بدھ, فروری 13, 2013

دوھری شہریت اور اورسیز پاکستانی







اس وقت  پاکستانی قوم ایک افراتفریح کا شکار ہے، اس تنزل مسلسل کے نتیجے میں ہماری بطور قوم شناخت بھی ایک  سوالیہ نشان بن گئی ہے۔  پاکستانی کون ہے؟  کس کو پاکستانی کہا جائے گا؟؟   اصلی پاکستانی کی  کون ہے؟؟ 

جب پاکستان بنا تو  بہت سے لوگ لٹے پٹے ادھر آئے اور مہاجرین کہلائے، بہاری ، کشمیری اور بڑوئے اور جانے کیا کیا، یہ سارے الفاظ ابھی تک ہماری زبان سے محو نہیں ہوئے۔

پاکستانی ،  وہ لوگ جو رہتے، مرتے جیتے  پاکستان میں ہی ہیں، کام بھی ادھر ہی کرتے ہیں اور سیاہ ست بھی، ٹیکس اکثر نہیں دیتے۔

پھر سن ستر میں بھٹو صاھب کی افراتفریح کی وجہ سے جب لوگوں نے ملک سے نکلنا شروع کیا تو  "باہرلے"  کا لفظ معرض وجود میں آیا ، خیر یار اسے طنزاُ بھی استعمال کرتے ہیں،  "" جی، جی، آپ تو    باہرلے ہیں جی ""،   خیر
باہرلے تین قسم میں تقسیم ہوئے پھر،  بیرون ملک رہنے والے پاکستانی،   دوھری شہریت والے اور غیر ملکی شہریت والے۔

بیرون ملک پاکستانی
Overseas-Pakistanis-Looted-By-Land-Mafias-State-Offers-No-Help
انکو اورسیز پاکستانی  بھی کہا جاتا ہے، انکے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور جہاں پر رہتے ہیں وہاں پر تیسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو تو انکو پاکستان ایمبیسی سے رجوع کرنا پڑتا ہے، دنیا میں کہیں بھی ہوں انکو بےتوقیری کا سامنے بھی کرنا پڑتا ہے، بس پاسپورٹ نکالا نہیں کہ امیگریشن افسر کا منہ بدلا نہیں۔ میں خود کتنی بار کھجل ہوچکا ہوں،  جبکہ میرے ساتھ پورے کا پور ڈیلیگیشن دوگھنٹے تکے میرا انتطار کرتا کہ خان صاحب ذرا امیگریشن سے فارغ ہولیں،   ہم لوگ ادھر ووٹ نہیں ڈال سکتے،  سیاست نہیں کرسکتے، صرف کام کرو، کھانا کھاؤ،  ٹیکس دو،   کام ختم اور ہم بھی فارخ۔ مگر پاکستان جائیں تو پھر جیب سے ادھر کا پرس نکال کر دوسرا  ڈال لیا جس میں پاکستانی اردو والا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور بس پاکستانی ہوگئے پورے کے پورے۔ اللہ اللہ خیر سلہ


دوھری شہریت والے پاکستانی
Dual nationality bill Judge to be Barred from Holding Dual Nationalityیہ وہ اصحاب ہیں جو ادھر کی مقامی شہریت بھی لیتے ہیں ،ا دھر سیاست بھی کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور لیتے بھی ہیں۔  یہ صاحبان دوچہروں کی طرح دو پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، جب پاکستان آتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ نکال لیتے ہیں اور جب  ملک سے باہر ہوتے ہیں پاکستانی پاسپورٹ غایب، گویا   ڈبل مزہ۔


غیرملکی شہریت والے
یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی  مگر انہوں نے اسے ترک کردیا اور کسی دوسرےملک کی شہریت اختیار کرلی، یہ  بس غیر ملکی ہی ہوتے ہیں، انکو پاکستان جانے کےلئے بھی پاکستان کا ویزہ ایمبیسی سے لینا پڑتا ہے۔
پاکستان میں بھی انکےلئے اپنا اندراج پولیس میں کروانا لازمی ہے، کسی بھی معاملے میں یہ لوگ اپنے سفارتخانے کے ماتحت ہی ہوتے ہیں، جس طرح ایک شاعر صاحب کا آج انڈیا نے  پاکستان کے ثقافتی میلے سے واپس بلوالیا، جس طرح مجھے پولینڈ والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ مطلب فل غیر ملکی، یہ لوگ پاکستان میں سیاست تو کیا، جائیداد تک نہیں خرید سکتے۔ تاوقتیکہ باقائدہ اجازت نہ لے لیں۔ 

سوال اگر یہ ہو کہ  ان میں سے کون محب وطن ہے تو  جواب یہ ہوگا کہ جو وطن سے محبت کا اظہار کرے،  جو پاکستان کےلئے کچھ کرے، وہ پاکستان کےلئے اچھا ، وہی محب وطن ،  چاہے  وہ اندر والا، ہوکہ باہر والا ،  اکہری شہریت والا یا دوھری والا،  اور بھلے وہ گورا  ہی کیوں نہ ہو اسکو بھی نشان پاکستان ایوارڈا جاتا ہے۔

مگر جو حرامدے کام کرے گا   اسکو جوتے بھی پڑتے ہیں، ذرداری گو پاکستان کا صدر بن گیا ہے مگر لوگ اسے کتا کہنے میں ہچکچاتے ہیں، اسی طرح  رحمان ملک کی دہشت گردی،  حسین حقانی کی واردات ، ہو یا شیخ الاسلام کا فساد، سب قابل مذمت، مگر ایک بات ہے،
النیت والمراد
جیسی نیت ویسی مراد،   شیخ الاسلام مولانا طاہرالقادری المشور کینڈیوی  کے ساتھ بھی جو ہوا  ،   وہی ہوا ،  جو ہونا چاہئے تھا۔ 

مکمل تحریر  »

بابا افراتفری اور دوھری شہریت




چچا غالب ہمارے پسندیدہ چچا ہیں، یہ اردو   شاعری والے مرزا اسداللہ خان غالب  نہی ہیں بلکہ یہ ہمارے پنڈ کے ہیں اور پنجابی  ٹکا کے بولتے ہیں، والد صاحب کے کزن ہیں اور  راجہ غالب سلطان   لکھے جاتے ہیں،   ہمارے یہ چچاجی فل مخولیا  طبیعیت کے ہیں،  اتنے مخولیا کہ ہمارے اسکول کی تفریخ کوئی بھی افراتفریح کہتے،  ہم اسکول کی چھوٹی تفریح کرتے تو کتنی بار انکو باہر بابے لنگے کی دکان کے پاس کھڑے پایا اور اس دن بابا لنگا  ہمیں اور ہمارے درجے کے دیگر پنڈ کے لڑکوں کو  مفت میں  "پھلیاں مکھانے"  دیتا،  اور شام کو چچاغالب ہمیں چھیڑتے کہ  " اوئے تم لوگ  نکی افراتفری کے "ویلے" بابے  لنگے سے مفت پھلیاں  مکھانے کس چکر میں  کھارہے تھے۔ " بعد میں معلوم ہوا  کہ بابے لنگے کو انہوں نے خود ہی کہا ہوتا کہ میرے ہوتے ہوئے خبردار میرے بھتیجے بھانجوں سے پیسے لئے تو، اور خود اسکو پیسے چکا دیتے،  پورے پنڈ کے بچے ہی تو انکے بھتیجے بھانجے ہیں۔  اسی طرح بڑی تفریح کے وقت ہم گھر  روٹی کھانے جاتے تو  چچا غالب پھر ہمارے ساتھ مخول کررہے ہوتے  " کیوں بھئی ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہو،  ہر وقت افراتفری میں ہی رہتے ہو، کدی نکی، تے کدی وڈی۔ 

ایک دن میں نے پوچھ لیا چچا آپ تفریح کو افراتفریح کیوں کہتے ہیں تو فرمانے لگے کہ "پتر جی جس تیزی اور چستی سے تم لوگ بھاگتے ہوئے گھر آتے ہو، کھانا کھاتے ہو اور پھر بھاگتے ہوئے اسکول پہنچتے ہو، پھر بھی لیٹ ہوجاتے ہو اور ماسٹر سے ڈنڈے بھی روز کھاتے ہو۔  تو پھر تفریح  تو نہ ہوئی، یہ تو افراتفریح ہی ہے ، نری افراتفری۔  ہیں جی

چچا غالب ویسے بھی بہت پر مزاح بندے ہیں، ابھی بھی گو باریش ہوچکے مگر  وہی ہنسی، وہی  محبت، وہی چاہت، پاکستا ن  پہنچیں تو پہلے جن بندوں سے ملاقات ہوتی ہے ان میں سے ہیں اور جن کو مل کر احساس ہوتا کہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

ہمارے مولانا  یعنی کہ ڈاکٹر صاحب قادری جی المعروف شیخ الاسلام کینیڈوی اچانک چھلانگ مار کر پاکستان آگئے اور انہوں  نے اپنے ناچنے والے پروگرام کی طرح پورے ڈھول تاشوں سے اچھل کود مچادی،  ہرروز کوئی نہ کوئی دھما چوکڑی، جلسہ، جلوس، ملک میں جب پانچ برس بعد الیکشن ہونے والے ہیں، عوام کوووٹ ڈالنے کا حق ملے گا، شاید بغیر خون خرابے کے خبیثوں سے جان چھوٹے، اور آنے والے انکی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اس سے بچنے کی کچھ تدبیر کریں اور مفادعامہ کی کچھ کام کرلیں۔ امید پر دنیا قائم ہے۔

مگر مولبی جی کا پروغرام  ہے کہ نہیں جی ایک ٹائم پاس حکومت ہو جو پہلے احتساب کرے، پھر الیکشن ہوں،  پر باوا جی سے بندہ پوچھے کہ  ایک طرح کی چھاننی سے ہی چھانو تو گند نکلے گا، اور جو بچے گا وہ ایک طرح کا مال ہی ہوگا، اگر آپ روز چھاننی بدلی کروگےتو ، پھر یہ جو نئے آنے والے ہیں انکے میرٹ کا تعین کون کرے گا، الیکشن ایک پراسس ہے جس  سے کچھ کچھ نہ کچھ گند صاف ہوتا رہتا۔ گو فل صفائی نہیں ہوسکتی۔  مگر پھر بھی۔ بصورت دیگر، وہی ون مین شو،  کون حکومت بنائے گا، کون بنوائے گا، انتظام کی ذمہ داری کس پر، محاسبہ ہوگا ؟ کون کرے گا۔ 


مولوی جی کو عدالت سے بھی صاف جواب ملا تو ایک نئی افراتفری ڈال دی کہ جی دوھری شہریت والوں کی  "بِیزتی  " ہوگئی، اب واقعی یہ کہ کہ جب کوئی بھی بندہ چوول کام کرے گا تو اسکی  بیزتی تو ہوگی، اگر پاکستانی شہریت والا مشرف کرے گا تو پاکستانی شہریت کی بیزتی، اگر دوھری شہریت والا  مولوی قادری اور حسین حقانی کرے گا تو دوھری شہریت کی بیزتی، اگر کوئی برطانوی شہریت والا جارج پٹھ کرے گا تو برطانوی شہریت پر  تھو، تھو ہو گی۔

پس  مسئلہ اکہری و دوہری شہریت نہیں ہے، بلکہ اعمال ہیں جیسی نیت ویس مراد، مولوی جی  کے ساتھ بھی وہی ہوا جو انکی نیت تھی۔   اللہ بڑا بے نیاز ہے

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 03, 2013

علماء، کھوتے اور سیکوریٹی




ہا ہا ہا 
میرا ہنسنے کو دل کررہا
 نامور علماء کی سکیورٹی کی باتیں ہورہی ہیں ہر پاسے، کیا خواص اور کیا عوام سرجوڑ کر بیٹھے گئے ہیں کہ نامور دینی علماء کی سیکیوریٹی کیسے مینٹین کی جاوے، وزراء کی سکیورٹی مطلب سیاسی علماء(بشمول وزراء، مشیران، پارلیمنٹیرینز انکے لگتے لائے، چیلے چانٹے، منشی مشدے) کی بھی سکیورٹی، حکومتی علماء (حکومتی اہکاروں) کی بھی ہوگئی سیکیوریٹی،  سیکیوریٹی، سیکیوریٹی
کل ایک ٹی وی پروگرام کے مطابق حیدرآباد شہر کی ساٹھ فیصد پولیس وی آئی پی اور آفیسر ڈیوٹی پر مطلب انکو سیکیوریٹی دینے میں مشغول ہے، صرف بلاول بھٹو ذرداری کی سیکیورٹی و پروٹوکل کے نام پر 32 گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، گرد اڑاتا ہوا۔ 


 اور عوام جو بے علم ہے اسکو کون سیکورٹی دے گا؟؟
کوئی بھی نہیں، اس بارے  نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی حکمرانوں نے سوچا اور بات کی، نہ کوئی منصوبہ بندی کی، نہ کوئی قانون سازی۔  مگر وہ بھی ٹھیک ہیں، کھوتوں کی سکیوریٹی نہیں ہوتی، کھوتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جب ان پر مال ڈھونا ہوتا ہے تو پھر سے پھڑ لئے جاتے ہیں،   کسی نے گدھے کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا؟؟    تو پھر بھائی جان جب تک ہم لوگ گدھے رہیں گے نہ ہمارے علاج ہوگا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہونگے، اسکام کو کروانا ہے تو اپنے گدھا پن کو ترک کرکے ہوجائیں شیر ، تے دیکھو فیر۔

 یاد رکھو جب تک آپ کچھ طبقات کو سیکورٹی دیتے رہو گے، باقی کے طبقات ان سکیور رہیں گے، اور جب ایک معاشرے میں کچھ لوگ غیر محفوظ محسوس کریں گے تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ہورہا ہے، بلکہ جو ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش