بدھ, فروری 24, 2010

اٹلی، یکم مارچ، ایک دن ہمارے بغیر

یکم مارچ، ایک دن ہمارے بغیر ، اٹلی میں غیر ملکیوں کے یہاں پر بننے والے نسلی عصبیت پر مبنی قوانین کے خلاف ایک دن کی مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے، یہ مہم فرانس سے شروع ہوئی تھی اور اٹلی میں فیس بک پر اسکا اعلان ہوا، گزشتہ عرصہ سے اٹلی میں ایک تسلسل کے ساتھ غیر ملکیوں کے خلاف ایسے قوانین بن رہے ہیں جن سے انکے حقوق سلب ہورہے ہیں، ان میں مقامی حکومتیں پیش پیش ہیں، اور خاص طور پر شمالی اٹلی میں جہاں پر دائیں بازو کی جماعتیں اکثریت میں ہیں، وہاں پر ہر روز نت نئے اور عجیب غریب قوانین بن رہے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بریشیا میں غیرملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بچہ الاؤنس نہ دینا، کمونے دی ترینزانو میں صرف اٹالین زبان بولنا لازم، مونتی کیاری میں مسجد بنانے پر پابندی، وغیر وغیرہ اس سلسلہ میں تمام غیر ملکیوں اور نسل پرستی کے خلاف اٹالینز اس دن کام پر نہیں جائیں گے، کاروبار بند رکھیں گے، بچے اسکول نہیں جائیں گے، اور بریشا میں دس بجے دن سے لیکر دو بجے سہہ پہر تک احتجاجی جلسہ پیاسا لوجا میں ہوا۔ آج کی پریس کانفرنس میں سب کو دعوت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تمام مزدور تنظیموں اور کے علاوہ سیاسی جماعت پی ڈی بھی اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کرچکی ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 23, 2010

دورہ کیا

آج کل مختلف اخبارات میں خبریں کم ہیں اور صاحبان اخبار جو عرف عام میں صحافی کہلواتے ہیں نے مختلف دکانوں اور کاروباریوں کے دورے کرنا شروع کردیے ہیں، مثلاُ آج کل خبر یوں ملتی ہے، کہ فلاں اخبار کے شیخ صاحب نے فلاں شیخ صاحب کی دکان کا دورہ کیا، یہ نہیں لکھا کی کیا خریدا اور کیا گاڑی کی مرمت کروائی تو لکھ دیا کہ ورکشاپ کا دورہ کیا۔ کسی ٹریول ایجنسی پر پاکستان کےلئے ٹکٹ کی معلومات لینے گئے تو ٹریول ایجنسی کا دورہ ہوگیا ، گوشت لینے کی حاجت ہوئی تو قصاب کی دکان کا دورہ ہوگیا، بلکہ تو بعض خبروں میں تو یہ بھی لکھا مل سکتا ہے جیسے کہ بریشیا کے فلاں اخبار کی ٹیم نے فلاں نائی کی دکان کا دورہ کیا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ نہ لکھیں وہاں پر انکی حجامت ہوئی کہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج کل ہمارے یہاں بھی کوئی صحافی صاحب دورہ پر نازل ہوجائیں۔ بقول شخصے وہ آئیں آفس میں ہمارے ہم انکی راہ تاکتے ہیں دروغ بر گردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 18, 2010

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa: "Il più grande e moderno aereo passeggeri del mondo cerca nome. Contribuisca anche lei e potrà vincere 1 milione di miglia premio Miles & More: su lufthansa.com/A380"

مکمل تحریر  »

لسانی تضاد کو ہوا کیوں؟

میں نے فیس بک میں ایک بحث ایک پوسٹ پڑھی جو اس بات پر تھی کہ جہلم کو نیا ڈویژن بننا چاہئے یا چکوال کو؟ چونکہ گروپ کا نام ہی ہمارا چکوال ہے تو لازم ہے کہ اس میں شریک لوگ بھی چکوال سے متعلقہ ہونے چاہئیں میں بھی اس لئے اسکا ممبر ہوں میں جہلم اور چکوال کو ایک ہی سمجھتا ہوں، مگر اس بحث کو بغور پڑھا اور مجھے بہت حیرت ہوئی کہ لوگ ایک چھوٹے سے معاملہ میں کس طرح لسانی، تہزیبی اور تمدنی امور کو استعمال کرتے ہیں، جہلم اور چکوال میں تمدنی طور پر نہ پہلے کوئی فرق تھا اور نہ اب ہے۔ صرف جہلم جی ٹی روڈ پر ہونے اور چکوال کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک کی معاشی حالت بہتر اور دوسرے شہر کی کم بہتر تھی، اب چکوال موٹر وے پر ہے تو دیکھئے گا کہ مذید چند برسوں میں وہاں بھی بہتری آئے گی، بات رہی ڈویژن کی تو وہ جہلم ہی ہونا چاہئے کہ ہر طور علاقہ کا سماجی مرکز ہے اور بات رہی دور دراز علاقوں کی تو عوام کو ڈویژن کے ساتھ کیا لینا یہ تو صرف ایک انتظامی معاملہ ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو چکوال سے سال میں ڈویزن کے کاموں کےلئے پنڈی جاتے ہیں؟ شائد کوئی نہیں، ہاں انتظامیہ کےلوگ ضرور ہیں جن میں سے کسی کو نزدیک ہوگا تو کسی کو دور ۔ اوپر دوست تہذیبی اور لسانی تفرقہ کی بات کررہے تھے؟ ان سے میرا سوال ہے کو جہلم اور چکوال میں کونسی لسانی اور تہذیبی دوریاں ہیں؟ کیا چکوال کی تہذیب رومن اور جہلم کی یونانی ہے؟ یا ایک کا تعلق آرین سے اور دوسرے کا تعلق مصریوں سے ہے؟ کیا جہلم میں فارسی اور چکوال میں سنسکرت بولی جاتی ہے؟ بھائیوں کچھ خوف کھاؤ اور غیر اہم معاملات میں تفرقہ بازی کو ہوا دینے سے گریز کرو

مکمل تحریر  »

پیر, فروری 01, 2010

انہے کتے ہرناں دے شکاری

ڈاکٹر سمیر صاحب ہمارے کالج کے زمانہ کے لنگوٹیے ہیں جسے وہ انڈرویر فرینڈ ہونا ترجمہ کرتے ہیں، آجکل ہمارے شہر کے دورے پر ہیں اور اکثر ملاقات کا حظ اٹھایا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحب موصوف پنجابی محاوروں کے کشتے کے پشتے لگادیتے ہیں۔ آج جناب تشریف لائے تو ساتھ میں ڈونر کباب بھی پکڑتے لائے کو لنچ اکھٹے ہوگا۔ کھانا کھاچکنے کے بعد ہر انسان کی طرح ان پر بھی فلسفہ کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ کہ جناب دیکھو یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ حضرت خمار طعام کی مد میں ایک انگڑائی لے کر گویا ہوئے، انہے کتے ہرناں دے شکاری، یعنی نابینا کتے اور ہرنوں کا شکار، شکار انہوں نے کیا کرنا ہے بس ادھر ادھر دھکے ہی کھانے ہیں اور لڑھکتے پھرنا ہے۔ بس ایسے ہی زندگی بیت گئی ہے کہ خود نہیں معلوم ہوا کہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا کررہے اور جو نہیں کرنا چاہ رہیں وہ ہو رہا ہے۔ بس دھکے کھاتے اور لڑھکتے زندگی گزر رہی ہے۔ اس قصہ میں آپنی طرف سے یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ہر پردیسی کی زندگی ایسی ہی ہے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش