جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 08, 2015

خطبہ حجتہ الوداع

9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے، اس کے اہم نکات اور ان کے مذہبی اخلاقی اہمیت حسب ذیل ہے۔

خطبہ

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔
اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔
لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔
خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)
اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
لوگو! تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔
اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔
لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمہارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔
تمہارے غلام تمہارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔
خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔
عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔
اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔
میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔
اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

خطبہ حجۃ الودع کی اہمیت

1۔ یہ خطبہ تمام دینی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اس کا نقطہ آغاز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان صحیح تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور بھلائی کی تلقین کرتا ہے۔
2۔ خطبہ حجۃ الوداع اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیادیں مہیا کرتا ہے۔ معاشرتی مساوات ، نسلی تفاخر کا خاتمہ ، عورتوں کے حقوق ، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کا احترام، یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلام کا معاشرتی نظام ترتیب پاتا ہے۔
3۔اس خطبہ نے معاشی عدم توازن کا راستہ بند کرنے کے لیے سود کو حرام قرار دیا کیونکہ سود سرمایہ دار طبقہ کو محفوظ طریقہ سے دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان کی تمام افائش دولت سودی سرمائے کے حصول ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
4۔ اس خطبہ نے بہت سے اہم قانونی اصول متعین کئے ہیں۔ مثلاً انفرادی ذمہ داری کا اصول وراثت کے بارے میں ہدایت ۔ 5۔ سیاسی طور پر خطبہ اسلام کے منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کو اس خطبہ کے ذریعہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت کن اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پائے گی ۔ اور ان اصولوں پر تعمیر ہونے والا یہ نظام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔ اسی بناء پر ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے انسانیت کا منشور اعظم قرار دیا ہے۔
6۔ یہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری پیغام ہے اور اس میں ہم ہی مخاطب بنائے گئے ہیں۔ اس کی نوعیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کی سی ہے۔ اس کے ایک ایک بول پر حضور نے درد بھرے انداز سے آواز بلند کی ہے۔ کہ میں نے بات پہنچا دی ہے لہٰذا لازم ہے کہ اسے پڑھ کر ہماری روحیں چونک جائیں۔ ہمارے جذبے جاگ اٹھیں۔ ہمارے دل دھڑکنے لگیں۔ اور اہم اپنی اب تک کی روش پر نادم ہو کر اور کافرانہ نظاموں کی مرعوبیت کو قلاوہ گردنوں سے نکال کر محسن انسانیت کا دامن تھام لیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک دعوت انقلاب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کسی کمی بیشی کے برائے اپنی راہنمائی لکھ دیا ہے، کہ ہر بار تلاش کرنا پڑتا ہے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

لعین کافر، شہید اور بے کار قوم

آپنی مسلمان قوم اور بلخصوص پاکستانی مسلمان آجکل ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، ایک شاہی درجہ کا کنفوزن، کہ انکو خود ہی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کررہے  ہیں ، اور کیوں؟؟

دوسروں پر لعنت کرنا عام ہوگیا ہے وہ بھی اتنا کہ لگتا ہے کہ یہ لعنتوں کا دور ہے، جبکہ دوسروں کو کافر قراردینا بھی تقریباُ فرض تسلیم ہوچکا، محرم کے دنوں میں بہت سی ویڈیوز چل رہیں تھیں ادھر، جن میں شعیہ حلیے کے کچھ لوگ لعنتیں برسا رہے تھے، فلاں پر لعنت بے شمار، اس میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین کو بھی نہیں چھوڑا، اسی طرح کا حملہ انکی مخالف سنی پارٹی کی طرف سے بھی جاری تھا۔ محرم کے دن گزرے تو اس طرف سے کچھ سکون ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈی میں بندے مرے، اور پورا ملک کئی دنوں کےلئے بند ہوگیا۔ معیشت جو پہلے ہی سے زبوں حالی کا شکار تھی اور پتلی حالت میں ہوگئی۔ 

اسکے بعد پھر شہید ہونے کی فلم چل گئی، کہ فلاں شہید ہے فلاں شہید نہیں ہے، فلاں کی شہادت قبول ہے فلاں کی شہادت صحیح تو طالبان کی ہے، فوجیوں کی شہادت صحیح نہیں ہے۔ مسجد میں پھٹنے والا خود کش بمبار تو شہید ہے مگر نمازی نہیں ہیں، نہ جی ایسا نہیں ہے نمازی شہید ہین اور خود کش بمبار جو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر پھٹا تھا وہ شہید نہیں ہے۔ اب کچھ دن ہوئے ادھر سے ٹھہراؤ آیا۔ کچھ دن آرام کے گزرے

مگر اب پھر قادیانیوں پر لعنت اور انکو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، کہ یہ لعین ہے، یہ ملعون ہے، اس  پر اللہ کی لعنت وغیرہ وغیرہ قادیانیوں کی ایسی کی تیسی، انکی ناس ماردی جائے، مرزا قادیانی ٹٹی خانے میں گر کر مرگیا، لاحول ولا قوت الاباللہ، خیر مرگیا۔ جیسے سب مرجاتے ہیں، جو مرگیا وہ مرگیا۔

یہ سب ایسے ہے  اور رہے گا کیوں کہ، کیونکہ ہم لوگ فساد اصل وجہ تلاش کرنے کی بجائے اور اسکےلئے عقل استعمال کرنے کی بجائے لعن طعن اور کافر کافر کے میٹل ڈیٹیکٹر سے کھوتے کی تلاشی لے کر اپنا وقت ضایع کررہے۔  

عبدالقادر ملا بنگلہ دیشں میں سزائے موت کے حقدار قرار پائے، اور انکو پاکستانی فوج کے حمایت کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔  

 عمر انکی اچھی خاصی تھی، اگر ان کو اب پھانسی نہ دی جاتی تو بھی وہ عمررسیدہ بندہ اپنی طبعی موت مرجاتا چند برس بعد سدا تو کسی کو ادھر رہنا ہے نہیں۔    اللہ کی شان ہے اج بیالیس سال بعد بھی انکو انکے کاز کےلئے قربان ہونے کا موقع دے دیا گیا، اللہ میاں انکی شہادت کو قبول کرے اور انکے درجات بلند فرمائے۔ 

اس واقعہ میں ایک المیہ بھی ہے اور ایک سبق بھی، 
المیہ یہ ہے کہ انکو پھانسی دینے والے انکے اپنے ہم وطن تھے، وہ لوگ جنکی پارلیمینٹ کے وہ دو بار رکن رہے۔ مگر انکو پھر بھی غدار تسلیم کیا گیا اور اور لیتے دیتے لٹکا دیا۔ اب اس پھانسی سے جو چالیس برس پہلے ہوا اسکو تو تبدیل نہین کیا جاسکتا، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر اسکے نتیجہ میں بنگلہ دیشں پورے کا پورے بند ہوگیا، کاروبار زندگی معطل ہوگیا۔ اسکی معیشت پہلے ہی بس اچھے سانس ہی لے رہی تھی، اب یہ نقصان بھی برداشت کرے گی۔ 

سبق یہ ہے کہ اپنے کاز پر ڈٹے رہو، نتائج سے بے پرواہ، جیسے عبدالقادر ملا ڈٹے رہے پاکستان کے کاز کا ساتھ دینے پر، ایسے ہی پاکستانیوں کو بھی اب ڈٹ جانا چاہئے پاکستان کے کاز کےلئے کہ یہ ایک فلاحی اسلامی جمہوریہ ہے، فلاح کا کام ہم خود کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہوئے۔ اسلامی ملک بھی ہے، اللہ کے کرم سے پاکستانی لوگ بہت اچھے مسلمان ہیں اور باکردار بھی۔ جمہوریہ والا کام ایک مسلسل پراسس ہے اسکے چلنے سے ہی فلٹر ہوگا اور بہتری آئے گی، اچھے لوگ آگئے آئین گے۔ اور برے باہر ہوتے چاہیں گے یا تائب ہوجائین گے۔ 

مورال۔ 
اب ہمیں بحثیت قوم زبانی لعن طعن سےباہر نکلنا ہوگا۔ اگر قادیانی لعین ہین، اگر شعیہ کافر ہے اگر خودکش بمبار شہید ہے اور اگر یہ سب نہیں بھی ہے تو اس سے کسی کو کیا فرق پرے گا۔ کچھ بھی تو نہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم لوگ ایک قوم بنیں اور زندگی کی عملی دوڑ میں شریک ہوں، نہیں تو ڈرون حملے جب اب وزیرستان تک ہیں کل  کو کہیں اسلام آباد تک بھی نہیں پہنچ جائیں۔

نہیں نہین ایسا نہیں ہوسکتا، میرے منہہ میں خاک پاکستان کو کچھ نہٰں ہوسکتا، چاہے ہم کچھ کریں یا نہ کریں، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اللہ ہے ناں، پر سوال یہ ہے کہ اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو اللہ کو ہم سے پوچھنے کی کیا پڑی کہ وہ کیا چاہتے ہے، اب خدا ہر بندے سے تو نہیں پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ اس مقام پرپہنچے کےلئے خودی کو بلند کرنا پڑے گا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 11, 2012

ایک معجزہ قرآن کا


چونکہ ہم مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ، لہذا جبری مسلمان قرار پائے۔  جبری یوں  کہ، پیدا ہوئے اور دادا جی نے کان میں اذان انڈیل دی۔ کہ چل بیٹا  ساری زندگی مولبیوں کو سنتا رہ، بولنے کے قابل ہوئے تو  انہوں نے کلمہ پڑھادیا ، مطلب پکا مسلمان،  اور ہم نہ جانتے ہوئے بھی   "کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اللہ   کے رسول  ہیں"۔  ہم کہتے رہتے اور دادا جی خوش ہوتے رہتے،  چلنے کے قابل ہوئے تو انہوں نے ایک ہاتھ میں اپنی لاٹھی لی  اور دوسرے میں میراہاتھ تھامے مسجد لےگئے۔   لو جی پکے مسلمان۔  پھر اسکول میں  بھیجنے سے پہلے مسجد   "قرآن " پڑھنے کو بھیج دیا۔  اور ہم حافظ جی کی طرح پورا قرآن پڑھ گئے بغیر سمجھے، پھر اسکول میں اسلامیات  کی کتاب   پر رٹا مارتے رہے، آیات اور احادیث  یاد کرتے رہے، تاریخی واقعات رٹتے رہے۔ یوں ہم  پکے مسلمان ہوگئے بلکہ کچھ کچھ حافظ جی بھی، کہ کچھ آیات زبانی یاد تھیں اور کئی کے ترجمے بھی۔  بلکہ ایک بار تو ریش مبارک بھی رکھ لی تھی۔ پھر  دادا جی نے جھاڑا  کہ " اتنی مسلمانی بھی اچھی نہیں"   ابھی میں ہوں ناں باریش گھر میں،   بس ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہوسکتیں،   اور ہم نے دھاڑی منڈوادی، ویسے بھی کالج میں قاری صاحب  کہلوانا اچھا نہ لگتا تھا۔

پاکستان میں ہمارا  کل اسلام نماز جمعہ اور مولبی کی تقریر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ مطلب مسجد سے باہر اسلام کاکوئی کام نہیں ۔ قرآن صرف صبح پڑھ لینا کافی ہے۔ مطلب کلام پاک کی تلاوت۔   اور بس، اسکے معانی پر اور مفہوم پر کبھی غورکیا بھی نہیں، ویسے بھی بزرگوں سے یہی سنا کہ دین کے معاملات میں زیادہ غور نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ  قرآن کے سارے معجزے ہمیں زبانی یاد ہیں، چاہے وہ یوسف ؑ  کو کنویں میں ڈالنا یا نکالنا ہوا ، یا ابراھیمؑ کی آگ کا واقعہ، یا پھر  موسیٰؑ کا  اور فرعون کا قصہ۔

اسکے علاوہ ہمیں قرآن میں سے سارے ورد وظیفے بھی یاد ہیں جو مختلف مواقعوں  پڑھنے ضروروی ہیں اور کماحقہ ان سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔اور ہمارا ایمان ہے کہ چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو اسکا حل ادھر موجود ہے۔ اب ہمیں نہ ملے تو  ہماری کم علمی اور کم عقلی۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ ہماری پوری قوم کو اب تک مسائل کا حل نہیں مل سکا ، اسکا ثبوت   مسائل کی موجودگی ہے۔

کل شام کو ایک  کتابوں کی دکان میں  بہت عرصے بعد گھس گیا، پرانا شوق  پورا کیا ،  کتابی دیکھیں، کچھ نئی، کچھ وہی پرانی، سدا بہار،رومانس، تاریخ، سیاست، بچوں کے کارٹون ،   سیاحت، نفسیات ، جادو ٹونے ،  معالجات و صحت اور مذہب و ایمان،  اس ضمن میں جو بات میرے دل  میں گھس گئی کہ قرآن مجید کو سب سے اوپر والی شیلف میں رکھا گیا تھا۔ جبکہ دکان اٹالین ہے اور اس حصہ میں بائبل سے لیکر عیسائیت  پر بیسیوں  کتب پڑی تھیں ،  مگر حیرت کی بات کہ قرآن شریف کو سب سے اوپر رکھا گیا، گویا سب سےمقدس صحیفہ یہی ہے۔ اور سب سے اہم  بھی۔ مجھے تو یہ بھی قرآن کا ایک معجزہ لگا۔ اور ایمان تازہ ہوگیا۔

وللہ اعلم





مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

فرعون اصلی والا

کچھ دنوں سے ادھر فیس بک پر دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی مصری ممی  کی تصویر پکڑ کر اسے فرعون قراد دے کر جاری کردیا جاتا ہے کہ" جی توبہ توبہ ، دیکھا فیر کیا حال ہوا اس ظالم کا"  ، ایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ اچھا یہ فرعون نہیں ہے تو پھر کون ہے کہ اس کے منہہ پر بھی لعنت پڑی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں ہم ایک دن منہہ نہ دھوئیں تو یار لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا پٹھکار پڑئی ہوئی ہے، یہ بچارہ جانے کون ہے اور کب سے اس کی لاش حنوط شدہ پڑی تھی کسی مقبرے میں، مصر میں لاشوں کو حنوط کرنا اتنا ہی عام ہے جس طرح ہمارے ملک میں زندوں کو ٹھکانے لگانا ، مگر وہ سارے ہی فرعون تو نہ تھے، البتہ اسکے چیلے چانٹے، لگتے لائے، منشی مشدے، نوکر چاکر  ضرور ہوسکتے ہیں، پھر یہ بھی کہ فرعون مصر کے بادشاہ کا خطاب تھا جس طرح ہمارے ہاں  ہر رشوت خور کو ذرداری کہا جاتا ہے۔ 

ادھر اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں ادھر سے ہزاروں کے حساب سے ممیاں مقبروں سےبرآمد ہوئیں اور یار لوگوں نے حسب توفیق ان پر اور انکے ساتھ ملنے والی قیمتی اشیاء پر ہاتھ صاف کیا، مگر یہ کہ ممیاں کوئ  انہوں نے چوپنی تھوڑی تھیں، پس ادھر مختلف میوزمز کی زینت بنی، مگر دوران کھودائی پائے جانے والے دیگر مال بیش قیمت و زروجواہرات 
کا کبھی ذکر تک نہ ملا۔ 


چند ایک ایسی عالمگیر شخصیات جنکو ہم بغیر دیکھے  ہی جان گئے اور یہی نہیں اسکی موجودگی پر بھی کبھی کسی شک کا اظہار نہیں کیا میں سے ایک فرعون بھی، ہم ہی کیا بہت سے لوگوں کا یہی احوال ہے،  کچھ تو فرعون کو اتنے نزدیک سے جانتے ہیں گویا ایک ساتھ پڑھتے رہے ہوں،  فوراُ کہہ دیں گے" لو جی ، یہ تو ہے ہی فرعون، میں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا"۔ ایک الگ بات ہے کہ  عمومی طور پر اسے کوئی نیک نام آدمی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ  کچھ بزرگوں  کے اقوال ذریں و غیر سے تو یہی لگتا ہے، نہیایت کھوچل اور بدنام آدمی تھا۔  خیر بقول شاعر "بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا"۔

بعد میں معلوم ہوا کہ  فرعون ہر بندے کے اندر گھسا ہوا ہوتا ہے، اور ہمارے اندر بھی، اسی لئے تو کچھ لوگ   کبھی کبار ہمیں بھی فرعون کہہ دیتے ہیں، آپ کو بھی کہتے ہوں گے،  ہم کیا جانیں۔

ویسے تو ہمارا دل ہےہی" ٹھرکی" قسم کا،  بس جو چیز دل کو لگی ادھر چل دیئے۔  مصر بھی دنیا کے ان بہت سے ممالک و مقامات میں سے  ایک  ایریا ہے جہاں  شروع سے ہی ہمارا جانے کو دل کرتا تھا  خیر، اب بھی کرتا ہے، ادھر جانے کی وجہ بھی حضرت موسیٰ  علیہ سلام   کم اور فرعون زیادہ  رہا، شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے فرعون کے بارے لکھ لکھ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے  ، حضرت موسٰی ؑ کے بارے میں کچھ لوگوں نے لکھا ،  ظاہر جو جس پارٹی سے ہوگا اسی بارے ہی لکھے گا۔

مصر جانےکی ہماری آس تب بندھی  اور لگا کہ "وقت وصال فرعون " قریب ہے  جب ہم نے ٹورازم کے شعبہ میں قدم رکھا، مگر ہائے وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور مصر ائیر لائیز کی طرف سے فرعون کی ممی والی ایک پورٹریٹ پر ہی گزارا کرنا پڑا۔  پھر کچھ عرصہ بعد  پاکستان گھر کو منہ کیا تو وہ پورٹریٹ بطور خاص ابا جی کےلئے تحفہء  نایاب کے طور پر رکھ لیا، مگر جب نکال انکے سامنے کیا تو ماحوال کچھ اور ہوگیا، انہوں نے پسندیدگی تو کیا بس پکڑ کرفوراُ ادھر پھینکا  کہ " کنجرا میں کوئی فرعون دا یار ہاں"  اور یہ کہ میں اور فرعون کو گھرمیں گھسنے دوں اس نحش کو۔

مئی میں جو تورینو میں جب  ایک کورس کےسلسلہ میں  جانا ہوا  تو  ایجیصیو میوزیم  دیکھے بنا   نہ رہا گیا، کہ قاہرہ کے بعد مصری تہذیب کا دوسرا بڑا میوزیم ہے اور مصر سے باہر یہ واحد میوزم ہے جو صرف اور صرف مصری تہذیب کے بارے ہے، گویا فرعون سے پکی یاری ہے ان تورینو والوں کی،   کورس کے دورا ن  مقامی اطالوی  کورس میٹ   اور کولیگ "کوستانسا" سے اس خواہش کا ذکر کیا،  تس پر محترمہ فوراُ رضامند ہوگئیں کہ میں بھی اس شہر میں کوئی 4 برس سے رہ رہی ہوں مگر   نہ دیکھ سکی، پرسوں کورس کے آخری دن  تمھارے ساتھ ہی چلوں گی،  ہائے ہائے وہ کہہ رہی تھی اور ہمارے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ مطلب چوپڑی  بھی اور دو دو بھی

یہ جو تصاویر ہیں یہ بھی کوستانسا نے ہی سینڈی ہیں بعد میں

مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 23, 2012

کچھ حلال کچھ حرام


علی حسن  کا سوال:
سلام بھائی جان ۔آپ سے دو باتیں پوچھنی تھیں،آپ پڑھے لکھے ہیں، کافی عرصہ سے یورپ میں رہ رہےہیں
یہ بتائیں یہ خوراک میں حلال حرام کا کیسے خیال کیا جائے؟
چلو گوشت سے بچا جا سکتا لیکن لوگ تو کہتے ہیں دودھ تک حرام آ سکتا ہے، اب یہاں ایسٹونیا یا پولینڈ میں کیا کیا جائے اب زندہ تو رہنا ہے میں دودھ، ڈبل روٹی، میٹھے کیک وغیرہ میں بس سئور اور شراب کا دیکھ کر لے لیتا ہوں۔ میکڈونلڈ سے فش 
برگر مجبوری میں کھا لیتا ہوں لیکن ان کا تیل۔۔۔بس دل میں رہتا ہے کہ یار کیا کریں۔ کوئی مشورہ عنیایت کریں۔

ہمارا جواب:
بات حلال حرام کی ہو تو اس بارے واضع لائین موجود ہے، جس میں کسی دوجے کا نقصان کیا گیا ہو، یا اگلے کی مرضی شامل نہ ہو،  وہ مال حرام ہے، مثلاُ دوجے کی بیوی، چوری کی ہوئی مرغی،  چاہے آپ نے تکبیر دونوں پر پڑھی ہوئی ہو، دونوں حرام مطلق قرارپائیں گی۔

گوشت کو دیکھ کر لو کہ بیچنے والا مسلمان ہے اور سرٹیفیکیٹ دیتا ہے مطلب کہتا ہے " قمسیں اللہ دی اے حلال ہے  " تو آپ پر حلال ہوا، یا پھر کسی مستند کمپنی یاادارے کا سندشدہ۔   اور کیک سارے حلال ہیں، کہ حرام نشہ ہے نہ کہ میٹھا، اگر آپ الکحل کی موجودگی یا عدموجودگی پر فیصلہ کرتے ہو تو پھر دیکھ لو کہ ہر اس چیز میں الکحل موجود ہے جس میں خمیر اٹھایا جاتا ہے، مثلاُ آپ کے بند، نان،  خمیری روٹی وغیرہ ،  پھر حکم ہے کہ شراب کا ذخیرہ کرنا بھی حرام ہے  مگر سرکہ تیار کرنے کو،  واضع  رہے کہ سرکہ شراب سے ہی کشید کیا جاتا ہے مگر اسکے حلال ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ پس آپ کیک ، بروش اور اس قبیل کی دیگر ماقولات سے حظ اٹھاسکتے ہیں جب تک ان پر اینیمل فیٹ کی موجودگی کا لیبل نہ ہو، یورپین فوڈ ریگلولیشنز کے مطابق  اسکی موجودگی کی صورت میں اسے ظاہر کرنا لازم ہے، پس برانڈڈ مال ، مال حلال ہوا اور مقامی طور پر تیار کیا گیا مال مشکوک ، کہ کون جانے کس  جانور کی چربی ہے۔
لہذاحتٰی المقدور دوررہا جائے۔

فش برگر  پر گزرہ کرنے والے اسکے  تیل کے بارے میں مطمعن رہیں  کہ جو بندہ ککنگ کے بارے تھوڑا بھی جانتا ہے وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے  کہ جس تیل میں مچھلی فرائی کی جاتی ہے اس میں اگر آپ کوئی اور چیز فرائی کریں تو مچھلی کی بساند آئے گی۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہے میکڈونلڈز کےلئے، وہ کوئی پاکستانی تھوڑی ہیں کہ اسی تیل میں پکوڑے تلتے پھریں، ویسے سنا ہے کہ میک کا مال کوشر ہوتا ہے وللہ اعلم ، بہت سے پاکستانی ادھر اسی چکر میں  2 ہفتوں میں میک کھا کھا کر 10 کلو وزن بڑھالیتےہیں۔ ہم تو اسکے پاس بھی نہیں جاتے۔

پیزہ بھی لیتے وقت خاص احتیاط کیجائے کہ اس پر گوشت کسی صورت نہ ہو، نو میٹ،  خاص طور پر جب آپ اٹلی میں ہوں تو پھر آپ کے پاس ، نو میٹ کے بعد بھی بہت چوائس ہوتی ہے۔ اسکے انگریڈینٹس میں ، خمیری آٹا ، پنیر، ٹوماٹو ساس  اور مزید جو آپ کی مرضی ، لہذا مال حلال ، اگر پیسے دینے والا کوئی اور ہو توپھر پورا چسکا لو۔ ہیں جی۔

دودھ وغیر ہ کے بارے یہ کہ اگر یہ  گائے کا ہی ہوتا ہے اکثر ،  ادھر بھینس،  گدھی،  گھوڑی، بکری، سورنی کا ہوگا تو لازمی طور پر لکھا ہوگا اور اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔  ہیں جی، اب کو ئی  کم قمیت میں زیادہ قیمتی چیز کی ملاوٹ تو نہیں کرے گا۔

ویسے تومیں کچھ علم والا نہیں ہوں البتہ پڑھا لکھا ضرور ہوں، اگر آپ کو ایسا لگا تو ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، البتہ ایک عام بندےکے طور پراپنا  تجربہ تحریر کردیا ، اگر کوئ صاحب اس کو فتویٰ سمجھیں تو  ایسی کوئ بات نہیں ،  اگر کوئی اسکو غلط ثابت کرنا چاہئیں تو بھی ضرور کریں۔ ہاں ایک بات ہے کہ بطور ایک مسلمان کے جو عرصہ دراز سے ادھر غیر مسلم معاشروں میں رہ رہا ہے ، یہی طریقہ  سروائیول کا دکھائی دیا،  باقی اللہ جو بار بار کہتا کہ میں بخشنے والا ہوں، میں معاف کرنے والا ہوں، تو وہ  پوری امید ہے کہ ہمیں بھی بخشےگا اور ہم پر بھی رحم کرےگا۔ 


صرف کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے حلال حرام ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاُ سود، دوجے کا مال، دوست کے ساتھ دھوکا، فراڈ، وعدہ خلافی، جھوٹ، غیبت، تہمت وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی اس طرف زیادہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہیں جی۔  






مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 19, 2012

عید مبارک


آج عید ہے

خیریت سے دن کا پہلا پہر گزر گیا
کھاپی کر فارغ
پاکستان فون کیا
چلو آج تو سب سے بات ہوگئی
نہیں چھوٹی ہمشیرہ کا فون نہیں ملا
کیا سوچے گی
آج عید ہے

ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ ڈرون حملہ ہوگیا ہے
کچھ بندے مرگئے، جانے کون ہونگے
آج تو حرامی باز آجاتے
آج عید ہے

کراچی کے کچھ علاقے حساس قرار دئے گئے
شیعہ ، سنی لڑانے  کی کوشش میں ہیں
موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بند
آج عید ہے

کچھ لوگ ٹرین اسٹیشنوں پر کھڑے ہیں
کچھ بس اسٹاپوں پر
اور کچھ انکو گھروں میں اڈیک رہے ہیں
آج عید ہے

کچھ مریض ہسپتال پڑے ہیں
کچھ ڈاکٹر بھی ڈیوٹی کےلئے جوتے کے تسمے باندھ چکے
کچھ چھٹی پر ریسٹ موڈ میں
آج عید ہے

دنیا کے بہت سے ممالک میں
پاکستان کے کچھ حصوں میں بھی کچھ کی
آج عید ہے

اور کچھ روزے سے ہیں
چلیں وہ کل عید کرلیں گے
میری طرف سے سب کو عید مبارک


مکمل تحریر  »

ہفتہ, اگست 18, 2012

حلال کمیٹی اور چالیس سیپارے

پشاور میں کچھ اہل ایمان اکٹھے ہوئے اور کچھ  علماء نے باقائدہ طور پر بعداز تلاوت کلام پاک ، اللہ کی حمد ثنا کی، نبیﷺ پر درود و سلام پڑھا اور پھر اعلان کیا کہ چونکہ ہمیں 23 مردوں اور ایک خاتون کی شہادت موصول ہوئی جنہوں نے چاند دیکھا ہے اور اس بنیاد پر فیصلہ یہ ہے کہ کل یکم شوال ہے۔
بلوچستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔

مگر مرکزی روئت ہلال کیمٹی کے مولبی صاحب نے ٹی وی پر اس سوال کے جواب میں کہا کہ نہیں کل  تیس رمضان اور پرسوں یکم شوال ہے، اسکا فیصلہ ہم نے کیا ہے اور عوام کی اکثریت ہمارے ساتھ۔

ہم جیسے آدمی جو عوام کا حصہ ہیں ان سے کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ ہم کس کے ساتھ ہیں،  ہیں جی، کم از کم مجھے تو کوئی ٹیلیفون نہیں آیا ،
کیا آپ کو کسی نے فون کیا ؟  چلیں کوئی گل نہیں،  انہوں نے نہیں پوچھا تو ہم تو پوچھ سکتےہیں کہ، مولبی جی،
جب ایک ملک کے اندر چوبیس لوگ  وہ بھی مسلمان چاند دیکھ لیں تو پھر آپ کو کیا پرابلم ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے ہمارے محبوب کیانی پر چوری کا الزام لگا ، بابے نےپرھیا  (پنچائت)کہا کہ میں  یہ دو بندے پیش کرتا ہوں جس نے تمھیں رات کو ہماری دیوار پھاندتے دیکھا ہے،  تو کیانی صاحب نے بیس بندے بشمول ہمارے پیش کردیئے کہ جی ہم نے انہیں دیوار پھاندتے نہیں دیکھا، اور سچی  قسم بھی اٹھا دی،  کہ نہیں دیکھا   ( یہ نہ بتایا کہ  ہم سورہے تھے اس رات) ۔ خیر کیانی صاحب کو کہا گیا کہ آپ نیاں  دو ،  قسم اٹھاؤ، انہوں نے  کہا: " قسمیں قرآن دی،  تری سپاریاں دی  کہ میں چوری نہیں کیتی"،  بابا جی بولے اگر یہ تیس سپاروں کی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے چوری نہیں کی تو  میں " چالیس سپارے اٹھاتا ہوں کہ اس نے چوری کی ہے"۔ 

لگتا ہے کہ مرکزی روئت ہلا کمیٹی نے بھی چالیس سپارے اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ بندے اکٹھے کئے ہوئے ہیں ہماری طرح  کے جو کہتے ہیں کہ ہم نے چاند نہیں دیکھا۔

اگر کوئ ہماری مانے تو اب اس کمیٹی کو "حلال " کردینا چاہئے  کہ یہ باعث فساد فی سبیل للہ ہے  

اور پروگرام یہ ہو کہ مکہ مکرمہ جو ہمارا قبلہ ہے، وہی مملکت اسلامیہ کا دارالخلافہ ہے، جب ادھر یکم شوال ہوگئی تو پوری دینا میں، پورے عالم اسلام میں عید ہو، اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان ایک قوم ہیں

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 17, 2012

ضروری اطلاع برائے صدقہ فطر، فطرانہ


 گندم کی قیمت دینے سے فطرانہ ادا ہوجاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص حدیث میں ذکر کردہ باقی چیزوں کے حساب سے دینا چاہئے تو نہ صرف یہ جائز ہے بلکہ بہتر ہے اور اس میں غریبوں کا فائدہ بھی زیادہ ہے، لہذا، اپنی حثیت کے مطابق فطرانہ ادا کرییں، حدیث میں صدقہ فطر (فطرانہ) ادا کرنے کےلئے چار چیزیں بیان کی گئی ہیں:
 گندم، آدھا صعاع بمطابق ایک کلو 633 گرام، کم از کم
 کشمش، جوء، کھجور ایک صعاع۔
گندم کی قیمت 60 روپئے،
 جوء کی قیمت 140 روپئے،
کھجور کی قیمت 670 روپئے
 اور کشمش کی قیمت 1310 روپئے تقریباُ ہے، جزاک اللہ خیر،

مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 13, 2012

تیرے منے دی موج وچ

دو بندے گا رہے ہوتے ہیں گلا پھاڑ پھاڑ کر، اور موسیقار موسیقی کی دھنیں بکھیر رہا ہوتا ہے، کچھ لڑکیاں مشوم قسم بھی ساتھ دے رہی ہوتی ہیں۔ سریں تقریباُ ایک جیسی ہی ہوتی ہیں،
مگر:

ایک کے بارے ہم کہتے ہیں کہ گانا گارہا ہے، گانا مذہب میں حرام الشدیدہے وغیرہ وغیرہ
دوجے کے بارے یہ کہتے سنا ہے کہ نعت پڑھ رہا ہے، اور کار ثواب ہے۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟؟؟  

یا پھر ہم بھی گانا شروع کردیں ، "تیرے منے دی موج وچ ہسنا ، رونا"۔

مکمل تحریر  »

سوموار, جولائی 23, 2012

میں غلط ہوں


فقہ حنفیہ کے مطابق 22جولائی 2012 بروز اتوار افطار کے اوقات ( 2 رمضان )

کراچی میں افطار کا وقت 07:22 ہے ۔
اسلام آباد میں افطار کا وقت 07:16 ہے ۔
پشاور میں افطار کا وقت 07:23 ہے ۔
حیدر آباد میں افطار کا وقت 07:18 ہے ۔
فیصل آباد میں افطار کا وقت 07:11 ہے ۔
Inizio modulo
·          
o   
Muhammad Zohair Chohan لاہور میں سب فقہ وہابیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو انکا کوئی ذکر نہیں؟
4 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan مسلمانوں کے اوقات بھی بتلا دیتے تو اچھا ہوتا
4 hours ago · Like

Muhammad Zohair Chohan ^ مسلمانوں کو خود پتہ ہونے چاہیں۔
4 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan اچھا فیر ٹھیک ہے
4 hours ago · Like
o 
Muhammad Zohair Chohan ویسے تو پوری دنیا میں دو ہی فقہ کے مطابق سحر و افطار کیا جاتا ہے، فقہ حنفیہ اور فقہ جعفریہ۔ لیکن پاکستان میں آج کل فقہ وہابیہ بھی شروع ہوگیا ہے جو سحری کے وقت 5 منٹ لیٹ اور افطاری 5 منٹ پہلے کرتے ہیں۔ (ذراع)
4 hours ago · Edited · Like
o    
Raja Iftikhar Khan پھر تو کچھ اور فرقے بھی ہونگے فرقہ کھتریہ، پھر یہ لا تفرقو کا کیا ہوا، بھائی جی یہ بھی بتا دو کہ سورج کا طلوع و غروب کونسی فقہ کے مطابق ہے، پھر ہم اسی کو فالو کرلیں
4 hours ago · Like
o 
Muhammad Zohair Chohan فقہ اور فرقہ میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ ذرا دھوپ کا چشمہ اتار لیں حاجی صاحب۔
3 hours ago · Like
o    
Raja Iftikhar Khan میرا تو خیال ہے کہ دونوں کا مقصد آج تک تفرقہ ڈالنا ہی رہا ہے، یا حاج، ورنہ سوکھا کام وقت آغاز سحر و غروب آفتاب لکھ دو، ایک منٹ بعد روزہ افطار کرلو، ویسے نبی پاک اور صحابہ کونسی فقہ کے مطابق روزہ کھولتے تھے
3 hours ago · Like
o    
یعنی کہ آپ کو اعتراض اس بات پر ہے کہ حنفیہ نہ لکھا جائے؟ اگر آپ کو اتنی چڑ ہے تو جناب آپ اپنی مرضی سے سحر و افطار کر لیں کوئی زبردستی تو آپ کو کہا نہیں جارہا نہ؟ آپ چاہیے دن چڑھے سحری کر لیں یا آدھی رات کو افطار یہ آپ کا پرابلم ہے۔ ویسے آج کل کے دور میں تو وہ لوگ زیادہ تفرقہ ڈال رہے ہیں جو بظاہر الاپتے رہتے ہیں کہ تفرقہ نہ ڈالو وغیرہ وغیرہ۔

ابھی آپ نے بڑی ہوشیاری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو الگ پارٹی اور امام ابو حنیفہ اور انکے پیروکاران کو الگ پارٹی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر ڈالی۔ آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں :

میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اﷲ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے لیتا ہوں، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں۔
o    
Raja Iftikhar Khan یہ آپ نے تہترواں فرقہ بنا دیا، بھائی جی جب بات اللہ اور اللہ کے رسول کی ہورہی ہوتو باقی سب دلائل اور حوالے بے معنی اور ہیچ لگتے ہیں جو انکے مطابق ہے وہ تو ٹھیک ہےاور جو انکے مطابق نہیں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے، جب حکم ہوگیا کہ بھئی سحر طلوع ہونے پر سحری بند اور سورج غروب ہونے پر روزہ افطار، اب اس کو کونسا مسلک دو گے آپ یا پھر کونسا فرقہ بناؤ گے، مجھے ہر اس نام پر اعتراض ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول کے بعد آئے اور تفرقہ کا باعث بنے۔ بلکل ایسے ہی جیسے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑرہے ہو تو مترجم صاحب حاشیہ کے بیچ اپنا لقمہ دیتے ہیں گویا اللہ کو نعوذ باللہ بات سمجھانے کو اس لقمہ کی ضرورت تھی۔ جب ہر بات کا ماخذ ہی قرآن و حدیث ہے تو پھر ان پر رجوع کریں، ادھر منٹوں اور سیکنڈو ں کا نہیں کہیں ذکر نہیں، اگر کسی کا روزہ ایک ادھ منٹ کے فرق 
سے بھی کھل جاتا ہے تو اس کا فرقہ بننا عجب داستان ہے۔

یہ فیس بک پر ہونے والی ایک گفتگو کا احوال ہے جو فرقہ بندی پر ختم ہوئی،  
کبھی پانی پینے پلانے پر جھگڑا ،          کبھی کتا نہلانے پر جھگڑا
آج روزہ کھولنے کھلوانے پر جھگڑا ،  کل مسلا کہلوانے پر جھگڑا

میرا سوال پھر یہی رہا کہ کیا اللہ میاں روزے کے بارے ، اسکی نیت کے بارے   دلچسپی رکھتے ہیں کہ جو فلاں امام صاحب نے اور فلاں حضرت صاحب نے، کہا اس میں ، جب حکم آگیا کہ آج کے دن دین مکمل ہوا اور نعمت تمام ہوئ، تو ہم لوگ کیوں دین میں چیزوں کو شامل کرکرکے کفران نعمت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،
مگر نہیں لگتا میری ہی مت ماری گئی ہے، میں ہی غلط ہوں، مگر پھر وہ کیا ہو ا اس حکم کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کر،
پر مجھے تو لگتا ہے کہ ادھر ہر کوئی اپنے والی رسی پھڑے ہوئے گھوم رہا ہے، 
 نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ، ایک میں ہی تو نہیں ایک سیانہ  پوری دنیا میں  اور باقی سارے پاگل ہیں، نہیں جی ایسا کیسے ہوسکتا ہے، بس میری ہی مت وجی ہوئی ہے۔ کوئی رسی ہی پھڑا دو ساہنوں وی۔ ۔
Fine modulo


Fine modulo

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش