جمعہ, ستمبر 07, 2018

عاطف میاں قادیانی اور باوا ریمتے

تحریر راجہ افتخار خان۔ باباجی
اس ماہر معاشیات کی بہت اہمیت ہے، ہیں جی۔ اس وقت پوری دنیا میں اس جیسا کوئی نہیں۔ 2014 سے یہی سنتے چلے آرہے ہیں
یہ اتنا بڑا اکانومسٹ ہے کہ حکومت اپنی ناس مارنے کو تیار ہے اس کےلئے۔ ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ کیا کہتے پنجابی میں "اسیں تے جاواں گے کوور دیاں کندھاں تک"۔ ہم تو اسکے پیچھے قبر کی دیواروں تک جائیں گے۔ 
بہت آسانی سے معاملہ ختم ہوسکتا تھا۔ حکومت رجوع کرلیتی اور بات ختم
لیکن
معاملہ کو علماء کرام کے سامنے رکھنے کا پروگرام
کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ سپریم کورٹ میں لایا جاوے۔ 
اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تبدیلی کے پیچھے کون لوگ تھے۔ 
اب اول صورت میں تو زیادہ فکر کی بات نہیں لیکن اگر سپریم کورٹ میں کھیل جاتا ہے تو چاہے تو "باوا ریمتے" ختم نبوت کے قانون کو ہی ادھیڑ کر رکھ دے۔ 
کیونکہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ فیصلہ آئین و قانون کے مطابق نہیں کرتا بلکہ جو اسکی مرضی ہوتی ہے وہ کرتا ہے۔ اقامے پر وزیراعظم کوجیل بیجھوا سکتا ہے اور سیکنڑوں بندوں کے مفرور قاتل کو باعزت کھر بھیج سکتا ہے۔ تھپڑوں کے پیسے ڈیم کو دلوا سکتا ہے، باجود کہ تھپڑ بندے کو پڑے، 
پس یہ طے ہوا کہ "باوے ریمتے کا قانون"چلتا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ 
ایک زمانے میں ایک ملک کے ایک گاؤں میں باوا ریمتے ہوتا تھا۔ جو اچھی اچھی باتیں سناتا تھا اورکبھی کبار لوگوں کے فیصلے بھی کرتا تھا۔ ایک دن گاؤن کے نڈھے بچوں نے کنوئیں میں "موت" دیا مل کے۔ گاؤں میں ہال ہال کار مچ گئی۔ اب مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ کنواں پاک کس طرح کیا جائے؟؟ معاملہ باوے ریمتے کی عدالت میں پیش ہوا۔ اب باوا جی نے فیصلہ دیا کہ "ہل کو کھڑا کرلو اور روٹیان پکا پکا کر اسکے اوپر رکھنا شروع کردو۔ جب ہل روٹیوں میں دفن ہوجائے، تو کنویں میں سے سو ڈول پانی نکال دیا جائے اور روٹیاں میرے گھر بھیج دو۔ 
کنواں پاک ہوجائے گا۔ 
ایک بابا جو بہت "کھوچل" تھا، بولا:
"پر باوا ریمتے ان بچوں میں تو تیرا لڑکا بھی تھا"۔ 

تس پر باوا ریمتے بولے" اہو، ہو۔ وہ تو ہے ہی بہوت رامدا" چلو اسطراں کرو" تسیں ہل لمی پالو اور اوپر روٹی روٹی کرلو"۔ 
جییسا کہ ہم نے بنی گالہ لینڈ میں خانجی کے گھر کے اجازت نامے بارے دیکھا ہے۔ کہ محکمے کو آرڈر دیا کہ "اجازت نامہ بنوا کر لاؤ:، لائے تو کہا کہ "اجازت نامہ ہوگیا ہے۔ کیس خارج"۔ چلو نکلو۔ 
تو جنابو۔ احوال کچھ یوں ہے کہ دونوں صورت میں ایک بات ہوگی۔ قادیانیت کے مسئلہ کو پھر سے کھڑا کیا جائے گا۔ بحثیں ہونگی۔ میڈیا ٹرائل ہوگا، کالم لکھے جاوین گے۔ انکے حق میں اور مخالفت میں دلائل دئے جاویں گے۔ ۔ اور ہمارا میڈیا تو پیسے لیکر انکے اشتہار اب بھی چھاپ دیتا ہے۔ یہ آج ہی آپ نے دیکھ لیا ہے۔ 
اگر تو فیصلہ انکے حق میں آیا تو پھر پرانے مظالم کا بدلہ طلب کیا جائےگا۔ چاہے تو قانون ختم نبوت کو ہی ختم کرنے کی تحریک پیش کردیں۔ 
اب انکا کورم بھی پورا، پی پی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ 
اگر فیصلہ خلاف آیا تو پھر پوری دنیا میں قادیانی اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کو پیٹیں گے۔ رنڈی رونا ہوگا اور چاہے تو بیس پچاس لوگ پھڑکوا بھی دیئے جاویں۔ 
نتیجہ ملک کے اندر دنگا فساد کا ہونا۔ اور اسکے بعد ہولوکاسٹ کی طرز کی کہانی بنا کر، اسرائیل کی طرز کا ملک پاکستان میں سے نکالنے کی کوشش کی جاوے گی تاریخ کی طرف تھوڑے سے بھی متوجہ لوگ جانتے ہین کہ ماضی قریب میں ایسا ہوچکا ہے۔ ایک صدی پہلے کا ہی تو قصہ ہے۔ 
عالمی تحریک ختم نبوت یقیناُ اس معاملہ کو بغور دیکھ رہی ہے۔
میں نے اپنے ایک اندیشہ کا مولانا سہیل باوا صاحب سے ذکر کیا تھا۔ تو انہوں نے بھی اسے درست قرار دیا۔ 
خدشہ یہ تھا کہ:
" میں نے کافی جگہ پر پڑھا اور سنا بھی کہ 1920 میں قادیانیوں کو ربوہ کی جگہ 100 برس کےلئے لیز پر دی گئی۔ اب سو برس پورے ہونے کو ہیں۔ قادیانی سرگودھا کے قریب کئی گنا قیمت دے کر زمینیں خرید رہے ہیں۔ اور اسکےلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ پیسہ۔ طاقت، دھمکی، لینڈ گریبنگ۔ اور لوگ بھی بیچی جارہے۔ بلکل فلسطینیون کی طرح۔ ایسے میں خان جی کی حکومت کا شروع میں ہی کئی لاکھ مکان بنانا۔ پہلے خطاب میں ہی سرکاری زمیںوں پر گھر بنانا۔ شیخ رشید نے ریلوے کی زمین کے بارے بھی یہی منشور دیا ہے۔ اور اس پر سونے کا سہاگہ قادیانی ماہرمعاشیات لانا جو ایکٹویسٹ بھی ہے۔ 

کہیں وہی فلسطین والا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا، کہ کچھ کچھ قوانین بنا کر۔ کچھ سرکاری زمینیں انکو الاٹ کی جائیں اور کچھ یہ خرید لیں۔ پھر ادھر اپنی آبادی بڑھائیں اور دو تین دھائیون بعد ایک اور قادیانی ریاست کا بطریق اسرائیل اعلان کردیا جائے جو پاکستان کے عین قلب میں واقع ہو؟؟؟ جب کوئی علاقہ کسی گروہ کی ملکیت ہوگا تو وہ پرائیویٹ پراپرٹی کہلائے گا۔ پھر ادھر انکے اپنے قوانین لاگو ہونگے۔ 
تب تک قادیانیت کو جسے ہم بھول گئے تھے۔ عوامی بحث میں لایا جائے اور میڈیا کےزریعے لوگوں کے دلوں میں اسکےلئے ہمدردیان پیدا کی جائیں۔ 
بات ہے خوفزدہ کرنے والی۔
اور صورت حال ہمارے اندازے سے زیادہ خراب ہے۔ آپ بھی سوچئے گا. اور دعا کیجئے کہ میرے اندیشے غلظ ثابت ہوں۔ 
بہرحال امید کی کرن یہ ہے کہ "وللہ خیرلماکرین"۔
#قادیانی_فتنہ


مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 17, 2018

پانچواں درویش ، راوی اور تماشہ

تو صاحبو ایک دفعہ کا ذکر ہے
کہ راوی بیان کرتا ہے ہے پانچواں درویش راوی چلتا چلتا چلتا، اور پھر چلتا چلتا ایک اور راوی کے پاس پہنچ گیا، وہ راوی تب کافی عرصے سے خاموش ہوچکا تھا، شاید فالج زدہ۔ اسکے اندر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ ہورہی تھی، ہر طرف خشکی اور ویرانی۔ راوی کے اس پار جاےکے لئے درویش کشتی کے انتظار میں بیٹھ رہا۔ کہ دریا ہے، بھلے سوکھا ہوا ہی سہی پر پھر بھی دریا کا احترام کرنا چاہئے۔
جیسے ہرجادو کا تماشا دکھانے والے کا احترام کیا جاتا ہے اور اسکو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ کچھ تماشہ گر جو بہت ہی بڑے ہوجاتے ہیں انکی پہنچ دنیا کے دوسرے کونے تک ہوجاتی ہے۔ اور پھر وہ  پلک جھبپکتے ہی سال میں دو چار بار لاہور آتا ہے    اور تماشہ دکھاتا ہے، یہ اب اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ علامہ  پروفیسر ڈاکٹر  کا اضافہ کرچکا ہے۔ ایسا جادوگر ہے جو ہرکام خواب میں کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم بھی خواب میں حاصل کرسکتا ہے۔
درویش  کا دوپہر کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے  حرارت سے دماغ ٹھکانے آیا  تو سر پر ہاتھ مار کر چلا اٹھا کہ خشک دریا میں بھی بھلا کشتیاں چلا کرتی ہیں،  پس چاروناچار درویش وہا ں سے اٹھا  اور دریا کے بیچو بیچ  خشک ریت کو سر پر ڈالتا اور اپنے آپ کو سخت سست کہتا ہوا آگے چل پڑا۔
راوی کے دوسری طرف اب ہر طرف  لاہور شہر آباد ہے،  پر درویشوں کو شہروں آبادیوں  سے کیا لینا دینا۔
چلتے چلتے  ایک پہر گزرگیا ، تب درویش کو ایک طرف سے شور ، روشنیاں اور بے ھنگم موسیقی سنائی دی۔ سادہ بندہ تھا۔ سمجھا شاید کوئی قبائلی رسم ہورہی ہے
چلو دیکھتے ہیں۔
دریش ادھر پہنچا  تو کیا دیکھا ایک بڑے سے میدان میں قناتیں لگئی ہوئی اسٹیچ سجا ہوا , ہر طرف چہل پہل، بہت سے لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے، کچھ جا بھی رہے تھے، البتہ تماشہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت تھی ، اسٹیج پر خوب رونق تھی۔ 
پورا ایک میلہ  لگا  ہوا تھا۔ درویش  میلہ دیکھنے بیٹھ  گیا بلکہ کھڑا ہی رہا۔  باوجود اسکے کہ جگہ بہت خالی تھی۔ بے شمار کرسیاں خالی پری ہوئی تھیں۔ 
باندر اور ریچھ کے ساتھ ساتھ اپنی دم پکڑنے والا کتا بھی تھا۔
پروفیسر  خود بھی موجود تھا۔ مگر درویش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تماشہ کروا  کون رہا ہے؟؟ کس نے اتنا خرچہ کردیا؟؟ اور کیوں؟
مگر کھیل دیکھتا رہا
کھیل بہت  اچھا  تھا، درویش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا، 
اور سوچتا رہا کہ  لوگ تھوڑے ہیں۔ 
لاہورئے بہوں خراب ہیں، ریچھ دیکھنے ہی چلے جاتے۔ ویسے بھی تو چڑیا گھر جاتے ہی ہو، اس بار تو باہر کھلے ہوئے تھے،
تماشہ ہورہا تھا
شاید
کھانا بھی مل جاتا۔
کرسیاں بھی کافی پڑئی تھیں "تشریف رکھنے" کو۔
بگڑے ہوئے لوگ۔
اپنے پیسے دیے کر ہی نان پائے کھاتے رہے۔
سرکس والے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔
بقول عین:
یہ عقدہ تب کھلے گا
جب تماشہ ختم ہوگا
نوٹ۔
یہ ایک غیر سیاہ سی پوسٹ ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت یقینی ہوگی۔ نیزہم نے جیسا محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا۔ دروغ برگردن دریائے راوی


مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 30, 2015

تبدیلی Chang

بہت کچھ تبدیل ہو سکتا تھا ،  
نئے چہرے لائے جانا ایک بڑی تبدیلی ہوتی، نوجوان قیادت ہوتی،  چالیس برس سے اوپر کے کسی بندے کو ٹکٹ نہ ملتی کہ یہ لوگ اپنے پانچ سال کے مقامی حکومتوں میں تجربے  کو اور مقامی مسائل کو سمجھ کر آگے لے جا سکتے تھے۔

تبدیلی  یہ ہوتی کہ سب لوگ نئے ہوتے، چہرے نہیں بلکہ نئے، ایسے لوگ  جو پہلے سے ہی مشہور اور کرپٹ سیاہ سی خاندانوں کے سپوت نہ ہوتے۔

تبدیلی یہ ہوتی کہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہوتے،  اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ آگے آتے۔ جو اپنے  علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے  عوام کے مسئلے  حل کرتے۔

پرانی "سیاہ سی"  پارٹیوں سے تو امید کم ہی  رہی ہے مگر تحریک انصاف خاص طور پر اس بات کا نعرہ لگاتی رہی ہے، اور انکے "چالے" دیکھ  دیکھ کہ ہم یہ کہتے رہے کہ یہ بھی ایک سیاہ سی پارٹی ہے، باقیوں کی طرح۔ ہم دیکھتے رہے کہ وہی مچھلیں ایک مرتبان سے دوسرے میں چھلانگیں مارتی رہیں۔ 



صرف نعروں  سے تبدیلی نہیں آتی، اگر ایسا ہوتا تو سب سے بہترین نعرہ   پیپلز پارٹی کا تھا، "روٹی ، کپڑا اور مکان"۔ مگر چونکہ یہ صرف ایک نعرہ ہی رہا عملی کام کچھ بھی نہ ہوا ، تو جنابو موقع ملتے ہی عوام  نے اس پارٹی کا دھڑن تختہ کردیا۔ بھٹو "زندہ  ہے " کا نعرہ دب گیا ہے۔
اب تبدیلی اگر صرف آسکتی ہے تو تو وہ ہے کچھ کرنے سے، دوسروں پر تنقید ضرور کرو، مگر خود بھی کچھ کرو، تاکہ جو دوسرا کچھ کررہا ہےاسکو اپنے نمبر بنانے کو کچھ بڑا کرنا پڑے۔

کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ 
کا بیٹا، کا بھتیجا، کا بھائی، کا کزن ، ہی ناظم بنا،
تحریک انصاف سمیت باقی پارٹیوں کا بھی حال ایک سا ہی رہا
باوجود ناامیدی کے ایک بار پھر بہت دکھ ہوا۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

بابا افراتفری اور دوھری شہریت




چچا غالب ہمارے پسندیدہ چچا ہیں، یہ اردو   شاعری والے مرزا اسداللہ خان غالب  نہی ہیں بلکہ یہ ہمارے پنڈ کے ہیں اور پنجابی  ٹکا کے بولتے ہیں، والد صاحب کے کزن ہیں اور  راجہ غالب سلطان   لکھے جاتے ہیں،   ہمارے یہ چچاجی فل مخولیا  طبیعیت کے ہیں،  اتنے مخولیا کہ ہمارے اسکول کی تفریخ کوئی بھی افراتفریح کہتے،  ہم اسکول کی چھوٹی تفریح کرتے تو کتنی بار انکو باہر بابے لنگے کی دکان کے پاس کھڑے پایا اور اس دن بابا لنگا  ہمیں اور ہمارے درجے کے دیگر پنڈ کے لڑکوں کو  مفت میں  "پھلیاں مکھانے"  دیتا،  اور شام کو چچاغالب ہمیں چھیڑتے کہ  " اوئے تم لوگ  نکی افراتفری کے "ویلے" بابے  لنگے سے مفت پھلیاں  مکھانے کس چکر میں  کھارہے تھے۔ " بعد میں معلوم ہوا  کہ بابے لنگے کو انہوں نے خود ہی کہا ہوتا کہ میرے ہوتے ہوئے خبردار میرے بھتیجے بھانجوں سے پیسے لئے تو، اور خود اسکو پیسے چکا دیتے،  پورے پنڈ کے بچے ہی تو انکے بھتیجے بھانجے ہیں۔  اسی طرح بڑی تفریح کے وقت ہم گھر  روٹی کھانے جاتے تو  چچا غالب پھر ہمارے ساتھ مخول کررہے ہوتے  " کیوں بھئی ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہو،  ہر وقت افراتفری میں ہی رہتے ہو، کدی نکی، تے کدی وڈی۔ 

ایک دن میں نے پوچھ لیا چچا آپ تفریح کو افراتفریح کیوں کہتے ہیں تو فرمانے لگے کہ "پتر جی جس تیزی اور چستی سے تم لوگ بھاگتے ہوئے گھر آتے ہو، کھانا کھاتے ہو اور پھر بھاگتے ہوئے اسکول پہنچتے ہو، پھر بھی لیٹ ہوجاتے ہو اور ماسٹر سے ڈنڈے بھی روز کھاتے ہو۔  تو پھر تفریح  تو نہ ہوئی، یہ تو افراتفریح ہی ہے ، نری افراتفری۔  ہیں جی

چچا غالب ویسے بھی بہت پر مزاح بندے ہیں، ابھی بھی گو باریش ہوچکے مگر  وہی ہنسی، وہی  محبت، وہی چاہت، پاکستا ن  پہنچیں تو پہلے جن بندوں سے ملاقات ہوتی ہے ان میں سے ہیں اور جن کو مل کر احساس ہوتا کہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے مولانا  یعنی کہ ڈاکٹر صاحب قادری جی المعروف شیخ الاسلام کینیڈوی اچانک چھلانگ مار کر پاکستان آگئے اور انہوں  نے اپنے ناچنے والے پروگرام کی طرح پورے ڈھول تاشوں سے اچھل کود مچادی،  ہرروز کوئی نہ کوئی دھما چوکڑی، جلسہ، جلوس، ملک میں جب پانچ برس بعد الیکشن ہونے والے ہیں، عوام کوووٹ ڈالنے کا حق ملے گا، شاید بغیر خون خرابے کے خبیثوں سے جان چھوٹے، اور آنے والے انکی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اس سے بچنے کی کچھ تدبیر کریں اور مفادعامہ کی کچھ کام کرلیں۔ امید پر دنیا قائم ہے۔

مگر مولبی جی کا پروغرام  ہے کہ نہیں جی ایک ٹائم پاس حکومت ہو جو پہلے احتساب کرے، پھر الیکشن ہوں،  پر باوا جی سے بندہ پوچھے کہ  ایک طرح کی چھاننی سے ہی چھانو تو گند نکلے گا، اور جو بچے گا وہ ایک طرح کا مال ہی ہوگا، اگر آپ روز چھاننی بدلی کروگےتو ، پھر یہ جو نئے آنے والے ہیں انکے میرٹ کا تعین کون کرے گا، الیکشن ایک پراسس ہے جس  سے کچھ کچھ نہ کچھ گند صاف ہوتا رہتا۔ گو فل صفائی نہیں ہوسکتی۔  مگر پھر بھی۔ بصورت دیگر، وہی ون مین شو،  کون حکومت بنائے گا، کون بنوائے گا، انتظام کی ذمہ داری کس پر، محاسبہ ہوگا ؟ کون کرے گا۔ 


مولوی جی کو عدالت سے بھی صاف جواب ملا تو ایک نئی افراتفری ڈال دی کہ جی دوھری شہریت والوں کی  "بِیزتی  " ہوگئی، اب واقعی یہ کہ کہ جب کوئی بھی بندہ چوول کام کرے گا تو اسکی  بیزتی تو ہوگی، اگر پاکستانی شہریت والا مشرف کرے گا تو پاکستانی شہریت کی بیزتی، اگر دوھری شہریت والا  مولوی قادری اور حسین حقانی کرے گا تو دوھری شہریت کی بیزتی، اگر کوئی برطانوی شہریت والا جارج پٹھ کرے گا تو برطانوی شہریت پر  تھو، تھو ہو گی۔

پس  مسئلہ اکہری و دوہری شہریت نہیں ہے، بلکہ اعمال ہیں جیسی نیت ویس مراد، مولوی جی  کے ساتھ بھی وہی ہوا جو انکی نیت تھی۔   اللہ بڑا بے نیاز ہے

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 03, 2013

علماء، کھوتے اور سیکوریٹی




ہا ہا ہا 
میرا ہنسنے کو دل کررہا
 نامور علماء کی سکیورٹی کی باتیں ہورہی ہیں ہر پاسے، کیا خواص اور کیا عوام سرجوڑ کر بیٹھے گئے ہیں کہ نامور دینی علماء کی سیکیوریٹی کیسے مینٹین کی جاوے، وزراء کی سکیورٹی مطلب سیاسی علماء(بشمول وزراء، مشیران، پارلیمنٹیرینز انکے لگتے لائے، چیلے چانٹے، منشی مشدے) کی بھی سکیورٹی، حکومتی علماء (حکومتی اہکاروں) کی بھی ہوگئی سیکیوریٹی،  سیکیوریٹی، سیکیوریٹی
کل ایک ٹی وی پروگرام کے مطابق حیدرآباد شہر کی ساٹھ فیصد پولیس وی آئی پی اور آفیسر ڈیوٹی پر مطلب انکو سیکیوریٹی دینے میں مشغول ہے، صرف بلاول بھٹو ذرداری کی سیکیورٹی و پروٹوکل کے نام پر 32 گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، گرد اڑاتا ہوا۔ 


 اور عوام جو بے علم ہے اسکو کون سیکورٹی دے گا؟؟
کوئی بھی نہیں، اس بارے  نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی حکمرانوں نے سوچا اور بات کی، نہ کوئی منصوبہ بندی کی، نہ کوئی قانون سازی۔  مگر وہ بھی ٹھیک ہیں، کھوتوں کی سکیوریٹی نہیں ہوتی، کھوتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جب ان پر مال ڈھونا ہوتا ہے تو پھر سے پھڑ لئے جاتے ہیں،   کسی نے گدھے کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا؟؟    تو پھر بھائی جان جب تک ہم لوگ گدھے رہیں گے نہ ہمارے علاج ہوگا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہونگے، اسکام کو کروانا ہے تو اپنے گدھا پن کو ترک کرکے ہوجائیں شیر ، تے دیکھو فیر۔

 یاد رکھو جب تک آپ کچھ طبقات کو سیکورٹی دیتے رہو گے، باقی کے طبقات ان سکیور رہیں گے، اور جب ایک معاشرے میں کچھ لوگ غیر محفوظ محسوس کریں گے تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ہورہا ہے، بلکہ جو ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 12, 2013

مولبی قادری، اللہ نہ کرے


مولبی ظاہر القادری المعروف کینیڈین مولبی،  کا مارچ ادھر اسلام آباد میں۔

انڈین بارڈر پر گزشتہ دنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ، جھڑپیں اور  دونوں طرف  ،  زخمی و  ہلاکتیں

شہر کا انتظام سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔

انڈین وزیر اعظم نے پاکستان  آنے سے انکار کردیا۔

طاہر القادری  کہتا ہے کہ اسلام آباد میں اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دیں گے۔  مطلب زور آزمائی؟

پاکستان میں حکومت کے اعلان کہ سڑکوں پر لوگ غیر ضروری طور پر نہ جائیں،  جنازہ اجازت لے کر پڑھیں،  اسکول بند، 
ہسپتال جانا ناممکن۔

پورے ملک میں گیس، پیٹرول ، بجلی بند ،مطلب مکمل بحران۔

انڈین ائرفورس کے کمانڈر انچیف کا بیان کہ جوان تیار ہوجائیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

یہ ساری خبریں ہیں جو کل اور آج  کی ہیں، میرا دل دھڑک رہا، کہیں ایسے تو نہیں کہ ان مولبی جی کو باقاعدہ تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کو بھیجا گیا ہو۔ کہ آپ اسلام آباد کو جام کرو، انتظامیہ کو مفلوج کرو۔  ادھر سے انڈین ایئر فورس  کا آپریشن ہو، دوسری طرف سے امریکی اور نیٹو کا افغانستان  سے۔  اور  پھر دنیا کی تاریخ تبدیل

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا،  اللہ نہ کرے،  اللہ پر بھروسا رکھو جی،  ہاں اللہ پر ہی بھروسا ہے،  ورنہ ہمارے لوگ تو اپنی کشتیاں جلا چکے۔

اللہ نہ کرے  ایسا کچھ ہو۔ اللہ نہ کرے۔   اللہ کرے  یہ وقت خیریت سے گزر جائے۔




مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 04, 2013

شیخ الاسلام اور سنیارا


شیخ الاسلام   ایک جناتی لفظ ہے، میں ا سکی تاریخ تو نہیں جانتا  اور نہ ہی جانناچاہتا ہوں، یہ کب سے شروع ہوا ، اس سے مجھے کوئی علاقہ نہیں، اور نہ ہی یہ سمجھ سکا کہ یہ لقب یا عہدہ لینے کےلئے کیا کولٹیفیکشن ہے اور کس کی طرف سے ملتا ہے ، مگر اسکا حال مولبی طاہر القادری ہے۔ آج کل ہر طرف  جن کا چرچا چل رہا ہے،  چاہے وہ ٹی وی  ہو یا بیوی،  دونوں طرف مولبی جی کا ذکر ہورہا،  یارلوگ انکا پرانا کچھ چٹھا بھی کھول  لائے، جو دور کی کوڑی لانے والے تھے وہ  انکے خوابوں والی ویڈیو بھی گھسیٹ لائے۔  اردو میں اور بیان اور انگریزی میں کچھ اور کہنے والی ویڈیو تو زبان زد عام ہیں ، بلکہ روز ہی سوشل میڈیا پر کھومتی گھماتی مل جاتی ہے، اسکی تردیدی ویڈیو بھی مگر۔ " کمان سے نکلا ہوا تیر، زبان سے نکلی ہوئی بات اور ریکارڈڈ ویڈیو "  ، تینوں کی واپسی مشکل ہے۔  23 دسمبر سے آج تک ان کی ہر بات اور ہر بدلا ہوا بیان عوام کی نظر میں ہے، اور  سوشل میڈیا کی عوام بال کی کھال اتار رہی، اب تو  حال یہ ہے کہ انکے حواری  14 جنوری کو اسلام آباد چلو لکھتے ہیں تو انکے اوپر ہونے والے کمنٹس مخالفت میں ہوتے ہیں۔

 ویسے یہ جو مخالفین ہوتے ہیں یہ بندے ٹھیک نہیں ہوتے،  انہوں نے ہر بات  میں تنقید کرنی ہوتی ہے، کیڑے نکالنے ہوتے ہیں،   میں ذاتی طور پر مولبی جی  مطلب حضرت شیخ الاسلام  کے بیانات کا حامی ہوں، باتیں وہ  ٹھیک کرتے ہیں، مگر انکی ذات اور انکا مقررہ وقت میرے بھی خیال  شریف میں کسی بڑے گھن چکر کا  حصہ ہے اور کسی بڑی سازش کا حصہ۔

ابھی آپ پریشان ہونگے کہ شیخ الاسلام اور سنیارا  جسے اردو میں سنار  کہتے ہیں کا کیا جوڑ ہوا، تو اس بارے  میں دور کی کوڑی ہماری ہمشیرہ لائی ہیں،  سادی بندی اور گھریلو خاتون،  عورت عورت ہوتی ہے، اس کی نظر زیورات پر ہی ہوتی ہے، حضرت شیخ الاسلام  کے اپنے بقول " عورت کو زیورات اپنے شوہر اور بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہوتے ہیں"۔
 
کہنے لگیں کہ:   "پتہ ہے اس شیخ الاسلام نے  ان بچاری عورتوں کے زیورات کیوں چکر دے کر اتروالئے؟" لانگ مارچ اور دھرنے کے اخراجات کو،   " نہیں جی، یہ چکر نہیں ہے، لانگ مارچ اور دھرنے اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں  مگر وہ تو زیورات نہیں مانگتے رہے، ویسے بھی پیسے تو یہ ادھر کینڈا، امریکہ ، یورپ سے لے کر آیا ہے،  ان کی اسے ضرورت نہیں۔"       اچھا تو پھر آپ  بتاؤ کیا چکر ہے؟     "  سادیو، شیخ  الاسلام ہے  ناں اور آپ کو پتا ہے کہ جہلم میں  شیخ  جتنے  ہیں وہ سارے سنیارے ہیں،   اور سنیارا تو پھر زیورات کی طرف ہی للچائے گا،  سچ ہے کہ سنیارا سنیارا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ سنیارا بازار کا شیخ ہو یا پھر  سلام کا شیخ۔ " 

سادی بندی ہے، سادی ہی بات کرے گی تو، کتنی بار کہا ہے کہ وہ شیخ الاسلام ہے ، سنیارہ بازار کا شیخ نہیں، مگر نہیں  اسکے بقول سنیارہ سنیارہ  ہے اور سنیارے  کی نظر زیورات پر ہی ہوگی، اور اس نے اب کی بار دھروا لئے زیورات پھر، اب ایک تو باہر سے لائی گئی دولت اور مال کے  حساب دینے سے خلاصی، دوسرا سنیارے کے دل کو سکون، کہ یہ مال و زیورات منافع مزید۔


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش