اپنا دفتر میلان یا کسی بڑے شہر میں بتاتے ہیں مگر آپ وزٹ کرنا چاہیں تو پبلک کےلئے کھلا نہیں ہے، کسی بندے سے ملنا انکی پالیسی میں شامل نہیں، بس فون سنو ایی میل ریسیو کرو اور پیسے دو۔


 فیر ہاتھ لگا لگا کر دیکھ کہ اے کی ہویا

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 29, 2012

چیف جسٹس سے مگرمچھوں کے سوال

آج کل  بلاول  سے لیکر فیس بکی "سیانے" اور حکومتی تختوں پر بیٹھے ہوئے،اپنے تخت فرعون سے یہی  سوال  کرتے نظر آتے ہیں  کہ "چیف جسٹس تم نے یہ کیوں نہیں کیا ؟  تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟  تم یہ کرو گے؟ تم وہ کرو گے؟" مجھے سمجھ نہیں آتی ہر کام چیف جسٹس نے ہی کرنا ہے، یہ جو باقی کے 2500 سے زائد مچھند ربقسم  "مگرمچھ"   ہم نے پالے ہوئے  ہیں، صدر، وزیراعظم، وزیر، وزرائے اعلٰی، گورنرز، صوبائی وزراء، پھر سرکاری افسران، جو بادشاہوں کی طرح زندگی انجوائے کررہے، جنکو آپ محلات میں سے باہر نکلنا بھی گوارہ نہیں،  یہ کس بیماری کی دوا ہیں.



 اگر سب کچھ چیف نے ہی کرنا ہے اور اسے ہی جواب دینا ہے  تو ان باقی کے ۔۔۔۔۔۔ کو گھر بھیج دو، انکو ملنے والی تنخواہیں و مراعات اگر عوام میں تقسیم کردی جائیں تو اس سے یقینی طور پر ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔


مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 26, 2012

کرسمس، عیسائی اور ہمارا ایمان

پاکستان کے عیسائی  عرف چوہڑے
ویسے تو عیسائیوں کے بارے میں سب ہی جانتے  ہیں ، حضرت عیسٰی علیس سلام  کی پیروکار قوم، ساری دنیا میں ہی تو پائے جاتے ہیں ، ادھر مغرب میں تو بہت ، مگر ہمارے ادھر تعداد میں کم ہیں، پاکستان میں ہوں گے کوئی دو تین فیصد، اکثر غریب ہوتے ہیں اور انکا ذریعہ معاش  وہ پیشے ہوتے ہیں  جنکو ہم مسلمان الحمدللہ سرانجام  دینے سے بوجہ شرعی کتراتے ہیں۔  صفائی ، گھروں کی جھاڑو پونچھ وغیرہ  ، حالانکہ "صفائی نصف ایمان ہے،"  اور اس  کے بارے ہم تب سے جانتے ہیں جب سے اپنے گھر سے باہر چونچ نکالی ہے، عیسائیوں کا ہمارے ادھر الگ     ہی مقام ہے ، مطلب معاشرے  میں رہتے ہوئے بھی کٹے کٹے سے رہتے ہیں،   دور سے ہی پہچانے جاتےہیں ، ایک تو ویسےہی تو   کالے کالے سے ہوتے ہیں ، پھر نہاتے بھی کم ہی ہیں، اور ہمارے معاشرتی تہواروں ، میلاد شریف ، عیدین  وغیرہ سے چونکہ انکا  کوئی تعلق  نہیں ہوتا  ، ان دنوں میں یہ جانے کہاں چلے جاتے ہیں۔

 ادھرعیدین ، یا میلاد کے بغیر دوچار کالے کلوٹے عیسائی ، عیسائینیں چمکے چلکے نظر آئیں ادھر ہم سمجھ لئے کہ انکی تو عید ہے، مطلب کرسمس "مینز "عیسایوں کی عید قرار پائی،  بس ہم  اسی بات پر پکےہوئے  رہے،  ویسے جس دن شاہ جی بھی بغیر جمعے کے چمکے چلکے نظر آجاتے تو کوئی  بول اٹھتا " کیوں جی آج کیا عیسائیوں کی عید ہے؟" اور شاہ جی  " ہت تیری "  کہہ کر اسکے پیچھے ہولیتے، قصہ کچھ یوں تھا کہ شاہ  جی  "کالے دھواں " تھے جسکو یورپ میں رنگدار کہاجاتا  ہے اور ہمارے ہاں اس رنگ کے یا تو "عیسائی "ہوتے ہیں  یا پھر  "مسلی"۔ البتہ عیسائی ہماری عید کو اگر اچھے کپڑے پہنے ہوئے پایاجاتا تو اس سے پوچھ لیا جاتا کہ یہ عید تمھاری تو نہیں ہے۔ فیر؟؟ اب اکثر اسکا جواب دانت نکالنا ہی ہوتا۔  اگر کوئی عیسائی چھٹی عید والے دن کرتا تو یار لوگ پوچھ لیتے "کدھراوئے؟  کوئی تمھاری عید ہے؟؟"  اسکا جواب فیر دانت نکالنا  ہی ہوتا۔  ہماری عید کو تو وہ کہہ دیتا ہے ہے ڈاکٹر صاحب عیدمبارک   اور ہم خیر مبارک کہہ کہ اسکو دس روپئے عید ی تھمادیتے۔ مگر جس دن اسکی عید ہوتی تو اس سے پوچھتے کہ میاں وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ بتاتا "سرجی میری  کرسمس"، اور ہم جی کڑا کر اسکو میری کرسمس کہہ دیتے۔  


یورپ کے عیسائی عرف چوہڑے۔
ادھر جب یورپ میں آئے توعلم  میں کچھ اضافہ ہوا  کہ ادھر لوگ بڑے گورے چٹے ہیں اور ہم کالے قرار پائے گویا رنگدار، پھر اوپر سے نئے نئے آئے ہوتے ہیں اور غریبی و سردی کا بھی کافی شدت سے احساس ہوتا ہے تو نہانے دھونے کا خیال بھی کم ہی آتا ہے۔ گویا ، پکے عیسائی   ہوئے ادھر کے بقول یاوروں کے۔  پھرہماری اکثریت  کے کام بھی وہی ہوتے ہیں جو یہ لوگ بوجہ  کرنا چاہتے  نہیں یا پھر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔  گویا ہم ادھر کے چوہڑے ہوئے۔

پھر  ادھر یورپ  میں قیام پزیر ہوئے تو  علم میں مذید اضافہ ہوا  کہ  ان عیسائیوں کا بھی ہمارے والا حساب ہے انکی عید تو ہوگئی کرسمس والی اس  کو اپنی میلاد کہہ لو کہ حضرت مسیح کی پیدائش، پھر ادھر نئے سال کا جشن بھی ہے جسکو آپ انکی وڈی عید کہہ لو،  اسکے بعد پھر ایسٹر کا تہوار جو ہماری چھوٹی عید کے مترادف ہوا پلس اس کے آخری جمعے کو بقول حضرت مسیح علیہ سلام کو مصلوب کیا گیا (انکے مطابق) تو 
ادھر  بھی ہمارے والا احوال ہوا۔  پس ثابت ہوا کہ دنیا گول  ہے، مگر ابھی نہیں ابھی اسکو مزید گول ہونا مانگتا۔

مبارک بادیاں
ادھر یوں تو بہت سی  کرسمس  بھی گزریں ، عیدین بھی، میلاد بھی اور ایسٹر بھی ، مگر اکثر ہم ادھر سے غایب ہوتے، ادھر چھٹیاں شروع  اور ادھر ہم اڑگئے۔  اب کی بار ایسا نہیں ہوا، بلکہ کچھ برسوں سے رکے ہوئے۔ تو جب چھٹیاں کلینڈر پر نظر آنی شروع ہوئیں تو  کولیگز نے اپنی اپنی منصوبہ بندی بھی ظاہر کرنی شروع کردی،  اورہم سے سوال  کہ "تمھارا تو یہ تہوار نہیں ہے، تم اسے مناتے ہوِ؟"    اور ہم ہنس کر کہہ دیتے کہ "ہمارا تو نہیں  ہے  مگر سب خوش تو ہم بھی خوش ، ہم بھی گھر میں "۔ جب ہماری عیدیں  ہوتی ہیں تو ادھر نہا دھو کےگھوم رہے ہوتے ہیں اس دن باقی کے گورے سارے کام کاج میں روٹین میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو وہ پوچھ رہے ہوتے ہیں :    " ہم خیریت، آج بڑے چمکے نظر آرہے تمہارے لوگ؟"   جی وہ  دراصل آج ہماری عید ہے جی،   " اچھا اچھا میں بھی کہوں ، تو کیا کہتے ہیں اس دن ؟"  وہ سر عید مبارک ،    " اچھا تو پھر عید مبارک" ۔

اب کی بار ہم نے بہت سے دوستوں اور کولیگ ڈاکٹرز کو  "میری کرسمس" کے ایس ایم ایس بھیجے، ای میلز بھی کیں، اور فیس بک پر اسٹیٹس بھی کوئی چودہ زبانوں میں اپڈیٹ کیا، جواباُ بہت ہی محبت کے ساتھ ، شکریہ ادا کیا گیا، اور ہمارے لئے اور ہمارے خاندان وجملہ احباب کےلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔ گویا انہوں نے جواباُ ہمیں عیدی ہی دی ہو۔ 


خطرہ ہمارے ایمان کو
ان دنوں ہمارے ادھر ایک اور فساد پھیلا ہوا ہے، کہ" میری کرسمس" کہنا منع ہے، اور شرعی حرام ہے بلکہ ، بعض اوقات قریب الکفر ہے۔  میں نے کوئی پانچ سے زیادہ ڈکٹشنریز میں دیکھا ہے مختلف زبانوں کی ، مگر ادھر تو ملا "حضرت مسیح کی ولادت کی مبارک"، اب حضرت جی کی پیدائش سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا،  کہ وہ پیدا نہیں ہوئے۔ کم ازکم کوئی مسلمان، کہ قرآن نے بھی اسکو بطور معجزہ  ذکر کیا۔  اب اگر پیدائش کی مبارک دینا  ہے تو یہ حرام کیسے ہوا۔ اب بقول ہمارے بھائی صاحب کے اور فیس بکی ملاؤں کے کہ بھی وہ تو لکھا ہوا  ہے مگر اسکا اصل مطلب ہے کہ کہ " اللہ میاں کے ہاں بیٹا ہوا" ۔  اب یہ کہاں سے آیا اس بارے میں کوئی ہمیں بتلائے گا تو سمجھیں گے۔ اوپر ایک فتویٰ بھی جاری کردیا گیا کہ  "ہذا فعل الحرام الکبیر"   اب ہمارا فتووں سے بھی یقین اٹھا ہوا ، یہ تو اٹھارہ ملاؤں نے دیا  جو اہل سنت ول جماعت سے لیکر اہل تشعیہ ، حنفی ، مالکی ، حنبلی، شافعی  وغیر ہ اجمعین  ہیں۔ ، ادھر پینتیس  کے قریب ہیں جو دوسرے فرقوں کے کافر ہونے کے فتوے قبل ازیں جاری کرچکے، اور صرف یہ ہی نہیں ایسے ایسے فتوٰے ظہور پزیر ہوئے کہ الامان الحفیظ۔  اب ہم کیا کریں ، انکے سارے والے فتویٰ کو دیکھں تو کچھ پلے نہیں پڑتا۔  اگر یہ والا  درست تو پھر وہ والے بھی درست ، اگر وہ والے غلط تو پھر یہ والا کدھر سے درست۔ یہ سوالات اور یہ جوابات ، اگر کسی بلاگر نے اس پر لکھ دیا تو پھر ادھر بحثیں، مگر بلاگر خاتون ہے تو۔ 

مگر ہمارے بھائی جی اس بات پر مصر ہیں  کہ لوجی ،انکا کیک تو ٹھیک ہے۔  فروٹ بھی جائز، مگر میری کرسمس کہنا حرام ہے۔ بھلے ڈکشنری میں  اسکا مطلب صرف ولادت مسیح کی مبارک باد ہی ہے۔  مگر جب مولبی لوگ کہہ رہے  تو پھر ٹھیک ہی کہہ رہے ہونگے ۔  اخر انہوں نے بھی  تو کہیں پڑھا ہی ہوگا۔  


مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

مکمل تحریر  »

پوک


پوک Poke آجکل فیس بک پر دائیں ہاتھ   دستیاب ہے،  ویسے تو اسکا کوئی خاص استعمال نہیں مگر فیس بک نے بندے کو بس "ایویں ہی انگل"  دینے کو رکھا ہوا،   کہ  "انگل ای"  ، اٹالیں لوگ اس کام کےلئے  دائیں ہاتھ کی  لمبی والی انگلی کھڑی کرکے باقی اپنی طرف بند کرلیتے ہیں۔ ویسے پرانے لوگ اسے کبیر درجہ کی گالی اور    "منڈے کھونڈے" مطلب "کالجیٹ"  اسے سلام دعا کے طور پر استعمالتے ہیں۔اٹلی کے سابق وزیراعظم  سلویو بیرلسکونی  تو اسے باقاعدہ طور پر عوام سے  جلسوں میں سلام دعا کرتے تھے۔ 

یہ ایپلیکیشن کچھ دنوں سے مجھے اپنی فیس بک پر دکھائی دے رہی ہے،   بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ موجود تو کافی عرصہ سے ہے اور کوئی اکا دکا بندہ پوک کردیتا ، بندہ بھی مروتاُ جوابی پوک  کردیتا، مگر  چند دنوں سے فیس بک نے اسکو کچھ زیادہ ہی لفٹ کرانی شروع کردی ہے،  میرے ادھر بھی دائیں ہاتھ کوئی پنج ست نام لکھے نظر آتے اور میں یہ سمجھتا کہ ان سب نے مجھے پوک کیا ہے، مطلب "ایڈےلوک" اس بندہ کو یاد کررہے ہیں،   پس مروت کے مارے فوراُ جواب دیتے رہے،  ادھر تورینو کی ایک ڈاکٹر صاحبہ میرے فیس بک پر ہیں اور انہوں نے  مروت کے مارے میرے پیج پر پیغام لکھ مارا  کہ : "حجرت جی آپ کے پوک کرنے کا شکریہ ، بندی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے  جوابی پوک نہ کرسکنے  پر  دلی طور پر معذرت خواہ ہے"۔

اگلے دن اپنے یاسر صاحب المعروف   پیر بابا خوامخواہی  جاپان والے بھی پوچھ رہے تھے کہ میاں  خیر ہے آپ نے مجھے پوک کیا ، میں  ہکا  بکا رہ  گیا کہ اچھا  میں تو سمجھا کہ آپ نے مجھے پوک کیا ہے مگر  وہ صاف انکاری ہوگئے، تس  پر میں نے بلکل اسی طرح غورو خوص کرنا شروع کیا جیسے نیوٹن  نے سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے کر شروع کیا تھا کہ بھئی یہ سیب نیچے کیوں گرتے ہیں اور اوپر کو کیوں نہیں نکل لیتے، اس سے دو باتیں دماغ میں آتی ہیں: اول  یہ کہ نیوٹن کی قسمت اچھی تھی کہ ادھر "بیری " کا درخت نہیں تھا نہیں تو یار لوگ  ادھر پتھر مار کے بیر وں کے ساتھ اسکا سر بھی کھول دیتے۔  دوئم  کہ نیوٹن نہایت ہی کھوتے دماغ کا تھا، کہ  بھئی جب سیب پہلے بھی نیچے کوہی گرتے تھے اور اب بھی نیچے کو ہی گررہے ہیں  میں ۔ بندہ پوچھے کہ سرکاراں تویہ جو لڑکے  بالے ہر سال اس کے قوانین کی زد میں آکر فیل  ہوجاتے ہیں   وہ دریافت کس کھاتے میں؟  بس جی کھوتا کھوہ میں ہی ڈال دیا  ا س نے بھی۔

پھر جب دماغ لڑایا   اور اگلی دفعہ  جب ادھر دائیں طرف پوک  کا چکر دکھائی دیا توغوروخوص کے بعد یہ علم حاصل ہوا  کہ مولانا فیس بک کا فرمان ہے کہ  جناب ان لوگوں کو پوک کرکے ثواب داریں حاصل کریں ، دھت تیرے کتا  رکھن آلے کی۔

آج اپنے مولبی علی طارق صاحب پوچھ رہے تھے  کہ جناب یہ  پوک کا چکر کیا ہے ؟  تو انکو تو میں نے یہ جواب  دے کرٹرخادیا کہ: " پتا نہیں، فیس بک نے کہہ دیا کہ ان بندوں کو پوک کرنا لازمی ہے، تو ہم نے پوک پر کلک کردیا ،میں سمجھا انہوں نے مجھے پوک کیا ہے، بعد میں پتا چلا کہ نہیں ایویں انگل ہی کی " ، بھلے مانس بندے  مجھے  " کالی رات  مطلب شب بخیر " کہہ کر چلتے بنے، یاد رہے  " کالی " یونانی زبان میں  اچھی کو کہتے ہیں۔ نہیں یار  وہ والی کالی نہیں ، آپ ہمیشہ الٹے پاسے ہی جاؤ گے ، یہ افریقاُ کالی نہیں ہے۔ دسو۔ ایک تو آپ کا دماغ بھی فوراُ پٹھے پاسے ہی جاتا ہے۔ 

بعد میں بمعہ صد افسوس میں نے بابا جی گوگل سے پوچھا تو بابا جی نے بتا یا کہ  بچہ  جاہل  یعنی کہ" ڈنگرا " یہ سست  المعروف  کاہل لوگو ں کا "ہائے" کہنے کا طریقہ ہےکہ  کسی کو سلام دعا کرنے کی بجائے  یا کسی کو دو چار الفاظ کا پیغام لکھنے کی بجائے اسکو پوک کردو، دھت تیرے  سستی مارے کی۔  ہیں جی

مجھے پوک کرنا جانے کیوں ایسے ہی لگا جیسے کسی کی بیل بجانا،  جب ڈور بیل نئی نئی ایجاد ہوئی تھی تو پورے محلے میں کسی ایک کی ڈور بیل ہوتی تھی۔ ہم  سارے کزنز اور مشٹنڈا پارٹی ، ادھر شکر دوپہرے  ان کی ڈو بیل بجاکر بھاگ آتے ،  ہیں جی
اور وہ  لو گ پورا آرام کا وقت  گالیاں دیتے ہوئے گزارتے کہ" کیڑا سی کسی سورے دا پاڑا "،  ہیں جی
جبکہ ہم اپنی  چھت پر مزے سے سنتے، ہیں جی
  تب تک جب تک ہمیں بھی کوئ بڑا آکر براہ راست گالیوں سے نہ نوازتا۔  



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش