بدھ, مئی 25, 2011

تیرواں نشان حیدر

پنجابی زبان بہت ہی قدیم اور تلخ ہے بندے کے سر میں اینٹ مارنے کے بعد ہنس کے کہہ دیا جاتا ہے پاہیو اسیں تے مزاک کررہے سی۔ کر لو گل۔ یہ کیسے ہے سکتا کہ بندہ جہلم میں پیدا ہو اور فوج کے معاملات سے دور رہے جائے، ہمارے ادھر ہر دوسرا بندہ فوج کا موجودہ یا سابق یاپھر ہونے وال سروس مین ہے۔ مطلب انہوں جی ایچ کیو ادھر پنڈی میں بنا کر غلطی کی ہے کہ بھی ادھر جہلم میں ہوتا تو سارے جی رات کو گھر آرام فرماتے۔ مگر خیر۔ آرام تو وہ اب بھی کررہے ہیں، جہاں بھی افسر ہو اسکو آرام تو ملتا ہی ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی کتابوں میں نشان حیدر کہ بارے میں اتنا کچھ پڑھ چکے تھے پھر گھر میں چچاجان اپنی بقول انکے اپنے پی لیو پر آتے تو دو ماہ میں تمغہ بصالت سے لیکر نشان حیدر تک سارے مردان غازیان اور شہیدگان کے نام بمعہ جملہ کارنامہ جات زبانی ازبر کرواجاتے۔ پھر تاریخی کتاباں پڑھ پڑھ کر اپنے آپ کو کم از کم تاریخ اسلام یعنی اسلامی جنگجوؤں کا عالم سمجھتے اور دوسروں کو اس پر قائل کرتے رہے۔ پھر جان پھنسی شکنجے اندر اور فکرمعاش نے سب کچھ بھلا دیا، یہ کتاب اور وہ کتاب اس موضوع پر ریسرچ اس پرمسائل کا تازہ ترین حل۔ مگر یہ فوجی ہیرو کبھی کبھی آکر رات کو دماغ میں ٹھونگے مارتے ہی رہتے اور ساتھ میں ہمارے بزدل اور کم عقل ہونے پر قہقہے بھی لگاتے۔۔۔۔ کہ دیکھو کونسا بندے مارنے والے پیشہ اس نے اختیار کرلیا ہے اور مرنے کے فوائید اور شہید ہونے کے ثواب کو اسلامی کتابوں میں ہی پڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔ خیر دل کے پھھولے جلاتےر ہے مگر بقو ل ابے اب کے ہوئے کا کیا ہوت جب کھوتے چگ گئے کھیت۔ چڑیوں والا محاورہ صیح نہیں ہے۔ جملہ احباب آئندہ سے کھوتے ہی چگایا کریں اور کوشش کر کے محاورے غلت نہ بولا کرٰیں۔ کارگل کی جنگ کے ہیروز کو تمغہ جات کی تقسیم کے بارے میں ہم چپ رہے کہ ہمیں نہیں بھی ملا تو خیر ہےکہ ہماری حیات مبارکہ میں یہ پہلی تقسیم تھی۔ مگر اب کے ہم چپ رہنے کو نہیں ، سنا ہے کہ باباجی حاکم علی ذرداری یعنی کہ جناب والد گرامی حضور صدر پاکستان و پیپلز پارٹی و قبلہ دادا حضوور جناب بلاول ذرداری پہلے و بعد ازاں بلاول بھٹؤ ذرداری پکے چیئرمین پی پی پی پی پی مطلب پکی پکائی پانڈہ پھوڑ پارٹی و سسر مبارک مندجنابہ بے نظیر بھٹو مرحومہ و شہید شہدہ کو اس لیئے نشان حیدر دیا جارہا ہے کہ وہ اللہ آئی سے عین اسی دن بقول ہماری باجی جاناں کے اسی دن فوت فرما گئے تھے جس دن کراچی پی این ایس پر حملہ ہوا اور سست گاؤں والوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ لٹ کر لے گے۔ ( نوٹ جو ان نکات کا مطلب جان گیا ہے وہ دوسروں کو کان میں بتادیے) ۔ یہ بلاول بھٹؤ زرداری کے بارے میں یاد آیا کہ عربی زبان میں اگر کسی کو گالی دینا ہو تو اس کو ابن امی کہ کرپکارتے اور اسکی ہتک کرتے ہیں مطلب اس کے والد گرامی کا صحیح اندازہ لگانے کےلئےڈی این ایے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ اٹلی میں بھی سرنیم باپ کا ہی لیا جاتا ہے البتہ اگر با پ کا معاملہ شک و شہبہ میں مبتلا ہو تو ہی ماں کا سر نیم دیا جاتے ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری کے نام نامی کے بارے بندہ صحیح اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ یعنی کہ سوچ سوچ کر مت ہی ماری گئی ہے۔ وزیر اعظم جناب سیدیوسف رہ گیر گیلانی جنکے کچھ رشتہ دار قریشی اور باقی میانے کہلاوت ہونگے نے صدر پاکستان عرف صدر بی بی شہید کروا پارٹی کو اس نشان حیدر کی سفارش کردی ہے۔ تو جناب قاریئن آپ سے التماس ہے کہ آپ میں سے کل کلاں کوئی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوجائے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے غلطی سے کچھ بھی ہوسکتا ہے ( یہاں تک کہ ساتھ اور دو گیا رہ ہوسکتے ہیں، آپ وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور بندہ کو تیرواں نشان حیدر مل سکتا ہے، بقول غالب دل بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے۔) تو وہ کسی بھی جگہ ہونے والے بم دھماکے سے ایک دن پہلے بندہ کو اطلا ع کردیں تاکہ ہم موقع کی مناسب سے فوت فرما کر نشان حیدر حاصل کرلے اور یاد رہے کہ یہ تیرواں نشان حیدر ہوگا۔ بیچ کے نمبروں کی گنجائیش حفظ ماتقدم کےطور پر بہت سوچ بچار کرکے رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بندہ کو صرف نشان حیدر سے دلچسپی اسکے ساتھ ملنے والی لمبی رقوم اور مربعوں سے، باقی بندوق وردی، جھنڈا تو ہماری لحد مبارک پر رکھ دیے جائیں گے اور ڈنڈا کے آپ کو دینے بارے اسی دن یعنی کہ قبل از مرگ وصیت کردی جائے گی بقلم خود تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ۔ کون جانے کل کلا ں آپ کو ہی کوئی پوچھ بیٹھے کہ میں یہ ڈنڈا آپ کو کس نے دیا ہے؟

مکمل تحریر  »

منگل, مئی 03, 2011

پہلا سفر

شاہ جی کا خیال تھا کہ پیدل چل کر تین سو بچائے جاسکتے مگر داؤد بلکل راضی نہ تھا، اس کے خیال میں شاہ جی صرف اور صرف کنجوس ہیں اور کچھ بھی نہیں، میں البتہ شاہ جی کے ساتھ متفق تھا کہ ناران سے سیف الملوک جیپ پر جانے میں نہ صرف پیسے خرچ ہونگے بلکہ راستے کے بہت سے نظاروں سبھی محظوظ ہونے سے رہ جائیں گے، صابر کا خیال تھا کہ ہم دونوں غلط ہیں مگر وہ جو کڑیوں کی ٹولی ہے اگر وہ پیدل جائے تو ہم بھی پیدل اور اگر وہ جیپ پر جائے تو ہمارا جیپ پر جانا ہی لازم ٹھہرا، پس اسی بات پر داؤد کا بھی اتفاق ہے اور کہ وہ ہم سب کو کنجوسوں میں اور کھتریوں میں شامل کرتا ہوا چل پڑا، ظلم یہ ہوا کہ آدھ گھنٹا پیدل چلنے کے بعد ہم کڑیوں کے ٹولے سے آگے نکل گئے تھے اور صابر کی راہنمائی میں انکا انتظار کرنے لگے ایک پتھر پر بیٹھے، میں اور شاہ جی ادھر ایک چٹان پر لپک کرجھیل سے گرنے والے شور مچاتے دریا کو اپنے پرانے سے یوشیکا کے اندر بند کرنے کی احمقانہ کوشش کرنے لگے، داؤد کسی بکروال کے ساتھ گپیں ہانکنے لگا، اور صابرکڑیوں کے اس دریائے کنہار کی طرح کھنکھناتے ہوئے ٹولے کا انتطار کرنے لگا، کافی وقت گزرا تو شاہ جی کو فکر ہوا کہ لڑکیاں کدھر گئیں اور پر تشویش انداز میں صابر سے پوچھنے اوپر چلے گئے تو معلوم ہے کہ وہ تو نیچے سے جیپ میں بیٹھ چلی گئی ہیں، پس داؤد اور صابر کی وہی پرانی کتا کھائی چل پڑی کہ میں نے تجھے کہا تھا مگر تم یہ اور کہ میں وہ میں سفرکٹتا گیا اور اوپر جاکر معلوم ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جیپ ادھر تک ہی جا سکتی ہے اور اسکے بعد کڑیوں کو پیدل ہی جانا ہوگا، اب پھر صابر کی باچھیں کھل گئیں اور اس کے منہ سے رالیں ٹپکتی ہوئی صاف دکھ رہی تھیں، ابھی جاری ہے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش