منگل, جولائی 17, 2018

کم کھانا ہی فائدہ مند ہے

تو پھر چینی نہیں کھانی چاہئے؟؟ بلکل بھی نہیں۔
وہ کیوں؟؟ پر چینی تو طاقت دیتی ہے۔ اب بندہ چینی نہ کھائے تو کیا کھائے؟؟
بلکل چینی طاقت دیتی ہے، اور مٹھائی کھائیں، پر آپ اس طاقت کا کرتے کیا ہیں؟؟
جواب ندارد
ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارا طرز زندگی بہت تیزی سے بدل گیا ہے۔ جسمانی مشقت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور خوراک کی دستیابی بہت ہی بڑھ چکی ہے۔

ہمارے دماغ وہی سوچتے ہیں۔ کہ یہ کھالو، یہ بھی کھالو، کھانا پلیٹ میں مت چھوڑو۔ کھانا بچے نہیں۔ یہ سب اس زمانے کی باتیں تھیں جب کھانا کم ملتا تھا اور مشقت زیادہ ہوتی تھی۔
اب اسکے الٹ ہوگیا ہے۔ تو سوچنا بھی الٹ ہوگا۔ کھانے سے پہلے سوچنا ہوگا مجھے بھوک ہے؟؟ کیا میرا پیٹ خالی ہے؟؟ اگر بھوک نہیں ہے تو کھانا مت کھاؤ۔ ناغہ کردو۔ اگر پیٹ خالی نہیں ہے تو کھانے میں دیر کردو۔
مٹھائی کھانی ہے تو 20 کلومیٹر پیدل چلنے کا بھی سوچ لو۔   کوشش کریں کہ آپ کی خوراک ہی آپ کی دوا ہو۔ اس لئے ٹھونسنے کی بجائے کیا کھا رہے ہیں؟؟ اور کیوں ؟؟ کے سوالات اپنے آپ سے کیجئے اور انکے جواب تلاش کیجئے۔

ایک مریضہ سے گفتگو، جسے شوگر، بلڈ پریشر۔ کولیسٹرول اور وزن زیادہ ہونے کے مسائل تھے, یہ سارے مسائل، بسیار خوری، چینی، نمک اور کاربوہائیڈریٹس کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہیں۔
یاد رکھیں، میٹابولک سینڈروم ہمارے آج کا گمبھیر مسئلہ ہے جس پر بگ فارما مال کما رہا ہے اور بات کرنے سے گریزاں ہے۔
کیونکہ اس کا مریض بیک وقت، شوگر کی دوائی۔ کولیسٹرول کی گولی، سٹامک پروٹیکٹر، بلڈپریشر کی گولی۔ وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں۔ پھر نیند کی گولیاں ، وزن کم کرنے کی دوا۔ بھی لینی ہوتی ہے۔ اسکے بعد سردرد اور جسم میں درد بھی شروع ہوتا ہے ، یہ تو عام سی بات ہے اب اسکی دوا بھی لازم ہوتی ہے۔   آپ کے اردگرد نظر دوڑانے سے کتنے ہی ایسے بندے ملیں گے جو اس صورت حال کا شکار ہیں۔ ان کو  غور سے دیکھیں۔ اور ان عادات کو ختم کریں، خوراک کو قابو  میں لائیں اور گیم وغیرہ شروع کریں۔   بیچ بیچ میں روزے بھی رکھ لیا کریں۔  ثواب کا ثواب اور فائدے کا فائدہ۔
ہاں یاد آیا، کینسر کے خلیات آکسیج کی کمی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اورشوگر  انکی خوراک ہوتی ہے۔ پس صبح کی سیر اور چینی کی کمی سے کینسر کے رسک کو بھی کم کرسکتے ہیں۔ پر صبح جاگنا " جوان دی موت اے"۔
۔ پہلے اپنی۔ پھر اگر ممکن ہو تو انکی بھی مدد کریں۔  ورنہ آپ کو میرے علاوہ اور کس نے یہ باتیں بتانی؟؟  ہیں جی۔  اب اپنی روزی پر لات مارنے کو کس کا دل کرتا ہے؟


0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش