اتوار, مئی 27, 2018

افراتفری کا حصہ مت بنو

نوازشریف نے غداری کردی ملک کے خلاف بیان دے دیا
یہ ڈاکو ہے، لوٹ کے لے گیا
اس پر مقدمہ چلایا جائے، اسکو پھاہے لگایا جائے
بلکل ٹھیک
آئی آیس آئی کے سابق چیف نے را کے سابق چیف کے ساتھ ملکر کتاب چھاپ دی
اوہو ہو، یہ تو بڈھا کھوسٹ ہے
اس پر مقدمہ چلایا جائے اسکو پھاہے لگایا جائے، 
بلکل ٹھیک
آئی ای آی کے ایک کرنل اوسامہ بن لادن کی خبر امریکیون کو دی تھی
اسکے بیٹے کا مشرف اور ایک بھارتی کے ساتھ ہسپتال کا کاروبار ہے
یہ سب رلے ہوئے، انکا کورٹ مارشل کرنا چاہئے۔ 
بلکل ٹھیک۔ 
اس سے پہلے ہم پنج ست وزراء توہین عدالت کے چکر میں گھر بٹھا چکے ہیں۔ 
چیف جسٹس متنازع ہوچکا ہے ۔ لوگ اسکو سرعام گالیاں دینے پر آچکے ہیں۔ 
یہ سب ادارے ہیں۔ وزیراعظم، سربراہ حکومت، فوج کا سربراہ، اینٹلی جیسنس ایجنسی کا سربراہ، عدلیہ کا سربراہ۔ یہ سب اپنے اپنے اداروں کی علامت ہوتے ہیں۔ یہ گندے تو ادارے گندے۔ 
پس تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ میندک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دینے سے مینڈک بہرہ ہوجاتا ہے۔ کے مصداق نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
ملک کے ہر ادارے کو ذلیل کرکے، رگید کر ملک میں ایک افراتفری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اداروں پر سے اعتماد ختم کرکے، بےاعتمادی اور بے یقینی کو جنم دیا جارہا ہے، اسکے بعد ہی افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ پوری دنیا سمیت ہمارے ملک میں بھی دودھ کے دھلے نہیں ہے سب، بلکہ حرامدے بھی ہین۔ ضمیر فروش ہر جگہ پاجاتے ہیں۔ 
لیکن انہی سے کام چلانا ہوگا۔ انکے بعد آنے والے کوئی انبیائے کرام میں سے نہین ہونگے، ان سے بھی غلطیاں ہونگی، جرائم بھی۔ پس غلطی اور جرم کو برا سمجھیں اور کہیں بھی 
لیکن
اپنے ملک کے اداروں کے خلاف خبریں مت پھیلائیں اور اس سازش کا حصہ مت بنیں۔ بلکہ اس طرح کی متنازع خبر آنے پر اسکو روکیں اور اسکی نشریات کو بند کرنے کا باعث بنیں۔ اور ٹی وی ٹالک شوز مت دیکھیں۔ یہ سب جانے کتنے پیسے کھا کر ادھر بیٹھ کر بواسیر کو پروان چڑھارہے اور اپنے دماغ ثانوی کو استعمال کرتے ہوئے زبانیں ہلا رہے
فیس بک، ٹوئیٹر اور وھاٹس اپ پر عدالت مت لگائیں۔
ورنہ نہ رہے گا بانس ن بجے گی بانسری 
ہم بحثیت قوم بہت ہی پریشان کن صورت حال کا شکار ہیں

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش