پیر, دسمبر 10, 2018

منصف اعظم اور انصاف کا مقدمہ

عدلیہ کا کردار بہت کلیدی ہوتا ہے۔
یہ ایسا ادارے ہے جو عدل کی فراہمی کا ضامن  ہے۔ اور عدل کرنے والے عادل کہلاتے ہیں۔ جن کو منصف یا جج بھی کہا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں میں۔  اگر ہم دیکھیں تو یہ ایسا محکمہ یا ادارہ ہے جس کے ساتھ زندگی کے ہرشعبے  کا تعلق  ہوتا ہے
تفصیل میں جانے سے پہلے ایک نظر انصاف پر ڈالی جاوے تو عین مناسب ہوگا۔
انصاف کی تعریف تو کوئی وکیل یا جج صاحب ہی بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ لیکن میں بطور لے مین یہ کہہ سکتا ہوں کہ انصاف کا متضاد بے انصافی ہے۔   گویا بے انصافی کو ختم کرنے کےلے انصاف کی ضرورت ہے۔ جیسے اندھیرے کا متضاد روشنی ہے۔ اور روشنی سے ہی اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
بے انصافی کیا ہے؟
یہ طے کرنا شاید نسبتاُ آسان ہے۔ جب کسی شخض یا گروہ کا حق مارا جائے تو اسے بے انصافی کہا جاوے گا۔ گویا حق کی بعینہ ادائیگی کو انصاف کہا جاسکتا ہے۔
حق کیا ہے ؟؟
یہ بھی طے کرنا آسان ہے کہ کسی فرد کی ملکیت یا اس کے واجبات کو بروقت اسکے حوالے کردینا ہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کو تسلیم کیا جائے اور متعلقہ فرد یا افراد کے حوالے کر دیا جائے۔
اب حق میں بہت سی جیزیں آجاتی ہین۔ فرد کے اپنے جسم پر اسکا اپنا اختیار۔ اسکی شخصی ازادی سے لیکر اسکے کھانے پینے۔ رہنے سہنے۔ اسائیش و آرام، عزت و تعلیم یہ اسکا حق ہے۔ زندہ رہنا بھی اسکا حق۔ آج کے دور میں بجلی پانی تعلیم تربیت۔ صحت صفائی سب بنیادی حقوق میں آتے ہیں۔  آج کے زمانے میں ان سارے معاملات کو قانون کے ذریعے طے کردیا گیا ہے۔ گویا ایک ترتیب بن گئی ہے ، حق مقرر ہوگیں اور حدود باندھ دی گئی ہیں۔
جب کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو؟؟؟
ایسی صورت میں زوراور شخص تو اپنا حق چھین لے گا  اور تنازعہ پیدا ہوگا، اس سے فساد بھیلنے کا شدید اندیشہ بحرحال موجود ہے اور مہذب معاشروں میں اس سے باز رہا جاتا ہے۔  بصورت دیگر تنازعہ کی صورت میں عدلیہ سے رجوع کیا جاوے۔
جج صاحب اپنے علم، اپنی تربیت اور تجربہ کو استعمال  میں لاتے ہوئے  مروجہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں کہ  انصاف کیا ہے اور مظلوم کون ہے  اور ظالم کون۔
بے انصافی کی روزمرہ مثالیں، جسمانی تشدد یا مارکٹائی۔ ذہنی تشدد ، گالی گلوچ،  دھمکیاں۔ چوری، ڈاکے، فراڈ۔ زمین، مکان کاروبار کا ہتھیا لینا۔ پیسے زیورات ، اغوا، حبس بے جا، وغیرہ۔
اسکے علاوہ لین دین میں ہونے والی بے ایمانیاں۔ کاروباری معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنا۔  اسی طرح سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کا اپنی اعلان شدہ خدمات یا سروسز  کو فراہم کرنے سے معذرت کرنا یا معذور کا اظہار کرنا۔
روز مرہ سے کچھ مثالیں
جیسا کہ آپ سول ہسپتال جاتے ہیں اپنے علاج کی غرض سے تو اپکا حق ہے کہ آپ کا باقاعدہ چیک اپ ہو، اور آپ کا باقاعدہ علاج کیا جائے۔ دوران علاج آپ کو بستر، کھانا پینا، ادویات، صفائی سب آپ کا حق ہے۔ ڈاکٹرز نرسیں آپ کی دیکھ بھال کی تنخواہ لیتے ہیں۔
اسی طرح پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کی صورت میں۔ آپ کو فیس دینا ہوگی  اور ڈاکٹر آپ کا علاج کرے پوری توجہ سے۔ یہ آپ کا حق ہے۔
اگر آپ فیس نہیں دیتے  اور علاج کروالیتے ہین، تو آپ نے حق تلفی کی، اور اگر ڈاکٹر نے فیس لی اور پھر آپ کا  علاج نہیں کررہا ہے توجہ سے تو اس نے آپ کی حق تلفی کی ہے۔


ایسی صورت میں آپ عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور اپنے لئے انصاف کے طالب ہوتے ہیں۔ اب جج صاحب کا فرض ہے کہ وہ آپ کو فوری انصاف فراہم کریں۔  فوری فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا علاج کریں۔
اپنے قاری صاحب مرحوم کا قول دانا ہے کہ
کھروں کی  ریاست چل سکتے ہیں مگر ظالموں کی نہیں۔
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا ذمہ سپریم کورٹ کے سر ہے۔ اور اسکے جج صاحبان انصاف کے علمبردار ہیں۔
باوا ریمتے گویا پاکستان میں انصاف کے دیوتا قرار پائے۔
تو میرے  صاحبو ، اچھی خبر یہ ہے کہ   پاکستان کی سپریم کورٹ میں اس وقت   38913 کیسز پینڈنگ ہیں۔ یعنی تقریبا چالیس  ہزار افراد کو انصاف دستیاب نہیں ہے۔  یہ تعداد 2016 میں 32744 تھی۔ ان کیسز میں گزشتہ پانچ سات برسوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اب عالم یہ ہے کہ  ھائی کورٹس اور مقامی عدالتوں میں یہ تعداد لاکھوں میں جائے گی۔ جو کہ ایک انسانی المیہ کو جنم دیتی ہے۔
کوئی کسی کو قتل کردے، گھر چھین لے، زمین قابو کرلے۔ کاربار تباہ کردے۔ مال چھین لے۔ رشوت لے، سفارش کروائے۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔
عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم صاحب  ڈیم کےلئے فنڈ اکٹھے کررہے ہیں، بچے بند کرنے کی کانفرنس چلا رہے ہیں، میلاد منا رہے ہیں، ہسپتال کی لفٹ ٹھیک کروا رہے ہیں۔  جلسوں میں تقریریں کررہے ہیں۔ اور ریلیوں کی قیادت کررہےہیں۔
لیکن انصاف نہیں کررہے۔ نہ ہی اس نظام کو درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ منصف اعظم سے درخواست ہے کہ  اگر آپ کے پاس انصاف کےلئے وقت نہیں ہے تو یہ کرسی چھوڑ دیں یہ کام کرنے کی ڈیوٹی کسی اور کی لگا دیں۔

ورنہ اگر کوئی شخص ذمہ داری سے اپنا کام کرے تو اسکے پاس تو سر کھجانے کا وقت نہیں ہے۔ منصف اعظم اور انصاف دونوں عنقا ہیں۔ اگر کسی کو ملیں تو بتائیں۔ 

اگر عدالتوں کے منصف  بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنا لیں تو یقین رکھیں کہ عام آدمی ہی چوروں ڈاکوں اور رشوت خوروں کو عدالت میں لا کھڑا کرے گا۔ 

دل جلی تحریر راجہ افتخار خان



مکمل تحریر  »

پیر, اپریل 24, 2017

وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔
پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔
کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔
آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔
میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔
دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔


الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔
پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔
کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔
گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔
کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔
حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔


شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟
دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔
میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔
میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔
پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔

 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔ 
اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 






مکمل تحریر  »

جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 22, 2015

علی بھائی بسم اللہ

علی بھائی ہمارے سب جاننے والوں کے علی بھائی ہیں،   یہ ہمارے کوئی سگے بھائی نہیں ہیں، مگر جانے کیوں سب انکو علی بھائی ہی کہتے ہیں
ویسے بھی ہم اس شہر میں پاکستانی ہیں بھی کتنے ساٹھ نہیں تو ستر ہونگے،  ہیں جی، وہ بھی ہر کوئی اپنے کام کاج میں مصروف ، جیسے یورپ کی پھڑلو پھڑلو والی زندگی ہوتی ہے۔ صبح کے گئے شام کو آئے،  تو ایسے میں جو واقف ہیں ان سے ملکر بہت ہی خوشی ہوتی ہے، اور علی بھائی جیسا بندہ کیا کہنے۔

علی بھائی کوئٹہ کا ہوں ، بتاتے ہیں، اردو بولتےہیں اور اس میں کافی مہارت رکھتے ہیں، گو انکے لہجے سے میں پشتون سمجھتا رہا، مگر کہنے لگے  ”نہیں نہیں بھائی جان  میں ہزارہ ہوں"۔  یہ اسٹیشن کے سامنے ہی میں اسٹریٹ پر انکا ٹیک اوے   Take away  ہے ، چار پانچ بندے کام کرتے ہیں ، مگر یہ خود  ہروقت ادھر موجود ہوتے ہیں۔
یہ درمیانہ سا جسم، جھک  کر دونوں ہاتھوں سے سلام کرنے والے،  "اسلام 
علیکم  بھائی، کیسے ہیں آپ، سب خیر خریت ہے، الحمدللہ الحمدللہ، بس اللہ کا بہت شکر ہے، آپ کی دعا ہے آپ کی دعا ہے، اچھا تو جناب کام کا ٹیم ہے ، اجازت؟؟ اسلاما لیکم ۔ انشاء اللہ پھر تفصیلی ملاقات ہوگی، کبھی لگائیں چکر، تو جناب خدا حافظ، اسلام علیکم "۔ 

اب ایسے ملنسار و بااخلاق بندہ میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا، ہاں کتابوں میں پڑھا ہے، وہ لکھنو کے لوگوں کے رکھ رکھاؤ یاد آجاتے ہیں۔ بس۔  تو جب بھی ملاقات ہوتی ہے بہت محبت چاہت سے ، وللہ بہت خوشی ہوتی ہے۔ انکے چہرہ پر مسکراہٹ بھی ہروقت ہوتی ہے، جھکے ہوئے کندے ظاہر کرتے ہیں  کہ دوسروں کا بہت احترام کرتے ہیں، ایسی شخصیات  جو آپ کو خال خال ہی نظر آتی ہیں۔

 میں کبھی کبھی آتے جاتے انکے پاس ہی اپنے مولوی صاحب کے پاس رک جاتا ہوں ،   مولوی ثاقب ہمارے یاران غار میں سے ہیں، بس پھر دیسی دودھ والی چائے مولوی صاحب خود کہہ کر آتے ہیں  اور علی بھائی دینے آتے ہیں ، اہو ہو ڈاکٹر صاحب آپ بھی آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ جناب، مجھے تھوڑا شک ہوا تو میں خود چائے دینے چلا آیا۔ کہ ڈاکٹر صاحب کی بھی زیارت ہوجائے گی۔  تو جناب کیسے ہیں  مزاج شریف؟؟  کبھی چکر لگائیں ناں۔ میں تو آپ کا انتظار ہی کرتا رہتا ہوں۔



اب ایسے میں ان سے ملاقات کرنے انکے ٹیک آوے پر کب تک بندہ نہ جاتا۔  مروتاُ ہر بار وعدہ کرلیتا، مگر اس بار سوچا کہ ملاقات کرتے ہیں، مولوی صاحب کو ساتھ لیا اور ادھر جا پہنچے، تو جناب علی بھائی کا معلوم ہوا کہ اندر نماز پڑھ رہے ہیں،  ہم رک گئے، سلام پھیرا،  انہوں نے، مختصر سی دعا مانگی۔ جائنماز کو تہہ کیا اور ایک کلائی پر ڈال لیا، اور یوں چہک اٹھے۔
آخا، آج ہمارے حضرت صاحب آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ بسم اللہ
اور آج تو ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں زہے نصیب بسم اللہ بسم اللہ،
ساتھ میں ہی ہمارے پیچھے کاؤنٹر پر ایک "مروکی "   بھی کھڑا تھا،  اور کاؤنٹر پرلڑکی کو عربی نہیں آتی تھی اور مروکی کو اٹالین شاید نہیں آتی تھی۔ ،  تو ہم سے فورا مصافحہ کرکے، آپ تشریف رکھیں  ، اگر اجازت ہو تو میں اس گاہک کو دیکھ لوں۔

جی ضرور ، ضرور، تو جناب اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، اسی طرح ، سر پر سفید ٹوپی، بازو پر جانماز،  اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، " اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ۔
وعلیکم سلام۔
اسکے بعد انکی آپ س میں گفتگو عربی میں ہوئی، اور پھر کاؤنٹر پر لڑکی سے یوں گویا ہوئے،
بسم اللہ، بھائی کو ایک ٹھنڈی بئر دے دو۔ بسم اللہ بسم اللہ،   مروکی نے بئیر لی اور جزاک اللہ کہہ کر پیسے دے کر چل دیا۔ میں اور  مولوی جی ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ 





مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش