سوموار, فروری 13, 2006

شاہ کي ڈائيري

“جن نکالنا“ کوئی آسان کام ہوتا تو ہر بندہ “جن نکالتا پھرتا“۔ یہ تو جن سے پوچھے یا پھر جس کا “جن نکلتا“ ہے اس سے۔ کیوں جن کا ایک ٹھکانہ گیا اور جس کا جن نکلتا ہے اسکو دوہری ضرب لگتی ہے اول ناک میں مرچوں کی دھونیوں کی اذیت اور دوئم ہماری فیس۔ آج کل دھندے میں‌مندا چل رہا ہے کیوں کہ آمدن کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جن نکلوانے میں دلچسپیاں کم ہورہی ہیں، شاید اسکی وجہ اسکولوں اور تعلیم کا عام ہونا ہی ہو، میں تو کہتا ہوں کہ اس اسکولوں کو “طبیلہ“ بنا دینا چاہئے بلکہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ان کو تالا ہی لگا دیا جائے کہ ان میں جنات ڈیرے ڈال سکیں اور ہمارے “ دھندہ کا مندا“ ختم ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کسی زیادہ آمدنی والے ملک چلا جاؤں۔ یورپ وغیرہ اور ادہر گوروں کے جن نکالوں۔ ویسے گوریوں کے جنات کا نکالنا کچھ اور ہی لطف ہوگا۔ (ہمارے دوست شاہ جی کی ڈائیری کا ایک ورق مؤرخہ 30 جون انیس سو ننانوے) ‌

2 تبصرے:

  • WiseSabre says:
    2/13/2006 08:43:00 AM

    mara Gaun main larkio ka school ke amarat Jino ka maskan ka lia mashoor the

  • شعیب صفدر says:
    2/13/2006 07:31:00 PM

    آپ مدد کرے گے شاہ صاحب کي يورپ جانے (آنے) ميں آخر کو انہوں نے آپ کو اپني ڈائري کيوں دي اس لئے ہي نا!! کہ آپ ان کے ارادوں سے واقف ہو کر ان کي مدد کرے؟؟؟؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش