کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا" ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔
ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔
چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی
کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے، کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا
ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں، فوراُ کہہ دیں
گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک
الگ بات ہے کہ عمومی طور پر اسے کوئی نیک
نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ کچھ
بزرگوں کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی
لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔
خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔
بعد میں معلوم ہوا کہ
فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو
کچھ لوگ کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ
دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے، ہم کیا
جانیں۔
مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب
ہے جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا،
مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی
والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔
پھر کچھ عرصہ بعد پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی
کےلئے تحفہء نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر
جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ
کرفوراُ ادھر پھینکا کہ " کنجرا میں
کوئی فرعون دا یار ہاں" اور یہ کہ
میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔
مئی میں جو تورینو میں جب
ایک کورس کےسلسلہ میں جانا
ہوا تو ایجیصیو میوزیم
دیکھے بنا نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی، کورس کے دورا ن مقامی اطالوی کورس میٹ
اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا، تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی
اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر
نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن
تمھارے ساتھ ہی چلوں گی، ہائے ہائے
وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی بھی اور دو دو بھی
یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں
تشنگی رہ گئی۔ خاتون کا ذکر گول ہی کر گئے آخر میں آپ کہ دورہ میوزم بمعہ میزبان کے کیسا رہا؟
جواب دیںحذف کریںجناب تھوڑا تجسس، طوالت کے ڈر سے سارا نہ لکھا، ابھی اس موضوع کو چلایا جائے گا، صبر
جواب دیںحذف کریںاعلٰی جناب اعلٰی
جواب دیںحذف کریںجو تصویر ابا جی نے اٹھا کر پرے ماری تھی اُس کا کیا بنا پھر کس فرعون کو تحفۃ پیش کی؟
best ever..... photoshop islam
جواب دیںحذف کریںایک ممی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کئی سالوں سے کہ وہی اصل فرعون کی ممی ہے سونے کہ ایک مورتی نما تابوت میں رکھی ہوئی ہے ۔ جس کو دیکھ کر لگتا تو یہی کہ اصل ہے کیونکہ واقعات جو پڑھے ہیں فرعون کے بارے میں انہیں اس ممی پر رکھا جائے تو کچھ اصل ہی لگتا ہے۔
جواب دیںحذف کریںعبدلقدوس صاحب اس تصویر کا کیا ہونا تھا وہ بس ضائع ہوگئی، یاد نہیں شاید چلا دی گئی تھی، کہ فرعون نوں ساڑ دو
جواب دیںحذف کریںجمشید اقبال صاحب، پسندیدگی کا شکریہ، فوٹوشاپ اسلام کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے تھے، اگر پھر چکر لگے تو وضاحت ضرور کردیجئے گا۔
جواب دیںحذف کریںفرعون پہ لکھ کر آپ نے ثابت کر دیا
جواب دیںحذف کریںکہ
آپ فرعون کی پارٹی کے ہیں۔
سنا ہے جی شریف قسم کے بھی فرعون صاحب ہوتے تھے۔
ان بیچاروں کا کوئی ذکر کیوں نہیں کرتا؟
فرعون کے ساتھ بھی ہم مسلمانوں نے وہی ہاتھ کیا جو آجکل ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
جتھے بم پھٹیا تے اوتھے ہی مسلمان دہشت گرد ۔۔۔ہیں جی
بلال خان، فرعون مصر کے بادشاہ لقب اختیار کرتے تھے، اور انکی تعداد شینکڑوں کے حساب سے ہے، مگر چو مشہور ہیں وہ دو ہیں ہی ایک جو رعمسس تھا اور توتن خامن ، یہ والا اپنے سونے کے ماسک کی وجہ سے مشہور ہے۔
جواب دیںحذف کریںملتے جلتے ناموں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ اصلی فرعون کے لیے یہیں تشریف لائیں!
جواب دیںحذف کریںیعنی کہ ابھی فرعونیت برقرار رہے گی بلاگ پر۔ میں نے تو کئی ایک تصاویر میں ممی کے نیچے نمرود تک لکھا دیکھا۔ بس جی، جو پسند آ جائے پاکستانیوں کو، پھر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
جواب دیںحذف کریںیاس صاحب فرعون سے یار تو پکی ہے اتنی ہی پکی یہ تو ہمارے اندر گھسا ہوا
جواب دیںحذف کریںعمیر ملک صاحب، تمرود کے بارے پھر کسی موقع پر بات ہوگی، آجل فرعون ہمارے دماغ میں گھسا ہوا پاکستانیوں کی فرعونیت تو پہلے بھی مشہور ہے، پھر
جواب دیںحذف کریںمزے کا لکھا ہے۔
جواب دیںحذف کریںوہ فرعون کی پارٹی والی بات اور آپ کے ابا جی کا آپ کو دیا ہوا لقب، جو یقینا حسب حال ہی ہوگا کہ والدین سے زیادہ کون جان سکتا ہے اپنے بچونگڑوں کو ۔۔
:ڈ
ہاہاہا مزے دار انداز و بیاں
جواب دیںحذف کریںپر مجھے کوستانسا کی سینڈی گئی تصویریں نظر نہیں آ رہیں
تصاویر نس گئی ہیں جی بلاگ سے
جواب دیںحذف کریں