بدھ, دسمبر 28, 2005

احباب کا شکریہ

میں اپنے ان سارے مہربانوں و دوستوں کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے آج مجھے سالگرہ پر مبارک باد کے پیغام بعذریہ ای میل، ایس ایم ایس، اور فیکس روانہ کیئے اور انکا بھی جنہوں نے فون اور پوسٹ والوں کے پیسے کھرے کئے۔جملہ احباب کا نیک خواہشات اور دعاؤں میں یاد رکھنے کا بہت شکریہ۔
بالخصوصہ لنڈن سے اپنی بہت ہی محترم دوست بوچھی صاحبہ کا مشکور ہوں جنہوں نے کل رات کوہی ایک ایس ایم ایس کرکے مجھے بھی یاد دلا دی ورنہ میں تو ہمیشہ کی طرح بھولا ہوا تھا۔

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 26, 2005

اردو کا مستقبل

کوئی قوم دوسری زبان میں ترقی نہیں کر سکتی تو یہاں یورپ میں انہوں نے اپنے امیگریشن قوانین سے لے کر کرنسی تک ایک کرلی ہے زبان ایک نہیں کر سکے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ماہانہ رسالہ “اسپرانتو“ میں بہت سال پہلے تب میں پاکستان ہوا کرتا تھا پڑھا تھا کہ: “ یورپین پارلیمینٹ میں یورپ کی مشترکہ اور رابطہ کی زبان انگریزی کرنے کا بل پیش ہوا تو جرمنی کے وزیرِخارجہ نے نقطہّ اعتراض پر کہا تھا کہ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پورے یورپ میں صرف انگریز ہی درست بول سکیں اور وہ یونین کا اقتدار سنبھال لیں ایسا کبھی نہیں ہوگا“ تاریخ گواہ ہے کہ اہل اسلام نے اپنے علمی عروج کے زمانہ میں یونانی نہیں سیکھی بلکہ یونانی علوم کو عربی میں منتقل کیا، پھر جب اہلیانِ یورپ نے ترقی کی تو انہوں نے بھی عربی زبان جو علوم کا گڑھ تھی نہیں سیکھی مگر القانون کو اپنی زبانوں میں سترویں صدی تک پڑھایا۔ پس ہم کہہ سکتےہيں کہ کسی بھی غیر ملکی زبان سیکھنے کا مطلب قربانی دینا ہے اپنے معاشرے کی اور ثقافت کی۔ انگریزی سیکھنا کبھی معیوب نہیں مگر اسکے پیچھے پاگل ہوجانا اور اپنی زبان کو نیچ سمجھنا معیوب ہے
غیر ملکی زبان سیکھنا معیوب نہیں بلکہ اس کا اپنانا معیوب ہے۔ یہ بات آپ انگریزی کی واضع مثال سے خود ہي جانتے ہيں۔ آج کل کے دور میں انگریزی سیکھے بغیر جدید علوم پر دسترس حاصل کرنا ناممکن ہے لیکن بحیثیت قوم ترقی کرنے کے لیے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ہمیں اردو کو ترویج دینا ہوگی
میری ایک کزن پاکستان سے ہسٹو پیتھالوجی میں سپیشلائزیشن کر رہی ہیں، انہوں نے مجھےپاکستان سے روانگی پر کہا کہ بھائی مجھے سرجیکل پیتھالوجی کی ایک فلاں والی کتاب چاہیے لازماُ انگریزی میں مگر یہاں احوال یہ ہے کہ اٹالین میں وہ کتاب دستیاب ہے مگر انگریزی والی یو کے سے منگوانی پڑے گی اور ڈاک کا محصول بھی چارج ہوگا۔ یہاں پر انگریزی کتاب نایاب ہے مطلب انگریزی سکھانے والی تو بہت ہیں مگر انگریزی میں علم والی نہیں ہیں۔
پاکستان میں توبشمول اردو سب کی حالت ہی پتلی ہے، مگر ہندوستان میں بھی ایسا ہی دکھ رہا ہے۔ اور میرے خیال میں اسکی واحد اور پہلی وجہ اردو دانوں کی بے اعتنائی ہے، ہم اردو کی محبت میں دو غزلہ بلکہ سہ غزلہ بھی لکھ سکتے ہیں مگر جاوا کا پروگرام اردو میں ترجمہ نہیں کرسکتے۔ بولیں گے پنجابی اور لکھیں گے اردو، جبکہ علم انگریزی میں حاصل کریں گے تو اردو کا مستقبل تو لازم مخدوش ہوگا۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 22, 2005

موبائیل فون

ہمارے وطن عزیز پاکستان میں موبائیل فون تو عام ہوگیا ہے۔ مگر ہم نے اسے ایسے ہی لیا ہے کہ بس اتفاقاُ ہاتھ آگیا تو لے لیا، جیسے پاکستان ہر بندہ ہر جگہ پر موبائیل لئے پھرتا ہے۔ اور فون کی گھنٹی بجنے کی دیر ہے چاہے کتنی بھی اہم مجلس کیوں نہ ہو یا کوئی بھی اہم موضوع مگر فون پر جواب دینا ضروری ہے جبکہ باقی کے لوگ منہہ دیکھا کریں۔ ہمارے یہاں مساجد میں بھی دورانِ نماز موبائیل اکثر بج رہا ہوتا ہے اور صاحبِ فون اسے اس لئے بند نہیں کررہے ہوتے کہ اس سے نماز کو حرج ہوگا، بھلے باقیوں کی نماز کا ستیاناس ہوجائے، اور باقیوں کا بھی یہ حال ہے کہ بعد میں کوئی بندہ اسے کو یہ تک نہیں کہے گا کہ “ میاں کچھ خیال کرو“۔ میرا کافی دفعہ اتفاق ہوا ہے ادھر گرجوں میں جانے کا بھی، تو وہاں پر شاز ہی ہمیں موبائیل کی گھنٹیاں سننے کو ملتی ہیں، اسی طرح یہاں پر اٹلی میں ہسپتالوں کو بھی موبائیل سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ہستال ہوں یا مسجد ہم لوگ اخلاقیات سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سال کے آغاز میں اٹلی میں ایک نیا قانون آیا تھا کہ کسی بھی عوامی جگہ (دفتر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، بلڈنگ کی سیڑیاں، ریلوے اسٹیشن، ائرپورٹ اور دیگر بند جگہیں وغیرہ) پر سیگریٹ پینا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ جس پر 35 سے لیکر 350 یورو تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ اس دن سے میں نے نہیں دیکھا ہے کہ کسی بندے نے ان جہگوں پر سیگریٹ پیا ہو اور نہ ہی سنا ہے کہ کسی کو جرمانہ ہوا ہے۔ قانون بنا، صبح اخبار میں آیا اور پھر عمل ہوگیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اور یہ بھی کہ یورپ میں اٹالینز کو جاہل اور گنوار قوم قرار دیا جاتا ہے، میرے دوست ظہیر ہیں وہ شمالی اٹلی میں جرمن علاقے میں مقیم ہیں۔ بقول انکے جرمن یہ کہتے ہیں کہ اٹالین“ کھوتے“ ہیں اور انکو زندگی گزارنے کا شعور ہی نہیں ہے۔ ہمارے بارے میں جانے کیا کہتے ہونگے۔

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 05, 2005

گورا صاحب

شانی صاحب لندن کے سٹین سٹید ائیر پورٹ پر ہمارے استقبال میں موجود تھے۔ اور میں اور ”یوری” رات کے قریباُ بارے بجے وہاں جا پہنچے۔ برمنگھم کا سفر تین گھنٹوں میں طےکیا، گھر پہونچے، ہلکا سا ناشتہ کیا اور سو گئے۔ صبح آٹھ بجے اٹھے تو شانی صاحب ابھی تک بدستور خراٹے مار رہے تھے، خیر ہمارے نہانے دھونے تک کھٹک پھٹک سے انکی آنکھ بھی کھلی، ناشتہ کے بعد ہم لوگ جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر سے باہر نکلےتو دن کی روشنی میں معلوم ہوا کہ ہم تو گجرات کی ریلوے کالونی میں گھوم رہے ہیں۔ ساری سڑک پر دومنزلہ ایک جیسے سرخ اینٹ کے ایک چمنی والے مکان، دائیں ہاتھ کو درازہ اور بائیں کو ایک کھڑکی؛ جس میں لٹکتے ہوئے سفید پردے؛ سارے صحن کی ڈھیڑ فٹی دیوار اور ہر صحن میں ایک گلاب اور ایک ہی چیڑ کا درخت۔ بندہ اگر گھر کانمبر بھول جائے تو بخدا کبھی اسے تلاش نہ کرسکے۔ شانی صاحب کے گھر کی دیوار پر ایک خوبصورت بلی بیٹھی ہوئی تھی۔ میں ”یوری” سے کہا کہ بلی فوٹو کھینچ لو، پوچھنے لگا کہ تمہیں بلیوں سے بہت پیار ہے؟ نہیں بلکہ یہ فوٹو سند رہے گی اور بوقتِ ضرورت کام آئے گی۔ کہ یہ شانی صاحب کے گھر کو دوسروں سے متفرق کرنے والی واحد چیز ہے۔ اب واپسی پر اگر بلی کو کسی دوسرے نے چھیچھڑے ڈال دیے تو؟ بس سٹاپ کے پاس سکھوں کی دکان سے ٹکٹ خریدے، بس کے بنگالی ڈرائیور کو دکھا کر سوار ہوئے، ایک موٹی سی کالی سے معذرت کرکے اسکے ساتھ والی پر براجمان ہوا ہی تھا کہ ایک پاکستانی ٹکٹ چیکر آدھمکا۔ سلام لیکم، ٹکٹ دکھاؤ اور میں نے اسکے منہہ کی طرف دیکھتے ہوئے ٹکٹ سامنے کردیا۔ میری پچھلی نشست پرایک جوڑا غالباُ عربی میں کھسر پھسر کررہا تھا۔ شانی صاحب اشارہ سے بتا رہے تھے کہ یہ برمنگھم کی جامع مسجد ہے اور اسکا شمار یورپ کی بڑی مساجد میں ہوتا ہے اور اسکے ساتھ ہی ایک بڑا گردوارہ بھی ہے۔ اور میں ان سے پوچھ رہا تھا: سر وہ گورا صاحب نہیں ملے، کدھر ہوتے ہیں آجکل؟ شانی صاحب حیران ہوئے: کون سے ؟ وہی جنکے بارے میں ہم سے ہمشہ پڑھا اور سنا ہے کہ برطانیہ میں گورے ہوتے ہیں توکہاں ہوتے ہیں؟ شانی صاحب حسبِ عادت اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر بولے: ہم جو آگئے ہیں اب گوروں کا ادھر کیا کام؟

مکمل تحریر  »

جنرل نالج

جنرل نالج جسے معلوماتِ عامہ ترجمہ کیا جاتا ہے، انگریزی کا لفظ اور اردو میں دیگر بہت سے انگریزی، فارسی اور عربی الفاظ کی طرح مستعمل ہے بس یار لوگ اسے اردو کا حصہ ہی تو سمجھتے ہیں۔ جیسے کلاس فیلو کو۔ میرے دوست جمیل میرا تعارف کروائیں تو نہایب روانی سے جب یہ کہتے ہیں کہ ”یہ میرے کلاس فیلو ہوا کرتے ہیں جسے انگریزی میں ہم جماعت کہا جاتا ہے” اور واقعتاُ احباب اسکا نوٹس نہیں لیتے کہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ ہاتھ ملا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، تو میں اسکا بہت حظ اٹھاتا ہوں۔ میرے ایک اور دوست ہیں بلکہ بڑے پیارے دوست ہیں مولوی صاحب، اب وہ عام زندگی میں مولوی نہیں مگر مولویوں کے ساتھ انکی اٹھک بیٹھک ہونے اور اپنی نیچی داڑھی کی وجہ سے ”مولوی” کہلاتے ہیں۔ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں مگر علماّ کی محافل سے اس حد تک مستفید ہیں کہ عام دنیاوی بات کو بھی نہیں عالماُ انداز میں کر جائیں کہ آپ کو احساس تک نہ ہو۔ اگر آپ انکو ذاتی طور پر نہیں جانتے تو اندیشہ ہے کہ پہلی ملاقات میں آپ انکو بیت کی درخواست کر بیٹھیں مگر تیسری ملاقات میں پچھتائیں۔ بہت عرصہ پہلے کسی سفر میں ہم تین چار احباب تھے جن میں مولوی صاحب بھی شامل تھے تو واپسی پر انہوں نے جان تنگ کی ہوئی تھی اپنی باتوں اور فضول بحث کی وجہ سے ۔ ہماری گفتگور پھرتی پھراتی انگریز اور اسکی چالاکیوں کی طرف جانکلی ، اپنے عالمانہ انداز میں فرمانے لگے: یہ گورا جو ہے ناں یہ بہت شاطر اور چالاک ہے، دیکھی فیر گورے کی قدرت؟ جس نے لوہے میں سے پانی نکال دیا”۔ اب بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی تو دریافت کیا ”وہ کیسے؟”۔ فرمانے لگے ” لوجی سامنے کی بات ہے نلکا”۔ اور ہم مان گئے۔ بات سے بات نکلتی ہوئی فوج اور فوج کے جرنیلوں کی چل نکلی۔ اور میں نے ازراہ تفنن پوچھ لیا کہ” حضرت یہ جو انگریزی فوج کا جرنیل ہوا کرتا تھا ”جنرل نالج” یہ بڑا ظالم آدمی تھا، برطانوی راج کے دوران اسنے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو بہت تنگ کردیا تھا۔” حضرت صاحب نے فوراُ گفتگو کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمانے لگے: ”ہاں یار۔۔ میں نے پہلے بھی اسکا بہت ذکر سنا ہے اور میرا بھی خیال ہے کہ واقعی یہ جنرل نالج بہت ظالم اور خبیث تھا”۔ مولوی صاحب جنرل نالج کو حقیقت میں قابض برطانوی فوج کا جرنل سمجھ رہے تھے اور برا بھلا کہ رہے تھے، ادھر ہمارا ہنس ہنس کر یہ حال ہوگیا تھا کہ گاڑی سائیڈ پر روکنی پڑی۔

مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 04, 2005

منافقت

ہمارا مسلم قوم کا ایک عظیم المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایک اہم فرض کو ترک کئے ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ “ علم حاصل کرنا ہر مسلمان عورت اور مرد پر فرض ہے“ مگر ہمارے علماء نے اسے فرضِ کفایا بنا دیا۔ حساب، الجبرا، لوگرتھم، جراہی، کیما وغیرہ کے علوم مسلمان سائینس دانوں کی مہربانیاں ہیں جنکا آج بھی یورپ کے نصاب اعتراف کرتے ہیں۔ مگر دوسری طرف آج ہم کہتے ہیں کہ جو حساب میں تیز ہو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا، کسی بھی شعبہ میں مہارت ایک بندہ کرلے تو سب بری۔ عورتوں کی تعلم بند، اور گائناکالوجی کو غیر شرعی قرار دیا جاتا ہے۔ رونا تو اس بات پر آتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے جب ساری دنیا ان پڑھ تھی تو کہا جاتا ہے کہ “ جو قیدی دس پچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے اسکا جزیہ ادا ہوا“۔ فن تحریر میں ایک انقلابی ترقی آتی ہے اور دنیا آج بھی انسانی ترقی کے ادوار میں طلوع اسلام کو ایک اہم موڑ تسلیم کرتی ہے مگر آ ج جب لوگ چاند پر پہنچ چکے ہیں اور ادھر بستی بسانے کے چکر میں ہیں تو ہم اسکے دکھنے اور نہ دکھنے پر اتفاق نہیں کر سکتے۔ کیا یہ ساری منافقت کی نشانیاں نہیں؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش