بدھ, دسمبر 26, 2012

کرسمس، عیسائی اور ہمارا ایمان

پاکستان کے عیسائی  عرف چوہڑے
ویسے تو عیسائیوں کے بارے میں سب ہی جانتے  ہیں ، حضرت عیسٰی علیس سلام  کی پیروکار قوم، ساری دنیا میں ہی تو پائے جاتے ہیں ، ادھر مغرب میں تو بہت ، مگر ہمارے ادھر تعداد میں کم ہیں، پاکستان میں ہوں گے کوئی دو تین فیصد، اکثر غریب ہوتے ہیں اور انکا ذریعہ معاش  وہ پیشے ہوتے ہیں  جنکو ہم مسلمان الحمدللہ سرانجام  دینے سے بوجہ شرعی کتراتے ہیں۔  صفائی ، گھروں کی جھاڑو پونچھ وغیرہ  ، حالانکہ "صفائی نصف ایمان ہے،"  اور اس  کے بارے ہم تب سے جانتے ہیں جب سے اپنے گھر سے باہر چونچ نکالی ہے، عیسائیوں کا ہمارے ادھر الگ     ہی مقام ہے ، مطلب معاشرے  میں رہتے ہوئے بھی کٹے کٹے سے رہتے ہیں،   دور سے ہی پہچانے جاتےہیں ، ایک تو ویسےہی تو   کالے کالے سے ہوتے ہیں ، پھر نہاتے بھی کم ہی ہیں، اور ہمارے معاشرتی تہواروں ، میلاد شریف ، عیدین  وغیرہ سے چونکہ انکا  کوئی تعلق  نہیں ہوتا  ، ان دنوں میں یہ جانے کہاں چلے جاتے ہیں۔

 ادھرعیدین ، یا میلاد کے بغیر دوچار کالے کلوٹے عیسائی ، عیسائینیں چمکے چلکے نظر آئیں ادھر ہم سمجھ لئے کہ انکی تو عید ہے، مطلب کرسمس "مینز "عیسایوں کی عید قرار پائی،  بس ہم  اسی بات پر پکےہوئے  رہے،  ویسے جس دن شاہ جی بھی بغیر جمعے کے چمکے چلکے نظر آجاتے تو کوئی  بول اٹھتا " کیوں جی آج کیا عیسائیوں کی عید ہے؟" اور شاہ جی  " ہت تیری "  کہہ کر اسکے پیچھے ہولیتے، قصہ کچھ یوں تھا کہ شاہ  جی  "کالے دھواں " تھے جسکو یورپ میں رنگدار کہاجاتا  ہے اور ہمارے ہاں اس رنگ کے یا تو "عیسائی "ہوتے ہیں  یا پھر  "مسلی"۔ البتہ عیسائی ہماری عید کو اگر اچھے کپڑے پہنے ہوئے پایاجاتا تو اس سے پوچھ لیا جاتا کہ یہ عید تمھاری تو نہیں ہے۔ فیر؟؟ اب اکثر اسکا جواب دانت نکالنا ہی ہوتا۔  اگر کوئی عیسائی چھٹی عید والے دن کرتا تو یار لوگ پوچھ لیتے "کدھراوئے؟  کوئی تمھاری عید ہے؟؟"  اسکا جواب فیر دانت نکالنا  ہی ہوتا۔  ہماری عید کو تو وہ کہہ دیتا ہے ہے ڈاکٹر صاحب عیدمبارک   اور ہم خیر مبارک کہہ کہ اسکو دس روپئے عید ی تھمادیتے۔ مگر جس دن اسکی عید ہوتی تو اس سے پوچھتے کہ میاں وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ بتاتا "سرجی میری  کرسمس"، اور ہم جی کڑا کر اسکو میری کرسمس کہہ دیتے۔  


یورپ کے عیسائی عرف چوہڑے۔
ادھر جب یورپ میں آئے توعلم  میں کچھ اضافہ ہوا  کہ ادھر لوگ بڑے گورے چٹے ہیں اور ہم کالے قرار پائے گویا رنگدار، پھر اوپر سے نئے نئے آئے ہوتے ہیں اور غریبی و سردی کا بھی کافی شدت سے احساس ہوتا ہے تو نہانے دھونے کا خیال بھی کم ہی آتا ہے۔ گویا ، پکے عیسائی   ہوئے ادھر کے بقول یاوروں کے۔  پھرہماری اکثریت  کے کام بھی وہی ہوتے ہیں جو یہ لوگ بوجہ  کرنا چاہتے  نہیں یا پھر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔  گویا ہم ادھر کے چوہڑے ہوئے۔

پھر  ادھر یورپ  میں قیام پزیر ہوئے تو  علم میں مذید اضافہ ہوا  کہ  ان عیسائیوں کا بھی ہمارے والا حساب ہے انکی عید تو ہوگئی کرسمس والی اس  کو اپنی میلاد کہہ لو کہ حضرت مسیح کی پیدائش، پھر ادھر نئے سال کا جشن بھی ہے جسکو آپ انکی وڈی عید کہہ لو،  اسکے بعد پھر ایسٹر کا تہوار جو ہماری چھوٹی عید کے مترادف ہوا پلس اس کے آخری جمعے کو بقول حضرت مسیح علیہ سلام کو مصلوب کیا گیا (انکے مطابق) تو 
ادھر  بھی ہمارے والا احوال ہوا۔  پس ثابت ہوا کہ دنیا گول  ہے، مگر ابھی نہیں ابھی اسکو مزید گول ہونا مانگتا۔

مبارک بادیاں
ادھر یوں تو بہت سی  کرسمس  بھی گزریں ، عیدین بھی، میلاد بھی اور ایسٹر بھی ، مگر اکثر ہم ادھر سے غایب ہوتے، ادھر چھٹیاں شروع  اور ادھر ہم اڑگئے۔  اب کی بار ایسا نہیں ہوا، بلکہ کچھ برسوں سے رکے ہوئے۔ تو جب چھٹیاں کلینڈر پر نظر آنی شروع ہوئیں تو  کولیگز نے اپنی اپنی منصوبہ بندی بھی ظاہر کرنی شروع کردی،  اورہم سے سوال  کہ "تمھارا تو یہ تہوار نہیں ہے، تم اسے مناتے ہوِ؟"    اور ہم ہنس کر کہہ دیتے کہ "ہمارا تو نہیں  ہے  مگر سب خوش تو ہم بھی خوش ، ہم بھی گھر میں "۔ جب ہماری عیدیں  ہوتی ہیں تو ادھر نہا دھو کےگھوم رہے ہوتے ہیں اس دن باقی کے گورے سارے کام کاج میں روٹین میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو وہ پوچھ رہے ہوتے ہیں :    " ہم خیریت، آج بڑے چمکے نظر آرہے تمہارے لوگ؟"   جی وہ  دراصل آج ہماری عید ہے جی،   " اچھا اچھا میں بھی کہوں ، تو کیا کہتے ہیں اس دن ؟"  وہ سر عید مبارک ،    " اچھا تو پھر عید مبارک" ۔

اب کی بار ہم نے بہت سے دوستوں اور کولیگ ڈاکٹرز کو  "میری کرسمس" کے ایس ایم ایس بھیجے، ای میلز بھی کیں، اور فیس بک پر اسٹیٹس بھی کوئی چودہ زبانوں میں اپڈیٹ کیا، جواباُ بہت ہی محبت کے ساتھ ، شکریہ ادا کیا گیا، اور ہمارے لئے اور ہمارے خاندان وجملہ احباب کےلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔ گویا انہوں نے جواباُ ہمیں عیدی ہی دی ہو۔ 


خطرہ ہمارے ایمان کو
ان دنوں ہمارے ادھر ایک اور فساد پھیلا ہوا ہے، کہ" میری کرسمس" کہنا منع ہے، اور شرعی حرام ہے بلکہ ، بعض اوقات قریب الکفر ہے۔  میں نے کوئی پانچ سے زیادہ ڈکٹشنریز میں دیکھا ہے مختلف زبانوں کی ، مگر ادھر تو ملا "حضرت مسیح کی ولادت کی مبارک"، اب حضرت جی کی پیدائش سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا،  کہ وہ پیدا نہیں ہوئے۔ کم ازکم کوئی مسلمان، کہ قرآن نے بھی اسکو بطور معجزہ  ذکر کیا۔  اب اگر پیدائش کی مبارک دینا  ہے تو یہ حرام کیسے ہوا۔ اب بقول ہمارے بھائی صاحب کے اور فیس بکی ملاؤں کے کہ بھی وہ تو لکھا ہوا  ہے مگر اسکا اصل مطلب ہے کہ کہ " اللہ میاں کے ہاں بیٹا ہوا" ۔  اب یہ کہاں سے آیا اس بارے میں کوئی ہمیں بتلائے گا تو سمجھیں گے۔ اوپر ایک فتویٰ بھی جاری کردیا گیا کہ  "ہذا فعل الحرام الکبیر"   اب ہمارا فتووں سے بھی یقین اٹھا ہوا ، یہ تو اٹھارہ ملاؤں نے دیا  جو اہل سنت ول جماعت سے لیکر اہل تشعیہ ، حنفی ، مالکی ، حنبلی، شافعی  وغیر ہ اجمعین  ہیں۔ ، ادھر پینتیس  کے قریب ہیں جو دوسرے فرقوں کے کافر ہونے کے فتوے قبل ازیں جاری کرچکے، اور صرف یہ ہی نہیں ایسے ایسے فتوٰے ظہور پزیر ہوئے کہ الامان الحفیظ۔  اب ہم کیا کریں ، انکے سارے والے فتویٰ کو دیکھں تو کچھ پلے نہیں پڑتا۔  اگر یہ والا  درست تو پھر وہ والے بھی درست ، اگر وہ والے غلط تو پھر یہ والا کدھر سے درست۔ یہ سوالات اور یہ جوابات ، اگر کسی بلاگر نے اس پر لکھ دیا تو پھر ادھر بحثیں، مگر بلاگر خاتون ہے تو۔ 

مگر ہمارے بھائی جی اس بات پر مصر ہیں  کہ لوجی ،انکا کیک تو ٹھیک ہے۔  فروٹ بھی جائز، مگر میری کرسمس کہنا حرام ہے۔ بھلے ڈکشنری میں  اسکا مطلب صرف ولادت مسیح کی مبارک باد ہی ہے۔  مگر جب مولبی لوگ کہہ رہے  تو پھر ٹھیک ہی کہہ رہے ہونگے ۔  اخر انہوں نے بھی  تو کہیں پڑھا ہی ہوگا۔  


19 تبصرے:

  • علی says:
    12/26/2012 01:30:00 AM

    آخر مولبی صاحبان نے لکھوا ہی دیا نہ بلاگ
    :)

  • افتخار راجہ says:
    12/26/2012 01:33:00 AM

    تو اور کیا، ہمارے ادھر بحث ہی اتنی ہوئی۔ مت وج گئی تھی۔ کہ فتوٰی تو ٹھیک ہے مگر کوئی سمجھائے بھی۔ اب نرے فتویٰ ماننے ہیں تو فیر پہلے والے بھی مانیں؟؟

  • rizwan ashraf says:
    12/26/2012 03:50:00 AM

    achi koshish ha jnab,boht khoob.Dhayroon duwain...yahan ikhtlaaf ke jsarat ni ho sakti ....mgr molvi sab ke baat alg ha bahi..

  • گمنام says:
    12/26/2012 03:57:00 AM

    "مگر ہمارے بھائی جی اس بات پر مصر ہیں کہ لوجی ،انکا کیک تو ٹھیک ہے۔ فروٹ بھی جائز، مگر میری کرسمس کہنا حرام ہے۔"

    يعنی جہاں لينا پڑے وہاں جائز، جہاں دينا پڑے وہاں حرام- کتنے عقلمند ہيں آپ کے بھائی صاحب-

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    12/26/2012 04:26:00 AM

    تمام عیسائیوں کو میری کرسمس
    خاص کر پاکستانی چوہڑوں کو۔
    راجہ جی آپ نے بہت بڑا کفر کیا ہے۔میں کل ہی نہایا تھا۔
    غسل صحت تھا میرا!
    عزت اہل بیت کا ہی خیال کر لیتے؛ڈ

  • احمد عرفان شفقت says:
    12/26/2012 05:59:00 AM

    ادھر بھی

    http://awaz-e-dost.blogspot.com/2012/12/blog-post.html

  • کاشف says:
    12/26/2012 08:33:00 AM

    لیں جی، آپ کے بلاگ نے مجھے بھی ڈکشنری کھولنے پر مجبور کر دیا۔
    کرسمس کا لفظ دو مختلف الفاظ کرائسٹ، اور ماس سے مل کر بنا ھے۔ کرائسٹ یعنی حصرت عیسیٰ اور ماس کا مطلب فیسٹول ھے۔
    یعنی کرسمس کا مطلب حضرت عیسیٰ کا تہوار ھے۔
    (ویسے کرائسٹ کا لفظی مطلب تیل ملنے والا ھے۔ جو کہ میرا خیال ھے حضرت عیسیٰ کی بیماروں،، اندھوں وغیرہ کو ہاتھ پھیر کر شفایاب کرنے سے منسلک ھوگا۔)
    لیں جی میری کرسمس کے لفظ میں سے تو کسی قسم کی غیر اسلامی یا شرکیہ چیز کا تذکرہ نہیں نکلا۔ یعنی میں اگر کسی کو میری کرسمس کہ بھی دوں تو میرے ایمان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ یہ بلکہ حسن سلوک ھے "ذمیوں " کے ساتھ۔
    باقی جہاں تک کرسمس تقریبات میں شرکت ھے، وہ واقعی کنفیوزنگ عمل ھے۔
    ویسے اپنے احمدی حضرات کو اس قسم کی مبارکباد اور ان کی اس قسم کی تقریبات میں شرکت کی جا سکتی ھے؟

  • فضل دین says:
    12/26/2012 03:44:00 PM

    زبردست۔۔ بہت اعلیٰ
    ۔۔حق بات بھی کہنا اور دل آزاری سے بھی "ایک جہاد" ہے

  • فضل دین says:
    12/26/2012 03:47:00 PM

    ٭حق بات کہنا اور دل آزاری سے بچنا بھی "ایک جہاد"ہے٭٭

  • آوارہ فکر says:
    12/26/2012 04:31:00 PM

    بہت عمدہ جی۔

  • افتخار راجہ says:
    12/26/2012 05:43:00 PM

    شکریہ جی، مگر اپنے مولبی قادری جی تو ادھر دھاں دھاں کر کرسمس میں شرکت بھی کرتے ہیں سنا ہے گانا بھی اتے ہیں

  • انکل ٹام says:
    12/27/2012 01:14:00 AM

    آپ لوگوں کا ڈکشنریاں کھول کر دیکھنا فضول تھا، کیونکہ یہاں بات لغوی معنیٰ کی نہیں ہو رہی بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اصطلاحاً یہ لفظ کس چیز کے لیے استعمال ہو رہا ہے ۔ جو لوگ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ عیسائیوں کو میری کرسمس نہیں کہنا چاہیے انکا یہ نکتہ ہے کہ جی چونکہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور یہیں سے تثلیث کی جڑ نکالتے ہیں لہذا گو کہ پیدائش کے ہم بھی قائل ہیں لیکن جو نظریہ انکا ہے ہمارے نزدیک وہ ٹھیک نہیں لہذا میری کرسمس کہہ کر ایک طرح سے انکے نظریے کی تصدیق کرنا ہے ۔

  • Saqib Amin says:
    12/27/2012 09:30:00 AM

    i have a question here, agar ek christian apko eid mubarak kehne se musalman nhi hota to ek muslim usko eid mubarak kehne par kaese kafir ho gya, doosri baat, humnay aajtak yeh nhi suna keh agar ap kisi kafir ko uske kisi bary ki viladat par wish karein to ap bhi kafir ho jaenge, jahalat ki intiha hae, happy christmas ka matlab sirf or sirf viladat ki mubarak hae, yeh christianity accept karne ka ya unkey aqeeday ka eiteraaf karnay ka kalmaa nhin hae,

  • Saqib Amin says:
    12/27/2012 09:37:00 AM

    agar christians ko happy christmas kehne se maen kafir ho jata hun to bhai fit karo koi fatwa mujh par bhi is NAAM NIHAAD FATWA FACTORY se,

  • سید آصف جلال says:
    12/27/2012 02:15:00 PM

    مجھے رہزنوں سے گلا نہیں ، تیری رہبری کا سوال ہے
    اس حوالے سے ایک عدد مضمون راقم نے بھی تحریر کیا ۔ جو صاحب مطالعہ کرنا چاہتا ہوں ۔اس لنک پر تشریف لے آئے۔
    http://www.sadaemuslim.com/2012/12/blog-post_22.html

  • سید آصف جلال says:
    12/27/2012 02:16:00 PM

    مجھے رہزنوں سے گلا نہیں ، تیری رہبری کا سوال ہے
    اس حوالے سے ایک عدد مضمون راقم نے بھی تحریر کیا ۔ جو صاحب مطالعہ کرنا چاہتا ہوں ۔اس لنک پر تشریف لے آئے۔
    http://www.sadaemuslim.com/2012/12/blog-post_22.html

  • کوثر بیگ says:
    12/27/2012 03:39:00 PM

    ارے واہ بھائی آپ کو لکھنے کا موڈ بن ہی گیا ، بہت خوب

    کہنے اور ماننے میں فرق ہے کسی کی خوشی کے لئے کہہ دیے جب ان سےکام یا پڑوس وغیرہ کی وجہہ سے ملنا ہو تو مجبوری ہے نامگر یہ نہیں کہ عید میں تو ویسی تیاری نہیں کی جاتی اور کرسمس میں گھر سجایا جاتا ہے دعوت دی جاتی ہے کیک کاٹا جاتا ہے باہر ناچ گانا دیکھنے اور کوئی کوئی تو خود بھی کرنے جاتے ہیں یہ سب لغو کام کرنے اور اس میں شامل ہونا ان جیسامنانا یہ باتیں کہے یا نا کہے جائے نا پسند ہونے ہی چاہیے میرے خیال سے
    خاص طور سے غیر مذہبی ملک میں رہنے والے تعصب سے محفوظ رہنے اگر مجبوری میں کہنے تک محدود ہو تو اللہ پاک ان شاء اللہ ہمارا مواخذہ نہ کرے مگر بنا مجبوری کے کہنا بھی اب اتنا ضروری بھی نہیں نا بھائی میرے خیال میں پھر بہتر آپ لوگ جانے ۔۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان says:
    12/27/2012 05:12:00 PM

    یورپ اور دوسرے عیسائی معاشروں میں بسنے والے مسلمانوں کی مشکل تو سمجھ آتی ہے کہ وہ کیسے خود کو اس موقع پر میری کرسمس کہنے سے خود کو روکیں۔۔۔۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں لوگوں کو میری کرسمس نا کہنے پر کون سی آفت آرہی ہے؟

  • Moneeb Junior says:
    3/31/2013 01:53:00 PM

    میں اکثر اس بارے میں سوچتا تھا کہ غیر مسلموں کے تہواروں کے موقع پر ان کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ آپ کی اس تحریر نے مجھے بہت بڑی الجھن سے نکال دیا۔
    آپ نے بہت اچھے انداز سے سمجھایا۔ شکریہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش