پیر, ستمبر 26, 2011

کتے کی دم

عمران نے امراؤ جان ادا کے لہجے میں کہا ہے کہ امریکہ بہادر کے بعد برطانیہ کو بھی چاہئے کہ پاکستان کی امداد بند کردے۔ کہ اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا مگر رشوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

میرے خیال میں یہ بھی یہودی اور امریکہ کا ہی باندر ہے جو بطور متبادل لایا گیا ہے۔ چمچہ یہودیوں کا لے پالک۔ کہ اگر کل کو زرداری شریف کی بجائے عوام کسی تیجے کی تلاش میں نکلے تو اس تک پہنچے۔ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

ملک و عوام کے خلاف کچھ مخلص نہیں کبھی ادھر کبھی ادھر، پہلے امریکہ بہادر کو حلق سے اوپر اوپر گالیاں دیتا پھرتا تھا پھر آج جب وقت آیا ہے تو اسکا نام لینے اور ادھر مرنے کی بجائے برطانیہ کی منتیں کہ تم بھی اس ملک کو تہنا کردو، بڑا آیا انصاف کا ماما۔  جہاں تک میرا خیال  ہے اس بندے کا ایک ہی پروگرام ہے بس نعرے مارو اور ایسے مارو کہ لوگوں کو کچھ الگ لگے،  پھر جب لوگ اکتاجائیں گے تو اس الگ کو ڈھونڈتے ہوئے  اس کی طر ف آئیں گے۔ مگر ان کو یاد نہیں کہ  آواز خلق نقارہ خدا کے مصداق جب عوام کچھ کہتی ہے تو وہ خدا کا نقارہ بن جاتی ہے۔ اگر آج  بلکہ گزشتہ کئی برس سے ہر پاکستانی کہہ رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا دشمن ہے تو بھلے مشرف و ذرداری جتنی مطلب ٹی سی کرلیں ، عمران خان جتنا مرضی اس کے اشاروں پر نچ لے۔   وہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر ہی دم لے گا اور اس کوشش میں اپنی آخری حد تک جائے گا چاہے اس  کو پھر سے جوتے ہیں کھانے پڑیں مگر کہتے ہیں کہ کتے کی دم سو سال بھی نلکی میں پڑی رہے تو پھر بھی سیدھی نہیں ہوتی۔

مکمل تحریر  »

بدھ, ستمبر 21, 2011

مقدمہ بخلاف مچھراں


میں گزشتہ تین دن بلکہ یوں کہئے تین راتوں سے پاکستان سے آٹھ ہزار میل دور بھی پاکستانی عوام کے ساتھ کھجل ہورہا ہوں
ساتھ یوں کہ وجہ اس کھجل خانی کی جو اس آج کی وجہ تحریر بھی ہے۔ ایک ہی ہے اور وہ ہے مچھر ۔ جی بلکل جسکے بارے میں کہا گیا کہ ایک مچھر بندے کی رات حرام کرسکتا ہے تو سہی کہا گیا۔ مطلب گزشتہ تین آیام بلکہ اشباب  جو کہ شب کی جمع ہے میں ہم ان مچھرون کی واجہ سے شب بیدار بوم بنے رہے اور پھر دن بھر سوتے پڑے رہتے۔ 

چونکہ یہ قضیہ ہمارے ساتھ کم ہی پیش آیا  ہے لہذا مانند الودفتر میں اونگنے رہتے اور یہ بھی کہ ہم سے جو بھی سوال کیا جاتا اول تو سمجھ ہی نہ آتا اور اگر سوال اتنا آسان ہوتا کہ دماغ شریف میں خوامخواہ گھس جاتا تو اس کا جواب ندارد۔ گویا سچ مچ کے الو۔۔آج پھر تب کر چھٹی کرتے ہیں پاس کی سپر مارکیٹ میں گھس کر فوراُ سے پیشتر مچھروں کے خلاف کسی اچھے سے اور مؤثر ہتھیار کے بارے میں اندر گھومتی ہوئی اسٹاف سے پوچھ ڈالا یہ ایک اور ثبوت تھا کہ ہم واقعی بوم ہوچکے ہیں۔ ورنہ ادھر پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی بس متلقہ شعبہ میں جاؤ اور مطلوبہ چیز پکڑ لو۔ خیر اس سے ایک بات اور بھی ثابت ہوئی کہ ہم واقعی مچھرون سے تپے ہوئے تھے کہ ان کے خلاف باقاعدہ سفارش کردہ ہتھار سے لیس ہونے کے چکر میں تھے۔

ادھر پاکستان میں ہمارے بھائی بندوں کو کچھل کررہے ہیں اور ہم کہ اتنی دور آڈیرہ ڈالے ہیں اور آتوائی کھٹوائی لئے پڑے ہیں ہماری بی جان کو آرہے ہیں کوئی اس سے پوچھے کہ میاں پاکستان میں جو چالیس کروڑ بندے چھوڑ آئے ہیں وہ کوئی کم ہیں کہ تم ادھر بھی ہمارے پیچھے لپکے چلے آرہے ہو۔

ویسے یہ مچھر ہے بہت ڈھیٹ قسم کی چیز شاید ہم بنی انسان کا خون چوس چوس کہ اس کی چول خانی بھی ہمارے جیسی ہوگئی ہے۔ کہ اس کا پیٹ بھرتا ہے   ہی نہیں۔ کل رات کو میں نے بارہ بجے سے لیکر صبح چھ بجے تک پہرہ دے کر چھ مچھر مارے اور قسم سے سب وہ تھے جو ہمارا خون چوس چوس کر اپنا پیٹ اتنا بھر  چکے تھے کہ ان سے اڑا تک نہ جاتا تھا۔ بس فیر ان کی جان ہمارے ہاتھ کے نیچے اور ایک پھانڈے سے انکا رام نام ستے۔

ویسے میں سوچ رہا تھا نہیں ابھی سوچ رہا ہوں کہ بزرگ سچ ہی کہہ گئے تھے کہ پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہئے   ویسے مجھے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ یہ بات مجھروں کو انکے بزرگ بھی نہیں بتاگئے ورنہ وہ کل والے چھ آج بھی ہوتے۔

نتیجہ  پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ پیٹ بھر کر کھانے سے بندے کی جان بھی جا سکتی ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش