ہفتہ, دسمبر 29, 2012

چیف جسٹس سے مگرمچھوں کے سوال

آج کل  بلاول  سے لیکر فیس بکی "سیانے" اور حکومتی تختوں پر بیٹھے ہوئے،اپنے تخت فرعون سے یہی  سوال  کرتے نظر آتے ہیں  کہ "چیف جسٹس تم نے یہ کیوں نہیں کیا ؟  تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟  تم یہ کرو گے؟ تم وہ کرو گے؟" مجھے سمجھ نہیں آتی ہر کام چیف جسٹس نے ہی کرنا ہے، یہ جو باقی کے 2500 سے زائد مچھند ربقسم  "مگرمچھ"   ہم نے پالے ہوئے  ہیں، صدر، وزیراعظم، وزیر، وزرائے اعلٰی، گورنرز، صوبائی وزراء، پھر سرکاری افسران، جو بادشاہوں کی طرح زندگی انجوائے کررہے، جنکو آپ محلات میں سے باہر نکلنا بھی گوارہ نہیں،  یہ کس بیماری کی دوا ہیں.



 اگر سب کچھ چیف نے ہی کرنا ہے اور اسے ہی جواب دینا ہے  تو ان باقی کے ۔۔۔۔۔۔ کو گھر بھیج دو، انکو ملنے والی تنخواہیں و مراعات اگر عوام میں تقسیم کردی جائیں تو اس سے یقینی طور پر ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔


3 تبصرے:

  • گمنام says:
    12/29/2012 04:05:00 PM

    سرکاری افسر سرکاری اہل کار
    سارے حرام زادے ہیں۔
    یہ نوکری کیلئے جوتیاں گھسٹنے والاوقت بھول جاتے ہیں
    اور نکے نکے حرامی فرعون بن جاتے ہیں۔
    کوئی بھی سرکاری ملازم ایسا نہیں جو پکا حرام کا نہ ہو۔

  • فضل دین says:
    12/29/2012 04:05:00 PM

    ویسے ایک خیال دماغ میں گھستا ہے ایسے موقعوں پر۔۔۔ کہ جب چوہدری صاحب سپریم کورٹ چھوڑ دیں گے تو پھر کیا ہوگا ان سیانوں کا؟

  • افتخار راجہ says:
    12/29/2012 04:42:00 PM

    چوہدری جی کے نہ ہونے سے بھی اب کوئی اور آجائے گا، دنیا کا مالک اللہ ہے، البتہ جوہدری جی نے اچھائی اور ثابت قدمی کی ایک مثال ضرور قائم کردی ہر اک کےلئے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش