منگل
کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور
پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی،
جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ
پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو
دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔
ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی
ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی
ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ
کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت
ہے۔
ادھر
کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے”
رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے
ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک
دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر
کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث
ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا
مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے
بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا
ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے
رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے
بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ
کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس
شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم
کے آم اور سونے کے دام”۔

یہ تحریر تھی:
بے
احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔
نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔
لوجی
فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک
دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ
اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال
بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو
اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور
اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔
پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور
خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے
سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے
بھرنے ہیں۔
میں
نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ
کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا
نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ
پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا
سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ
تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو
چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی
ہے، کوئی گل نہیں۔
کل
اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو
جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا
تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا
میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں،
کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی
البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا
کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔
کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا
خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس
بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔

میں
نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں
جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک
بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔
بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔
میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے اور اس سے پوچھا:
تو
بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ
بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں
مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر
کرچکا تھا۔
اور
اس سے پوچھا:
ہوا
کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی،
میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔
پھر؟؟
کہنے
لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے
پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی
گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی
اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔
اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

چلو سستے چھوٹے، ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی
معشوقیں :ڈ
جواب دیںحذف کریںمسلمانوں والی اخلاق مسلمانوں میں کم اور غیروں میں زیادہ ہیں۔۔۔۔ اقبال نے کیا خوب کہا۔۔ وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی ۔۔ جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ
جواب دیںحذف کریںمیں سوچتا رہا کہ گھوڑا گاڑی تو سنا ہے یہ گورا گاری راجہ صیب نے کیا چیز ایجاد کی۔ قومہ لگائیں سائیں جی گورے اور گاڑی میں-
جواب دیںحذف کریں