سوموار, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 30, 2013

کچھ اپنے بارے میں

منظر نامہ پر شائع ہونے والا اپنا ایک انٹرویو، ادھر بھی کاپی پیسٹ کررہا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب راجہ افتخار خان صاحب ۔آپ ڈاکٹر ہونےکے ساتھ ساتھ اردو بلاگر بھی ہیں اور ” ہم اور ہماری دنیا “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔
خوش آمدید !
وعلیکم خوش آمدید کہ جیسے میں آن لائن آیا ایسے ہی آپ بھی۔
کیسے مزاج ہیں ؟
@چنگے بھلےہیں جی، اللہ کا شکرہے، وہ اپنے بندوں کا بڑا خیال رکھتا ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@یہ اس انٹرویو کا سب سے اوکھا سوال ہے۔  کہ اپنے بارے میں اب اپنے منہ کیا بتاؤں ، اپنی اچھائی بیان کروں گا تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کہا جاوے گا اور اپنے بارے برا بولنا تو مجھے پسند ہے بھی نہیں، تو اس مناسب ہے کہ اس بارے  ہمارے احباب سے دریافت کیا جاوئے، مگر جو کچھ وہ بتلائیں گے اس پر اپنے مولانا اکبر الٰہ آبادی پہلے ہی روشنی ڈال گئے،
کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے
 بی  اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے
پیشے کےلحاظ سے ہومیوپیتھیک معالجات میں ڈاکٹر ہوں،  پاکستان میں کالج میں پڑھتا تھا، عرصہ سے ادھر اٹلی میں مقیم ہوں جانے کیوں، یہاں پرپہلے تو سیاحت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، مگر اب پھر سے اسی پیشے کے ساتھ منسلک ہوں، ہومیوپیتھک میڈیسن اور ڈاکٹرز کے اسپیشلائزیشن اسکول میں پڑھاتا بھی ہوں،  اطالوی زبان کی تعلیم بھی بہت عرصے سے غیر ملکیوں کو دے رہا ہوں۔ مزید کچھ نہیں کہوں گا۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@میری جائے پیدائش ضلع جہلم میں میں جہلم اور منگلا کے بیچ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک چھوٹا ساگاؤں ہے، اب وہاں بندے جینز پہنے پھرتے ہیں، بلکہ کوئی کوئی بی بی بھی آپ کو نظر آجاوے گی، پس اسے گاؤں کہنا ظلم الکبیر ہے مگر ہے گاؤں ہی۔
اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@اپنی تعلیم کی کیفیت بہت پیچیدہ ہے، اگر کوئی سمجھ لے تو، ہومیوپیتھیک میڈیسن میں ڈاکٹر بنےاور پھر ایک جاپانی انسٹیوٹ سے کمرکی  ریہبیلیٹیشن  میں ڈپلومہ کیا، فیر اٹلی آگئے، ادھر ایک ماسٹر کیا بزنس ایڈمنسٹریشن اور ٹورزم منجمینٹ میں،  پھر ہسٹری اور مونومنٹنس کا ایک کلچرل کورس جسکادورانیہ ایک برس تھا کیا۔ ہیں جی مجھے تاریخ بہت پسند ہے، ثابت ہوا۔ بس اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں رہتی۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@میں اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آیا بلکہ اردو بلاگنگ میری طرف آئی تھی۔ لکھنا پڑھنا اپنی پرانی لت ہے، تو اردو لائیف کے اردو پیڈ میں لکھ کر اور ادھر سے کاپی پیسٹ کرکے پہلا اردو بلاگ شروع کیا تھا ، تین مگرمچھ اور آنسو دوہزار چار کے شروع میں، بس تب کوئی دس کے قریب بلاگرز تھے، اور یہ  کہ یونیکوڈ  کوئی بھی نہیں لکھتا تھا۔ سوائے چند ایک سائیٹس کے اور بیس کے قریب بندوں کے۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@کچھ بھی تو نہیں صرف پڑھنے والے نہیں تھے، شروع میں نستعلیق نیٹ پر تھا نہیں تو جنتا چیں چیں کرتی تھی۔ بس لکھنے کا مسئلہ، کہیں لکھو فیر کاپی پیسٹ کرو، پھر کوئی نہ کوئی کٹا کھل جانا کہ لائنیں مکس ہورہی ہیں، لفظ پھنس رہے، بہت برس تو ہجے ہی سہی نہیں ہورہے تھے، ہیں جی اور اب تو جنتا گرافکس کے مسائل میں الجھی ہوئی ہوی ہے، خوبصورتی پسند ہے ہیں جی، تب صرف لکھنا ہی بڑی بات تھی  یونی کوڈ میں، نہیں تو جنگ جیسی سائیٹس تصویری اردو سے کام چلاتیں تھیں اور لوگ پوچھتے تھےکہ آپ کرکیسے لیتے ہو  اب سانوں کی پتا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@جی شروع میں تو بہت کام ہوا، میں آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہوں مگر کتنے بندوں کو ترغیب دی، کسی کو فونٹ اور کسی کو اردو سپورٹ انسٹال کرکے دینا، یہ بھی ایک پور ی سائنس تھی تب، اب اللہ بھلا کرے م  بلال م  میاں کا، جو کام کسی ادارےنے کرنا تھا وہ اس بندے نے اردو کےلئے کردیا۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں متاثرین میں سے نہیں ہوں، بلکہ محبین میں سے ہوں، بہت سے بلاگرز سےمحبت کا رشتہ ہے، جن میں، یاسر خوامخواہ جاپانی، خاور کھوکھر، م بلال م ، علی حسان، عمیر ملک،  افتخار اجمل بھوپال، محمد قدیر،  نجیب صاحب،  مولوی محمد سعد،  جاوید گوندل، شعیب صفدر، محمد یاسر علی اور دیگر بہت سے  قدیم و جدید احباب شامل ہیں سب کے نام گنوانا  طوالت کے باعث مناسب نہیں،   البتہ ان حضرات سے براہ راست یا بلواسطہ میری  ملاقات یا بات چیت ہوئی۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@اچھے سے تو یاد نہیں مگر شاید دوہزار دو یا تین کی بات ہے، تب پہلے بلاگ اٹالین زبان میں لکھنا شروع کیا تھا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@نہ جی یہ کوئی ڈاکٹری کا مقالہ تو ہے نہیں، بس بیٹھے  اور ہو گئے شروع، میں تو غلطیاں بھی  نہیں نکالتا، نو ایڈیٹنگ، نہیں تو فیر فرق کیا رہا بلاگ میں اور رسالے میں،  بلاگ ایک فطری روانی کی  جبکہ رسالہ ایک مرحلہ وار عمل  کی پیداوار ہوتا ہے ، موضوع ہوسکتا ہے دونوں کا ایک ہی ہو۔ اسی لئے تو آپ کو میرے بلاگ پر اسپیلنگ کی غلطیاں، ٹائپنگ مسٹیکس، اور دیگر کھچ خانیاں ملیں گی۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@معاشی فائدے کا تو سوچا کبھی نہیں البتہ یہ جو اوپر مذکور بندے ہیں یہ  بلاگ سے ہی کمائے ہیں۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@معیاری بلاگ  وہ ہوتا ہے جو بے لاگ ہو، بغیر لگی لپٹی کے اور بغیر ایڈیٹنگ کے، بس دل کی بات کرے بھلے اپنے دل کی کرے اور دوسروں کے دل ساڑے۔    بھلے اگلے کہہ  اٹھیں   ع   چمن  سے آرہی ہے بوئے کباب ،                    پر کرے دل  کی بات۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@ہاں  تو اور کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ساٹھ سو برس کسی زبان کےلئے بہت تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، الحمدللہ اردو نے آج جتنے دل جیتے ہیں،  وہ کہنے کو کافی ہیں کہ اردو ہی یہ کام کرسکتی تھی،  آج پوری دنیا میں اردو بولی جاتی ہے اور میرا نہیں خیال دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جہاں پر یہ باقاعدہ پڑھی نہ جاتی ہو۔ پھر اردو اور اردو دانوں کی آپس میں محبت کیا کہنے۔  میں تو گھومنے پھرنے والا بندہ ہوں، کہہ سکتا ہوں بقول شاعر
اور جس شہر میں اردو کا چلن ہوگا
وہاں کا ہر باشندہ شریفانہ ملے گا
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@کچھ یوں کہ میری مادری زبان پنجابی ہے،  اب بھی ساری گالیاں اور لطیفے پنجابی میں ہی چلتے ہیں، بنیادی  تعلیم اردو میں اور ہومیوپیتھک میڈیسن  انگریزی میں پڑھی،  پھر اسپرانتو سیکھی، اور یونانی  و جرمن  و عربی سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اطالوی سیکھ بیٹھے، پر اب بھی پڑھنے اور لکھنے کی زبان اردو ہی ہے، پہلے اردو میں لکھ کر پھر کسی زبان میں  ،    اب البتہ  یہ ہے کہ  کچھ وقت سے نوٹس وغیرہ اٹالین میں لکھنے لکھوانے  ہوتے ہیں تو بس اردو میں لکھنے پڑھنے کا  کام کچھ کم ہویا ہوا ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@چونکہ پاکستان سے باہر ہوں عرصہ تو مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ پاکستان میں ان پندرہ برس میں کیا ہوا اردو کےلئے میری، اردو ابھی تک وہی انی سو پچانوے والی ہے، بغیر انگریزی کے،  جیسے برطانیہ والوں کی پنجابی انیسو ستر  والی۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@اپنے آپ کو ہنوز زمین پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں، اللہ نے چاہا تو،   اور اٹلی میں ہی ہوں گا،  اور اردو بلاگنگ کو پروفیشنل میڈیا کی مت مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔   اردو کا مستقبل روشن اور اردو بلاگز کا روشن تر، اب چونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ عام بندے کی دسترس میں آیا ہے تو آپ دیکھئے گا کہ آنے والے برسوں میں اردو بلاگنگ کو بہت سے م بلال م ملیں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@پیغام  ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے،   اردو خود ہی محبت ہے اور اس سے محبت کرنے والوں کو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی میں ایک عام سا بندہ ہوں کسی کو بھلا کیا مشورہ دے سکتا ہوں  ہاں اردو کی خدمت کرنے والے اور اردو بلاگز اگر کوئی صلاح مجھے دینا چاہئے تو میری  خوش نصیبی ہوگی۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@بلاگ میری مصروفیات میں آخری کام ہے، جب تپا ہوا ہوں تو لکھتا ہوں، ملازمت ہے،  وہ کرتا ہوں،  اس کےلئے چونکہ پڑھنا پڑھتا تو پڑھنا بھی بہت پڑتا ہے۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@درد دل کے واسطے پیدا کیا تھا انساں کو     والی بات نہیں ہے، آج تک خود سمجھ نہیں آئی کہ کیا چاہتاہوں، اور زندگی کا مقصد کیا ہے، کماؤ، کھاؤ، گھر والوں کو کھلاؤ، دنگے فساد  سہو اور کرو، یہ غیبتیں اور چغل خوریاں جہان بھر کی، جانے زندگی کا مقصد کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش اپلائیڈالٹرنیٹیو میڈیسن میں ، دیکھو فیر پوری ہوتی ہےکہ نہیں۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
@ الکیمسٹ پاؤلو کوئلہو کی
2۔ شعر ؟
@چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہئے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نوا کہئے
اسیر بند زمانہ ہوں اے صاحبان چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے
3۔ رنگ ؟
@نیلا اور سفید ،   ایک وقت میں میرے سارے کپڑے نیلے یا سفید ہوا کرتے تھے یابھی سفید اور نیلے اور یاپھر نیلے اور سفید ہیں جی
4۔ کھانا ؟
@اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہوں شدید، کنفوشس سے بھی بڑھ کر، صرف کھانے کو کھالیتا ہوں جو بھی مل جاوے بس اس میں مرچیں نہ ہوں اور سمندری مخلوق نہ ہو۔
5۔ موسم ؟
@گرما، اٹلی میں جب آپ کاچھا اور بنیان پہن کا پورا شہر گھوم سکتے ہیں اور پورا اٹلی دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں بہار کا جب پھول میرے گھر میں کھلے ہوتے ہیں تو۔
6۔ ملک ؟
@اگر پسندیدہ ملک پوچھو گے تو پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان نہیں کہہ سکتا کہ ادھر پاکستانی ہوتے ہیں، اٹلی میں رہنے کے باوجو ادھر اٹالین کی وجہ سے دل نہیں لگتا، برازیل میرا پسندیدہ ملک ہے،   کیوں چونکہ آپ نے پوچھا نہیں تو میں نے بتایا نہیں۔
7۔ مصنف ؟
@اردو میں پطرس بخاری، مستنصر حسین تارڑ ، برگیڈئر شفیق الرحمان ، ابن انشاء ، نسیم حجازی اور بہت سے،  انٹرنیشنل لٹریچر میں  پاؤلو کوئلہو کی ساری کلیکشن اٹالین اور انگریزی کی میرے پاس ہے،   انگریزی میں ادب میں نے پڑھا ہی نہیں اور صرف میڈیسن کی ریسرچ دیکھتا ہوں اور میڈیکل انگلش ہی مجھےآتی ہے۔
8۔ گیت؟
@منی بیگم کی غزل بوتل کھلی ہے رقص میں جام شراب ہے۔   ویسے میں موسقی سنتا نہیں ہوں۔
9۔ فلم ؟
@گو میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا مگر دو فلمیں تاریخ موضوعات کی جب بھی ملیں دیکھ لوں گا پھر سے، ایک ہے گلیڈی ایٹر اور دوسری کنگڈم آف ہیون، جو کروسیڈز کے نام سے بھی ریلیز ہوئی۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@غلط
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@بہت درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@درست
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@درست
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@غلط
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@اگلے بندے پر منحصر ہے۔
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@چونکہ مجھے اردو بلاگنگ کا چچاجان کہا جاسکتا ہے بابا جی چھڈ دو تو، لہذا اگلی بار میرا انٹرویو پہلی فرصت میں کیا جاوے۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@پیغام ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے، بس محبت کیجئے اپنے آپ سے، اپنے عزیزواقارب سے، آپ اردگرد سے،  اپنے ماحول سے، اپنی گلی  اپنےمحلے سے۔ (محلے والیوں کا آپ کے دماغ میں خود ہی آرہا، میں نئیں کہہ ریا) اپنے یاردودستوں سے اور اپنے شہدے و سڑیل رشتہ داروں سے بھی، ملک زبان  دنیا  سے، مطلب اپنی ہرچیز سے پیار کرو اور اسکا خیال رکھو جسے آپ میری یا ہماری کہہ سکو۔  ہیں جی
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا وی شکریہ، ہیں جی

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

پوک


پوک Poke آجکل فیس بک پر دائیں ہاتھ   دستیاب ہے،  ویسے تو اسکا کوئی خاص استعمال نہیں مگر فیس بک نے بندے کو بس "ایویں ہی انگل"  دینے کو رکھا ہوا،   کہ  "انگل ای"  ، اٹالیں لوگ اس کام کےلئے  دائیں ہاتھ کی  لمبی والی انگلی کھڑی کرکے باقی اپنی طرف بند کرلیتے ہیں۔ ویسے پرانے لوگ اسے کبیر درجہ کی گالی اور    "منڈے کھونڈے" مطلب "کالجیٹ"  اسے سلام دعا کے طور پر استعمالتے ہیں۔اٹلی کے سابق وزیراعظم  سلویو بیرلسکونی  تو اسے باقاعدہ طور پر عوام سے  جلسوں میں سلام دعا کرتے تھے۔ 

یہ ایپلیکیشن کچھ دنوں سے مجھے اپنی فیس بک پر دکھائی دے رہی ہے،   بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ موجود تو کافی عرصہ سے ہے اور کوئی اکا دکا بندہ پوک کردیتا ، بندہ بھی مروتاُ جوابی پوک  کردیتا، مگر  چند دنوں سے فیس بک نے اسکو کچھ زیادہ ہی لفٹ کرانی شروع کردی ہے،  میرے ادھر بھی دائیں ہاتھ کوئی پنج ست نام لکھے نظر آتے اور میں یہ سمجھتا کہ ان سب نے مجھے پوک کیا ہے، مطلب "ایڈےلوک" اس بندہ کو یاد کررہے ہیں،   پس مروت کے مارے فوراُ جواب دیتے رہے،  ادھر تورینو کی ایک ڈاکٹر صاحبہ میرے فیس بک پر ہیں اور انہوں نے  مروت کے مارے میرے پیج پر پیغام لکھ مارا  کہ : "حجرت جی آپ کے پوک کرنے کا شکریہ ، بندی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے  جوابی پوک نہ کرسکنے  پر  دلی طور پر معذرت خواہ ہے"۔

اگلے دن اپنے یاسر صاحب المعروف   پیر بابا خوامخواہی  جاپان والے بھی پوچھ رہے تھے کہ میاں  خیر ہے آپ نے مجھے پوک کیا ، میں  ہکا  بکا رہ  گیا کہ اچھا  میں تو سمجھا کہ آپ نے مجھے پوک کیا ہے مگر  وہ صاف انکاری ہوگئے، تس  پر میں نے بلکل اسی طرح غورو خوص کرنا شروع کیا جیسے نیوٹن  نے سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے کر شروع کیا تھا کہ بھئی یہ سیب نیچے کیوں گرتے ہیں اور اوپر کو کیوں نہیں نکل لیتے، اس سے دو باتیں دماغ میں آتی ہیں: اول  یہ کہ نیوٹن کی قسمت اچھی تھی کہ ادھر "بیری " کا درخت نہیں تھا نہیں تو یار لوگ  ادھر پتھر مار کے بیر وں کے ساتھ اسکا سر بھی کھول دیتے۔  دوئم  کہ نیوٹن نہایت ہی کھوتے دماغ کا تھا، کہ  بھئی جب سیب پہلے بھی نیچے کوہی گرتے تھے اور اب بھی نیچے کو ہی گررہے ہیں  میں ۔ بندہ پوچھے کہ سرکاراں تویہ جو لڑکے  بالے ہر سال اس کے قوانین کی زد میں آکر فیل  ہوجاتے ہیں   وہ دریافت کس کھاتے میں؟  بس جی کھوتا کھوہ میں ہی ڈال دیا  ا س نے بھی۔

پھر جب دماغ لڑایا   اور اگلی دفعہ  جب ادھر دائیں طرف پوک  کا چکر دکھائی دیا توغوروخوص کے بعد یہ علم حاصل ہوا  کہ مولانا فیس بک کا فرمان ہے کہ  جناب ان لوگوں کو پوک کرکے ثواب داریں حاصل کریں ، دھت تیرے کتا  رکھن آلے کی۔

آج اپنے مولبی علی طارق صاحب پوچھ رہے تھے  کہ جناب یہ  پوک کا چکر کیا ہے ؟  تو انکو تو میں نے یہ جواب  دے کرٹرخادیا کہ: " پتا نہیں، فیس بک نے کہہ دیا کہ ان بندوں کو پوک کرنا لازمی ہے، تو ہم نے پوک پر کلک کردیا ،میں سمجھا انہوں نے مجھے پوک کیا ہے، بعد میں پتا چلا کہ نہیں ایویں انگل ہی کی " ، بھلے مانس بندے  مجھے  " کالی رات  مطلب شب بخیر " کہہ کر چلتے بنے، یاد رہے  " کالی " یونانی زبان میں  اچھی کو کہتے ہیں۔ نہیں یار  وہ والی کالی نہیں ، آپ ہمیشہ الٹے پاسے ہی جاؤ گے ، یہ افریقاُ کالی نہیں ہے۔ دسو۔ ایک تو آپ کا دماغ بھی فوراُ پٹھے پاسے ہی جاتا ہے۔ 

بعد میں بمعہ صد افسوس میں نے بابا جی گوگل سے پوچھا تو بابا جی نے بتا یا کہ  بچہ  جاہل  یعنی کہ" ڈنگرا " یہ سست  المعروف  کاہل لوگو ں کا "ہائے" کہنے کا طریقہ ہےکہ  کسی کو سلام دعا کرنے کی بجائے  یا کسی کو دو چار الفاظ کا پیغام لکھنے کی بجائے اسکو پوک کردو، دھت تیرے  سستی مارے کی۔  ہیں جی

مجھے پوک کرنا جانے کیوں ایسے ہی لگا جیسے کسی کی بیل بجانا،  جب ڈور بیل نئی نئی ایجاد ہوئی تھی تو پورے محلے میں کسی ایک کی ڈور بیل ہوتی تھی۔ ہم  سارے کزنز اور مشٹنڈا پارٹی ، ادھر شکر دوپہرے  ان کی ڈو بیل بجاکر بھاگ آتے ،  ہیں جی
اور وہ  لو گ پورا آرام کا وقت  گالیاں دیتے ہوئے گزارتے کہ" کیڑا سی کسی سورے دا پاڑا "،  ہیں جی
جبکہ ہم اپنی  چھت پر مزے سے سنتے، ہیں جی
  تب تک جب تک ہمیں بھی کوئ بڑا آکر براہ راست گالیوں سے نہ نوازتا۔  



مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 08, 2012

کتا پالنا


اب کتے کے بارے میں تو  اردو  میں مزید کچھ لکھنا توممکن نہیں ہے کہ پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے مگرہمارے خیال شریف میں   کتا پالنے کے بارے لکھنے کی گنجائش نظر آتی ہے  بادی انظر میں  ، گویا
مجنوں نظر آتی ہے لیلٰی نظر آتا ہے۔
کتے کی اقسام دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں بھی آپ کو کتے  کی کئی اقسام نظر آئیں گی ایک اصلی کتا اور دوسرا نقلی کتا  اٹلی میں ہر طرف آپ کو کتے نظر آئیں گے، اصلی بھی اور نقلی بھی ، اصلی کتا وہ ہوتا ہے جو باہر سے ہی نظر آجاتا ہے اور آپ  کہہ اٹھتے ہیں اوئے کتا اور دُور ، دُور  بھی،   مگر وہ برا نہیں مناتا، جبکہ نقلی کتے کی پہچان کرنا اول تو ممکن نہیں ہے آپ کو تب پتا چلتا ہے جب آپ کی بوٹی نکل چکی ہوتی ہے اور آپ اگر اسے کتا کہیں تو  فوراُ سے پیشتر پھر سے آپ پر حملہ آور ہوجائے گا کہ آپ کی ایسے جرٰات، ہمارا آج کا موضوع اصلی والا کتا ہے، جی ہاں  وہی چار ٹانگوں والاجسکے ایک عدد دم بھی ہوتی ہے اور بے ضرورت بھونکتا ہے اور بوقت ضرورت کاٹتاہے۔

 کتا پالنا      اٹلی میں کتا پالتا بہت ہی مشکل کا م ہے جی بلکہ جان جوکھوں کا، پھر بھی لوگ کتے پالتےہیں  اور بے شمار پالتے ہیں،  انکے خیال میں انسان نما  مخلوق کو پالنے کی بجائے کتا پالتا ہی بہترہے، اور اس کے کچھ فوائد بھی بیان کرتے ہیں  مگر  ان سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں،  پر کہے دیتے ہیں کہ یہاں پر کتا پالنا اتنا آسان نہیں ہے، ہر گلی محلے میں کتا  ملے گا، اور وہ  بھی ہر سائیز کا،  چھوٹا بھی اور بڑا بھی،  اکثریت صرف بھونکنے والوں کی ہے۔  کاٹنے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے سامنے کے گھر میں ایک اطالوی  خاتون نے بڑا سا جرمن شیفرڈ کتا پالا ہوا ہے، جسکا کام ہر ایرے غیرے کو جو بھی گلی میں داخل ہو دیکھ کربھونکنا ہوتا ہے،  اور وہ ظالم اس وقت تک بھونکتا ہے جب تک آپ  اسکی نظروں سےاوجل نہ ہو جائیں،  اپنے عبدلمالک صاحب کہہ رہتے تھے کہ جناب مجھے تو اس کتے نے بہت دکھی کیا ہوا ہے،   آتے جاتے بھونکتا ہے اور اس شدت کے ساتھ بھونکتا ہے کہ دل دہل جاتا ہے، کوئی پوچھے اس محترمہ 
سے کہ اسکی سارے دن کی ہاؤ ہاؤ سے تمھارا مغز خراب نہیں ہوتا۔

یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ گھر کی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں اور خطرہ ہی رہتا ہے کہ کب یہ دیوار پھلانگ ہماری ٹانگ کو آ دبوچے،   ہمار ے دوست راجہ اسد کے بقول کہ اگر ایسے ہوجائے تو بس سمجھ لوکہ  آپ کے وارے نیارے ہوگئے، کیونکہ  ادھر تو ہر کتے کی انشورنس لازم  ہوتی ہے، اگر آپ کو کتا کاٹ کھائے تو انشورنس کے پیسے  ملیں گے اور وہ بھی جی بھر کے، پس ہمارے بھی ہر کتے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ آکتے ہمیں کاٹ کہہ کر اپنی ٹانگ اسکے  آگے رکھ لیں  مگر پھر فوراُ ناف میں لگنے والے چودہ ٹیکوں کا خیال آجاتا ہے۔ اور ہم  چپ  ۔

یہاں پر تو کتوں کی موجویں لگی ہوئی ہیں جی، صرف کتوں کےلئے اسکول ہی نہیں ہے   باقی کسر کوئی نہیں، ہر سپر مارکیٹ میں کتوں کےلئے الگ سے پورشن موجود،  ہر محلے میں کتا ہسپتال لازم اور وہ بھی رہ وقت  رش کے ساتھ،   یہیں تک نہیں بلکہ کتوں کےبال اور ناخن کاٹنے کے مراکز الگ سے ہیں، پھر اوپر سے خوبصورت خوبصورت بییبیاں انہیں سینے سے لگائے گھوم رہی ہوتی ہیں،  اور کئی کو تو ہم نے باقائدہ  پیار کرتے بھی دیکھا ،   اور یہ بھی سنا کہ وہ انہیں رات کو بھی ساتھ بستر میں سلاتی ہیں، اس سے زیادہ معلومات ہمارے پاس نہیں ہیں ،   مگر سچ بات ہے کہ ہم آواگون کے نظریہ کے قائل نہیں ورنہ اپنا اگلا جنم کتے کی شکل میں ہی مانگ لیتے مگر اس میں بھی خطرہ ہے،  کہ اگر بھگوان نے آدھی سن لی اور بنا کتا دیا مگر ادھر ایشیا ء میں تو پھر تو مٹی پلید ہوئی کہ ہوئی، پس   جو ہیں اسی پر قناعت منا سب ہے۔

ہمارے ممالک میں تو کتے کو نجس قراردیاجاچکا، اور ہمارے اپنے گھر میں کتے کا داخلہ ممنوع ہے،  صرف ایک ہی صورت ہے کہ کتا اگر رکھوالی کےلئے ہوتو،  جبکہ ادھر تو کتے سے پوری محبت ہے جی،  اور بندے کے سوشل ہونے معیار بھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے جس نے ادھر ترقی کرنی ہے  وہ کتے سے محبت کرے پھر اسکی مالکن سے اور پھر بندے خود سیانے ہیں،  یورپ میں اول تو شادیاں ہوتی ہی کم ہیں مگر جو ہوتی ہیں سنا ہے کہ اکثریت کی لواسٹو ری  میں کتے کی محبت  ہی شامل ہے۔ ہماری ایک برازیل کی کلائینٹ تھی بڈھی ماریلینا، کوئی پچپن برس کا سن ہوگا،  اور سوشلی کنواری تھی،  مطلب قانونی و کاغذی طور پر ، مگر شادیاں کروانے کا ایک بڑا ادارہ چلاتی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ پیٹ میچ کی ایک سوشل ویب سائیٹ پر کام کررہی ہے  اور اس پر دس ہزار یورو  کی انویسٹ منٹ کرے گی، کہ جی ادھر بندے کے پاس سہولت ہوگی کہ اپنے کتے کا میچ تلاش کرے اور پھر اپنا بھی،
آگے ہمت بندے کی اپنی،  ویسے تو دیکھا گیا ہے کہ ایک خوبصورت بی بی سے بات کرنا ایک کارمشکل ہے اور کالج کے زمانے میں تو یار لوگ باقاعدہ  منصوبہ بندی کرکے شرط باندھا کرتے تھے۔ ادھر اٹلی میں بھی کسی پاکستانی کا کسی لڑکی سے یوں ہڑہڑکر بات کرنا شاید اتنا آسان نہ وہ۔   مگر  ادھر جس بی بی کے ہاتھ میں کتے کی  ڈوری  کو بندہ اپنی قسمت کی ڈوری سمجھے،  بس  وہی اوپر کتے سے محبت  اور کتے والی سے محبت  کی ضرب المثل یادکرلیجئے۔ ہماری رائے میں ہر نئے آنے والے نوجوان کو ایک کتا ساتھ لے کر آنا چاہئے ، یاپھر ادھر آکر سب سےپہلا کام یہی کرنا چاہئے کہ کتا پالے۔  

 کتے کے بارے  اس سے قبل  پطرس بخاری اور ابن انشاء جیسے لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں،   کچھ احباب   میری اس تحریر کا   مقصد عظیم  اپنے آپ کو اس فہر ست میں شامل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے سکتے ہیں، اس بارے ہم کوئی رائے نہیں دیں گے بلکہ قاری  کی رائے کا ہی احترام کریں گے۔


مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 26, 2011

فیس بکی اردو

ماہرین لسانیات کے مطابق   زندہ زبان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کہ اس میں نئے الفاظ شامل ہوتے رہیں۔ اور یہ الفاظ اس طرح کے ہوں کہ  اس زبان کا حصہ محسوس ہوں،   ہندی زبان میں تو اس مقصد کےلئے ایک تحریک بھی چلائی گئی اور اردو کےالفاظ کے ہندی کرکے ایک کاغذ پر لکھ کو پوتر پانی میں ڈبویا جاتا، اس طرح لفظ  پوتر ہوکر ہندی ہوجاتا،  بقول شخصے
اردو کو ہندی کیوں نہ کریں زبان کو بھاشا کیوں نہ کریں
جب لوگوں کو پسند ہے توفیر یہ تماشا کیوں نہ کریں
اردو    کا  کمپوٹر میں استعمال  ایک طویل و دلچسپ  داستان لئے ہوئے ہے،  ان پیج سے لیکر تحریری اردو تک آنے میں بہت سے برس بیت گئے آج الحمدللہ  ہمارے کمپوٹر اردو دان ہوچکے ہیں ۔   اس ترویج کےلئے میں جملہ احباب کو مبارک باد دوں گا جنہوں نے بغیر کسی معاوضہ و لالچ کے تحریری اردو کا استعمال ممکن بنایا۔  ویسے آج کل فیس بکی اردو عام ہورہی ہے بہت سے انگریزی کے و شعبہ جاتی الفاظ  کو اردو یوں کھا رہی ہے جیسے صدقہ گناہوں کو کھاتا ہے یا سوکھی لکڑی کو آگ ۔
لوڈ  کا مطلب  چڑھانا ہو سکتا ہے مگر ہم اسکو لوڈنا ہی لکھتے ہیں اسی طرح کی کچھ مثالیں مزید دیکھی جاتی ہیں
ایڈٹنا،  مطلب کانٹ چھانٹ کرنا
پیسٹنا ، مطلب چسپاں کرنا یا نقل کرنا
ایڈنا، مطلب شامل کرنا یاداخل کرنا
ڈیلیٹنا، مطلب  منسوخ کردینا
شیئرنا ، مطلب  باہم بانٹ لینا
کومینٹنا،  مطلب تبصرہ کرنا
لائیکنا، مطلب  پسندیدگی کا اظہارکرنا۔
بلاگنا، بلاگ لکھنا۔
اس وقت  بلاگنے کو کچھ وی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کچھ لکھ دیا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے دماغ میں وی دو چار الفاظ لازم ٹھونگے ماررہے ہونگے۔ تو فیر کیا سوچ رہے ہیں نیچے تبصر ہ میں ڈال دیں۔
دروغ برگردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش