پیر, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

پیر, دسمبر 22, 2014

سولہ دسمبر ڈھاکہ سے لیکر پشاور تک، کردار وہی

سنہ اکہتر سے لیکر دوہزار چودہ تک، سقوط ڈھاکہ سے لیکر ، پشاورکے دھماکہ تک
کچھ کردار اور انکے بیچ مشابہت و تعلق بہت ہی عجیب ہے، میں جانتا گیا اور حیران رہتا گیا۔ 
 عوامی لیگ کا نام پہلے عوامی مسلم لیگ تھا بعد میں عوامی لیگ ہوگیا  مسلم  لیگ سے تعلق توڑلیا گیا ، اور پھر اسکا لیڈر بنا  شیخ مجیب الرحمان، جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی اپنائی
پھر نئی عوامی مسلم لیگ بنی  اور اسکا سربراہ شیخ رشید پھر نعرہ جلاؤ گھراؤ کی پالیسی اپنانے کی کوشش کی۔


جرنل غلام عمر کو اکہتر وار میں چیف وار کریمنیل  ڈیزائینر  کہا گیا۔  
اسکا بیٹا اسد عمر آجکل پاکستان  تحریک انصاف کا روح رواں ہے۔ اور احتجاجی تحریک کے صف اول کے لیڈران میں سے ایک ہے۔

جرنل امیر عبدللہ خان نیازی    نے اکہتر کی جنگ میں ہتھیار ڈلوائے، اور سرینڈر کی دستاویز پر دستخط کئے۔ اکرام اللہ خان نیازی کا چچازاد ہے جو عمران خان نیازی کا والد ہے۔

 وہ تاریخ  16 دسمبر تھی۔ تب  فسادی کردار مکتی باہنی تھی اور جیت ہندوستان کی ہوئی۔

ان تینوں نے چارماہ سے پاکستان کا گھیراؤ کئے رکھا اور پھر 16 دسمبر کو پاکستان بند کرنے کا اعلان کردیا،  سوشل میڈیا کی جوت پرچھات کے بعد اٹھارہ کی تاریخ تبدیل کی۔ مگر

16 دسمبر کی علامتی تاریخ  کو  140 معصوم بچوں کی جانیں گئیں اور پھر سے زخم ہرے ہوگئے۔ 
اب اس خونریزی کا ذمہ دار پاکستانی طالبان کو قراد دیا گیا مگر جیت کس کی ہوئی؟؟؟؟؟
اللہ کرے باقی سب وہ نہ ہوجو تب ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ16 دسمبر سے پہلے لکھا تھا، مگر آج شئر کرہی دیا۔ 


مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 04, 2014

تاریخ انسانیت اور کفار

پوری تاریخ انسانیت چاہے وہ اسلام ہو، قبل از اسلام ہویا بعد از اسلام،  اگر واہ  واہ  کئے بغیر  اسکے بغور جائزہ لیں تو  ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ انکو کچھ نہ کچھ جھگڑا کرنے کو مل ہی جاتا ہے،
پہلے زمانے میں سنا ہے کہ لوگ لڑا کرتے تھے، نعرہ نیکی اور بدی  کےنام پر جنگ جاری رہے گی
لوگ جھگڑ رہے تھے، پانی ، بکری، کھوتی، کھجور، ہر شئے پر جھگڑا۔ جنگ جاری رہی

پھر اسلام آگیا اور یار لوگوں نے نعرہ بدلی کرلیا،   اسلام اور کفر کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ باوجود اسکے کہ اسلام سارے کا سارے امن کا درس دیتا رہا،جب بھی موقع ملتا آرام سے رہنے کی کوشش کرتے مگر پھر بھی چاہتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے جنگ جاری رہی
پھر اسلام میں بھی خارجی آگئے اورنعرہ تبدیل،    خارجیوں کےخلاف جنگ جاری رہے گی۔  
پھر مسلمان ترقی کرکے سنی اور شعیہ ہوگئے۔  نعرہ لگا، شعیہ سنی کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے انکو مارا، انہوں نے انکو مارا، اور جنگ جاری ہے۔  جسکو موقع لگتا ہے وہ دوسرے کی کٹ اور کُٹ لگانے سے بلکل نہیں چوکتا۔
پاکستان شریف بن گیا، قلعہ اسلام کا۔
پہلے تو بنگالی اور غیر بنگالی ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہوئے۔ فائدہ اٹھایا انڈیا نے جنرل نیازی نے 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈال دیئے۔

اسکے بعد قادیانی الگ کرکے واجب القتل قرار پائے۔
اب شعیہ سنی سے ترقی کرکے بریلوی دیوبندی ہوگئے اور آپس میں جھگڑرہے۔ فسادات کررہے۔  ایک کہتا ہے میں اسکو چھوڑوں گا نہیں،  دوسرے اسے تلاش کررہا ہوتاہے۔
اب قتال کی شکل تبدیل ہوگئی ہے، جس کا دل کرے وہ کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا دے اور پھر اسکی گردن ٹوکے سے الگ اور خون معاف۔  سارے مولوی ٹوکے بنے ہوئے۔

یہ بات بھی پرانی ہوگی، وقت گزر گیا۔ توہین صحابہ کا الزام لگا کر بھی آپ کسی کو ککڑکٹ لگا سکتے ہیں، یہ نسخہ بھی قدیم قرار پایا اب آپ کسی پیر صاحب کی توھین کے مرتکب قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ حتٰیکہ آپ کو بادشاہ خان کی توہین کا مرتکب قرار دے کر بھی واصل جہنم کیا جاسکتا ہے۔

ان دنوں دو مہنگے مہنگے کرتوں والی سرکار آپس  میں گھتم گھتاہیں۔ اور ساری مسلکی پارٹیاں اپنے اپنے "وٹ"  نکال رہیں۔  بندہ جائے تو کدھر جائے، معافی مل سکتی ہے، معافی نہیں مل سکتی، کرلو جو کرنا،  کل ایک صاحب  کہہ رہے تھے کہ با ت دور تک جائے گی۔
بندہ پوچھے بھائی جان اگر لڑنا ہی ہے تو لڑو مگر کرتے تو سستے کرتے جاؤ۔

لڑمذہب کے نام پر رہے سب کے سب اور مذہب یہ کہتا ہے کہ " ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کرو"۔ مگر اس طرف کس نے دھیان دینا ،

ویسے غزہ میں آج بھی دو میزائل مارکر ایک بڑی بلڈنگ گرادی دی گئی۔ جانے کتنے لوگ مرے ہونگے، ان میں مرد عورتیں، بچے، سب نہتے۔ یہ بھی یاد کروادوں کہ غزہ میں سارے مسلمان ہیں محصور اور مارنے والے یہودی، یہودی بھی نہیں زیونسٹ۔

کافرسب کو مسلمان کرکے اپنے   ”وٹ   نکالی جارہے "  اور مسلمان  ایک دوسرے کو  "کافر قرار دے کر اپنے وٹ نکالی جارہے"۔




مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 01, 2014

الزام لگانے کا پروگرام

قائدہ کیا ہے؟؟ 

جو کسی پر الزام لگائے وہ اس کا ثبوت دے کہ میرا الزام سچا ہے یا پھر ملزم کو اپنی بےگناہی کا ثبوت دینا ہوتا ہے؟؟


اگر ملزم کو ہی اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا ہے تو پھر کوئی آدمی بھی کسی پر الزام لگا دے اور جواباُ اگلا اپنی بے گناہی ثابت کرکرکے پھاوا ہوجائے۔ 

ہمارے ملک میں جو انصاف کا دور دورہ ہے وہ ایسے ہی ہے۔ الزام لگانے والا مزے کرتا ہے اور ملزم جس پر الزام لگایا جاتا ہے وہ بچارہ کھجل ہوجاتاہے۔ 
جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں اگر آپ کسی پر الزام لگاتے ہیں اور ثابت نہیں کرسکتے تو جو اسکا جو نقصان ہوتا ہے وہ اور مقدمہ کی فیس، پلس اس الزام کے سزا، الزام لگانے والے پر ہوتی ہے۔ پس کوئی بندہ ایویں ای کسی کو رشوت خور یا چور، یا فراڈیا نہیں کہہ دیتا منہ اٹھا کے۔ جب تک ثبوت نہ ہو۔

اور اگر ثبوت ہوں تو پھر ملزم کا بولو رام ہی سمجھو

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 30, 2014

تجاوزات



دکان کے آگے فٹ پاتھ پر تھڑا بنانا 
ریڑھی لگانا چھاپہ لگانا
رستہ بند کر دینا
یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔
عموماً عوام بھی کچھ کہے بغیر موٹر سائیکل ، گاڑی ، گدھا گاڑی سے جان بچاتے ہوئے سڑک پر سے گذر جاتے ہیں۔
میں نے ایک کارنر والی دکان کے سامنے کے رستے پر تجاوز کرکے بنے ہوئے تندور کو دیکھا اور ساتھ والے سے کہا کہ ادھر سے نکلنے والے کو سیدھی طرف سے آنی والی گاڑی یا پیدل لوگ نظر نہیں آتے یہاں ایکسیڈنٹ ہو چکا ہو گا۔اگر نہیں ہوا تو ضرور ہو گا۔
سننے والے نے کہا تھا ہے تو غلط بات لیکن آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا،اس لئے ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں۔
بس میری "کالی" زبان" اور اسی دن بچوں کو سکول لانے لے جانے والی گاڑی نے گاڑی افورڈ نہ کر سکنے والے بچوں میں گاڑی اسی جگہ گھسیڑ دی۔
ہاہا کار ہائے ہائے مچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں دیکھ رہا تھا کہ تندروچی مزے سے روٹیاں لگا رہا تھا۔ کچھ بچے چوٹیں سہلاتے گھروں کو واپس جارہے تھے جو لمبے پڑے چیخ رہے تھے انہیں آس پاس کے لوگ گاڑی لاؤ اوئے۔
زخمی بچوں کو اسپتال لیکر جانا ہے کا شور مچا رہے تھے۔
آپ اس طرح کے حادثے کے بعد لوگوں کی بے لوثی اور خلوص کے ساتھ "متاثرین" کی مدد دیکھ کر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔
دیکھو ہماری قوم "زندہ" ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
یہاں جاپان میں میرے گھر کے بالکل پیچھے ایک سیون الیون فرنچائیز کنوینینس سٹور ہے۔ لوکیشن اچھی اور کارنر پر ہونے کی وجہ سے اس کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
پارکنگ بڑی ہونے کی وجہ سے ہیوی ڈیوٹی ٹرک رات کو آتے ہیں اور ڈرائیور رات کو گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے ہیں۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ان ٹرکوں کے انجن سٹارٹ رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم رات کو کھڑکی کھول کر سو نہیں سکتے۔
اس کے علاوہ بھی قریبی علاقے کے لوگ جو کہ اس سٹور سے خریداری کیلئے آتے ہیں ہمارے گھروں اور باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
بچے اور آجکل ہمارے علاقے کچھ "دیسیوں" اور دیگر غیر ملکیوں کے بچے ہمارے اور پڑوسیوں کے باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
سٹور کی پچھلی طرف کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا اور گیند ہماری دیواروں سے ٹکراتی تھی،
بچے گیند اٹھانے کیلئے ہمارے باغیچے میں گھس جاتے تھے۔ کھا پی کر کچرا پھینک دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے گندگی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
ایک دو بار بچوں کو منع کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔
تنگ آکر سٹور کے مالکان سے شکایت کی تو سٹور کے مالک کے نے ہفتے میں ایک بار صفائی کرنا شروع کر دی۔
ہم مزید تنگ ہوئے تو "سٹور کی فرنچلائیز کمپنی" سے کہا کہ کچھ کیجئے ورنہ ہماری مجبوری ہے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔
شکایت کے فوراً بعد کمپنی والے آئے معذرت کی اور کہا کہ جتنی جلد ہو سکا تحقیق کرکے ہم مسئلہ حل کر دیں گے۔
دو ماہ بعد آج آئے "تحائف" ساتھ لائے اور ہمیں انتہائی مودبانہ انداز میں "رپورٹ" پیش کی کہ 
سٹور کی پچھلی طرف چاردیواری بنائی جائے گی اور چاردیواری بھی وہ والی جس سے "شور " کو دبا کر ختم کر دیا جائے گا۔
تاکہ آپ کی راتوں کی نیند پُرسکون رہے۔ اتنا عرصہ جو آپ کو تکلیف ہوئی ہم اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ 
ساتھ میں انہوں نے نقشہ اور تعمیراتی پلان کی تفصیل بتائی ، اخراجات بتائے اور ہماری رضامندی کیلئے ایک عدد کنٹریکٹ پر دستخط کروائے۔
اخراجات جو آنے ہیں پاکستانی تقریباً ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہے جو کہ جاپان میں بھی خطیر رقم ہی ہے۔
صرف تین گھروں کیلئے جو کہ سٹور کے "پڑوسی" ہیں صرف ان کی راتوں کی نیند کے سکون اور دیگر پریشانیوں کیلئے "ایک کروڑ" کی رقم لگائی جا رہی ہے۔ 
یہ صرف قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے ورنہ جاپانی تو ایسی وحشی قوم تھی کہ جنگ میں کھانے کو نہ ملنے کی وجہ سے بندے بھون کا کھا جاتے تھے اور وہ "خیال" کرکے کہ "جاپانی" نہیں کھانا۔
کسی دوسری قوم کا ہے تو کھانے میں کو حرج نہیں 

اور میری قوم کے لوگ دوسری قوم کیطرف دیکھتے ہی نہیں پہلے جس پر "ہاتھ" پڑے اسے ہی کچا چبا ڈالتے ہیں۔۔
رو عمران رو
گو نواز گو 

  بشکریہ، محترمی و مرشدی یاسر خوامخوہ جاپانی مذلہ علیہ و عفی اللہ عنہ
آپ جناب نے اپنے بلاگ پر چھاپنے کی بجائے ادھر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرماکر راقم الحروف کو عزت بخشی۔ 
گو نواز گو، 
رو عمران رو



مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 25, 2014

کیکٹس کے پھول اور محبت

کیکٹس کو ہمارے ہاں تھوہر ہی کہا جاتا ہے، شہدہ سا خود رو پودا، جسکی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی فائدہ نہ نقصان،  انگریزی  میں اسے کیکٹس کہا جاتا ہے فوراُ ماڈرن ہوکر گملے اور ڈرائینگ روم میں چلا جاتا ہے اٹالین اسکو  pianta grassa چربی والا پودا بھی کہتے ہیں

تھوہر یا  انڈین  انجیر  cactus indica المشہور چھتر تھوہر، ہمارے ہاں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم۔ یہ چوڑے اور موٹے موٹے پتے، قدآدم سے بھی بلند، اور انگل انگل کانٹے، بس چبھے کہ چبھے۔
میرا کیکٹس سے پہلا تعارف ہوا جب دریا کے کنارے پھسل کر تھوہر کے کانٹے چبھوا لئے ۔ کانٹو ں کا درد اور چبھن بھی اور چچا کی گالیاں بھی کہّ اکھاں کھول کر چلیا کر کھوتیا "    ۔۔۔تب تھوہر ہی ہوتی تھی اور دریا کے کنارے کسی ظالم نے لگا دی تھی کہ کٹاؤ سے باز رہے اور لوگ اوپر کے کھیت میں  سے راستہ بنانے سے باز رہیں،  مگر راستہ بھی بنا اور تھوہر بھی رہی،  لوگ بھی چلتے رہے اور کانٹے بھی چھبتے رہے۔
لوگ  گزرتے بھی رہے اور گالیاں بھی دیتے رہے۔ ابھی تک دے رہے ہونگے۔  تھوہر سخت جانہوتا ہے، خشکی اور دھوپ میں خوب بڑھتا پھولتا ہے اسی لئے مئی جون  میں جب گرمی سب کچھ جھلسا دیتی تو انکے ہاں پھول کھلے ہوتے ہیں، ساون بھادوں میں جب سب کچھ ہرا بھرا ہوتا ہے انکے ہاں موت پڑی ہوتی ہے، کہ کیکٹس یا تھوہر کی جھڑہیں زیادہ لمبی نہیں ہوتی اور پتے بھی نہیں ہوتے یا بہت کم،  اور ان  میں چربی  طرز کا لیس دار مادہ بہت ہوتا ہے، اسلئے نمی اور اسے پیدا ہونے والی پھپوندی انکےلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
پھول انکے بہت خوش نما ہوتے ہیں اور پیلےیا سرخ ، گلابی  رنگوں میں ہوسکتے ہیں، دہکتی ہوئی جون کی دوپہر میں دمک رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر موٹے سے جامنی رنگ کے پھل بھی لگتے ہیں  جسکو انڈین انجیر  ficus indica   کہا جاتا ہے، بس تو جنابو  آجکل ہورہی اسکی مشہور وزن کم کرنے لئے، آج بھی ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ تین پھل روز کھانے سے آپ چھٹیوں کے دوران بڑھایا ہوا وزن ایک ماہ میں کم کرلو۔  لیس دار مادہ  کی موجودگی اسکے قبض کےلئے   مفید ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
تھوہر کی دوسری قسم جو میرے علم میں تھی وہ تھی ڈنڈا تھوہر، وہی نہ پھل نہ پتا، بس ڈنڈا سا اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ نہ کام  نہ کاج، لگے رہو۔


کیکٹس سے  میرا  دوسرا  اور گہرا تعارف
کیکٹس گرانڈی فلورس cactus grandiflorus  ، یہ چھوٹے سائز کا پودا ہے، پودا کیا جی بس ٹہنیاں ہی ہوتی ہیں، اور کانٹے، یا پھر سال بھر میں چند پھول ، جو  اکتوبر کی بھیگی راتوں میں  کھلتے ہیں۔  جو میکسیکو کے صحرا میں پہلے پہل دیکھا گیا پھر اسکو  بربر اور شمالی فریقہ سے صحراؤں  میں دیکھا گیا۔گرانڈی فلورس کا مطلب ہے بڑے پھول والا، حقیقت بھی یہی ہے کہ کیکٹس کے جو بڑے بڑے پھول ہوتے ہیں ان میں اسکا شمار ہوتا ہے، رات کو کھلتا ہے اور صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔ پھول کی رنگت سفید دودھیا ، گلابی مائل ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک سی پتیاں ہوتی  ہیں، ہلکی سی خوشبو ہوتی ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ جہاں پر یہ پھول کھلا ہو اس کے ادھ کلومیٹر میں موجود درد دل کے مریض سکون محسوس کرتے ہیں، ویسے ہومیوپیتھک معالجات میں اسے درد دل کے واسطے ہی استمعال کیا جاتا ہے، اور ایسی صورتوں میں جب دل پر بوجھ اور دل کے ارد گرد سختی اور جکڑن محسوس ہورہی ہو، سر پر فشارخون کی وجہ سے ایسا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، جیسے لوہے کا شکنجا کسا ہوا تو۔ اس کا مدر ٹنگچر مفید ہوتا ہے۔

جب اس کیکٹس کے بارے سب کچھ پڑھ چکے ڈاکٹر منظور ملک صاحب سے ، تو کچھ مزید علم کی طلب ہوئی۔  ایک نرسری میں گیا اور اس نے بتایا کہ بادشاہو کیکٹس تو  کوئی سینکڑوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ اچھا؟؟  تو پھر اس نے کہا کہ مجھے تو اتنا علم نہیں جمعرات کو ناصر صاحب آتے ہیں انکے پاس کوئی تین سو قسم کا کیکٹس ہے۔  پھر نرسریاں تھی اور ہم تھے۔
بس ناصر صاحب سےملاقات ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ بس وہ  ساتھ ساتھ مجھے اپنے کیکٹس کے بچے بھی دیتے رہے، اور میں بھی پھر ماہر ہوگیا، کہ ادھر سے ادھر سے ٹہنی  شاخ، پکڑ لاتا اور لگا دیتا اپنے گملوں میں،سن ستانوے میں جب پاکستان چھوڑا تو کوئی سوا تین سو کے قریب  کیکٹس بڑے چھوٹے میرے گھر میں تھے۔

لو بتاؤ ہے کوئی کرنے والی بات۔ا

ان میں سے آدھے سے کم خریدے ہوئے تھے اور باقی تبادلہ اور تحائف۔  اور کچھ دیکھتے بھالتے جیب میں ڈالے ہوئے، جب کوئی پیسے لے کر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو ایک زیربچہ تو پھر؟؟؟ آپ ہی بتاؤ۔

میرے پاس ایک کیکٹس تھا بلکل گول سا، اوپر ابھار موٹے موٹے ہر ابھار پر کانٹے اطراف کو مڑے ہوئے۔ اسکے اوپر ایک پھول کھلتا تھا، جامنے رنگ کا، مگر کیا ہی نازکی اور چمکیلی  رنگت۔  اسکا نام مجھے کبھی بھی یاد نہیں ہوسکا۔

اٹلی سے میری واپسی پہلی بار ہوئی گھر میں تو دوسرے دن ہی ادھر کلی بنی اور چوتھے دن پھول کھل پڑ،  اماں جی کہنے لگیں پتر پتا ہے اس کیکٹس نے گزشتہ تین برس پھول نہیں  دئے ، ابھی تو آیا ہے تو یہ جیسے خوشی منا رہا ہے۔ پھر یہی ہوتا، جس ماہ میں پاکستان جانا ہوتا  پھول دیتا، جس برس نہیں جانے ہوا پھول نہیں آئے اس پر۔  جس سال دو بار جانا ہوا دو بار پھول۔ گویا پکی محبت کا اظہار۔
ابا جی پر اکٹس  کا حملہ ہوا تو مفلوج ہوگئے۔ ایسے میں بابا صادق نے کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے تھوہریں گھر میں رکھی ہوئیں اور تھوہر دوزخ کا  درخت ہے، پس اس وجہ سے یہ ساری مصیبت آئی ہوئی ہے آپ کے اوپر۔
ہوا یہ کہ ابا جی نے پھنکوا دئے سارے کیکٹس باہر، مجھے خبر ملی تو میرے آنسو نکل گئے۔  ایک شوق تھا، ایک محبت تھی جو سارا دن ولقد ر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی پڑھنے والوں کی نظر ہوگیا۔
مان لو کہ پودوں میں دل ہوتا ہے۔ جیسے چھوٹے بچے آپ کو پہچان لیتے ہیں، چند دن  یا ہفتوں کا بچہ مجھے سے مانوس ہوتا ہے اور کھیلنا شروع کردے گا، ایسے ہی کیکٹس بھی مجھے سے مانوس ہیں۔

پھر بہت سے کیکٹس برازیل میں دیکھنے کو ملے ، کوئی ہزار ہا قسمیں، پوچھو کچھ نہیں ، پوری نمائش ہی تھی۔ میں گھنٹوں گھومتا رہا  اور یاد کرتا رہا۔ کہ یہ بھی اپنے گھر میں تھا، یہ بھی اپنے پاس تھا۔ جیسے آپ کتابیں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ پڑھ چکے، یہ گھر میں ہے۔ یہ فلاں جگہ پر دیکھی تھی۔  بس ایسے ہی۔

ادھر ایک میرے دوست ہیں اٹالین آلےساندرو، اسکے گھر گیا تو کیکٹس لگے دیکھے تو اجازت لے کر دیکھنے چلا گیا۔ وہ بھی میرے ساتھ ، تھا میں آپے آپ ہی اسکو بتاتا چلا گیا۔ اسکے پھول اس قسم کے ہوتے ہیں، اسکے اس رنگ کے، اسکے پھول کی جسامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ میرے پاس تھا، یہ بھی ، یہ بھی۔ یہ تو بہت ہی زیادہ تھے۔ یہ ایکی نوپسی  Echinopsi تو کتنی قسموں کے تھے میرے ادھر۔
اور پھر دل کو بوجھل بوجھل سا لئے واپس آگیا۔

چوتھے دن آلے ساندرو کا فون آگیا، آجاؤ فوراُ تمھیں ایک چیز دکھانی ہے۔ گیا۔ تو ؑایکینوپسی کا بڑا سا پھول تھا۔ کہنے لگا عام طور پر یہ اگست میں پھول دیتا ہے اور بس۔ مگر اس بار حیرت ہے کہ اس نے ستمبر میں بھی پھول دیا اور باقی کے بھی تیاری کررہے ہیں۔
یار تو آتا جاتا رہا کر۔



تب مجھے یاد آیا کہ میں نے وہ  میری آمد کی خوشی منانے والے کیکٹس کی کہانی سنائی تھی اسے، سادہ  بندہ ۔ یقین کرگیا۔
ایسا کب ہوتا ہے۔ پودے تو بے جان ہوتے ہیں، انکو کیا احساس ، کوئی آئے کوئی جائے انکو کیا فرق؟؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش