ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

جمعہ, جون 05, 2015

چاند چڑھانے پر جھگڑا

آج کا جمعہ کا خطبہ بہت لمبا تھا۔ مولوی جی نے سارا وقت چاند دیکھنے کےساتھ ساتھ سورج اور چاند کے اپنے مقررہ محور میں رہنے کی آیات و احادیث  بیان فرمائیں۔

انتشار امت کا ذکر فرمایا۔ چانددیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید کرنے والی حدیث کو بیان فرما کراجہتاد امت کا بیان بھی فرمایا، اور پھر سائنسی ترقی کا بھی بیان فرمایا۔ امت مین انتشار پھیلانے سے سختی سے منع کیا، پھر فرمایا کہ علماء یورپ کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا روزہ 18 جون کو بروز جمعرات ہوگا انشاء اللہ۔ تو جناب تمام اہل اسلام کو شعبان کی ساعتیں مبارک اور من تقبل رمضان۔


ہیں جی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اجتماع امت میں خیر ہے۔ امت کو چاہئے کہ علماء کے اس فیصلہ پر جمع ہوجائے۔ ہم کسی ملک بادشاہ یا حکمران کو نہیں مانتے۔

ہیں جی۔

پس ثابت ہوا، اجتماع امت صرف وہ ہے جس میں امت المولبیان الیورپ کے پیچھے چلے۔ نہ کہ امت کا اجتماع اس حدیث مبارکہ پر ہے کہ چاند دیکھو اور روزہ رکھو چاند دیکھو اور عید کرو۔ نہ نظر آئے تو قیاس کرلو۔

پاکستان میں پھر بھی کچھ نہ کچھ تردد کرتے ہیں کہ کچھ الموبیان القدیم  جو یہ موٹی سی دبیز شیشوں والی عینک لگائے موٹے حرفوں والا قرآن مجید پڑھتے ہیں، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھ رہے ہوے ہیں، جبکہ حالت انکی یہ ہوتی ہے انکو اپنی عینک تک دکھائی نہیں دیتی۔ 
بندہ کہے مولانا جی کسی جوان " منڈے " کو ہی دوربین دے دو، شاید اسکو چاند نظرآبھی جائے۔ مگر یہ شک  ہی کرتے  ہیں کہ اس نے ضرور ساتھ والی چھت پرچاند دیکھا ہوگا۔ 

وللہ اعلم میں کوئی عالم دین نہیں ہوں مگر دین کے معاملے میں  المولبیان کے پیچھے چلنے کی بجائے سنت نبویﷺ پر عمل کرنا بہتر سمجھتا ہوں، چاند دیکھو، نہ نظرآئے تو کیلنڈر دیکھ لو ، یا المولبیان کے پیچھے چل پڑو۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 29, 2014

سفر نامہء پیرس ۔ میلان سے پرواز

میلان ائیرپورٹ  کا احوال
یورپمیں رہنے اور کئی بار نیت باندھنے کے باوجود پیرس نہ جا سکے اس برس  پیرس میں منعقدہ  فارماسیوٹیکل کی ایگزیبیشن  میں  جب کمپنی نےاسٹینڈ لگانے کا  اور کرڈالا  مجھے فون ، کہ خان صیب  ادھر چلو ہمارے ساتھ، آپ کی زبان دانیوں کی ضرورت ہے۔
فلائیٹ  اور ہوٹل کی بککنگ کی رسیدیں بعذریہ ای میل وصول ہوگئیں۔

ہم پانچ بندے تھے، کمپنی کا ڈائیریکٹر ، سیلز مینجر  انکی سیکرٹریز اور راقم
میری ایزی جیٹ کی فلائٹ تھی۔ فلائیٹ سے چند دن پہلے آن لائن بورڈنگ کرنی  تھی،  ساتھ میں ہوٹل کو چیک کیا گیا گوگل میپ پر تو علم ہوا کہ ہوٹل تو چارلس دے گال ائرپورٹ سے 30 کلومیٹردور "بوبینی  Bobigni "  کے علاقہ میں ہے، جبکہ ایگزیبیشن  چارلس دے گال سے ٹرین کے پانچ منٹ کےسفر پر ہے۔مطلب یہ تھا کہ مجھے پیرس اورلی سے ہوٹل پہنچنے تک پورا پیرس گزر کرجانا پڑے گا۔  ہت  تیرے کی۔ ۔ میلان کی ائیرپورٹس سے تو خیر واقفیت ہے پرانی سی۔ مگر پھر بھی اپنی پھرتیوں اور لیٹ نہ ہوجانے سے بچنے کو تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر تھے۔

یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے کہ جب آپ جلدی نکلیں تو سب ہی جلدی نکل آتے ہیں اور آپ وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، جب آپ لیٹ ہوں تو ٹریفک کے اشارے تک سرخ ہوئے  آنکھیں دکھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رک جا۔
میری ایک بجے فلائیٹ تھی اور  میں گیارہ بجے ائیر پورٹ پر تھا۔ ہے ظلم کہ نہیں۔

اب وقت گزارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائیل اور فیس بک۔  میلان کی  Milano"لیناتے Linate" ائیرپورٹ پر مفت وائی فائی تھی۔  مگر ہونا کیا تھا , وہی جو ہوا۔ بیٹری جواب دے گئی۔
اب یار لوگوں نے چارجرکا  "جغاڑ" لگانے کا سوچا،  ادھر اُدھر  دھیان فرمایا تو علم ہوا کہ ابھی ترقی میں کچھ کمی ہے وائی فائی تو فری کردیا ہے انہوں نے مگر چارجنگ کے بارے نہیں سوچا۔  مطلب گورا  رہ ہی گیا۔
پوچھتے پوچھتے    معلوم ہوا کہ Europa Assistance  والوں کے کاونٹر پر پتا کروبس پھر ہم پہنچ گئے۔
ادھر ایک خاتون بہت خوش اخلاق و خوش شکل ،  میرے فون چارج  کرنے کی اجازت مانگنے پر وہ مسکراہتی ہوئی اپنی سیٹ سے اٹھیں اور میرے سامنے ہی ایک گول سے کاؤئنٹر پر بنے سوئیچ بورڈ کو دکھاتے ہوئے  فون چارج کرنے کی دعوت دی۔
اب میرے پاس تقریباُ ایک گھنٹہ تھا اور لالچ بھی کہ فون پورا چارج ہوہی جائے ۔
ویٹنگ لاؤنج میں اکا دکا بندہ گھوم رہا تھا۔  لوگ تو فلائیٹ کے وقت پر ہی آتے ہیں، کوئ  میری طرح  "ویلے" تھوڑی ہیں کہ گھنٹوں پہلے ہی آجاویں۔
چند منٹوں بعد وقت گزاری کےلئے خاتون سے اسکی سروسز کے بارے پوچھنا شروع کردیا ، مقصد ایویں چسکے لگانا اور وقت گزارنا تھا،
مگر نتیجہ الٹا نکلا ، خاتون نے بہت ہی محبت سے اور مسکرا ہٹیں بکھیرتے ہوئے اپنی سروسز بیان کرنی شروع کردیں,  اور ایسے  طریقے سے بیان کیں،  کہ بس معلوم تب ہوا جب میں اس سے اپنے پیرس کے اسٹے کی انشورنس کروا چکا تھا۔ چھ دنوں کی آٹھ  یورو  میں۔ 
جب میں نے فارم پر اپنی قومیت پاکستانی لکھی تو فوراُ بولی " اچھا تو آپ بھی غیرملکی ہی ہین؟"
 میں :   ہیں، ہاں، میں بھی کا کیا مطلب؟
وہ: "مطلب یہ کہ میں بھی غیرملکی ہوں اور آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ غیرملک میں جاکر رہنا اور سیٹنگ بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔"
میں : جی، ایسے ہی ہے۔ آپ کہاں سے ہین؟؟ میں تو آپ کو اٹالین سمجھے بیٹھا تھا
وہ: " ارے نہیں ، میں پولینڈ سے ہوں۔ کراکوو سے ۔  اور میرا نام  "صوفیہ" ہے۔
میں: ہیں،  اچھا استاد یہ تو "پولی " ہے،  مجھے اپنے علی حسان کی پولیوں کے بارے میں سنائی گئی ساری کہانیاں یاد آگئیں۔
اور چونکہ غیر ملکی سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں، تو ہم فوراُ  آپ سے تم پر آگئے، اٹالین لسانیات کے مطابق  آپ دوری  اور تم قربت کی علامت ہے۔  "جیلس ہونے کی مطلب حسد کرنے کی ضرورت نہیں"، یہاں قربت سے مرآد انگریزی والی فرینکنس ہے۔
ایویں  اسے دعوت دی کہ میں تو کافی پینے کے موڈ میں ہوں، اگر تم چاہو تو میں تمھیں آفرکرتا ہوں۔
وہ ۔۔۔ لو یہ بات، بہت شکریہ، ابھی میں نے کافی پی نہیں بس سوچ ہی رہی تھی۔ چلیں پھر؟؟
میں دل میں علی حسان کو اپنا پیرومرشد قرار دیتا ہوا چل پڑا ادھر کافی بار پر۔  وہاں پر دو کالی زہر کافی  (بقول اپنے میاں سلام شانی صاحب کے)   کا کہا تو اگلے نے پوچھا۔ تو آپ ادھر سروس میں ہیں، میرے بولنے سے پہلے  صوفیہ نے ہاں میں مونڈی ہلائی ، کاوئنٹر مین کی طرف سے ایک یورو ساٹھ سینٹ کی پرچی تھما دی گئی۔ جبکہ عام طور پر ائیر پورٹ پر کافی کی قیمت اڑھائی یورو فی کس ہوتی ہے۔
پس  اس قول پر میرا  ایمان پکا ہوگیاکہ ہر جو بھی آتا ہے اپنا رزق لاتا ہے۔ اگر میں اکیلا کافی پیتا تو اڑھائی یورو دیتا۔ ادھر ڈیڑھ یورو دئیے اور کمپنی بھی ساتھ میں۔ مگر یہ یادکرادینا بھی مناسب ہے کہ مہمان  جسے آپ کافی آفر کررہے ہیں وہ ہو جس کے گلے میں ائیرپورٹ کا ٹیگ ہو۔ ورنہ اڑھائی کو پانچ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 


مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 25, 2014

کیکٹس کے پھول اور محبت

کیکٹس کو ہمارے ہاں تھوہر ہی کہا جاتا ہے، شہدہ سا خود رو پودا، جسکی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی فائدہ نہ نقصان،  انگریزی  میں اسے کیکٹس کہا جاتا ہے فوراُ ماڈرن ہوکر گملے اور ڈرائینگ روم میں چلا جاتا ہے اٹالین اسکو  pianta grassa چربی والا پودا بھی کہتے ہیں

تھوہر یا  انڈین  انجیر  cactus indica المشہور چھتر تھوہر، ہمارے ہاں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم۔ یہ چوڑے اور موٹے موٹے پتے، قدآدم سے بھی بلند، اور انگل انگل کانٹے، بس چبھے کہ چبھے۔
میرا کیکٹس سے پہلا تعارف ہوا جب دریا کے کنارے پھسل کر تھوہر کے کانٹے چبھوا لئے ۔ کانٹو ں کا درد اور چبھن بھی اور چچا کی گالیاں بھی کہّ اکھاں کھول کر چلیا کر کھوتیا "    ۔۔۔تب تھوہر ہی ہوتی تھی اور دریا کے کنارے کسی ظالم نے لگا دی تھی کہ کٹاؤ سے باز رہے اور لوگ اوپر کے کھیت میں  سے راستہ بنانے سے باز رہیں،  مگر راستہ بھی بنا اور تھوہر بھی رہی،  لوگ بھی چلتے رہے اور کانٹے بھی چھبتے رہے۔
لوگ  گزرتے بھی رہے اور گالیاں بھی دیتے رہے۔ ابھی تک دے رہے ہونگے۔  تھوہر سخت جانہوتا ہے، خشکی اور دھوپ میں خوب بڑھتا پھولتا ہے اسی لئے مئی جون  میں جب گرمی سب کچھ جھلسا دیتی تو انکے ہاں پھول کھلے ہوتے ہیں، ساون بھادوں میں جب سب کچھ ہرا بھرا ہوتا ہے انکے ہاں موت پڑی ہوتی ہے، کہ کیکٹس یا تھوہر کی جھڑہیں زیادہ لمبی نہیں ہوتی اور پتے بھی نہیں ہوتے یا بہت کم،  اور ان  میں چربی  طرز کا لیس دار مادہ بہت ہوتا ہے، اسلئے نمی اور اسے پیدا ہونے والی پھپوندی انکےلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
پھول انکے بہت خوش نما ہوتے ہیں اور پیلےیا سرخ ، گلابی  رنگوں میں ہوسکتے ہیں، دہکتی ہوئی جون کی دوپہر میں دمک رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر موٹے سے جامنی رنگ کے پھل بھی لگتے ہیں  جسکو انڈین انجیر  ficus indica   کہا جاتا ہے، بس تو جنابو  آجکل ہورہی اسکی مشہور وزن کم کرنے لئے، آج بھی ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ تین پھل روز کھانے سے آپ چھٹیوں کے دوران بڑھایا ہوا وزن ایک ماہ میں کم کرلو۔  لیس دار مادہ  کی موجودگی اسکے قبض کےلئے   مفید ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
تھوہر کی دوسری قسم جو میرے علم میں تھی وہ تھی ڈنڈا تھوہر، وہی نہ پھل نہ پتا، بس ڈنڈا سا اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ نہ کام  نہ کاج، لگے رہو۔


کیکٹس سے  میرا  دوسرا  اور گہرا تعارف
کیکٹس گرانڈی فلورس cactus grandiflorus  ، یہ چھوٹے سائز کا پودا ہے، پودا کیا جی بس ٹہنیاں ہی ہوتی ہیں، اور کانٹے، یا پھر سال بھر میں چند پھول ، جو  اکتوبر کی بھیگی راتوں میں  کھلتے ہیں۔  جو میکسیکو کے صحرا میں پہلے پہل دیکھا گیا پھر اسکو  بربر اور شمالی فریقہ سے صحراؤں  میں دیکھا گیا۔گرانڈی فلورس کا مطلب ہے بڑے پھول والا، حقیقت بھی یہی ہے کہ کیکٹس کے جو بڑے بڑے پھول ہوتے ہیں ان میں اسکا شمار ہوتا ہے، رات کو کھلتا ہے اور صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔ پھول کی رنگت سفید دودھیا ، گلابی مائل ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک سی پتیاں ہوتی  ہیں، ہلکی سی خوشبو ہوتی ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ جہاں پر یہ پھول کھلا ہو اس کے ادھ کلومیٹر میں موجود درد دل کے مریض سکون محسوس کرتے ہیں، ویسے ہومیوپیتھک معالجات میں اسے درد دل کے واسطے ہی استمعال کیا جاتا ہے، اور ایسی صورتوں میں جب دل پر بوجھ اور دل کے ارد گرد سختی اور جکڑن محسوس ہورہی ہو، سر پر فشارخون کی وجہ سے ایسا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، جیسے لوہے کا شکنجا کسا ہوا تو۔ اس کا مدر ٹنگچر مفید ہوتا ہے۔

جب اس کیکٹس کے بارے سب کچھ پڑھ چکے ڈاکٹر منظور ملک صاحب سے ، تو کچھ مزید علم کی طلب ہوئی۔  ایک نرسری میں گیا اور اس نے بتایا کہ بادشاہو کیکٹس تو  کوئی سینکڑوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ اچھا؟؟  تو پھر اس نے کہا کہ مجھے تو اتنا علم نہیں جمعرات کو ناصر صاحب آتے ہیں انکے پاس کوئی تین سو قسم کا کیکٹس ہے۔  پھر نرسریاں تھی اور ہم تھے۔
بس ناصر صاحب سےملاقات ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ بس وہ  ساتھ ساتھ مجھے اپنے کیکٹس کے بچے بھی دیتے رہے، اور میں بھی پھر ماہر ہوگیا، کہ ادھر سے ادھر سے ٹہنی  شاخ، پکڑ لاتا اور لگا دیتا اپنے گملوں میں،سن ستانوے میں جب پاکستان چھوڑا تو کوئی سوا تین سو کے قریب  کیکٹس بڑے چھوٹے میرے گھر میں تھے۔

لو بتاؤ ہے کوئی کرنے والی بات۔ا

ان میں سے آدھے سے کم خریدے ہوئے تھے اور باقی تبادلہ اور تحائف۔  اور کچھ دیکھتے بھالتے جیب میں ڈالے ہوئے، جب کوئی پیسے لے کر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو ایک زیربچہ تو پھر؟؟؟ آپ ہی بتاؤ۔

میرے پاس ایک کیکٹس تھا بلکل گول سا، اوپر ابھار موٹے موٹے ہر ابھار پر کانٹے اطراف کو مڑے ہوئے۔ اسکے اوپر ایک پھول کھلتا تھا، جامنے رنگ کا، مگر کیا ہی نازکی اور چمکیلی  رنگت۔  اسکا نام مجھے کبھی بھی یاد نہیں ہوسکا۔

اٹلی سے میری واپسی پہلی بار ہوئی گھر میں تو دوسرے دن ہی ادھر کلی بنی اور چوتھے دن پھول کھل پڑ،  اماں جی کہنے لگیں پتر پتا ہے اس کیکٹس نے گزشتہ تین برس پھول نہیں  دئے ، ابھی تو آیا ہے تو یہ جیسے خوشی منا رہا ہے۔ پھر یہی ہوتا، جس ماہ میں پاکستان جانا ہوتا  پھول دیتا، جس برس نہیں جانے ہوا پھول نہیں آئے اس پر۔  جس سال دو بار جانا ہوا دو بار پھول۔ گویا پکی محبت کا اظہار۔
ابا جی پر اکٹس  کا حملہ ہوا تو مفلوج ہوگئے۔ ایسے میں بابا صادق نے کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے تھوہریں گھر میں رکھی ہوئیں اور تھوہر دوزخ کا  درخت ہے، پس اس وجہ سے یہ ساری مصیبت آئی ہوئی ہے آپ کے اوپر۔
ہوا یہ کہ ابا جی نے پھنکوا دئے سارے کیکٹس باہر، مجھے خبر ملی تو میرے آنسو نکل گئے۔  ایک شوق تھا، ایک محبت تھی جو سارا دن ولقد ر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی پڑھنے والوں کی نظر ہوگیا۔
مان لو کہ پودوں میں دل ہوتا ہے۔ جیسے چھوٹے بچے آپ کو پہچان لیتے ہیں، چند دن  یا ہفتوں کا بچہ مجھے سے مانوس ہوتا ہے اور کھیلنا شروع کردے گا، ایسے ہی کیکٹس بھی مجھے سے مانوس ہیں۔

پھر بہت سے کیکٹس برازیل میں دیکھنے کو ملے ، کوئی ہزار ہا قسمیں، پوچھو کچھ نہیں ، پوری نمائش ہی تھی۔ میں گھنٹوں گھومتا رہا  اور یاد کرتا رہا۔ کہ یہ بھی اپنے گھر میں تھا، یہ بھی اپنے پاس تھا۔ جیسے آپ کتابیں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ پڑھ چکے، یہ گھر میں ہے۔ یہ فلاں جگہ پر دیکھی تھی۔  بس ایسے ہی۔

ادھر ایک میرے دوست ہیں اٹالین آلےساندرو، اسکے گھر گیا تو کیکٹس لگے دیکھے تو اجازت لے کر دیکھنے چلا گیا۔ وہ بھی میرے ساتھ ، تھا میں آپے آپ ہی اسکو بتاتا چلا گیا۔ اسکے پھول اس قسم کے ہوتے ہیں، اسکے اس رنگ کے، اسکے پھول کی جسامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ میرے پاس تھا، یہ بھی ، یہ بھی۔ یہ تو بہت ہی زیادہ تھے۔ یہ ایکی نوپسی  Echinopsi تو کتنی قسموں کے تھے میرے ادھر۔
اور پھر دل کو بوجھل بوجھل سا لئے واپس آگیا۔

چوتھے دن آلے ساندرو کا فون آگیا، آجاؤ فوراُ تمھیں ایک چیز دکھانی ہے۔ گیا۔ تو ؑایکینوپسی کا بڑا سا پھول تھا۔ کہنے لگا عام طور پر یہ اگست میں پھول دیتا ہے اور بس۔ مگر اس بار حیرت ہے کہ اس نے ستمبر میں بھی پھول دیا اور باقی کے بھی تیاری کررہے ہیں۔
یار تو آتا جاتا رہا کر۔



تب مجھے یاد آیا کہ میں نے وہ  میری آمد کی خوشی منانے والے کیکٹس کی کہانی سنائی تھی اسے، سادہ  بندہ ۔ یقین کرگیا۔
ایسا کب ہوتا ہے۔ پودے تو بے جان ہوتے ہیں، انکو کیا احساس ، کوئی آئے کوئی جائے انکو کیا فرق؟؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 15, 2014

ہم ناشکرے

میں نے موبائل کو وقت دیکھنے کو جیب سے نکالا تو    انجلین کا وھاٹس اپ پر میسج آیا ہوا تھا،    کہ کام سے فارغ ہو کر مجھے فون کرلیا، آجکل  ترقی ہوچکی موبائل فون کی وجہ سے گھڑی ، ڈائیری  پین وغیر ہ  سے فراغت ہے، بس فون سے ہی کام چلاتے ہیں تو بس ہر وقت ساتھ ہی ہوتا ہے اپنے۔  جس دن فون گھر رہ جائے تو بس واپس آ کر  لینا ہوتا ہے ، اسکے سوا  اپنی دنیا  ادھوری ہے، ممکن ہے سب کی ہی ہو،  آخر ہم آزادی اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں۔

انجلین کو فون کیا تو  کہنے لگی کہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ذاتی قسم کی اگر فارغ ہوتو  کہیں چل کرے کافی پیتے ہیں۔
ہر ملک کا اپنا اپنا رواج ہے ،  پاکستان میں یار باش سیدھا سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ آؤ جی خانجی گپ مارتے ہیں اورگاوں دیہات میں تو چائے کافی  کا بھی  ٹنٹہ نہیں پالا جاتا، ادھر کھیتوں کے بیچوں بیچ  کسی بنے پر بیٹھ  اور ہوگئے شروع ، چاہے تو 3 گھنٹے ادھر ہی گزر جاویں، خیر پاکستان میں اگر کسی لڑکے لڑکی کو ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ بہن  بھائی ہیں اگر شکل ملتی  ہے تو اگر نہیں تو پھر میاں بیوی ہونگے، تیسری صورت میں  پھر پھانڈا ہی ہے۔ ۔  اسی طرح ملک یونان میں بھی بول دیتے ہیں آؤ جی گپ لگانے چلیں، مگر اس کی صورت یا تو چہل قدمی ہوگی یا پھر وہی کافی اور بس پھر گھنٹے ادھر ہی۔

یہ انجلین بھی ایویں ہی ہے،  ہرچھوٹی سی بات کا ایشو بنانا اسکے پیچھے بس ہے، اور باتیں کرنے کی شوقین، فارماسسٹ ہے اور ایک فارمیسی میں کام کرتی ہے، میری اسکی ملاقات  پہلی بار کام کے سلسلہ میں ہی ہوئی تھی، ہم فوراُ ہی دوست قرار پائے ، میرے لئے بہت معاون ہے، نئے شہر میں جہاں آپ کا جاننے والا کوئی نہ ہوجسکو آپ کام کے علاوہ مل سکیں یا بات بھی کرسکیں  تو ایسے میں جو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے وہ  ہی سب سے اچھا دوست ہوتا ہے۔کوئی بھی چھوٹا موٹا کام ہو، یا کوئی معلومات چاہئیں ہوں تو بھاگی پھرتی ہے، اور تب دم لے گی جب جان مار کر کام پورا کر نہ لے تو۔ دل کی بہت اچھی ہے۔ 

میں  بمطابق پروگرام سات بجے  اسکی   فا رمیسی کے سامنے گاڑی میں تھا، کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگئی، چہرے سے ہی تھکاوٹ اور مایوسی عیاں تھی، چاؤ، چاؤ اور وہ گاڑی میں میرے ساتھ والی سیٹ پر گر سی پڑی، اسنے حسب عادت سیٹ بیلٹ کھینچا   اور ہم شہر کی دوسری طرف کوئی چار کلو میٹر دور اپنے مخصوص کیفے کی طرف رواں دواں تھے، چھٹی کا وقت ہونے کی وجہ سے گاڑیا ں ہی گاڑیاں تھیں، ٹریفک بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔  اور ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے،   وہ بولے جارہی تھی، میں نے اندازہ لگا لیا کہ اسکو کام کچھ بھی نہیں تھا، بس بچاری نے دن کی بھڑاس نکالنے کو میرا ساتھ مانگ لیا۔ اپنی سارے دن کی روداد، گاہکوں کے روئیے ، اپنے دوسرے کولیگز کی رکھائی، پھر بات ٹریفک کی طر ف چل پڑی ،    ہماری گاڑی کے آگے ایک بس لگی ہوئی تھی جی  وہی پبلک ٹرنسپورٹ  والی جو ہر پانچسو میٹر پر رکتی باقاعدہ اور سواریاں اتارتی چڑھاتی، انجلین کہہ رہی تھی کہ  دیکھو سارا دن کام کرنے کے بعد میرے ساتھ یہی ہونا تھا،  آج تو دن ہی بہت برا ہے، میری تو قسمت ہی پھوٹی ہوئی ہے،  اب دیکھو یہ بس سامنے لگ گئی ہے، گویا ایک دیوار ہی تو بن گئی  ہے ہمارے سامنے، ہمارا اتنا خوبصورت شہر ہے بند ہ اس کا نظارہ بھی نہیں کرسکتا، بس کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا، ایسے لگ رہا جیسے ہم دو اندھے ہوگئے ہوں اور سامنے اس پیلی دیوار کے سوائے کچھ  نہیں ہے۔

میں سٹرک کی دوسری طرف دیکھ رہا تھا، ادھر فٹ پاتھ پر ایک شخص اپنی سفید چھڑی لہراتا ہوا چل رہا تھا، سفید چھڑی کا مطلب یہ شخص نابینا ہے۔ ہماری گاڑی کھڑی تھی بس کے پیچھے اور بس کھڑی تھی اپنے اسٹاپ پر،  شاید سواریاں زیادہ تھیں یا آگے ٹریفک بلاک تھی،  میں  نے انجلین کی توجہ اس نابینا کی طرف دلوائی ، جو فٹ پاتھ کے کنارے ایک کھمبے کی طرف بڑھ رہا تھا،  اسکی  زمین  کے اوپر رینگی ہوئی چھڑی جب کھمبے سے مس ہوئی تو تھوڑی اوپر اٹھی  اور پھر اس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر کھمبے کو محسوس کیا، اور اپنا راستہ بدل لیا۔

میں انجلین سے بغیر سوچے سمجھے کہ اسے کیسا لگے  کہہ  رہا تھا کہ  دیکھو میڈم ایک ہم ہیں   کہ ایک بس سامنے ہے تو اس کو  ہی روئے  جارہے، کہ ہمارے سامنے پیلی شیٹ لگ گئی ہے، ہمیں کچھ نظر نہیں  آرہا،باوجود اسکے کہ ہم دائیں بائیں دیکھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں،    اور ایک ایک وہ شخص ہے جس کے سامنے ایک  و ہ ہے جس کے سامنے شاید اندھیری دیوار ہے،  صرف سامنے ہی نہیں  چاروں طرف، مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہے،  اور ہمارے چہروں پر  تناؤ ہے، سچ تو یہ  ہے  کہ ہم لوگ ناشکرے ہیں۔ اور بس


ترجمہ،  پنجابی سے اردو، بنا مطلب کھیت کی منڈیر، پھانڈا مطلب مارکٹائی پروگرام۔ 



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش