جمعہ, ستمبر 07, 2018

عاطف میاں قادیانی اور باوا ریمتے

تحریر راجہ افتخار خان۔ باباجی
اس ماہر معاشیات کی بہت اہمیت ہے، ہیں جی۔ اس وقت پوری دنیا میں اس جیسا کوئی نہیں۔ 2014 سے یہی سنتے چلے آرہے ہیں
یہ اتنا بڑا اکانومسٹ ہے کہ حکومت اپنی ناس مارنے کو تیار ہے اس کےلئے۔ ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ کیا کہتے پنجابی میں "اسیں تے جاواں گے کوور دیاں کندھاں تک"۔ ہم تو اسکے پیچھے قبر کی دیواروں تک جائیں گے۔ 
بہت آسانی سے معاملہ ختم ہوسکتا تھا۔ حکومت رجوع کرلیتی اور بات ختم
لیکن
معاملہ کو علماء کرام کے سامنے رکھنے کا پروگرام
کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ سپریم کورٹ میں لایا جاوے۔ 
اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تبدیلی کے پیچھے کون لوگ تھے۔ 
اب اول صورت میں تو زیادہ فکر کی بات نہیں لیکن اگر سپریم کورٹ میں کھیل جاتا ہے تو چاہے تو "باوا ریمتے" ختم نبوت کے قانون کو ہی ادھیڑ کر رکھ دے۔ 
کیونکہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ فیصلہ آئین و قانون کے مطابق نہیں کرتا بلکہ جو اسکی مرضی ہوتی ہے وہ کرتا ہے۔ اقامے پر وزیراعظم کوجیل بیجھوا سکتا ہے اور سیکنڑوں بندوں کے مفرور قاتل کو باعزت کھر بھیج سکتا ہے۔ تھپڑوں کے پیسے ڈیم کو دلوا سکتا ہے، باجود کہ تھپڑ بندے کو پڑے، 
پس یہ طے ہوا کہ "باوے ریمتے کا قانون"چلتا ہے۔ 
کہتے ہیں کہ 
ایک زمانے میں ایک ملک کے ایک گاؤں میں باوا ریمتے ہوتا تھا۔ جو اچھی اچھی باتیں سناتا تھا اورکبھی کبار لوگوں کے فیصلے بھی کرتا تھا۔ ایک دن گاؤن کے نڈھے بچوں نے کنوئیں میں "موت" دیا مل کے۔ گاؤں میں ہال ہال کار مچ گئی۔ اب مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ کنواں پاک کس طرح کیا جائے؟؟ معاملہ باوے ریمتے کی عدالت میں پیش ہوا۔ اب باوا جی نے فیصلہ دیا کہ "ہل کو کھڑا کرلو اور روٹیان پکا پکا کر اسکے اوپر رکھنا شروع کردو۔ جب ہل روٹیوں میں دفن ہوجائے، تو کنویں میں سے سو ڈول پانی نکال دیا جائے اور روٹیاں میرے گھر بھیج دو۔ 
کنواں پاک ہوجائے گا۔ 
ایک بابا جو بہت "کھوچل" تھا، بولا:
"پر باوا ریمتے ان بچوں میں تو تیرا لڑکا بھی تھا"۔ 

تس پر باوا ریمتے بولے" اہو، ہو۔ وہ تو ہے ہی بہوت رامدا" چلو اسطراں کرو" تسیں ہل لمی پالو اور اوپر روٹی روٹی کرلو"۔ 
جییسا کہ ہم نے بنی گالہ لینڈ میں خانجی کے گھر کے اجازت نامے بارے دیکھا ہے۔ کہ محکمے کو آرڈر دیا کہ "اجازت نامہ بنوا کر لاؤ:، لائے تو کہا کہ "اجازت نامہ ہوگیا ہے۔ کیس خارج"۔ چلو نکلو۔ 
تو جنابو۔ احوال کچھ یوں ہے کہ دونوں صورت میں ایک بات ہوگی۔ قادیانیت کے مسئلہ کو پھر سے کھڑا کیا جائے گا۔ بحثیں ہونگی۔ میڈیا ٹرائل ہوگا، کالم لکھے جاوین گے۔ انکے حق میں اور مخالفت میں دلائل دئے جاویں گے۔ ۔ اور ہمارا میڈیا تو پیسے لیکر انکے اشتہار اب بھی چھاپ دیتا ہے۔ یہ آج ہی آپ نے دیکھ لیا ہے۔ 
اگر تو فیصلہ انکے حق میں آیا تو پھر پرانے مظالم کا بدلہ طلب کیا جائےگا۔ چاہے تو قانون ختم نبوت کو ہی ختم کرنے کی تحریک پیش کردیں۔ 
اب انکا کورم بھی پورا، پی پی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ 
اگر فیصلہ خلاف آیا تو پھر پوری دنیا میں قادیانی اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کو پیٹیں گے۔ رنڈی رونا ہوگا اور چاہے تو بیس پچاس لوگ پھڑکوا بھی دیئے جاویں۔ 
نتیجہ ملک کے اندر دنگا فساد کا ہونا۔ اور اسکے بعد ہولوکاسٹ کی طرز کی کہانی بنا کر، اسرائیل کی طرز کا ملک پاکستان میں سے نکالنے کی کوشش کی جاوے گی تاریخ کی طرف تھوڑے سے بھی متوجہ لوگ جانتے ہین کہ ماضی قریب میں ایسا ہوچکا ہے۔ ایک صدی پہلے کا ہی تو قصہ ہے۔ 
عالمی تحریک ختم نبوت یقیناُ اس معاملہ کو بغور دیکھ رہی ہے۔
میں نے اپنے ایک اندیشہ کا مولانا سہیل باوا صاحب سے ذکر کیا تھا۔ تو انہوں نے بھی اسے درست قرار دیا۔ 
خدشہ یہ تھا کہ:
" میں نے کافی جگہ پر پڑھا اور سنا بھی کہ 1920 میں قادیانیوں کو ربوہ کی جگہ 100 برس کےلئے لیز پر دی گئی۔ اب سو برس پورے ہونے کو ہیں۔ قادیانی سرگودھا کے قریب کئی گنا قیمت دے کر زمینیں خرید رہے ہیں۔ اور اسکےلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ پیسہ۔ طاقت، دھمکی، لینڈ گریبنگ۔ اور لوگ بھی بیچی جارہے۔ بلکل فلسطینیون کی طرح۔ ایسے میں خان جی کی حکومت کا شروع میں ہی کئی لاکھ مکان بنانا۔ پہلے خطاب میں ہی سرکاری زمیںوں پر گھر بنانا۔ شیخ رشید نے ریلوے کی زمین کے بارے بھی یہی منشور دیا ہے۔ اور اس پر سونے کا سہاگہ قادیانی ماہرمعاشیات لانا جو ایکٹویسٹ بھی ہے۔ 

کہیں وہی فلسطین والا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا، کہ کچھ کچھ قوانین بنا کر۔ کچھ سرکاری زمینیں انکو الاٹ کی جائیں اور کچھ یہ خرید لیں۔ پھر ادھر اپنی آبادی بڑھائیں اور دو تین دھائیون بعد ایک اور قادیانی ریاست کا بطریق اسرائیل اعلان کردیا جائے جو پاکستان کے عین قلب میں واقع ہو؟؟؟ جب کوئی علاقہ کسی گروہ کی ملکیت ہوگا تو وہ پرائیویٹ پراپرٹی کہلائے گا۔ پھر ادھر انکے اپنے قوانین لاگو ہونگے۔ 
تب تک قادیانیت کو جسے ہم بھول گئے تھے۔ عوامی بحث میں لایا جائے اور میڈیا کےزریعے لوگوں کے دلوں میں اسکےلئے ہمدردیان پیدا کی جائیں۔ 
بات ہے خوفزدہ کرنے والی۔
اور صورت حال ہمارے اندازے سے زیادہ خراب ہے۔ آپ بھی سوچئے گا. اور دعا کیجئے کہ میرے اندیشے غلظ ثابت ہوں۔ 
بہرحال امید کی کرن یہ ہے کہ "وللہ خیرلماکرین"۔
#قادیانی_فتنہ


مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 27, 2018

افراتفری کا حصہ مت بنو

نوازشریف نے غداری کردی ملک کے خلاف بیان دے دیا
یہ ڈاکو ہے، لوٹ کے لے گیا
اس پر مقدمہ چلایا جائے، اسکو پھاہے لگایا جائے
بلکل ٹھیک
آئی آیس آئی کے سابق چیف نے را کے سابق چیف کے ساتھ ملکر کتاب چھاپ دی
اوہو ہو، یہ تو بڈھا کھوسٹ ہے
اس پر مقدمہ چلایا جائے اسکو پھاہے لگایا جائے، 
بلکل ٹھیک
آئی ای آی کے ایک کرنل اوسامہ بن لادن کی خبر امریکیون کو دی تھی
اسکے بیٹے کا مشرف اور ایک بھارتی کے ساتھ ہسپتال کا کاروبار ہے
یہ سب رلے ہوئے، انکا کورٹ مارشل کرنا چاہئے۔ 
بلکل ٹھیک۔ 
اس سے پہلے ہم پنج ست وزراء توہین عدالت کے چکر میں گھر بٹھا چکے ہیں۔ 
چیف جسٹس متنازع ہوچکا ہے ۔ لوگ اسکو سرعام گالیاں دینے پر آچکے ہیں۔ 
یہ سب ادارے ہیں۔ وزیراعظم، سربراہ حکومت، فوج کا سربراہ، اینٹلی جیسنس ایجنسی کا سربراہ، عدلیہ کا سربراہ۔ یہ سب اپنے اپنے اداروں کی علامت ہوتے ہیں۔ یہ گندے تو ادارے گندے۔ 
پس تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ میندک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دینے سے مینڈک بہرہ ہوجاتا ہے۔ کے مصداق نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
ملک کے ہر ادارے کو ذلیل کرکے، رگید کر ملک میں ایک افراتفری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اداروں پر سے اعتماد ختم کرکے، بےاعتمادی اور بے یقینی کو جنم دیا جارہا ہے، اسکے بعد ہی افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ پوری دنیا سمیت ہمارے ملک میں بھی دودھ کے دھلے نہیں ہے سب، بلکہ حرامدے بھی ہین۔ ضمیر فروش ہر جگہ پاجاتے ہیں۔ 
لیکن انہی سے کام چلانا ہوگا۔ انکے بعد آنے والے کوئی انبیائے کرام میں سے نہین ہونگے، ان سے بھی غلطیاں ہونگی، جرائم بھی۔ پس غلطی اور جرم کو برا سمجھیں اور کہیں بھی 
لیکن
اپنے ملک کے اداروں کے خلاف خبریں مت پھیلائیں اور اس سازش کا حصہ مت بنیں۔ بلکہ اس طرح کی متنازع خبر آنے پر اسکو روکیں اور اسکی نشریات کو بند کرنے کا باعث بنیں۔ اور ٹی وی ٹالک شوز مت دیکھیں۔ یہ سب جانے کتنے پیسے کھا کر ادھر بیٹھ کر بواسیر کو پروان چڑھارہے اور اپنے دماغ ثانوی کو استعمال کرتے ہوئے زبانیں ہلا رہے
فیس بک، ٹوئیٹر اور وھاٹس اپ پر عدالت مت لگائیں۔
ورنہ نہ رہے گا بانس ن بجے گی بانسری 
ہم بحثیت قوم بہت ہی پریشان کن صورت حال کا شکار ہیں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 19, 2018

میٹابولک سینڈروم اور رمضان المبارک

میٹابولک سینڈروم  اور رمضان المبارک
Metabolic syndrome
تحریر  ڈاکٹر راجہ افتخار خان، ہومیوپیتھ ، کنسلٹنٹ ھیرنگ لیبارٹریز اٹلی۔
رمضان المبارک میں چونکہ سب سے اہم کام جو ہوتا ہے اور ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے وہ ہے کھانے پینے اور خواہشات کو قابو میں کرنا۔
اسی مد میں میٹابولک سینڈروم کو بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔
میٹابولک سینڈروم کیا ہے؟؟
یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کے اندر ہونے والی میٹابولک تبدیلیوں  کو معمول سے ہٹا کر پیدا کردہ ترتیب دیتے ہوئے جسم کی خود کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو تکلیف دہ اور بعد میں زندگی کےلئے بھی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
وضاحت کے طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ  اگر کسی شخص کا وزن اچانک بڑھ جائے ، بلخصوص پیٹ پر چربی کا جمع ہوجانا اور گردن موٹی ہوجانا، اور  بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول،  کا درجہ معمول سے زیادہ ہوجائے تو وہ شخص میٹا بولک سینڈروم میں انتہائی درجہ پر  مبتلا ہے۔ اگر ان چاروں فیکٹرز میں سے تین بھی موجود ہوں تو اسکو میٹابولک سینڈروم ہی کہا جاوے گا۔ اگر دو ہوں مثلا، وزن کا بڑھ جانا اور شوگر ،  یا کولیسٹرول اور بلڈپریشر کا زیادہ ہونا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میٹابولک سینڈروم کے رستہ پر چل پڑا ہے۔ اگر صرف وزن زیادہ ہوگیا  ہو تو اسکو میٹابولک سینڈروم کے راستہ کی طرف جانا کہا جائے گا۔ یعنی یہ بھی الارمنگ ہے۔ بلخصوص اس صورت میں  کہ اگر والدین یا موروثیت میں کسی کو اس  صورت حال کا سامنا رہا ہو تو۔
چونکہ یہ بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کی خود سے ہی پیدا کردہ صورت حال ہے تو اسکو دوا دے کر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی طریقہ علاج میں اسکا شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اب یہ ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طب یونانی ، اسپاجیریرک میڈیسن یا پھر اکوپنکچر یا سرجری۔ کسی طور پر اسکا فوری اور مکمل علاج ممکن نہیں۔

میٹابولک سینڈروم کیوں ہوتا ہے؟؟
اسکی وجوہات نامعلوم ہیں  جو وراثتی بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن اسکےلئے ایک بڑا فیکٹر خوراک میں غیرضروری طور پر چینی کا اضافہ ہے۔
یہ چینی جسم میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ وہ افراد جو محنت مشقت کا کام کررہے ہوتے ہیں یا پروفیشنل کھلاڑی وہ تو اس کو استعمال کرلیتے ہیں،  اسکے کے برعکس دفتری کام کاج کرنے والے، یا سہل و آسان زندگی گزارنے والے افرادکےلئے یہ فالتو چینی اور فوری توانائی کسی کام کی نہیں ہوتی بلکہ اسکو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
ہماری خوراک میں ھائی گلیسیمک انڈیکس  (high glycemic index food)کا اچانک اور بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں، چینی، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرینکس، بیکر ی اور مٹھائیاں، روٹی چاول ، پاستہ ، بریڈ اور گندم کے آٹے سے بنی ہوئی دیگر اشیاء،
سبزیوں میں آلو، مٹر، پھلوں میں، انگور، تربوز، کیلا، آم  وغیرہ ہیں۔  یہ وہ خوراکیں ہیں جنکے کھانے کے پندرہ سے تیس منٹ کے بعد آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار سے بڑھ جاتی ہے۔
اسکے علاوہ خوراک کی مقدار کا بہت زیادہ ہونا اور بار بار کھانا  بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوتاہے۔
ہوتا یوں ہے کہ جب جسم کے اندر گلوکوز کی بڑی مقدار پہنچتی ہے اور فوری طور پر توانائی دستیاب ہونے کی وجہ سے ہم چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ اب اس چستی کو فوری طور استعمال کرلیا جائے، جسمانی مشقت یا فیزیکل ایکٹیویٹیز کے ذریعے تو ٹھیک ہوگیا، ورنہ اس گلوکوز کو فوری طور پر  ٹھکانے لگانے کےلئے جسم انسولین کو پیدا کرتا ہے جس اس شوگر چربی کی صورت دیتا ہے، پھر کولیسٹرول کو خارج کیا جاتا ہے تا کہ اس گھومتی ہوئی چربی (فیٹ) کو کسی مناسب جگہ تک پہنچا کر ٹھکانے  لگائے (ڈیپازٹ کرنا)۔
گویا
اس ایک چینی یا گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے انسولین، چربی اور کولیسٹرول بیک وقت جسم میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سے خون کا  حجم بڑھ جاتا ہے اور بلند فشار خون( ہائی بلڈپریشر ) کا باعث بنتا ہے۔
ممکنہ خطرات
میٹابولک سینڈرم کی موجودگی   صحت کےلے ذیل کے خطرات کا باعث بن  سکتی ہے، ہارٹ اٹیکس(myocardial infraction)،    ذیابیطس ٹائپ 2، انسولین کے خلاف قوت مدافعت کا پیدا ہوجانا، شاک (cerobrovescolar disease)۔  جلد موت کا واقع ہوجانا۔

مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے، تو اسکا حل بھی سمجھ آگیا ہوگا؟
جی بلکل، چینی اور ھائی گلیسیمک انڈیکس والی خوراک کا بہت ہی کم استعمال۔
اگر آپ کو شوگر نہیں ہے
تو
کھانے میں سے، چینی۔ چائے کافی میں، شربت میں۔ جوسز، سافٹ ڈرنکس کولے وغیرہ  کو منع کریں
بیکری کا سامان اور مٹھائیاں منع کریں
روٹی، بریڈ، چاول  یا گندم کی دیگر اشیاء  سے دور رہیں۔
پھلوں میں سےتربوز،  کیلا، آم اور انگور سے پرہیز کریں
سبزیوں میں، آلو اور مٹر سے دور رہا جاوے۔
تیل اور بناسپتی گھی کی مقدار بہت ہی کم کردیں۔
اپنے کھانے کی مقدار کم کردیں۔
اب آپ کے دماغ میں آرہا ہوگا کہ کھایا کیا جاوے۔ تو جناب  باقی کا سب کچھ ہے۔
  آپ کے پاس گوشت، مچھلی مرغی، انڈے پنیر، دہی دودھ سب ہے۔ اسکے علاوہ  پھلوں میں خربوزہ۔ انار، انجیر، چیری، اسٹرابری، خشک میوے، آڑو، سیب خوب کھائیں۔
دالیں کھائیں، سبزیاں کھائیں۔ سبز پتے والی اور زمین پر اگنے والی سبزیاں اور زیرزمین اگنے والی سبزیاں۔
رمضان الکریم برکتوں کا مہینہ ہے اس میں  ویسے ہی رک جانے کا حکم ہے تو آپ اوپر دی گئی چیزوں سے رک کر اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت بحال کرسکتے ہیں۔

سحری کا پروگرام
ایک پیالہ  دلیہ، کارن فلیکس  نٹس  اور دودھ۔   چائے کی پیالی، پانی کے دو گلاس
یا پھر فروٹ ، چائے پانی کے دو گلاس
یا پھرآملیٹ، چائے، پانی کے دوگلاس
یا کچھ اور جو آپ کو پسند ہو دہی وغیرہ
افطار  کا پروگرام
دوعدد کھجوریں، اس سے زیادہ نہیں۔ پانی کا گلاس اور مغرب کی نماز
اسکے بعد، چار پکوڑے یا دو سموسے یا ایک پلیٹ چنا چاٹ، یا پھر گوشت یا دال  یا سبزیوں کا سوپ ، کھانا ایک نشت میں نہ کھائیں
اور جب بھوک ختم ہوجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔  اپنے کھانے بدلی کرتے رہیں۔ مصالہ جات نہ چھوڑیں، چسکا برقرار رہنا چاہئے۔
اس ضمن  میں مدد کےلئے اپنے ہومیوپیتھ سے آپ ایناکارڈیم، فیوکس، اینٹی مونیم کروڈ، نامی ادویات  ڈسکس کرسکتے ہیں۔
یاد رہے سینڈروم کو قابو کیا جاتا ہے اسکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات کو ختم کرنا ہوتا ہے جو اس سینڈروم کا باعث بنتے ہیں۔ خوراک  کا کم استعمال، خوراک کا محتاط استعمال، جسمانی وزش۔  اگر ضروری ہوتو کچھ ادویات بھی معالج کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں۔

اگر آپ کسی بات کی وضاحت درکار ہے تو کمنٹ میں لکھ دیجئے، جواب دینے کی بھرپور کوشش کی جائے گی





مکمل تحریر  »

جمعہ, مئی 29, 2015

جہلم کے لوکاٹ

لوکاٹ  گزشتہ ہفتے ادھر سپر مارکیٹ میں دکھائ دے گئے،مہنگے تھے مگر اٹھالائے،   ادھر کم ہی نظرآتے ہیں، ویسے بھی ہم کونسا کھانے پینے کے شوقین واقع ہوئے ہیں۔ بس صرف پیٹ بھرنے کو کھالیتے ہیں یہ اور وجہ ہے کہ باوجود اتنی کسرنفسی کے پیٹ ہےکہ بڑھتا ہی جارہا ہے، گویا  بقول :
" زیستن برائے خوردن، نہ کہ خوردن برائے زیستن"

حالانکہ اگر آپ ہم سے قسم بھی اٹھوا لیں تو ہم یہی کہیں گے کہ  "خوردن برائے زیستن ، نہ کہ زیستن برائے خردن"۔  اچھا نہ  مانو، ویسے ماننے والی  "حالت " بھی کوئی نہیں ہے ادھر۔

خیر لوکاٹ لے کے آگئے بس فوری طور پر انکو "غسل" کروایا گیا اور یہ بسم اللہ پڑھ ڈالی ہم دو بندے کھانے والے تھے اور فی بندہ کوئی تین تین لوکاٹ ہاتھ آئے، ایک کلو کے ڈبے میں اب تھے ہی چھ تو اور کتنے ہاتھ آتے۔ تو جنابو۔ وہی ذائقہ وہی خوشبو۔ صرف پلے ہوئے خوب تھے۔ مجھے تو پاکستان کے لوکاٹ یاد آگئے ۔

لوکاٹ اور کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جہلم کے پہاڑی علاقہ اور سطح مرتفع پوٹھوہار کا مقامی پھل ہے، ویسے ہم مقامی پھل "بیر" کو قرار دے چکے ہیں مگر مان لو۔ یہ بات تسلیم کر لینے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جہلم اور پوٹھوہار میں لوکاٹ کو پھل بہت پڑتا ہے، ہمارے لئے لوکاٹ سے پہلی شناسائی تھی تایا احمد مرحوم کے گھر، ادھر سے جون کی دوپہر کو جب وہ سور ہے ہوتے تو ہم لوکاٹ توڑنے چھت پر سے انکے گھر اترچکے ہوتے، ادھر عصر کی اذان ہوتی تو ادھر تائی کی گالیاں اسٹارٹ ہو جاتیں۔ واہ واہ کیا زمانے تھے، منہ کا ذائقہ ان گالیوں سے ذرا خراب نہ ہوتا۔ شاید انکو پتا ہوتا تھا کہ کون کون تھا اور اوپر والے دل سے گالیاں دیتیں ۔ تب تک ہم سارے مشٹنڈے سر پر ٹوپیاں  پہن کر مسجد با جماعت، بس پھر شام کی نماز باجماعت پڑھ کر ہی مسجد سے نکلتے اور جانے کیسے یہ ہو جاتا کہ تقریباً سب کو گھر سے جوتے پڑتے۔ کہ لوکاٹ تو توڑے مگر درخت کی ٹہنیاں کیوں کھنیچیں۔  

دوسرا لوکاٹ کا  مقام تھا اسلامیہ ہائی اسکول میں جب داخل ہوئے تو وہاں پچھلی طرف والے سائیکل اسٹینڈ کے پاس لوکاٹ کے درخت یہ اونچے اور پھل سے لدے ہوئے، تیسرا ٹھکانہ پھر ہوا بلال ٹاؤن۔ جہاں کوٹھیوں کے باہر کی طرف لوکاٹ کے پھل سے لٹکتے ہوئے درخت ہوتے مگر انکا پھل توڑنے کو حوصلہ نہ پڑتا۔ تب مارکیٹ سے پھل خرید کرکھانے کی عیاشی کم ہی ہوتی تھی۔ یہ تبھی ممکن تھا جب کوئی مہمان آتا تو سیمنٹ کے کاغذی توڑے سےبنے ہوئے لفافے میں پھل ڈال کرلاتا۔ ہم سارا وقت اس لفافے کو دیکھا کرتے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ گھر سے کوئی شہر جاتا کسی کام سے تو پھل آتے۔ تب پھل کم ہوتے تھے اور انکی خوشی زیادہ، اب پھل زیادہ ہیں اور انکی خوشی کم ۔


ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ لوکاٹ چینی درخت ہے اور چین کے جنوب اور مشرق میں پایا  جاتا تھا۔ آج بھی چین اور جاپان لوکاٹ  کی پیداوار کےلئے بڑے ملک ہیں مصر برازیل اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ۔
ویسے پاکستان میں عام پایاجانے والا درخت ہے ، ہمارے اردگرد کلرکہار اور کوہستان نمک کے علاقہ میں عام ملتا ہے، جنگلی طور پر بھی۔ اسی طرح شیند یہ ہے کہ جہاں آجکل اسلام آباد کا شہر موجود ہے یہ ساری وادی لوکاٹ کے جنگلات سے بھری ہوئی تھی۔ ، بیری کے سائیز کا ہوتا ہے یہ بڑے بڑے پتے اور کافی سارے پھل،  اسکی شکل خوبانی سے ملتی جلتی ہے اور ذائقہ آم سے، کچھ کہنے والے یہ بھی کہتا ہیں کہ لوکاٹ آم اور خوبانی کی پیوندکاری کے نتیجہ ہے۔ جیسے آڑو آلوبخارے اور خوبانی کی پیوندکاری کا ۔ پس ثابت ہوا کہ اس خوبانی کو پیوندکاری کروانے کا بہت شوق ہے، ہیں جی ۔  مجھے تو کچھ "ٹھرکی" قسم کا پھل "معلوم" ہوتا ہے یہ ۔

لوکاٹ کے بارے کچھ معلومات
اچھا جی لوکاٹ کے بارے گپ بازی ختم اور کچھ سنجیدہ معلومات۔  ( بلاگ سے چوری کرنے والے حضرات  ادھر سے کاپی کرنا شروع کریں) ۔
نباتاتی نام  Eriobotrya japonica ہے اور اسکو پھولدار اور پھل دار پودوں میں شمارکیا جاتا ہے اور اس  کو Rosaceae  قبیلہ میں شامل کیا جاتا ہے، جیسے سیب، خوبانی، آلوبخارا  وغیرہ۔  اسے Japanese Plum اور Chinese Plum کے علاوہ Japanese Medlar
بھی کہاجاتا ہے، چینی زبان میں اسے "لوگاٹ" اطالوی میں  Nespolo اور عربی میں " اکیدینیا" کہاجاتا ہے، دیگر زبانوں میں اسکے نام جاننے کےلئے آپ خود " باوے گوگل " کی منت سماجت کریں۔
درخت کی اونچائی دس سے پندرہ فٹ اور سائز درمیانہ ہوتا ہے جیسے اس قبیل کے دیگر درخت ہوتے ہیں، پتوں کا سائز چار انچ سے لیکر دس انچ تک ہوسکتا ہے۔ لکڑی اسکی فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے مطلب ضاع کچھ بھی نہیں۔
پھل پوٹاشیم میگنیشم اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے، مطلب ڈالڈا گھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ اس میں چکنائی اور سوڈیم کی مقدار بہت  کم ہوتی ہے   اسکی طرح اس میں شوگر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے ۔

طبی فوائد۔
لوکاٹ کے پتے cyanogenic glycosides (including amygdalin)  کی موجودگی کی وجہ سے کچھ زہریلے اثرات رکھتے ہیں،  بلغم کو خشک کرنے اور جھلیوں کی ریشہ دار رطوبت کی زیادتی کو کنٹرول کرنے کےلئے مفید ہیں، قدیم چینی طب میں اسکے پتوں  کا شربت تر و بلغمی کھانسی کےلئے مروج ہے ہے اور مریض کو سکون فراہم کرتاہے۔
لوکاٹ کے پتے antioxidants   ہیں اور جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج کےلئے نیز بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے کےلئے بھی استعمال ہوتے ہیں، جلد پر انکا یہ اثر  دیکھا گیا ہے کہ جلد تروتازہ و جھریوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ مطلب "منڈا جوان" ہوگیا۔
شوگر کےلئے مفید۔
لوکاٹ کے پتوں کا جوس Triterpens کی موجودگی کی وجہ سے شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار کو قابو کرنے میں کافی حد تک معاون پایا گیا ہے۔  اسی طرح  پتہ و گردہ کی پتھریوں، کے ساتھ ساتھ جلد کے کینسر  اور عمومی وائرل حملہ میں میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔
اسی طرح جگر میں مختلف کیمائی مادوں کے جمع ہوجانے وجہ سے ہونے والی جگر کی بڑھوتر ی  LIVER HYPERTROPHY میں بھی مفید ہے اور جگر کی صفائی کے کام آتا ہے۔
اسی طرح خوبانی کے باداموں  کی طرح لوکاٹ کے بیج بھی Amigdalina, vitamina B17 حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، تو جناب جب تک آپ کو ہنزہ کی خوبانیاں دستیاب نہیں تب تک اپ جہلم کے لوکاٹ کے بیج  "چبائیں" ۔
تو پھر ہوجائے چلو چلو جہلم چلو؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 25, 2014

کیکٹس کے پھول اور محبت

کیکٹس کو ہمارے ہاں تھوہر ہی کہا جاتا ہے، شہدہ سا خود رو پودا، جسکی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی فائدہ نہ نقصان،  انگریزی  میں اسے کیکٹس کہا جاتا ہے فوراُ ماڈرن ہوکر گملے اور ڈرائینگ روم میں چلا جاتا ہے اٹالین اسکو  pianta grassa چربی والا پودا بھی کہتے ہیں

تھوہر یا  انڈین  انجیر  cactus indica المشہور چھتر تھوہر، ہمارے ہاں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم۔ یہ چوڑے اور موٹے موٹے پتے، قدآدم سے بھی بلند، اور انگل انگل کانٹے، بس چبھے کہ چبھے۔
میرا کیکٹس سے پہلا تعارف ہوا جب دریا کے کنارے پھسل کر تھوہر کے کانٹے چبھوا لئے ۔ کانٹو ں کا درد اور چبھن بھی اور چچا کی گالیاں بھی کہّ اکھاں کھول کر چلیا کر کھوتیا "    ۔۔۔تب تھوہر ہی ہوتی تھی اور دریا کے کنارے کسی ظالم نے لگا دی تھی کہ کٹاؤ سے باز رہے اور لوگ اوپر کے کھیت میں  سے راستہ بنانے سے باز رہیں،  مگر راستہ بھی بنا اور تھوہر بھی رہی،  لوگ بھی چلتے رہے اور کانٹے بھی چھبتے رہے۔
لوگ  گزرتے بھی رہے اور گالیاں بھی دیتے رہے۔ ابھی تک دے رہے ہونگے۔  تھوہر سخت جانہوتا ہے، خشکی اور دھوپ میں خوب بڑھتا پھولتا ہے اسی لئے مئی جون  میں جب گرمی سب کچھ جھلسا دیتی تو انکے ہاں پھول کھلے ہوتے ہیں، ساون بھادوں میں جب سب کچھ ہرا بھرا ہوتا ہے انکے ہاں موت پڑی ہوتی ہے، کہ کیکٹس یا تھوہر کی جھڑہیں زیادہ لمبی نہیں ہوتی اور پتے بھی نہیں ہوتے یا بہت کم،  اور ان  میں چربی  طرز کا لیس دار مادہ بہت ہوتا ہے، اسلئے نمی اور اسے پیدا ہونے والی پھپوندی انکےلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
پھول انکے بہت خوش نما ہوتے ہیں اور پیلےیا سرخ ، گلابی  رنگوں میں ہوسکتے ہیں، دہکتی ہوئی جون کی دوپہر میں دمک رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر موٹے سے جامنی رنگ کے پھل بھی لگتے ہیں  جسکو انڈین انجیر  ficus indica   کہا جاتا ہے، بس تو جنابو  آجکل ہورہی اسکی مشہور وزن کم کرنے لئے، آج بھی ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ تین پھل روز کھانے سے آپ چھٹیوں کے دوران بڑھایا ہوا وزن ایک ماہ میں کم کرلو۔  لیس دار مادہ  کی موجودگی اسکے قبض کےلئے   مفید ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
تھوہر کی دوسری قسم جو میرے علم میں تھی وہ تھی ڈنڈا تھوہر، وہی نہ پھل نہ پتا، بس ڈنڈا سا اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ نہ کام  نہ کاج، لگے رہو۔


کیکٹس سے  میرا  دوسرا  اور گہرا تعارف
کیکٹس گرانڈی فلورس cactus grandiflorus  ، یہ چھوٹے سائز کا پودا ہے، پودا کیا جی بس ٹہنیاں ہی ہوتی ہیں، اور کانٹے، یا پھر سال بھر میں چند پھول ، جو  اکتوبر کی بھیگی راتوں میں  کھلتے ہیں۔  جو میکسیکو کے صحرا میں پہلے پہل دیکھا گیا پھر اسکو  بربر اور شمالی فریقہ سے صحراؤں  میں دیکھا گیا۔گرانڈی فلورس کا مطلب ہے بڑے پھول والا، حقیقت بھی یہی ہے کہ کیکٹس کے جو بڑے بڑے پھول ہوتے ہیں ان میں اسکا شمار ہوتا ہے، رات کو کھلتا ہے اور صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔ پھول کی رنگت سفید دودھیا ، گلابی مائل ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک سی پتیاں ہوتی  ہیں، ہلکی سی خوشبو ہوتی ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ جہاں پر یہ پھول کھلا ہو اس کے ادھ کلومیٹر میں موجود درد دل کے مریض سکون محسوس کرتے ہیں، ویسے ہومیوپیتھک معالجات میں اسے درد دل کے واسطے ہی استمعال کیا جاتا ہے، اور ایسی صورتوں میں جب دل پر بوجھ اور دل کے ارد گرد سختی اور جکڑن محسوس ہورہی ہو، سر پر فشارخون کی وجہ سے ایسا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، جیسے لوہے کا شکنجا کسا ہوا تو۔ اس کا مدر ٹنگچر مفید ہوتا ہے۔

جب اس کیکٹس کے بارے سب کچھ پڑھ چکے ڈاکٹر منظور ملک صاحب سے ، تو کچھ مزید علم کی طلب ہوئی۔  ایک نرسری میں گیا اور اس نے بتایا کہ بادشاہو کیکٹس تو  کوئی سینکڑوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ اچھا؟؟  تو پھر اس نے کہا کہ مجھے تو اتنا علم نہیں جمعرات کو ناصر صاحب آتے ہیں انکے پاس کوئی تین سو قسم کا کیکٹس ہے۔  پھر نرسریاں تھی اور ہم تھے۔
بس ناصر صاحب سےملاقات ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ بس وہ  ساتھ ساتھ مجھے اپنے کیکٹس کے بچے بھی دیتے رہے، اور میں بھی پھر ماہر ہوگیا، کہ ادھر سے ادھر سے ٹہنی  شاخ، پکڑ لاتا اور لگا دیتا اپنے گملوں میں،سن ستانوے میں جب پاکستان چھوڑا تو کوئی سوا تین سو کے قریب  کیکٹس بڑے چھوٹے میرے گھر میں تھے۔

لو بتاؤ ہے کوئی کرنے والی بات۔ا

ان میں سے آدھے سے کم خریدے ہوئے تھے اور باقی تبادلہ اور تحائف۔  اور کچھ دیکھتے بھالتے جیب میں ڈالے ہوئے، جب کوئی پیسے لے کر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو ایک زیربچہ تو پھر؟؟؟ آپ ہی بتاؤ۔

میرے پاس ایک کیکٹس تھا بلکل گول سا، اوپر ابھار موٹے موٹے ہر ابھار پر کانٹے اطراف کو مڑے ہوئے۔ اسکے اوپر ایک پھول کھلتا تھا، جامنے رنگ کا، مگر کیا ہی نازکی اور چمکیلی  رنگت۔  اسکا نام مجھے کبھی بھی یاد نہیں ہوسکا۔

اٹلی سے میری واپسی پہلی بار ہوئی گھر میں تو دوسرے دن ہی ادھر کلی بنی اور چوتھے دن پھول کھل پڑ،  اماں جی کہنے لگیں پتر پتا ہے اس کیکٹس نے گزشتہ تین برس پھول نہیں  دئے ، ابھی تو آیا ہے تو یہ جیسے خوشی منا رہا ہے۔ پھر یہی ہوتا، جس ماہ میں پاکستان جانا ہوتا  پھول دیتا، جس برس نہیں جانے ہوا پھول نہیں آئے اس پر۔  جس سال دو بار جانا ہوا دو بار پھول۔ گویا پکی محبت کا اظہار۔
ابا جی پر اکٹس  کا حملہ ہوا تو مفلوج ہوگئے۔ ایسے میں بابا صادق نے کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے تھوہریں گھر میں رکھی ہوئیں اور تھوہر دوزخ کا  درخت ہے، پس اس وجہ سے یہ ساری مصیبت آئی ہوئی ہے آپ کے اوپر۔
ہوا یہ کہ ابا جی نے پھنکوا دئے سارے کیکٹس باہر، مجھے خبر ملی تو میرے آنسو نکل گئے۔  ایک شوق تھا، ایک محبت تھی جو سارا دن ولقد ر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی پڑھنے والوں کی نظر ہوگیا۔
مان لو کہ پودوں میں دل ہوتا ہے۔ جیسے چھوٹے بچے آپ کو پہچان لیتے ہیں، چند دن  یا ہفتوں کا بچہ مجھے سے مانوس ہوتا ہے اور کھیلنا شروع کردے گا، ایسے ہی کیکٹس بھی مجھے سے مانوس ہیں۔

پھر بہت سے کیکٹس برازیل میں دیکھنے کو ملے ، کوئی ہزار ہا قسمیں، پوچھو کچھ نہیں ، پوری نمائش ہی تھی۔ میں گھنٹوں گھومتا رہا  اور یاد کرتا رہا۔ کہ یہ بھی اپنے گھر میں تھا، یہ بھی اپنے پاس تھا۔ جیسے آپ کتابیں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ پڑھ چکے، یہ گھر میں ہے۔ یہ فلاں جگہ پر دیکھی تھی۔  بس ایسے ہی۔

ادھر ایک میرے دوست ہیں اٹالین آلےساندرو، اسکے گھر گیا تو کیکٹس لگے دیکھے تو اجازت لے کر دیکھنے چلا گیا۔ وہ بھی میرے ساتھ ، تھا میں آپے آپ ہی اسکو بتاتا چلا گیا۔ اسکے پھول اس قسم کے ہوتے ہیں، اسکے اس رنگ کے، اسکے پھول کی جسامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ میرے پاس تھا، یہ بھی ، یہ بھی۔ یہ تو بہت ہی زیادہ تھے۔ یہ ایکی نوپسی  Echinopsi تو کتنی قسموں کے تھے میرے ادھر۔
اور پھر دل کو بوجھل بوجھل سا لئے واپس آگیا۔

چوتھے دن آلے ساندرو کا فون آگیا، آجاؤ فوراُ تمھیں ایک چیز دکھانی ہے۔ گیا۔ تو ؑایکینوپسی کا بڑا سا پھول تھا۔ کہنے لگا عام طور پر یہ اگست میں پھول دیتا ہے اور بس۔ مگر اس بار حیرت ہے کہ اس نے ستمبر میں بھی پھول دیا اور باقی کے بھی تیاری کررہے ہیں۔
یار تو آتا جاتا رہا کر۔



تب مجھے یاد آیا کہ میں نے وہ  میری آمد کی خوشی منانے والے کیکٹس کی کہانی سنائی تھی اسے، سادہ  بندہ ۔ یقین کرگیا۔
ایسا کب ہوتا ہے۔ پودے تو بے جان ہوتے ہیں، انکو کیا احساس ، کوئی آئے کوئی جائے انکو کیا فرق؟؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 16, 2014

ویلنٹائن ڈے منانا ہمارا


ویسے تو  ادھر اٹلی میں رہتے  ہوئے  کئی برس ہوگئے ہیں مگر ویلنٹائن ڈے کے بارے کچھ خاص علم نہیں ہوتا،  آتا تو ہر برس ہے اور گزر بھی جاتا ہے، جبکہ عمومی طور پر کام پر ہوتے ہیں تو سب ادھر مصروف ہوتے ہیں، کسی کو سر کان کھرکنے کی فرصت نشتا۔  اتنے مین کسی کو یاد آگئی اور اس   نے کہ  دیا کہ لو جی آج ویلنٹائن ڈے ہے، اچھا اچھا  لو جی کیا بات ہے، مبارکاں ۔ ۔    ہیں جی      اور پھر یار باگھ اپنے اپنے کام کاج میں سر گھسیڑلیتے ہیں،   کہ ادھر کام کرنا پڑتاہے، حرام خوری کی گنجائش ناں۔            ا     ور  اگر اس دن چھٹی ہوتو  سو کر گزرتی ہے، اب سوئے بندے کو کیا علم کہ ویلنٹائن ڈے آیا کہ نہیں آیا۔

   یا پھر پھول فروشوں کی دکا  ن  کے سامنے سے گزرتے ہوئے معلوم ہوجاتا ہے کہ لو جی  بھائی جان ویلٹائن ڈے آرہا۔    ہیں جی  پھول جو بھیچنے اگلے نے۔   پھر سپر مارکیٹ میں کوئی دو دن پہلے چاکلیٹ کے خانہ  میں ایک پوسٹر دل کا بنا کر لگا دیا جاتا ہے اور دل کی شکل والے سرخ ڈبے میں کچھ چاکلیٹیں مہنگے داموں  سج جاتی ہیں شیلفوں میں۔   آخر کوئی دکان داری بھی کوئی چیز ہے  ، ہیں جی ،   ہاں جی   اس دن ترکیب یہ ہوتی ہے کہ ہر کوئی اپنی چاہتے کے اظہار کےلئے یہی دو طریقے اپناتا ہے، بیوی یا محبوبہ کو پھول اور بچوں کو چاکلیٹ دے کر آئی لو یو  کہہ دیا جاتا ہے ،   ہیں جی۔  اگوں تسیں آپ سیانڑے ہو۔۔

پاکستان میں تھے تو اس کا کچھ علم نہ تھا کہ کیا بلا ہے اور کس چیز کے ساتھ لگا کے اسکو کھانا ہے۔ کرلو گل   ، بقول ہمارے شاہ جی  کے ، ہوسکتا ہے تب ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی نہ  ہو،    پر ادھر آکر علم ہوا کہ یہ تو صدیوں پرانا تہوار ہے،  بس ایک دوسرے سے محبت جتلانے کا تہوار، موسم بہار کا پہلا تہوار ہے جب پھول کھلے ہوتے ہیں تو پس دکان داری شروع ہوگئی۔  ویسے شاہ صاحب کی بات اس لحاظ سے صد فی صد درست ہے کہ تب پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا وجود ہی کوئی نہیں تھا۔

ادھر آکر بھی ہم نے اس کو بہت برس تک لفٹ نہیں کرائی۔ کہ سانوں کی، جیسے ہماری عید کا انکو کچھ نہیں ہوتا، ایسے ہی انکے  تہواروں کا ہمیں کیا،   بس دن کلنڈر پر چھٹی نظر آگئی اس دن ہم بھی خوش ہولئے کہ لو جی خان جی کل تو چھٹی ہے پکی، سرخ والی، ہیں جی، رج کے نیندراں پوریاں کرساں۔  ہیں جی۔  اور  ویلنٹائن ڈے کی تو کلینڈر کی بھی چھٹی نہیں  ہوتی  ۔ بس فیر سانوں  کی۔   ہیں جی۔

یہ لوگ گو ہمیں عید منانے سے روکتے نہیں بلکہ مبارک باد بھی دے دیتے ہیں لگے ہاتھوں کہ سنا ہے خان جی کل تمھارا تہوار ہے تو ہماری طرفوں مبارک باد قبولو ، ہیں جی۔  اسی  طرح ہم شکریہ ادا کرتے ہوئے انکے تہواروں  پر مبارک باد دینے میں چوکس رہتے۔ کہ  نیک تمناؤں کے تبادلہ سے محبت میں  اضافہ ہوتا ہے،  اگر نہیں بھی ہوتا تو امکان لازم ہے۔   اگر متکلم ثانی کوئی میم یا اطالوی خاتون ہو تو مبارک بادوں تو تقریباُ فرض کرلیا جاتا ہے کہ یہی موقع ہوتا ہے جب انکے ساتھ گال سے گال لگا کر چومی دی جاتی ہے ، ہیں جی، پھر تو مبارک بنتی ہے کہ نہیں۔  باوجود اسکے کے المولبیان الباکستان فرماتے ہیں کہ کافروں کو مبارک باد نہیں  دینی چاہئے مگر ہم کہتے ہیں کہ کافر کو ہی تو دینی بنتی  ہے مبارک باد، ہیں  جی۔

گزشتہ چند برسوں سے چونکہ  سیٹلائیٹ چیلز بھی دستیاب ہیں اور سوشل میڈیا بھی متحرک ہے اور  ہر  ایرا غیرا ادھر ماشٹرلگا ہوا ہے تو ویلٹائین ڈے کی خبر کوئی ہفتے بھر پہلے ہی ہوگئی جاتی ہے۔ اس برس بھی کوئی ایک ہفتہ قبل حیاداری  کے حق میں، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف ہال ہال کرکے  نوٹس اور اسٹیٹس آنے شروع ہوئے تو علم ہوگیا۔ جی  ویلنٹائن ڈے آگیا ہے اور المولبیان الباکستان  پوری طور پر  ڈیڈاروں کی طرح چھڑ چکے ہیں۔  اس ایک ہفتے میں ویلنٹائین کی ماں بہن ایک کی گئی، اسکو منانے والوں کے   کانوں کو بھی پگلا ہوا سیسہ ڈال کر بند کیا گیا۔   بقول اپنے حکیم علی صاحب کے  ہر طرف تھیا تھیا اور پھڑلو پھڑلو مچی ہوئی تھی۔

اٹالین اخبارات اور ٹی وی  پر معمول کی ہی خبریں تھیں،   وہی کرونکس ،   سیاست وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔۔۔ ہیں جی انکو دلچسپی ویلنٹائن ڈے سے ہوتو ۔ پر تہوار موجود ہے بیچ بیچ میں کسی پروگرام میں اسکا ذکر آجاتا، یا پھر دکاندار کے سودے کے اشتہار۔  دکان داری تو آپ کو علم ہے کہ جدھر چلتی ہو یار لوگ ادھر ہی دکان بڑھالے جاتے ہیں۔ ۔


کل صبح روٹین میں ہی اپنے کام کاج پر نکلے، دو ڈاکٹرز کولیگز سے ملاقات تھی۔  پھر دوپہر کو ایک اور دوست کے ساتھ لنچ تھا اسکے ساتھ ایک کیس ڈسکس کرنا تھا۔ ، پھر ایک مریضہ کو دیکھنا تھا، ادھر کوئی اڑھائی گھنٹے کی  میٹنگ رہی۔ مگر ویلنٹائن ڈے کا ذکر کہیں نہیں ہوا،  نہ ہی کسی نے مبارک باد دی، ہاں ہر چوک پر بنگالی سرخ گلاب بیچنے کو تلے ہوئے تھے اور انکی کوشش رہی کہ مجھے بھی پانچ یورو کے تین پھول تھمادئے جاویں، جو عام دنوں میں وہ دو یورو کے بیچتے ہیں، پر یہ تو دکانداری ہوگئی ، ہیں  جی اسکو چھڈو، کاٹھ مارو۔



آج  دن بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کا موقع ملا تو جیو والوں نے نسیم وکی کے ساتھ پورا پروگرام فٹ کیا ہوا تھا۔ اور اسکو دیکھ کر انکی چالیں  اور حرکات دیکھ کر اپنے  علامہ مرحوم کا  جواب شکوہ کا مصرع یاد آگیا
یہ وہ مسلماں ہیں جن کو دیکھ کے شرمائیں یہود


اپنے المولبیان الپاکستان سچے ہیں ،  ہمارے ملک میں نودولتئے  اور حرام کی کمائی سے یکا یک امیر بننے والے جو ہیں وہ  اب ویلنٹائن ڈے منارہے اور کھل کھلا کر منارہے، جس طریقہ سے  وہ منارہے اسکو اٹالین بھی دیکھ کر شرماجائیں۔  ہیں جی۔








مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش