ہفتہ, فروری 19, 2011

تین سو یورو اور تین بندے

تین سو یورو اور تین بندے روم ایمبیسی میں پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست معمول کےمطابق جمع کروا کر سوچا کہ اب آئے بھی ہیں توایک صاحب جاننے والے ادھر فائیز ہیں انکے دیدار ہی کرتے چلیں، ڈاکٹر سمیر صاحب کہ ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھے کے شدید اصرار کے باوجود اندر پیغام بھجوادیا، اور ہمیں انتظار کرنے کا کہاگیا، خیر سے دس منٹ ایک گھنٹہ اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بقول کھلتے کھلتے افسرکھلا کے مصداق موصوف قریشی صاحب نمودار ہوئے کہ اہو لو جی کرلو گل میں ذرا اٹالینز کے ساتھ میٹنگ میں تھا اس لئے دیر ہوگئی، یہ پہلی چکری، یعنی چھوٹا چکر، اپنے دفتر میں لے گئے، خیریت دریافت ہوئی، چائے کا آرڈر دیا گیا اور پھر فرمانے لگے کہ ادھر رہنے کےلئے ضروری ہے کہ آپ اٹالین سیکھیں کہ روزمرہ کی ضرورت ہے میں نے انکو بتایا کہ صاحب میں تو عرصہ سے سکھلا رہا ہوں، فرمانے لگے کہ تو پھر ہمیں بھی سکھلا دیں، اب کے مکری، ہم حیرت زدہ تھے کہ یہ بندہ ایمبیسی میں روم کے اندر تعینات کردیا گیا ہے اور اس کو اٹالین نہیں آتی، خیر تعجب نہیں ہوا کہ یہ صاحب نہ تو اولین میں سے ہیں اور نہ ہی آخرین میں سے ، کہ انکے سابقین بھی صرف انگریزی سے اپنا کام چلاتے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں جبکہ برطانوی اور امریکی سفارتخانوں کا عملہ اٹالین بولتا ہے، اٹالین تو درکنار اردو، پنجابی پشتو تک بولتے ہیں اپنے میاں ریمنڈ لاہور والے کی مثال ہی لیجئے۔ افسرانہ انداز میں ارشاد ہوا کہ ہمارے لائق کوئی خدمت، میں نے عرض کیا کہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ میلان میں ڈیجیٹل پاسپورٹ شروع کروادیں کہ سارے پاکستانی تو شمال میں ہیں ان کو سہولت ہو جائے گی، روم کا چھ سو کلومیٹر کا سفر کرنے سے بچ جائیں گے ، تو حضرت یوں گویا ہوئے کہ منصوبہ پاس ہو چکا ہے مگر ابھی وقت لگے گا یہاں پر ایک ہزار یورو کی خریداری کرنی پڑ جائے تو اس کا بل پاس نہیں ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔ مکری کیوں کہ ڈیجیٹل پاسپورٹ کے نام پر کون سی توپ چلانی ہوتی ہے، ایک ڈیٹا انٹری کا کمپوٹر، ایک فنگر اسکینر اور ڈیجیٹل کیمرہ ، بس ہوگیا شروع کام۔ اتنا تو ہم تین بندے روم جانے آنے میں خرچ کر چکےہیں اگر ہمیں ہی کہتے تو ان پیسےسے ہی کام چل سکتا تھا کہ ہم نے وہ پیسے سفر کی مد میں بھی تو خرچ کرہی دیے اور منافع کے طور پر 1200 کلو میٹر گاڑی بھی چلائی، پندرہ منٹ کے کام کےلئے اگر یہ پیسے ہماری جیب میں رہتے تو دو ہی مصرف تھے یا پاکستان جاتے یا اپنی جیب میں رہتے اور جب جاتے تو خود سے ساتھ لے جاتے، کون جانے ہر روز کتنے لوگ روم جانے میں دو تین سو یورو کا نقصان کرلیتے ہیں، مگر یہ تو کچھ بھی نہیں ہم تو تین بندے مروا کر بھی اس سوچ میں ہیں کہ ریمنڈ کو سفارتی تحفظ حاصل ہے کہ نہیں۔ تین سو یورو تو کچھ بھی نہیں

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 15, 2011

مایا کا ہاتھ نہ آنا

میری دوست لوچیانا کا خیال تھا کہ اگر ہم لندن گے اور مایا کا سر نہ دیکھا تو پھر کیا دیکھا اور یہ کہ ایک دفعہ دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ جاؤ کے اور یہ بھی کہ یہ کسی پرانے خناس قسم کے جادو گر کا ہے جو مرکربھی آپ کے حواس پر چھا جاتا ہے۔ مجھے خود بھی مایا سے بہت لگاؤ ہے، بس جی چاہتا ہے کہ بہت سی مایا جمع ہو، پھر کچھ ہو یا نہ ہو۔ یوری اور میں خیر سے برٹش میوزیم کے سارے حصوں کا فوری دورہ کرکے جب جنوبی امریکہ کے حصہ میں پہنچے جہاں پر مایا صاحب کا ایک عدد سر موجود تھا تو معلوم ہوا کہ یہ حصہ تو دوپہر کے وقفہ کے سلسلہ میں بند ہے اور تین بجے دوبارہ کھلے گا، شام سات بجے ہماری فلایئٹ کا وقت مقرر تھا اور قائدہ کے مطابق پانچ بجے ادھر سٹین سٹیڈ کے ائرپورٹ پر ہونا چاہئے تھا مطلب ہمارے پاس صرف دو گھنٹے کا وقت تھا کہ ہم نے اسی میں برٹش میوزیم سے والتھم اسٹو پہنچ کر ہوٹل سے اپنا سامان لینا تھا اور پھر وکٹوریہ سے ٹرین پکڑنی تھی۔ خیر دو گھنٹے انتظارکرنا تھا، اس دوران سوچا کہ چلو مصر کے حصہ میں توتن کامن صاحب کے سونے کے ماسک کی ہی زیارت کرلیتے ہیں کہ اتنا سونا ایک ساتھ اور ایک چھت تلے شاید ہے کہیں اور دیکھنا نصیب ہو ، معلوم ہوا کہ ماسک صاحب کو دو ہفتہ قبل مصر کے قائرہ میوزیم میں روانہ کردیا گیا ہے۔ یعنی جہاں کی خاک وہیں کو لوٹی۔ بقول یوری بہت افسوس ہوا اپنے اوپر کہ ہم دو ہفتے پہلے کیوں نہ آئے اور میوزیم والوں پر بھی کہ انہوں نے ماسک کی واپسی جہاں انہوں نے کئی دھائیاں روکے رکھی ہمارا بھی انتظار کرلیتے تو کون سی قیامت برپا ہوجاتی، اس موقع پر ہمیں گورا صاحب کی بے بسی دیکھائی دی کہ دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ہماری آمد سے باخبر نہ تھے۔ پھر کیا تھا بھاگم بھاگ مایا صاحب کی طرف لوٹے تو وہاں پر ایک کالی کلوٹی افریقن بیٹھی تھی پہرے پر شاید انکو شک تھا کہ ہم اس کھوپڑی کو چرا کرآلہ دین کے چراغ کی طرح رگڑتے پھریں گے، حالانکہ ہمارے جی میں ایسی کوئی بات نہ تھی، مایا صاحب کی العمروف کھوپڑی کی تلاش شروع ہوئی، ہم کسی جانب مایا جی کو نہ پا کر اس سے پوچھے بغیر نہ رہ سکے، خاتون نہیایت درشت لہجےمیں بولی بلکہ دھاڑی کہ تمھیں معلوم نہیں کہ مایا صاحب کا ایک دانت خراب ہوگیا تھا اور اسی کی مرمت کےسلسلہ میں دو دنوں کےلئے ہسپتال میں داخل ہیں۔ پس اگلے ہفتے آؤ، چونکہ اگلے ہفتے تو درکنار اگلے گھنٹے آنا بھی ممکن نہ تھا، پس ہوگئی بقول لیاقت بھائی کے پھڑلو پھڑلو ، ہم بھاگم بھاگ والتھم اسٹو اور پھر وہاں سے ائیرپورٹ کو کیسے پہنچے ہمیں خود بھی معلوم نہیں، البتہ جب رائین ائر کے جہاز میں اعلان ہو اکہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لو میں کہ اب تو ہوا کے دوش چلے تو یقین ہوا کہ ملاتو کچھ بھی نہیں مگر ہاتھ سے بھی کچھ نہیں گیا۔ نتیجہ مایا کم ہی کسی کے ہاتھ آتی یا آتا ہے چاہے وہ اردو کی ہو یا ساؤتھ امریکہ والی ہو۔

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 06, 2011

ہمت مرداں

مصر میں ہمارے ہم مذہب اس بات پر مصر ہیں کہ انکے صدر مبارک انکےلئے مضرہیں، گو اس سارے قضیہ میں امریکہ بہادر کی کوئی غلطی نہیں مگر پھر بھی کچھ عناصر اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، کیوں یہ تو وہ ہی بتلا سکتے ہیں آج شام کو گزرتے ہوئے زاہد صاحب کہ صرف نام کے ہیں سے ملاقات ہوگئے میں نے گاڑی کی کھڑکی کھول کر احوال دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میاں کیا بتلاؤں کہ امریکہ بہادر کی مہربانیوں سے ادھر مصر، اردن لبنان میں پنگا پڑا ہوا ہے۔ اب امریکہ بہادر کو اور کوئی راستہ نہیں مل رہا اور القائدہ کے خلاف بے قائدہ جنگ کو بھوت بھی غائیب ہورہا ہے۔ لہذا یہ مصیبت اسلامی ممالک پر افتاد کردی گئی ہے۔ قسم سے یہ بلکل وہ صورت حال ہے اور احتجاج ہے جو ایران میں پس از الیکشن ہوا تھا، اور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا پھر کیاہو ؟ یہ کہ برطانوی سفارت خانےکے کم و بیش ایک درجن ایرانی ملازمین گرفتار اور قضیہ ختم ہوا، لوگ بھاگ اپنے اپنے گھروں کو گھر گھرستی کےلیے چل دیے۔ ستم یہ ہے کہ ان دنوں میں اس طرح کی بنیاد پرست حکومت صرف ایران میں ہی ہےجو یورپی سفارت خانوں کے ملازمین کو انکے ناجائز معاملات پر بازپرش کرسکتی ہے۔ ورنہ تو سارے حکومت پاکستان کی طرح ایک بندہ پکڑلیا ہے اور اسی بارے میں معافیاں مانگ رہے ہیں کہ جناب غلطی ہوگئی، اوریہ کہ یہ تو سارا پنجاب حکومت کا پنگا ہے اور پھر عدالتوں کا کیا دھرا ہے۔ انہیں ہی فیصلہ کرنا ہے ، ورنہ ہمارا کیا ہم تو آپ کے غلام ہیں آج پنجاب کی حکومت تڑوادیں عدالتیں اپنے ہاتھ میں دے دیں اور بس پھر دیکھں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا لکھوں آگے آپ خود ہی سیانے ہیں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش