جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 08, 2014

بابائے قوم کا مزار، بے حیائی اور ہماری قوم

کل رات بابے قائد اعظم کے مزار کے بارے آے آور وائی کی ٹیم سرعام کی رپورتاژ دیکھی،


قسمیں مجھے تو روتا آرہا، جو لوگ بابے کی قبر والے کمرے کو فحاشی و جنسی امور کےلئے کرائے پر دے رہے پیسے لیکر وہ تو ظلم کر ہی رہے، مگر جو لوگ پیسے دے کر ایک قبر والا کمرہ کرائے پر لے رہے اس کام کو انکو بھی شرم نہین آرہی ہوگی۔ پیسے ہی دینے ہین تو کسی ہوٹل مین جاؤ مرو……… ایک قبر، ایک مزار کا تقدس پھر صاحب قبر کی عظمت….کونڑں لوک ہو  تسیں اوئے کنجرو،   


لعنت بھیجنے  سے منع کیا گیا ہے  ورنہ لکھتا  کہ لعنت ہے ان پاکستانیوں پر اور ایسے پاکستان پر

ویسے ہوسکتا ہے ایسے موقعوں پر چپ ہی کرجاتے ہوں مگر کیا کرو جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے زیادہ حساس ہورہا ہوں، سارے یہی کہتے ہیں، کہ آپ ایویں ہی ٹینش لے جاتے ہو ہر بات کی چل مارو، اچھا پھر ٹھیک ہے پوری قوم چل مارے

میرا تو ادھر بابے کے مزار کا فوٹو لگانے کو بھی حوصلہ نہین ہورہا
اب آنسو پونچھنے کو آج پورے پاکستان  اور بلخصوص کراچی کو بابے کے مزار پر اکھٹا ہوجانا چاہئے۔ ادھر فاتحہ پڑھو اور چپ کرکے احترام میں بیٹھے رہو۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 30, 2013

جھگڑا کرنا

جھگڑا دو یا دو سے زیادہ بندوں کے بیچ فساد کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی حد زیادہ سے زیادہ ہاتھا پائی تک ہے اور کم سے کم منہ بنانا اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا۔  شہدے لوگ سنا ہے سڑی ہوئی باتوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں، مگر میں اسے شہدہ کام ہی سمجھتا ہوں۔  

جھگڑے کی وجوہات
یوں تو جھگڑے کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجوہات دو ہوتی ہیں اول تو جھگڑا کرنے کی نیت۔ دوئم دوسرے بندے کا چوول خانہ، مطلب جھگڑے میں جو دوسرا فریق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہی شہدہ اور بد نیت ہوتا ہے اور ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے، راوی ہمشہ نیک اور شریف، ہمہ تن گوش بلکہ خرگوش ہوتا ہے۔ کہ میں تو اگیوں اک لفظ نہیں پھوٹیا، اور  اگر وہ مان لے کہ ایسا نہیں  اور کچھ غلطی اسکی بھی ہے  تو یہ اس فریق مخالف سے بھی بڑا چوول اور شہدہ ہے۔ 

جھگڑے کے درجات
چونکہ ہم،  آپ جھگڑے کو بہت سے درجات میں تقسیم کرسکتے ہیں حسب ضرورت یا  و بلکہ اور حسب لیاقت،  سنا ہے کہ ماہرین ابھی تک اسکی ساری اقسام دریافت نہیں کرسکے، کہ آئے دن اسکی کوئی نہ کوئی نئی قسم دریافت یا ایجاد ہوتی رہتی ہے۔

 ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ قارئین  کے علم میں اضافہ ہو اور پھر وہ اسکی مزید اقسام دریافت کرسکیں، مطلب چاند ماری کی دعوت۔

 دوستوں کے بیچ جھگڑا۔ یہ جھگڑے کی وہ قسم ہے  جو عام پائی جاتی ہے اور عموماُ وقتی کیفیات کے نتیجے میں پائی جاتی ہے، اسکی وجہ عمومی طور پر کوئی بھی لایعنی قسم کی اور غیر مطقی ہوسکتی ہے، اور اسکا اختتام بھی ایسے ہی ہوتا۔ 

رشتہ داروں کے بیچ جھگڑا۔ یہ ہے تو بہت عام مگر عمومی کیفیات کے نتیجے میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کیفیت مستقل رہتی ہے۔ یہ جھگڑے کی عالمگیر قسم ہے اور دنیا کے ہر ملک میں بکثرت پائی جاتی ہے، اس سے تنگ آکر کے پاکستان میں کہتے ہیں کہ رشتہ دار ماردو سپ چھڈ دو۔ اٹلی والے کہتے ہیں رشتہ اور سپ ایک برابر، مطلب دونوں ہی ماردو۔ دیگر ممالک  میں مروج اقوال کے بارے ان ممالکے کے اہل زباں سے دریافت کیا جاوے۔ 


میاں بیوی کے بیچ جھگڑا، یہ جھگڑے کی وہ واحد قسم ہے میرے خیال سے جس میں طرفین کے علاوہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جن میں نندیں، دیورانیاں، ساس اور دیگر پھپھے کٹنیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، اکثر مار کٹائی پر ختم ہوتا ہے اور ہفتے میں تین سے چار بار اس کی براڈکاسٹنگ ہو تو پھر طلاق پر نوبت پہنچے کے چانس زیادہ ہیں، طلاق کے بع یہ پھپھے کٹنیاں دونوں کو  الگ الگ دلاسے دے رہی ہوتی ہین، یہ صبر تینون ہور لب جاسی۔ بھئ جب اور ہی تلاشنی تھی یا تھا تو اسی کے ساتھ نباہ کرلیتے، مگر عقل کسی دکان سے ملتی تو۔ 

عاشق و معشوق کے درمیان جھگڑا، یہ عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے اور اگر تسلسل سے ہفتے میں دو سے تین بار ہونے لگے تو نتیجہ منگنی کے اختتام پر ہوتا ہے، اورشتہ دار و قریبی لوگ اکثر بعد میں مثبت کردار بن جاتے ہیں۔ 

والدین بچوں کے درمیان جھگڑا، اس صورت میں اکثر تھپڑ بھی چل جاتے ہیں اور قصور وار بچے ہی ہوتے ہیں، والدین جوانی کی عمر میں اور بچے بچپن میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ والدین کا ٹیمپر بھی لوز ہوتا ہے، مگر یہ کیفیت وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔  بہت کم مگر کئی بار دیکھا گیا ہے کہ والدین کے آپس کے جھگڑے کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر بچے پھنڈے جاتے ہیں، اس طرح کرنے والی عموماُ پھوہڑ عورتیں ہوتی ہیں۔ 

بچوں اور والدین کے درمیان جھگڑا۔ اس صورت میں بھی تھپڑ چل سکتے ہیں قصور وار ادھر بھی بچے ہی ہوتے ہیں اور اپنا ٹمپر بھی لوز کرلیتے ہیں، تب والدین بوڑھے ہوتے ہیں اور بچے جوان، اکثر اسکی وجہ والدین کی پنیشن کا نہ ہونا یا پھر کم ہونا ہوتا ہے۔

محلے میں جھگڑا۔   اسکی وجہ بے وقتا چاند دیکھنا اور دوسرے محلے کے چاند پر نظر رکھنا ہی ہوتی ہے، جب گلیاں نالیاں بن رہی ہوں تو بھی ان جھگڑوں کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔ ہیں جی۔ 


مالک نوکر کا جھگڑا، یہ ایک مکمل طور پر یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے، اسکی شدت کا پیمانہ مالک کی معاشی و سماجی قوت ہے اور اسکے ملک اور قومیت پر اسکا انحصار ہے، مثلاُ ادھر یورپ میں مالک صرف اونچی آواز میں چخ چخ کرسکتا ہے، زمین پر پاؤں پٹخ سکتا ہے، پاکستان میں کتوں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے، عربوں میں سنا ہے، خروج لگوا کر وطن کو روانہ کردیا جاتے ہے، اور اس  سے پہلے کچھ ماہ جو بیسیوں بھی ہوسکتے ہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ مطلب طوبہ پہلے سے ہی کرلینی چاہئے۔ 

بچوں کے درمیاں جھگڑا، یہ جھگڑے کی سب سے خالص قسم ہے اس کےلئے کسی وجہ کا ہونا درکار نہین، بس کسی بات پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا بات بھی، مگر اس کا دورانیہ حد سے حد کچھ گھنٹے ہے یا پھر اگلی صبح تک، پھر سب باہم شیرو شکر 

ضروری اوزار
جھگڑے میں ہونے والے ضروری اوزار میں سے گالیوں کا بخوبی یاد ہونا، اور بوقت ضرورت انکے مفصل استعمال پر ملکہ ہونا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو پوری دنیا میں امریکہ کے ڈرون کی طرح بغیر پائیلٹ کے استعمالا جاسکتا ہے۔ 
پھر جسمانی پھرتی، برادری، رشتہ دار، اور ڈانگ سوٹا، بندوقیں، چھڑی، سوٹی اور چھمکین بھی حسب موقع مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ 

احتیاج۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 
اگر مخالف پارٹی زور آور ہے، جسمانی طور پر یا افرادی قوت کے طور پر تو فوراُ ادھر سے نکل لو، یورپ میں رہنے والے فوراُ پولیس کو فون کریں۔ بچے سوشل سروس کا سہارا لینا بخوبی جانتے ہیں، پاکستان میں رہنے والے ان سروسز سے پرھیز کرتے ہوئے اپنے چاچے مامے کو بلائیں۔
انتباہ 

جھگڑا کرنے کی حد تک خیریت ہی ہوتی ہے اگر اس میں طوالت نہ ہو تو، ہاں اگر اسکو ناراضگی پر مشتمل کرلیا جاءے تو پھر نہ حل ہونے والی پیچیدگیا جنم لتی ہیں اور نتائج، تھانہ کچہری، طلاق، ڈانگ ماری، گالی گلوچ، پھینٹی، و قتل عمد تک پہنچ سکتی ہے۔ 


مشورہ
جمہ احباب کو مشورہ ہے دل کی اتھاگہرائیوں سے کہ بھائیوں جھگڑا کرنے کی اجازت ہے مگر اسکو ناراضگی میں تبدیل مت کرو، اگر لازم ہو تو بچوں کے درمیان جھگڑے کو اپنایا جاوے۔ جو دوسرے دن تو لازمی ایک ہوئے پھرتے ہیں۔ 




مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 13, 2013

دوھری شہریت اور اورسیز پاکستانی







اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 

جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔

پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر نہیں دیتے۔

پھر سن ستر میں بھٹو صاھب کی افراتفریح کی وجہ سے جب لوگوں نے ملک سے نکلنا شروع کیا تو  "باہرلے"  کا لفظ معرض وجود میں آیا ، خیر یار اسے طنزاُ بھی استعمال کرتے ہیں،  "" جی، جی، آپ تو    باہرلے ہیں جی ""،   خیر
باہرلے تین قسم میں تقسیم ہوئے پھر،  بیرون ملک رہنے والے پاکستانی،   دوھری شہریت والے اور غیر ملکی شہریت والے۔

بیرون ملک پاکستانی
Overseas-Pakistanis-Looted-By-Land-Mafias-State-Offers-No-Help
انکو اورسیز پاکستانی  بھی کہا جاتا ہے، انکے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور جہاں پر رہتے ہیں وہاں پر تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو تو انکو پاکستان ایمبیسی سے رجوع کرنا پڑتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ہوں انکو بےتوقیری کا سامنے بھی کرنا پڑتا ہے، بس پاسپورٹ نکالا نہیں کہ امیگریشن افسر کا منہ بدلا نہیں۔ میں خود کتنی بار کھجل ہوچکا ہوں،  جبکہ میرے ساتھ پورے کا پور ڈیلیگیشن دوگھنٹے تکے میرا انتطار کرتا کہ خان صاحب ذرا امیگریشن سے فارغ ہولیں،   ہم لوگ ادھر ووٹ نہیں ڈال سکتے،  سیاست نہیں کرسکتے، صرف کام کرو، کھانا کھاؤ،  ٹیکس دو،   کام ختم اور ہم بھی فارخ۔ مگر پاکستان جائیں تو پھر جیب سے ادھر کا پرس نکال کر دوسرا  ڈال لیا جس میں پاکستانی اردو والا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور بس پاکستانی ہوگئے پورے کے پورے۔ اللہ اللہ خیر سلہ


دوھری شہریت والے پاکستانی
Dual nationality bill Judge to be Barred from Holding Dual Nationalityیہ وہ اصحاب ہیں جو ادھر کی مقامی شہریت بھی لیتے ہیں ،ا دھر سیاست بھی کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور لیتے بھی ہیں۔  یہ صاحبان دوچہروں کی طرح دو پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، جب پاکستان آتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ نکال لیتے ہیں اور جب  ملک سے باہر ہوتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ غایب، گویا   ڈبل مزہ۔


غیرملکی شہریت والے
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی  مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور کسی دوسرےملک کی شہریت اختیار کرلی، یہ  بس غیر ملکی ہی ہوتے ہیں، انکو پاکستان جانے کےلئے بھی پاکستان کا ویزہ ایمبیسی سے لینا پڑتا ہے۔
پاکستان میں بھی انکےلئے اپنا اندراج پولیس میں کروانا لازمی ہے، کسی بھی معاملے میں یہ لوگ اپنے سفارتخانے کے ماتحت ہی ہوتے ہیں، جس طرح ایک شاعر صاحب کا آج انڈیا نے  پاکستان کے ثقافتی میلے سے واپس بلوالیا، جس طرح مجھے پولینڈ والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ مطلب فل غیر ملکی، یہ لوگ پاکستان میں سیاست تو کیا، جائیداد تک نہیں خرید سکتے۔ تاوقتیکہ باقائدہ اجازت نہ لے لیں۔ 

سوال اگر یہ ہو کہ  ان میں سے کون محب وطن ہے تو  جواب یہ ہوگا کہ جو وطن سے محبت کا اظہار کرے،  جو پاکستان کےلئے کچھ کرے، وہ پاکستان کےلئے اچھا ، وہی محب وطن ،  چاہے  وہ اندر والا، ہوکہ باہر والا ،  اکہری شہریت والا یا دوھری والا،  اور بھلے وہ گورا  ہی کیوں نہ ہو اسکو بھی نشان پاکستان ایوارڈا جاتا ہے۔

مگر جو حرامدے کام کرے گا   اسکو جوتے بھی پڑتے ہیں، ذرداری گو پاکستان کا صدر بن گیا ہے مگر لوگ اسے کتا کہنے میں ہچکچاتے ہیں، اسی طرح  رحمان ملک کی دہشت گردی،  حسین حقانی کی واردات ، ہو یا شیخ الاسلام کا فساد، سب قابل مذمت، مگر ایک بات ہے،
النیت والمراد
جیسی نیت ویسی مراد،   شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری المشور کینڈیوی  کے ساتھ بھی جو ہوا  ،   وہی ہوا ،  جو ہونا چاہئے تھا۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 12, 2013

مولبی قادری، اللہ نہ کرے


مولبی ظاہر القادری المعروف کینیڈین مولبی،  کا مارچ ادھر اسلام آباد میں۔

انڈین بارڈر پر گزشتہ دنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ، جھڑپیں اور  دونوں طرف  ،  زخمی و  ہلاکتیں

شہر کا انتظام سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔

انڈین وزیر اعظم نے پاکستان  آنے سے انکار کردیا۔

طاہر القادری  کہتا ہے کہ اسلام آباد میں اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دیں گے۔  مطلب زور آزمائی؟

پاکستان میں حکومت کے اعلان کہ سڑکوں پر لوگ غیر ضروری طور پر نہ جائیں،  جنازہ اجازت لے کر پڑھیں،  اسکول بند، 
ہسپتال جانا ناممکن۔

پورے ملک میں گیس، پیٹرول ، بجلی بند ،مطلب مکمل بحران۔

انڈین ائرفورس کے کمانڈر انچیف کا بیان کہ جوان تیار ہوجائیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

یہ ساری خبریں ہیں جو کل اور آج  کی ہیں، میرا دل دھڑک رہا، کہیں ایسے تو نہیں کہ ان مولبی جی کو باقاعدہ تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کو بھیجا گیا ہو۔ کہ آپ اسلام آباد کو جام کرو، انتظامیہ کو مفلوج کرو۔  ادھر سے انڈین ایئر فورس  کا آپریشن ہو، دوسری طرف سے امریکی اور نیٹو کا افغانستان  سے۔  اور  پھر دنیا کی تاریخ تبدیل

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا،  اللہ نہ کرے،  اللہ پر بھروسا رکھو جی،  ہاں اللہ پر ہی بھروسا ہے،  ورنہ ہمارے لوگ تو اپنی کشتیاں جلا چکے۔

اللہ نہ کرے  ایسا کچھ ہو۔ اللہ نہ کرے۔   اللہ کرے  یہ وقت خیریت سے گزر جائے۔




مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 29, 2012

چیف جسٹس سے مگرمچھوں کے سوال

آج کل  بلاول  سے لیکر فیس بکی "سیانے" اور حکومتی تختوں پر بیٹھے ہوئے،اپنے تخت فرعون سے یہی  سوال  کرتے نظر آتے ہیں  کہ "چیف جسٹس تم نے یہ کیوں نہیں کیا ؟  تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟  تم یہ کرو گے؟ تم وہ کرو گے؟" مجھے سمجھ نہیں آتی ہر کام چیف جسٹس نے ہی کرنا ہے، یہ جو باقی کے 2500 سے زائد مچھند ربقسم  "مگرمچھ"   ہم نے پالے ہوئے  ہیں، صدر، وزیراعظم، وزیر، وزرائے اعلٰی، گورنرز، صوبائی وزراء، پھر سرکاری افسران، جو بادشاہوں کی طرح زندگی انجوائے کررہے، جنکو آپ محلات میں سے باہر نکلنا بھی گوارہ نہیں،  یہ کس بیماری کی دوا ہیں.



 اگر سب کچھ چیف نے ہی کرنا ہے اور اسے ہی جواب دینا ہے  تو ان باقی کے ۔۔۔۔۔۔ کو گھر بھیج دو، انکو ملنے والی تنخواہیں و مراعات اگر عوام میں تقسیم کردی جائیں تو اس سے یقینی طور پر ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 28, 2012

والد صاحب، بیماری اور امتحان

چار برس پہلے والد صاحب  اچانک چلتے ہوئے  گرگئے،  تو انہوں نے چھڑی کے ساتھ چلنا شروع کردیا، کوئی بات نہیں، ایک ڈاکٹر کو دکھا ، دوسرے کو بھی، پھر جو لڑکھڑائے تو ، دو چھڑیاں،  اور پھر ، پکڑ کر اور پھر ویل چئیر پر اور پھر بستر پر،  بس پھر  افرا تفری شروع، ایک  ڈاکٹر کو دکھا دوجے کو،  ہماری ایک کزن ڈاکٹر  ہیں انہوں نے بہت ہمت کی اور بہت چیک اپ کروایا مگر انکی صحت بگڑتی ہی چلی گئی۔ آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ  انکا اعصابی نظام ڈیسٹرائے ہوگیا ہے، اور صبر سے اور ہم سے ہی کچھ برسوں میں بحال ہوگا۔ یہ بات مجھے اپنی ڈاکٹر صاحبہ نے بتائی۔ 

مگر حال یہ ہوگیا کہ بابا جی اپنی سائیڈ بھی تبدیل نہ کرسکتے، نہانے ، پیشاب کرنے پر تو مصیبت نازل ہوجاتی، اوپر سے دردیں شدید قسم کی۔ مطلب انکو بستر سے ویل چئیر پرمنتقل کرنا بھی ایک مصیبت ۔

خیر سارے جی جان سے انکی خدمت میں لگے رہے ، کیا چھوٹے ، کیا بڑے۔ کہتے ہیں بیماری ایک امتحان ہوتا ہے،  یہ بات سچ ہے، ایک کڑا امتحان،  جو بیمار ہے  وہ تکلیف بھگت رہا ہوتا ہے، کہتے ہیں اللہ اس بندے کے گناہ معاف کرتا ہے اور اسکی دعائیں سنتا ہے۔ مگر جو تیمار دار ہوتے ہیں انکےلئے بھی کڑا امتحان ہوتا ہے،   ادھر کوئی کوتاہی ہوئی نہیں اور ادھر  بے ادبی ،  نافرمانی  نافذ،  اب   وہ کیا کہتےہیں چونک چونک کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے۔  گویا بندہ پل صراط پر چل رہا ہے، کہ وہ بال سے بھی باریک ہے اور تلوار سے بھی تیز، ایک والد صاحب کا  درجہ،  کہ انکے سامنے اف بھی مت کرو۔ پھر عمر رسیدہ اور بیماری بھی ،  ان حالات میں بندے کا چڑچڑا  ہوجانا تو نارمل ہے۔

ڈر ہی رہتا تھا کہ کہیں انکے منہ سے کوئی بدعا ہی نہ  نکل جائے مگر اللہ کے کرم سے ایسی نوبت نہیں آئی۔  اس میں ہم گھر والوں  سے زیادہ بابا جی کے صبر کو  داد دینی چاہئے کہا انہوں  نے کبھی کسی کوتاہی پر بھی کسی کو بدعا نہ دی بلکہ  شکایت تک نہ کی۔

یہ امتحان ان کا  اور ہمارے اہل خانہ کا ہی نہ تھا بلکہ سارے عزیز اقارب کا اور دوست احباب کا بھی تھا۔ بہت سے وہ لوگ جو بزرگوں کے زیر احسان تھے اور انکے ساتھ بہت محبت کے دعویدار تھے، چپکے سے پیچھے ہوگئے،  بلکہ کچھ تو یہ بھی کہنے لگے ، کہ بابے کو پتا نہیں کونسی دینی آرہی ہیں۔  خیر ہر بات جو منہ سے نکلتی وہ جدھر کی ہوتی ہے وہ ادھر پہنچ ہی جاتی ہے، جس طرح ہر خط اپنے پتہ پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ جلد یا بدیر۔

نتیجہ میں اقارب کی چار اقسام سامنے آئیں ، ایک وہ جو بہت قریبی ہیں اور ہر وقت ان سے جو ہوسکا کیا پور ے خلوص سے، دوسرے وہ جو دور کے تھے یا کچھ بھی نہیں تھے مگر قریب رہے، کم از کم تیمارداری کرتے رہے۔ اللہ کےلئے،  پھر وہ جو قریبی تھے مگر چپکے سے دور ہوکر غایب ہوگئے۔ اور کچھ وہ تھے جومعصیت  کا موقع دیکھ کر  اس کوشش میں لگ  پڑے کہ ان کے گھٹنے کس طرح لگائے جا سکیں۔  ع 

لگی جو آگ تو وہ پتے ہی ہوا دینے لگے

خیر اللہ سب کوخوش رکھے، سب کو جزا دے ، آج  عید کے دن والد صاحب الحمدللہ خود پیدل چل کر مسجد گئے، نماز باجماعت ادا کی، سب سے ملاقات کی اور پھر پیدل چل کر گھر واپس آئے،  اللہ نے ہمارا امتحان ختم کردیا۔ مگر اس نتیجہ نے ڈرا ہی دیا  ہے،  ہاں ایک یقین پورا ہوگیا، کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،  اور یہ کہ بندے کو دل نہیں ہارنا  چاہئے، معصیب کے دن گزر ہی جاتے ہیں، ہاں دکھ ان چہروں پر ہوتا ہے جو دھل کر سامنے آجاتےہیں،  اور مبارک ہے انکو   جوصرف اللہ کےلئے ساتھ ساتھ رہے۔ قدم قدم چل کر تیمارداری کرتے رہے۔ آج گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ہماری دہری عید ہوئی ۔ اے اللہ تیر شکر ہے لاکھ لاکھ


مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 28, 2012

ہت تیرے گوگگلو سیانے کی

فرعون
4
مذہب بابا بھلے شاہ
2
urduonline.blogspot.com+blog-post_23
1
φερητησ ροζ
1
جرنل نالج
1
حنأ ربانى كى سيكس
1
دنیا
1
سندھی میں کہتے ہیں کہ
1
سیکسی ویب پانہ
1
شعیہ سنی اردو
یہ حال ہے سرچنے والوں اور ادھر بھیجنے والے گوگلو کی عقل کو بھی داد ہے، شباش ہے وائی شاوا، بلکہ دُور  شاوا

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش