اتوار, اگست 30, 2015

تبدیلی Chang

بہت کچھ تبدیل ہو سکتا تھا ،  
نئے چہرے لائے جانا ایک بڑی تبدیلی ہوتی، نوجوان قیادت ہوتی،  چالیس برس سے اوپر کے کسی بندے کو ٹکٹ نہ ملتی کہ یہ لوگ اپنے پانچ سال کے مقامی حکومتوں میں تجربے  کو اور مقامی مسائل کو سمجھ کر آگے لے جا سکتے تھے۔

تبدیلی  یہ ہوتی کہ سب لوگ نئے ہوتے، چہرے نہیں بلکہ نئے، ایسے لوگ  جو پہلے سے ہی مشہور اور کرپٹ سیاہ سی خاندانوں کے سپوت نہ ہوتے۔

تبدیلی یہ ہوتی کہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہوتے،  اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ آگے آتے۔ جو اپنے  علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے  عوام کے مسئلے  حل کرتے۔

پرانی "سیاہ سی"  پارٹیوں سے تو امید کم ہی  رہی ہے مگر تحریک انصاف خاص طور پر اس بات کا نعرہ لگاتی رہی ہے، اور انکے "چالے" دیکھ  دیکھ کہ ہم یہ کہتے رہے کہ یہ بھی ایک سیاہ سی پارٹی ہے، باقیوں کی طرح۔ ہم دیکھتے رہے کہ وہی مچھلیں ایک مرتبان سے دوسرے میں چھلانگیں مارتی رہیں۔ 



صرف نعروں  سے تبدیلی نہیں آتی، اگر ایسا ہوتا تو سب سے بہترین نعرہ   پیپلز پارٹی کا تھا، "روٹی ، کپڑا اور مکان"۔ مگر چونکہ یہ صرف ایک نعرہ ہی رہا عملی کام کچھ بھی نہ ہوا ، تو جنابو موقع ملتے ہی عوام  نے اس پارٹی کا دھڑن تختہ کردیا۔ بھٹو "زندہ  ہے " کا نعرہ دب گیا ہے۔
اب تبدیلی اگر صرف آسکتی ہے تو تو وہ ہے کچھ کرنے سے، دوسروں پر تنقید ضرور کرو، مگر خود بھی کچھ کرو، تاکہ جو دوسرا کچھ کررہا ہےاسکو اپنے نمبر بنانے کو کچھ بڑا کرنا پڑے۔

کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ 
کا بیٹا، کا بھتیجا، کا بھائی، کا کزن ، ہی ناظم بنا،
تحریک انصاف سمیت باقی پارٹیوں کا بھی حال ایک سا ہی رہا
باوجود ناامیدی کے ایک بار پھر بہت دکھ ہوا۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 10, 2015

کچھ ھیکرز کے بارے میں۔

ھیکرز جنات ہوتے ہیں اور انکے پاس وہ طاقت ہوتی ہے کہ بس بندے کے کمپوٹر میں سے ہرچیز کھینچ کے لے جاتے ہیں، پاسورڈ، کریڈٹ کارڈز کی معلومات اور جانے کیا کیا ، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہمیں اخبارات اور رسائل سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ حال وائرس کا بیان کیا جاتا ہے۔
بقول چچا غالب کے :

پس از مرے گھر سے یہ ساماں نکلا،۔۔۔۔۔ کچھ حسینوں کے خطوط  چند تصویر بتاں
اگر یہ شعر الٹا محسو س ہورہا ہے آپ کو تو برائے مہربانی ادھر ادبی تنقید کرنے کی بجائے، سائنسی موضوع پر توجہ مرکوز فرمائیں،  تو
جب آپ کے کمپوٹر میں ہی کچھ نہیں ہونا تو نکلنا کیا؟؟؟  توجنابو، ایویں ای ٹینشن لینے کی لوڑ  نہیں ہے۔ آپ کے کمپوٹر میں سے ھیکرز کو مرتے مرجائیں  "مینگو مطلب امب" بھی نہیں ملنے  والا۔
تو صاحبو اگر آپ کا تعلق اس گروہ سے ہے تو اس تحریر کو پڑھ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں اور فوراُ سے پیشتر  اس لنک پر کلک کرکے نکل لیں اور اپنے وقت کو کسی اچھے کام میں برباد کریں۔ تہاڈی مہربانی۔
چونکہ آپ ابھی تک یہی سطور پڑھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ پڑھتے جائیں۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کے اختتام تک آپ خود ھیکر بن چکے ہوں، یا محلے میں دستیاب پانچ سات ھیکرز کو پہنچاننے کے قابل ہوجاویں گے۔
تو جناب ایسا بھی کچھ نہیں ہونے والا، بس یہ ہوگا حد سے حد کہ آپ  کو کچھ اندازہ ہوجائے گا کہ آپ پر ھیکرز نے حملہ کردیا ہے اور آپ کی تھوڑی سی توجہ اپنے کمپوٹر کو انا للہ وانا الیہ راجعون ہونے سے بچا سکتی ہے۔
مقاصد۔
ھیکنگ کے جو مقاصد ہیں ان میں تو شامل ہے کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات،  آپ کے کریڈیٹ کارڈز کے بارے میں معلومات، اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیلات  آپ کے کمپوٹر سے اڑا لی جائیں۔
اب بندہ پوچھے کہ ان کا وہ کریں گے کیا؟؟ تو جناب یہ کریں گے کہ آپ کے بنک میں سے  پیسے اڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ آپ کے کریڈٹ کارڈز میں  سے پے منٹس کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیل آپ کے کاروباری مخالفین کو بیچ کر پیسے کمانے کی کوشش  کی جائے گی۔ مگر یہ سب کچھ ایک عام کمپوٹر یوزر سے متعلقہ نہیں ہے، اگر آپ اپنے کمپوٹر سے اپنا بینک اکاؤنٹ  نہیں آپریٹ کرتے، کریڈٹ کارڈ آپ کے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ اپ عیدو عید ہی استعمال کرتے ہیں یا صرف رشتہ داروں کو جلانے کو رکھا ہوا ہے ۔ آپ بزنس کی بجائے کسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے ہیں تو پھر جناب آپ دودھ پی کر سوجائیں، آپ کا کوئی کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔ 
ہاں آپ کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا فیس بک  اکاؤنٹ ھیککردیا جاوے اور آپ کو زک پہنچانے کی کوشش کی جائے  یا ای میل ھیک  کرلی جائے اور آپ کی میلز ضائع ہوجائیں۔ تو جناب  ایسی صرف میں آپ کا مالی نقصان تو ہوگا نہیں البتہ خواہ مخواہ کی ٹینشن البتہ ہوگی اور وہ بھی مفت میں۔
پس آپ کو اگلی قسط کا انتظار کریں
جس میں ہم ان کا طریقہ  واردات بیان فرمائیں گے اور اسکے بعد انکا تدارک بھی بیان ہوگا۔
تب تک آپ اسی پر کمنٹس کرتے رہیں 

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 24, 2014

ڈڈھو نکالنا

ڈڈھو   نکالنا
جون  میں شمالی پنجاب کی گرمی بہت شدید ہوتی ہے، خاص طور پر جہلم کی سطح مرتفع  کی گرمی  جہاں پر درجہ حرارت شدید ہو جاتا ہے ، پچاس  سینٹی گریڈ تک تھرمامیٹر کا پارہ پہنچ جاتا ہے۔  گویا اب تھرما میٹر پھٹا کہ پھٹا ،  ہر طرف   دھوپ کی چمک اور گرم لو۔ 
ایسے میں گھاس تک جل جاتی ہے اور جانوروں کےلئے سبز چارہ کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان تو کیا جانور تو جانور بھی چھپتے پھرتے ہیں، درختوں کے سائے تلے ہوں یا دیوار کی اوٹ میں ایک جیسی جی جلانے والی گرمی سب کو تپائے ہوئے ہوتی ہے۔  کسی پل آرام نہیں ہوتا

دریا کر کنارے رہنے والے تو دریا کے پانی میں گھس جاتے ہیں مگر وہ بھی کب تک ۔ باہر نکلیں تو پھر دو تین منٹ بعد وہی حال ہوتا ہے۔
چونکہ گھاس و سبزہ سب خشک ہوچکا ہوتا ہے تو  رات کو شبنم بھی نہیں ہوتی۔ گویا بلکل خشکی اور شدید گرمی۔ ایسے ماحول میں جب سب جی جلائے بیٹھے ہوتے ہیں تو سہ پہر کو جانے کب کسی من چلے کو    " ڈڈھو"  نکالنے کی پہلی بار سوجھی۔     اور پھر ایک رواج ہی  بن گیا بس۔

ڈڈھو پنجابی میں مینڈک کو کہتے ہیں، خاص طور پر وہ جو بڑا سا  ہوتا ہے۔  ساون کے موسم میں جب برسات سے ہر طرف جل تھل ہوتی ہے تو نظر آتا ہے گویا یہ ساون کے ہرے بھر ے موسم کی علامت ہوا۔

تقریب اس میں یہ ہوتی ہے کہ  لڑکے بالے    مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں پر پانی پھینکتےہیں اچانک سے،  کہ انکو ٹھنڈ پڑے، انکا تراہ نکلے۔  عام طور پر اس شدید گرمی میں ٹھنڈا پانی بہت خوشگوار ہوتا ہے اور ہر بندے پر اسکا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ تو نمازی لوگ دعائیں دیتے ہیں۔ اور اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ ابرکرم برسا دیتا ہے۔
یہ تو ہو گیا   ڈڈھو نکالنے کا سنجیدہ پہلو۔ اسکے ساتھ ساتھ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ دعائیں دینے کی بجائے گالیاں دینے لگتے ہیں،
کہ "تہاڈی ماں نوں۔۔۔۔  ،   تہاڈی پہینڑں نوں۔۔۔۔۔۔
اب لڑکے بالے اس بات کا برا منانے کی بجائے اس بات کا مزاق  بنا لیتے ہیں اور ٹھٹھا بنا لیتے ہیں ، ادھر "باباز "گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ادھر لڑکے بالے اور بڑے بوڑھے قہقے لگا رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں کوئی من چلا یہ کرتا ہے کہ نالی میں  سے دیکھ داکھ کر  کہیں نہ کہیں سے ، کیچڑ سے لتھڑا ہوا مینڈک کسی ڈبے میں ڈال لاتا ہے اور جو بابا یا مائی سب سے زیادہ گالیاں دے رہا ہوتا ہے اس پر پھینک دیا جاتا ہے
بس پھر ادھر سے پرزور گالیاں پڑرہی ہوتی ہیں اور ادھر سے پرزور قہقہے

اب ہم بڑے ہوگئے ہیں اور عرصہ سے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نہیں علم کہ اب بھی ڈدھو نکالا جاتا ہے یا نہیں  مگر فیس بک پر ایک بابا پکڑا گیا ہے۔ ان دنوں ایسا ہی ۔  بات بے بات گالیاں دیتا ہے اور آج میں نے پوچھ لیا ، باوا جی آپ کی گالیاں دینے کی تربیت کس استاد نے کی؟؟ بہت مشاق ہیں آپ اس شعبہ میں تو اپنے استاد کا نام تو بتائیں۔
بس پھر   وہی  ادھر کی گالیاں اور ادھر کے قہقہے



مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 14, 2014

چاچاجی کھاآئے او؟؟؟

سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا    زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء  طالبعلمی سے میری مراد کالج  کے وہ برس  ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔  ہائے ہائے وہ  نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔

جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے  انکو ایک تانگے  والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ 

عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا  نظر آتا تھا۔  میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے  تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے بالے کہتے ہیں چاچا جی، انکل جی  اور ہم دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں اوئے باز آجا، کتھوں دا چاچا، کہڑا انکل؟

یہ تانگے والاپورے جہلم شہر میں مشہور تھا،   خیر تب جہلم شہر تھا ہی کتنا،   مگر چاچے کی دھوم تھی ہر طرف۔
چاچے کی وجہ شہرت اس تانگے بان کی گالیاں  اور اسکی چھیڑ تھی "چاچا جی کھا آئے او؟"

کسی آتے جاتے نے چاچے کو کہہ دیا  کہ چاچا جی کھا آئے ہو، اور چاچے نے اسٹارٹ ہوجانا، تیری ماں  دا۔۔۔۔ کھا آئیاں
تیری پہنڑ دا ۔۔۔۔۔ کھاآئیاں۔    اور اسکے بعد چاچے نے آدھے گھنٹے تک اسٹارٹ رہنا،  تیری میں۔   تیری میں۔۔۔  ،
اور یار لوگ ان گالیوں کا مزہ اٹھاتے ، ہنستے ، دانت نکالتے اور ٹھٹھہ کرتے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ فسادی لوگ چاچے کو بلخصوص اس وقت چھیڑتے تھے، جب اسکےتانگے میں خواتین اور وہ بھی بلخصوص "کالج کی کڑیاں "سوار ہوتیں اور چاچا اسٹارٹ ہوجاتا،   شریف "کڑیاں "  بہت شرمندہ ہوتیں اور یارلوگ دونوں کا حظ اٹھاتے۔بعد میں سنا کہ عورتوں نے چاچے کے تانگے میں بیٹھنا ہی ترک کردیا۔ اور جو اردگرد ہوتیں وہ اپنا منہ چھپا لیتیں،  چاچا  بہت ننگی اور موٹی موٹی گالیاں دیا کرتا تھا اور علٰی طول دیا کرتا تھا۔ 


ہمارے زمانہء طالبعلمی سے قبل ہی یہ چاچا ایجاد ہوچکا تھا۔ تو جنابو اس کا کریڈٹ ہم اپنے سر نہیں لے سکتے۔   تب اسے  " چاچاجی کھا آئے ہو"  کہا جاتا تھا۔  پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس چاچے کی کمر اور جھک گئی ،  عینک کے شیشے مزید دبیز ہوتے گئے،  سرکے بال اور داہڑی کے بال بھی کچھ مزید  سفید ہوتے گئے،  اب چاچا  کمزور ہوچکا تھا جسمانی طور پر اور یارلوگوں نے  "چاچاجی" کی بجائے " باباجی کھا آئے ہو"  کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔

مگربابے کی گالیاں اور آواز کی گھن گرج وہی رہی۔

ہرچیز کا ایک وقت اور ایک رواج ہوتا ہے اور اسکے  بعد وہ  روٹین اور نرگسیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ پس باباجی کھا آئے او کو بھی لوگوں نے چھیڑنا  ترک کردیا ۔

مگر باباجی جو کہ عادی ہوچکے تھے اس " رولے " کے ۔  تو انکو پھر اس بات پر گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ "آج سارے کتھے مرگئے او؟ آج سب کو چپ لگی ہوئی ہے؟؟   اوئے تہاڈی میں  ماں نوں۔۔۔۔۔ ،  تہاڈی پہنڑں   نوں۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تب کوئی ہنستا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کےلئے وہ گالیاں روٹین بن چکی تھیں،  لوگ نرگسیت کا شکار ہوچکے تھے۔ 

اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ باباجی نے تانگہ چلانا ترک کردیا ہے اور مسجد کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔  اسکے بعد کا کچھ علم نہیں

معالجات کی تعلیم کے دوران جب الزائمر کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ اسکا پہلا فیز ہے۔ اسکے بعد مریض بھولنے شروع ہوجاتا، اورمذہب کے قریب ہوجاتا ہے،  پھر مختلف خیالی چیزوں یا واقعات کا بیان کرنا، اور پھر آخیر میں وہ کیفیت ہوتی ہے جسکو پاگل پن کہا جاتا ہے۔


فیس بک  ہمارا آج کا شہر ہے  اور پورا ایک محلہ بھی، جس پرہمارے دن کے کئے گھنٹے بلکہ کئی بار تو پورا پورا دن ہی گزر جاتا ہے۔ 

ادھربھی گزشتہ دنوں ایک ایسا کردا ر ایکٹو تھا۔ جو ہر کسی کو ہر بات پر مغلظات بک رہا تھا۔  یہ موٹی موٹی گالیاں دے رہاتھا۔ سب کی ماں بہن ایک کررہا تھا۔

اب لگتا ہے بھولنے کے فیز سے گزر رہا،   کہ کہہ رہے کہ میں نے تو آپ کو گالیں نہیں، اچھا نہیں بھی دیں تو بھی معذرت کرلیتا ہوں۔
میری اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ الزائمر کے سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمائے اور انکے لواحقین سے درخواست ہے کہ انکا باقاعدہ علاج کروایا جائے، یہ مرض قابل علاج ہے، اس میں مریض کے ارد گرد کےلوگوں کو بہت حساس رہنا پڑتا ہے۔ بہت حوصلہ سے ، تاکہ مریض کی صحت کی بحالی  کو حاصل کیا جاسکے۔



مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 14, 2014

پردیسیوں کے دکھڑے

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک دوست، جاننے والی آلینا کا فون آیا، تو میں اٹینڈ نہیں کرسکا، پھر ایک اور کال ایک اور کال، آلینا میری کافی عرصہ سے جاننے والی ہے، ہم لوگ اکٹھے کام کرتے رہے ہین ۔ مین نے جاب چھوڑ دی، اور بعد میں اسے کمپنی نے بندے چھانٹے کرنے کے چکر مین نکال دیا، بہت برس پہلے، اس کے بعد بھی کبھی کبھی کی یاد اللہ ہو ہی جاتی، کہ عیدمبارک، نیا سال مبارک، بیچ مین رابطہ زیادہ ہوجاتا اور ختم بھی ہوجاتا، مگر ہم ایک دوسرے کے دوست ہی ہیں۔ 

آج بہت دنوں بعد اسکی کالز دیکھیں تو فوراُ فون کرلیا کہ خیریت، عمومی طور پر وہ ایسے نہین کرتی، فون کرے گی، نہین جواب دیا تو جب مین نے فون کرلیا، ایسا ہی مین بھی کرتا ہوں کہ فون کرلیا جواب ملا تو ٹھیک نہین ملا تو جب اغلی فون کرلے۔ لہذا بار بار کی کالز نے میرے لئے ایک تجسس کھڑا کردیا۔ 

فوراُ کال کی تو اسکی رونے والی آواز سنائی دی، بچاری رو رہی تھی۔ وہ ایک گھر میں کام کرتی تھی، ایک بڑھیا کی دیکھ بھال کا۔ چار گھنٹے، پھر ایک گھر میں صبح کو، اور شام کو اپنے کرائے کے گھر مین آجاتی ہے۔ اسکی دو بیٹیاں ہیں، اور اسکا خیال تھا کہ وہ اس گرما کے موسم مین انکو اپنے پاس لے  آئے گی۔ 

بڑی ہی روہانسی اواز مین بتانے لگی کہ، وہ جہاں پر میں صبح کام کرتی ہوں وہ کہہ رہے ہین کہ تم ادھر ہی آکر رہو  اب مین ادھر جاکر رہوں تو، میری اپنی زندگی کیا ہوگی؟؟ بچے آئیں گے تو کس کے پاس رہین گے؟؟ اگر نہین جاتی تو کام ختم ہوجائے تو اب اور تلاش کرنا پڑے گا۔ کام چھوٹ گیا تو بچے کیسے آئین گے۔ اب تم بتاؤ؟؟ میں کیا کروں؟؟؟


مین اسے کیا بتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔ مین ہی کیا سارے لوگ جو پردیس مین رہتے ہین انکی یہی پریشیانیاں ہین اوریہی ٹینشنز
یہی دکھڑے یہی المیئے۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش