جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 30, 2012

اپریل فول کی مچھلی

مجھے ادھر اٹلی میں زمانے ہوگئے ہیں  مگر کم ہی  اپریل فول کے واقعات دیکھے ہیں، یہاں پر اپریل فول کی علامت مچھلی ہے، بس آنکھ چرا کر چپکا دی، کسی کے کاغذ کی بنی ہوئی مچھلی اور منچلے تالیاں بجاتے ہوئے نکل لیے، مزید معلومات کے مطابق، فلپائین والے یکم اپریل کو منحوس سمجھتے ہیں اور اس دن سفر کرنے سے کتراتے ہیں، چائنا کی عوام کو اس کا اکثر علم نہیں، روس والے اسے مذاق کا دن قرار دیتے ہیں اوربالک لوگ ایک دوسرے کو بے وقوف بناتے اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔

 میرا اٹلی میں پہلا اور واحد اپریل فول دیکھنے کا اتفاق یہ تھا کہ فیکٹری میں جاب کرتا تھا، چھٹی کی، گیٹ پر رکا ہوا تھا کہ مین روڈ پر آتی ہوئی گاڑی نکل لے تو ہم بھی نکلیں، بس اس گاڑی کے پیچھے ہم بھی نکل لیئے، میرے ساتھ بیٹھے دوریانو (اطالوی کولیگ) کی ہنسی نکل گئی میں بھی حیرت زدہ رہ  گیا ، کہ اس گاڑی کے پیچھے ایک بڑی سی موٹے کارڈ کی بنی ہوئی مچھلی چپکی ہوئی تھی اور اسکے اوپر لکھا ہوا تھا  ٗ کہ میرے پیچھے مت آنا میں تو خود رستہ بھولا ہوا ہوںٗ  ، دوریانو نے بتا کہ آج پہلی اپریل ہے اور اس کو کسی نے فول بنا دیا ہے، پھر مجھے مچھلی چپکانے کا قصہ بتایا، دیکھا تو تین مچھلیاں اوس کے چپکی ہوئی تھیں اور دو میرے۔

کل رات ہر پاکستانی چینل پر اپریل فول  کے بائیکاٹ کی ہا ل ہال مچی ہوئی ہے، ادھر فیس بک پر بھی یہی حال ، کہ جی میں اپریل فول نہیں مناتا میں مسلمان ہوں، رات کو بھائی سے پوچھا کہ آپ نے گزشتہ برسوں میں کتنی دفعہ اپریل فول بنتے، بناتے دیکھا؟  کہنے لگے کہ مجھے تو کوئی یاد نہیں ، مجھے بھی وہ اوپر والا واقعہ ہی یاد ہے،  مگر پاکستان میں ہے کہ عوام اپریل فول کا ہوا بنا کر اسکا بائیکاٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں جی یہ کیا چکر ہے آپ کے پاس اپریل فول کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے؟؟ ہیں جی
جاؤ جاکر اپنا کام کاج کرو، اور چھوڑ دو اپریل فول کا کھتا۔ ہیں جی


اور پھر یہ کہ جب سب کچھ مغرب سے لے لیا ہے، ٹیکنالوجی، رقم، کاروبار، تعلیم، سود، حکومت، جمہوریت، حتیٰ کہ ضرورت پر وزراعظم اور دیگر وزراء بھی باہر سے لئے جاتے ہیں تو پھر اپریل فول  تو معمولی سی چیز ہے، ویسے بھی ہم فول تو بنے ہوئے ہیں گزشتہ کئی دھائیوں سے، اگر اپریل کے ایک دن میں یار لوگ تھوڑا ہنسی مذاق کر بھی لیں گے تو کون سے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے جو پہلے پاکستانیوں پر بند ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 28, 2012

امریکہ کے کھاتے میں


"السلام علیکم سر جی" وعلیکم سلام حضور، ہاؤ ڈو ڈسکو؟ "حضرت جی مجھے ایک جاب آفر ہوئی ہے بلکہ شروع کردی ہے۔"
 کون سی؟
 "،اٹالین فارماسسٹس کو ہومیوپیتھی پڑھانا3 سال کا پروجیکٹ ملا ہے فی الحال"
مباڑخ ہو جی, ویسے وہ ہومیوپیتھی کو گھاس ڈالتے ہیں یورپی؟
"خیر مباڑخ جی، ادھر ڈاکٹر اسپیشلائیزیشن کرتے ہیں,  ہماری طرح کا سسٹم کم ملکوں میں ہے"
ادھر تو میں پاغل ہو رہا ہوں۔ اپنے عزیز ہموطن بھی عجیب مخلوق ہیں, پچھلے دنوں جو طوفان آئے تھے
"کونسے؟؟"
مشرق وسطیٰ سے پاکستان تک ریت کے طوفان
"ہاں اباجی بتارہے تھے، گرد آلود ہوا کے بارے"
,آج ایک کزن صاب فرماتے ہیں کہ یہ امریکہ کے ایٹم بموں کا اثر تھا  ہور سناؤ  ہر چیز امریکہ کے ذمے بس اب یہی بچا ہے کہ انکل سام کی مورتیاں بنا کر انہیں پوجنا شروع کر دیں، خدا جیسا طاقت ور تو پہلے ہی سے سمجھتے ہیں،   ہیں جی؟
"تو آپ مان لو، پہلےکونسی ادھر ہر معاملے پر ریسرچ شروع کررکھی ہے انہوں نے,اتنا تو پھر چلے گا ناں"
وہ جو سیلاب آیا تھا، اس موقع پر بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا تھا,  اور زلزلے کو بھی
"ظاہری بات ہے کہ خدا کے کھاتے میں ڈالیں گے تو اپنے اوپر الزام لینا پڑے گا کہ ہمارے کرتوتوں کی سزا ہے۔ ہیں جی؟
"میں تو کہتا ہوں ذرداری کو بھی اپنے کھاتے پر ڈال دوں, میں یہ سارا کچھ اپنےبلاگ پر پھینکے لگا ہوں
اپنے کھاتے پر کیوں؟ امریکہ ہے نا۔ اسی کے کھاتے میں ڈال دیں,  سب آپ کی ہاں میں ہاں بھی ملائیں گے,   بلاگ پر کیا پھینکنے لگے ہیں؟  
میرا ٹریڈمارک تیزاب؟

 یہ اپنے مولوی صاحب ہیں، جو ابھی میرے ساتھ آن لائین  تھے، بزرگ آدمی ہیں، جانے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں، کوئی پوچھے حضرت اگر امریکہ یہ سب نہیں کرتا تو کیا میں اور آپ کرتے ہیں، ہیں جی



مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 13, 2012

صوبے بنوالو

فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


مکمل تحریر  »

بدھ, نومبر 30, 2011

چاچی کا دکھ


امریکی وزیرخارجہ چاچی ہلری کلنک ٹیکن نے فرمایا ہے کہ ’مشترکہ مفادات پر تعاون سے منہ موڑ کر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ مجھے انتہائی افسوس ہے اور امید ہے کہ شاید کہیں کوئی ایسا راستہ ہو کہ مستحکم، محفوظ اور پُرامن افغانستان کے لیے کی جانے والی ان عالمی کوششوں میں ہمیں پاکستان کی شرکت سے فائدہ ہو سکے۔
سوال ہے چاچی جی کہ اس میں فائدہ کس کو ہوگا ، امریکہ کو ، بھارت کو، نیٹو کو یا پھر افغانستان کو، مگر اس سارے لفڑے میں پاکستان کا کیا مفاد ہے؟؟؟ بے عزتی کروانا، چھتر کھانے، برا بننا، دھشت گردی جھیلنا، معاشی عذاب کا سامنا کرنا، انڈیا کے تلوے چاٹنا، مشرف سے لیکرذرداری و گیلانی جیسوں کو برداشت کرنا اور آخیر میں فوجی مروانا ، کیا یہ فائدہے؟؟؟ہیں، ویسے حاصل جمع تو ابھی تک یہی ہے۔
اگر کسی کو کوئی اور فائدہ بھی نظر آئے تو مجھے بھی بتلائے؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 27, 2011

امریکہ کے خلاف



ویسے یہ جو کتا کھائی امریکن کررہے ہیں اسکا ہمارے حکمرانون کو کیا جواب دینا چاہئے؟؟
کیا جوابی کاروائی ہونی چاہئے؟؟ صرف احتجاج اور مادام کے دو فون ہی تو کافی نہیں ہیں؟؟ نہ ہی جرنیلی قول کہ اگلی بار جواب دیں گے،
کچھ تو مزید ہونا چاہئے

 شاید طویل المدتی پالیسی, مگر کیا؟؟؟اور  کون بنائے گا؟؟ کیا ہماری یہ لومڑ حکومت کسی جوگی ہے کہ ان کو حلال ہی کروانا پڑے گا مطلب قصائی کو بلا کر چھری پھروانی پڑے گی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش