جمعہ, ستمبر 28, 2012

ہت تیرے گوگگلو سیانے کی

فرعون
4
مذہب بابا بھلے شاہ
2
urduonline.blogspot.com+blog-post_23
1
φερητησ ροζ
1
جرنل نالج
1
حنأ ربانى كى سيكس
1
دنیا
1
سندھی میں کہتے ہیں کہ
1
سیکسی ویب پانہ
1
شعیہ سنی اردو
یہ حال ہے سرچنے والوں اور ادھر بھیجنے والے گوگلو کی عقل کو بھی داد ہے، شباش ہے وائی شاوا، بلکہ دُور  شاوا

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 27, 2012

میں کی کراں

یار یہ جو جم ہوتا ہے بہت کتی چیز ہے، قسم سے 3 دن سے شروع کیا ہوا، مگر جب تک ادھر رہو، فٹ فاٹ، فل آف انرجی اور ادھر سے نکل تو درداں، ہائے میں کی کراں

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 23, 2012

اٹلی جن اور قصائی

گزشتہ ہفتے ہمارے ادھر سول ہسپتا ل کے شعبہ نفسیات جسے پنجابی میں سائیکالوجی کہاجاتا ہے کی طرف سے ایک " کیارہ "  نامی خاتون کی کال آئی کہ  " ڈاکٹر جی ،  ہمارے لئے ٹائم نکالو، آپ کی مشاورت کی ضرورت الشدید ہے وہ بھی بہت ارجنٹ" ۔  ہیں جی ؟ ،  ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ضرور کوئی پنگا ہوگا، کچھ الٹا ہی ہوگا،  ورنہ اس سے پہلے مجھے شعبہ نفسیات والوں نے کبھی نہیں بلایا۔

ادھر  پہنچا تو  ڈاکٹر کیارہ  جو سائیکٹریک ہیں اور سوشل سائیکولوجی میں ماہر ہیں،  میرا انتظار کررہی تھیں،  بچاری بہت مشکور ہوئیں کہ  میں  نے اپنے قیمتی وقت سے " ٹائم " نکالا ہے، دو چار بار تو میں نے" کوئی گل نہیں "  کہہ کر بات آئی گئی کردی مگر اسکے بعد صرف سر کھجا کررہ جاتا۔بعد از طویل تمہید و بیان سیاق وسباق کے ،   انہوں نے آمدبر مطلب کے مصداق  جو کچھ بتایا اس کا خلاصہ بیان کردیتا ہوں اور اس کہانی کے نتیجہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ تو سنئے  ڈاکٹر کیارہ  کی زبانی۔


گزشتہ  ہفتے ہمارے پاس ایمرجنسی میں  ایک پاکستانی آیا ہے جس کی کچھ سمجھ نہیں آرہی، اس کی عمر چالیس برس ہے ، چھوٹی چھوٹی ترشی ہوئی داھڑی رکھی ہوئی ہے، سر پر ٹوپی مخصوص قسم کی  گول شکل کی، جس کے سامنے ایک کٹ سا ہے۔ کپٹرے پاکستانی شلوار قمیض، وہ بھی کچھ ایویں سا ہی۔ جسمانی طور پر کمزور، مگر لگتا ہے کبھی کافی بھرے جسم کا مالک رہا  ہوگا۔ کہتا ہے کہ اس پر جن آتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں،  اسکا نام محمد مالک  میر ہے،   تعلیمی لحاظ سے کچھ خاص پڑھا لکھا نہیں ہے،  شاید اپنے دستخط کرلیتاہے، ادھر اٹلی میں عرصہ دراز سے کوئی بیس برس سے مقیم ہے ، اطالوی زبان پر 
مناسب دسترس رکھتا ہےمطلب بات سمجھ سمجھا لیتا ہے۔  ہیں جی۔

میرے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ  " اسکا تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے، والد اسکا قصائی کا کام کرتا تھا، سات بہن  بھائیوں میں سے پانچویں نمبر پر ہے،  اسکے تین بچے ہیں جو پاکستان میں ہی ہیں  اور یہ کہ گزشتہ چھ برس سے ادھر بے روزگار ہے۔ پانچ برس سے پاکستان نہیں گیا، مطلب اپنے اہل خانہ سے دور ہے، پہلے اسکے پاس اپنا کرایہ کا فلیٹ تھا جو چھوٹ گیا،  ابھی اسکے پاس باقاعدہ رہائش بھی نہیں اور اپنے کسی گھمن نامی  خاص دوست کے ہاں رہتا ہے جو اس سے  کرایہ بھی نہیں لیتا۔ یہ گھمن جی آج تک  اسکا ہسپتال میں پتا کرنے نہیں آئے۔ 

جن کے آنے کے بارے اس نے بتایا کہ کہ میر جی کا کہنا ہے کہ " میں نے ایک بار ایک پاک جگہ پر پیشاب کردیا تھا جس کی وجہ سے جن مجھے چمٹ گئے ہیں اور ا ب تنگ کر رہے ہیں۔  مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ پیشاب کرنے والا واقعہ  اس وقت کا ہے جب وہ پاکستان میں تھا۔ مطلب کوئی بیس برس قدیم یا شاید اس سے بھی زیادہ،  ابھی وہ نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہے مگر نہیں پڑھ سکتا ۔

ڈاکٹر کیارہ  کچھ یوں گویا ہوئیں "  ہم  نے آپ کے بارے بہت سنا ڈاکٹر جی،  کہ معالج بھی ہو اور پھر ثقافتی ثالث بھی ہو، آ پ نے نفسیات بھی پڑھی ہوگی۔ تو آپ ہمیں پاکستانی معاشرہ کے پس منظر میں اس کیس کی حقیقت بتاؤ۔

اب میں کیا بتاؤں۔   ایک بے روزگار آدمی کو جن  نہ پڑیں تو اور کیا ہو؟ آپ بتاؤ،  اول بات پاک جگہ پر پیشاب کرنے والی تو ،  یہ بات تو واقعی ہمارے ادھر مشہور ہے، مگر میرے خیال سے یہ کچھ ایسے ہی ہے جس طرح ہندو معاشرہ میں گائے ماتا کا کردار ہے، کہ بھئی یہ جانور چونکہ دودھ دیتا ہے مکھن بھی توقحط کے دنوں میں اسے "گائے ماتا" کا لقب دیا گیا کہ تب اس کا کام " ماں" کا ہی ہوتا ہے جو کھانے کو دیتی ہے۔ پاکستان میں عام مشہور ہے کہ فلاں بندے کو جن چمٹ گیا  کہ اس نے  چلتے پانی میں پیشاب کردیا تھا، فلا ں نے درخت کے سائے نیچے بول براز کردیا تھا  اور درختوں پر جنات کا ڈیر ہ ہوتا ہے،  کچھ ایسا ہی قبرستان کے بارے مشہور ہے۔  اب  اگر سوچا جائے تو چلتا پانی ،  سایہ  اور قبرستان  ہمارے لئے کس قدر اہم ہیں اور یہ بھی کہ انکو گندگی سے پاک رکھنے کا  اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ ادھر جن کا ڈیر ہ ہو اور وہ ہر مُوت کرنے والے کو چمٹے، کم سے کم  جو یہ کچھ سن لے گا وہ ان جگہوں  پر اپنی حوائیہ ضروریہ پوری کرنے 
سےفل بٹا فل گریز کرے گا۔

کچھ سوالا ت 
۔جن پاکستا ن ادھر کیسے پہنچا، ضرور پی آئی اے  سے آیا ہوگا، ایسے صورت میں اسکی ٹکٹ کو نسی ایجنسی سے بنی اور اسکا۔خرچہ کس نےبرداشت کیا؟

یہ جن صاحب  بیس برس تک کس چیز کو اڈیکتے رہے ، صرف تب ہی کیوں  چمٹے جب یہ بندہ  بے روزگار ہوگیا، اس سے 
 پہلے چمٹتے تو انکو کچھ یورو بھی مل سکتے تھے؟

پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہی بندوں کو جن کیوں چمٹتے ہیں ، اٹالین لوگ   پر حملہ آور نہیں  ہوتے۔ اسکی وجہ؟
کبھی آپ نے سنا کہ جن کسی  سید ، چوہدری، راجپوت، پٹھان ،  و اس طرز کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ۔ پڑے ہوں؟؟  میں نے تو نہیں سنا۔ہیں جی

 پھر یہ جنات قصائی ، نائی اور اس قبیل  کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے  پر ہی کیوں اکثر چڑھائی کردیتے ہیں؟؟؟ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, ستمبر 08, 2012

وقت اور پیشے

کل رات کو ہی پیاچنزہ میں پہنچ گئے تھے، ہوٹل میں کمرہ کمپنی کی طرف سے بک تھا،  خیر جاتے ہیں دھڑام سے گرے اور سو گئے۔ صبح دس بجے میٹنگ کا وقت تھا ، جبکہ میری آنکھ حسب عادت سات بجے سے پہلے ہی کھل گئی، شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کمرے کہ ایئر کنڈیشنر بند ہوچکا تھا اور کھڑکی مکمل بندہونے کی وجہ  پسینہ پسینہ ہوچکا تھا۔

بعد از غسل، ٹائی شائی لگا، جب بوٹوں کے تسمے بند کرنے لگا تو محسوس ہوا کہ لو جی بوٹ کا تلوہ تو اکھڑ گیا ہے،  چلو کوئی بات نہیں،  نیچے  گیا  اور کاؤنٹر سے پتہ کیا کہ کمپنی کا کوئی اور  بندہ نیچے اترا ہے تو، جواب آیا کہ "کتھوں"؟  دس بجے جلسہ شروع ہونا ہے تو پھر ساڑے نو بجے ہی آمد ہوگی۔  "اچھا جی، چلو،  اگر کوئی  نیچے اتر ے تو کہنا کہ ڈاکٹر صاحب ادھر ذرا چہل قدمی عرف مارننگ واک کو نکلےہیں،  موبائیل پر فون کرلو" کہا اور نکلے لئے باہر،  یورو ہوٹل کے سامنے کی روڈ کراس کی تو  ایک دکان دار سے پوچھا کہ کوئی موچی کی دکان ؟ جو جوتے مرمت کردے۔  اس نے سوچ کر کہا کہ ایک وقت میں تو بہت تھے مگر اب میرے ذہن میں کوئی بھی نہیں آرہا،  اچھا سینٹر کس پاسے ہے؟ "ادھر سجھے کو کہہ کر وہ اپنے کام کو لگ گیا "۔   اور میں  سجے کو  ہولیا ۔  پوچھتا اور دیکھتا رہا ، کچھ دیر بعد ایک مرد بزرگ نے بتایا کہ یہ جو گلی ہے اسے سے کھبے ہوجاؤ اور تیسری گلی میں سجے ہوکر پوچھ لینا، ادھر قریب ہی موچی کی دکا ن تھی، کہنے لگا کہ اکھڑے تلوے والا جوتا فوری مرمت نہیں ہوتا، آپ جوتا چھوڑ جاؤ، تین دن بعد ملے گا۔ مجھے شام کو واپس جانا ہے ، میں ادھر کا نہیں ہوں، معذرت کی، اور نکل لیا۔

واپسی پر جانے کیوں میرے دماغ میں آیا کہ میں کوئی بیس کے قریب کمپوٹر اور الیکٹرونکس کی دکانیں دیکھی ہیں،  مگر بیس برس ایسا نہیں تھا، تب موچی، دھوبی اور اس قبیل کی دکانیں کافی بھی تھیں مگر کمپوٹر کی شاید ایک یا دو،   کوئی سیانہ بابا سچ ہی کہہ گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے،  کام پیشہ سب کچھ۔ بیس برس جو پیشے تھے وہ اب نہیں اور جو اب ہیں ان میں سے پیشتر تب نہیں تھے، ہیں جی

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 04, 2012

فرعون کے پیچھے پیچھے


لنڈن  میں فرعون کی تلاش
فرعون کے ساتھ ہمارا یارا نہ بہت پکا ہے اور پرانا بھی،  کوئی کل کی بات تھوڑی ہے، بلکہ کئی برس گئے جب لنڈن کو سدھارے تھے سنہ 2002 میں،  تو  بھی فرعو ن اور مایا کےلئے اپنی فلائیٹ مس کرنے کی کوشش کربیٹھے،  تب  ہمارا مقصد برٹش میوزیم میں توتن خام صاحب کے سونے کے ماسک کی زیارت کرنا تھا، مگر گورا صاحب نے اسے ہمارے جانے سے چند ماہ قبل ہی قاہرہ میوزیم  روانہ کردیا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے، کہ خان صاحب اگر چند ماہ پہلے آجاتے ادھر تو کون سی موت پڑنی تھی۔ یہ توتن خامن صاحب  بہت مشہور معروف فرعون ہوئے،  سنہ 1332 سے 1323 قبل مسیح ادھر حکمران رہے اور جدید فراعین  کی تاریخ میں  پڑھا ئے جاتے ہیں،  انکا تعلق اٹھارویں ڈینسیٹی سے تھا جو  سنہ  1550 سے 1292 قبل مسیح تک ادھر حکمران رہے، حضرت موسٰی علیہ سلام والا فرعون رعمسس دوئم اس سے پہلے بھگت چکا تھا۔ ، یہ صاحب  اپنے سونے کے ماسک اور سونے کے تخت کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے، مطلب موٹی اسامی تھے۔  توتن خامن کے مقبرے کی جب کھدائی ہوئی  1920 میں تو کارٹر صاحب نے عادتاُ  اسکے مقبرے سے ہونے والا سونے کاماسک بھی چپکے سے نکال کر کھیسے کیا اور پھر ولائیت کو سدھارے، جی ، جی، بلکل اسی طرح جس طرح  ہندوستان کے مقبروں کے تختے بھی لے اڑے تھے اور آپ کو آج بھی لاہور ، دہلی اور آگرہ کے مقبروں کی دیوراوں میں  "موریاں" نظرآتی ہیں، جہاں سے قیمتی پتھر نکالے گئے۔ توتن خامن  کا ماسک 2007 سے اسوان کے میوزیم میں توتن خامن کے مقبرے کے اندر زیارت کو دستیاب ہے۔   



میڈرڈ میں فرعون کا پیچھا
میڈرڈ میں جب سنہ 2009 میں جانا ہوا تو ادھر بھی ہماری فرعون سے یاری نے جوش مارا اور ہم ادھر نکل لئے ٹمپل آف دیبود  کی تلاش میں ، جو پلاسا سپانیہ کے ادھر قریب ہی پایا گیا، خیر سے ادھر  فرعون تو نہ پایا گیا نہ "وڈا نہ چھوٹا" مگر چلو  اسکے پاس کی چیز ہے ، یہ ٹیمپل ادھر جنوبی مصر میں اسوان کے علاقہ میں دریائے نیل سے کوئی 15 ک م کی نزدیکی پر تھا ،   یہ دوسری صدی قبل مسیح میں "عیسس" نامی دیوی کےلئے  تب کے بادشاہ  "میروئے" نے تعمیر کروایا،   اسکا چھوٹا کمرہ البتہ "ہاموں" نامی دیوتا کے لئے مختص ہوا،   یہ معبد اپنے علاقے کی جامعہ مسجد ہی سمجھا گیا،   پھر جب 1960 میں  جب عظیم اسوان  ڈیم کا منصوبہ بنا تو پھر اسے  ادھر میڈرڈ کو یاری کی علامت کے طور پر  گفٹ کردیا گیا،   بہر حال ادھر جا کر معلوم ہوا کہ اس کا براہ  راست فرعون کے سا تھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ کہ یار لوگوں نے ایویں  "چوول" ہی ماری ہے ۔  جو لو گ میڈر ڈ  میں رہتے ہیں   ی جو لوگ ادھر غلطی  سے پہونچ  جائیں  اوریہ مضمون  پڑھنے کے باوجود بھی   اگر ادھر جانا چاہیں تو  یہ معبد ادھر میڈرڈ کے رائل پیلس کے پچھواڑے میں پایا جاتا ہے۔  ہیں جی۔
 
نہ جاسکے تو صرف قاہرہ نہ جاسکے، رہی بات تورینی کے میوزیم کی تو چونکہ اس کی  سیر حد سے دلچسپ رہی ، جی جی ، کمپنی کی وجہ سے بھی، تو اسبارے کل لکھا جاوے گا۔ ابھی جولکھا گیا اسی کو ہضم کریں اور صبر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔  

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

مکمل تحریر  »

پوک


پوک Poke آجکل فیس بک پر دائیں ہاتھ   دستیاب ہے،  ویسے تو اسکا کوئی خاص استعمال نہیں مگر فیس بک نے بندے کو بس "ایویں ہی انگل"  دینے کو رکھا ہوا،   کہ  "انگل ای"  ، اٹالیں لوگ اس کام کےلئے  دائیں ہاتھ کی  لمبی والی انگلی کھڑی کرکے باقی اپنی طرف بند کرلیتے ہیں۔ ویسے پرانے لوگ اسے کبیر درجہ کی گالی اور    "منڈے کھونڈے" مطلب "کالجیٹ"  اسے سلام دعا کے طور پر استعمالتے ہیں۔اٹلی کے سابق وزیراعظم  سلویو بیرلسکونی  تو اسے باقاعدہ طور پر عوام سے  جلسوں میں سلام دعا کرتے تھے۔ 

یہ ایپلیکیشن کچھ دنوں سے مجھے اپنی فیس بک پر دکھائی دے رہی ہے،   بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ موجود تو کافی عرصہ سے ہے اور کوئی اکا دکا بندہ پوک کردیتا ، بندہ بھی مروتاُ جوابی پوک  کردیتا، مگر  چند دنوں سے فیس بک نے اسکو کچھ زیادہ ہی لفٹ کرانی شروع کردی ہے،  میرے ادھر بھی دائیں ہاتھ کوئی پنج ست نام لکھے نظر آتے اور میں یہ سمجھتا کہ ان سب نے مجھے پوک کیا ہے، مطلب "ایڈےلوک" اس بندہ کو یاد کررہے ہیں،   پس مروت کے مارے فوراُ جواب دیتے رہے،  ادھر تورینو کی ایک ڈاکٹر صاحبہ میرے فیس بک پر ہیں اور انہوں نے  مروت کے مارے میرے پیج پر پیغام لکھ مارا  کہ : "حجرت جی آپ کے پوک کرنے کا شکریہ ، بندی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے  جوابی پوک نہ کرسکنے  پر  دلی طور پر معذرت خواہ ہے"۔

اگلے دن اپنے یاسر صاحب المعروف   پیر بابا خوامخواہی  جاپان والے بھی پوچھ رہے تھے کہ میاں  خیر ہے آپ نے مجھے پوک کیا ، میں  ہکا  بکا رہ  گیا کہ اچھا  میں تو سمجھا کہ آپ نے مجھے پوک کیا ہے مگر  وہ صاف انکاری ہوگئے، تس  پر میں نے بلکل اسی طرح غورو خوص کرنا شروع کیا جیسے نیوٹن  نے سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے کر شروع کیا تھا کہ بھئی یہ سیب نیچے کیوں گرتے ہیں اور اوپر کو کیوں نہیں نکل لیتے، اس سے دو باتیں دماغ میں آتی ہیں: اول  یہ کہ نیوٹن کی قسمت اچھی تھی کہ ادھر "بیری " کا درخت نہیں تھا نہیں تو یار لوگ  ادھر پتھر مار کے بیر وں کے ساتھ اسکا سر بھی کھول دیتے۔  دوئم  کہ نیوٹن نہایت ہی کھوتے دماغ کا تھا، کہ  بھئی جب سیب پہلے بھی نیچے کوہی گرتے تھے اور اب بھی نیچے کو ہی گررہے ہیں  میں ۔ بندہ پوچھے کہ سرکاراں تویہ جو لڑکے  بالے ہر سال اس کے قوانین کی زد میں آکر فیل  ہوجاتے ہیں   وہ دریافت کس کھاتے میں؟  بس جی کھوتا کھوہ میں ہی ڈال دیا  ا س نے بھی۔

پھر جب دماغ لڑایا   اور اگلی دفعہ  جب ادھر دائیں طرف پوک  کا چکر دکھائی دیا توغوروخوص کے بعد یہ علم حاصل ہوا  کہ مولانا فیس بک کا فرمان ہے کہ  جناب ان لوگوں کو پوک کرکے ثواب داریں حاصل کریں ، دھت تیرے کتا  رکھن آلے کی۔

آج اپنے مولبی علی طارق صاحب پوچھ رہے تھے  کہ جناب یہ  پوک کا چکر کیا ہے ؟  تو انکو تو میں نے یہ جواب  دے کرٹرخادیا کہ: " پتا نہیں، فیس بک نے کہہ دیا کہ ان بندوں کو پوک کرنا لازمی ہے، تو ہم نے پوک پر کلک کردیا ،میں سمجھا انہوں نے مجھے پوک کیا ہے، بعد میں پتا چلا کہ نہیں ایویں انگل ہی کی " ، بھلے مانس بندے  مجھے  " کالی رات  مطلب شب بخیر " کہہ کر چلتے بنے، یاد رہے  " کالی " یونانی زبان میں  اچھی کو کہتے ہیں۔ نہیں یار  وہ والی کالی نہیں ، آپ ہمیشہ الٹے پاسے ہی جاؤ گے ، یہ افریقاُ کالی نہیں ہے۔ دسو۔ ایک تو آپ کا دماغ بھی فوراُ پٹھے پاسے ہی جاتا ہے۔ 

بعد میں بمعہ صد افسوس میں نے بابا جی گوگل سے پوچھا تو بابا جی نے بتا یا کہ  بچہ  جاہل  یعنی کہ" ڈنگرا " یہ سست  المعروف  کاہل لوگو ں کا "ہائے" کہنے کا طریقہ ہےکہ  کسی کو سلام دعا کرنے کی بجائے  یا کسی کو دو چار الفاظ کا پیغام لکھنے کی بجائے اسکو پوک کردو، دھت تیرے  سستی مارے کی۔  ہیں جی

مجھے پوک کرنا جانے کیوں ایسے ہی لگا جیسے کسی کی بیل بجانا،  جب ڈور بیل نئی نئی ایجاد ہوئی تھی تو پورے محلے میں کسی ایک کی ڈور بیل ہوتی تھی۔ ہم  سارے کزنز اور مشٹنڈا پارٹی ، ادھر شکر دوپہرے  ان کی ڈو بیل بجاکر بھاگ آتے ،  ہیں جی
اور وہ  لو گ پورا آرام کا وقت  گالیاں دیتے ہوئے گزارتے کہ" کیڑا سی کسی سورے دا پاڑا "،  ہیں جی
جبکہ ہم اپنی  چھت پر مزے سے سنتے، ہیں جی
  تب تک جب تک ہمیں بھی کوئ بڑا آکر براہ راست گالیوں سے نہ نوازتا۔  



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش