بدھ, جولائی 19, 2006

بیروت اور ضمیرِ عالم

بہت دنوں سے بلاگ پر کچھ نہ لکھ سکنے کا وہی قدیم بہانہ عدیم الفرصتی ہے، بقول شخصے ”خوامخواہ کی مصروفیت” پال رکھی ہے اور سر پیر کا ہوش نہیں ہے۔ مگر آج صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔ بیروت پر اسرائیل کے جاری حملوں اور ان پر عالم کی معنی خیز خاموشی اور یورپی و امریکی رسائل و اخبارات کے ”حزب اللہ کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں تبصرہ جات” کوئی اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں۔
بلا تبصرہ بی بی سی کی سائیٹ سے چند چیدہ چیدہ سرخیاں ملاحظہ ہوں: ”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ملک کے جنوب اور مشرق میں تازہ حملوں میں کم از کم پچپن شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اسرائیل کا تازہ آپریشن صدر بش کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ لبنان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیئے اس بحران کا استحصال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی کارروائیوں کی سرپرستی دمشق سے کی جارہی ہے۔ صدر بش نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ تاہم ہم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نئی لبنانی حکومت کا خیال رکھے‘۔ ”
”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک ان حملوں میں کم از کم دو سو ستر لبنانی
افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں پچیس اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔ فی الحال اس تشدد آمیزی میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے ہزاروں خوفزدہ مکین ملک چھوڑ کرجارہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے آگے کیا ہوگا؟ کیا جنگ بندی کے لیے حزب اللہ کو اغوا شدہ اسرائیلی فوجیوں کو واپس کر دینا چاہیے؟”
ان دو خبروں سے کا اختتام لکھاری شائع کرنے والے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے” کہ فوجیوں کا اغواء ایک بہانہ ہے دو ماہ پہلے جب شام کی فوجیں لبنان میں موجود تھیں تو ساری دنیا بمعہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ”یورپ، امریکہ اور اسکے چمچے بےوقوفی حنان” نے باں باں مچارکھی تھی کہ شامی فوجیں لبنان سے نکلیں، میاں اب تم کہاں ہو؟ جب فوجیں نکلوائی تھیں تو اب اسکے خلاف ہونے والی جارحیت پر اسکے دفاع کی ذمہ داری تم پر ہے مگر مجال ہے جو ضمیر عالم نے کچھ غیرت کھائی ہو۔ ادھر عالمِ اسلام کی بے غیرتی کی حد تک خاموشی قابلِ فکر ہے۔ خادم الحریمن الشریفن سے لے کر اسلام کے قلعہ تک سب ”کوما” کی حالت میں ہیں، مجال ہے جو اف تک بھی کی ہو، شاید اس ہدائیت پر عمل کررہے ہیں، ” اپنے ماں باپ کے سامنے اف تک نہ کرو”۔ اگر اس سارے قضیے کو گزشتہ تین سالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو سامنے آتا ہے کہ امریکہ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ پر جو عالم اسلام کا گڑھ ہے ہر صورت میں قبضہ کرنے کا تہیہ کیے نظر آتا ہے جسکے لیے گیارہ ستمبر کے ڈرامہ، افغانستان پر حملہ، عراق پر فوج کشی، شام کے خلاف ایک طویل پراپیگنڈہ مہم اور پر ایران کے پیچھے پڑنا شامل ہیں، یہ اور بات ہے کہ ایران کے سلسلہ میں اسے دنیا کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اسے اپنی چال بدلنی پڑی؛ ایک فوجی کے اغواء کا بہانہ بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کا معقول بہانہ رہا، پھر دو فوجیوں کا اغواء بیروت پر مسلسل بمباری کی وجہ بنتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسکے بعد شام پر اسرائیلی حملہ کی کیا وجہ سامنے آتی ہے؟
آپ کے خیال میں یہ امریکہ ہی کی ایک چال نہیں ہے کہ اس نے خود سامنے آنے کی بجائے اسرائیل کو آگے کردیا ہے اور خود اس کو ہر جگہ پر مکمل تحفظ فراہم کیئے ہوئے ہے؟
کیا اسکے بعد اس طرز پر اگے بڑھتے ہوئے کسی معقول بہانے کا سہارا لے کر شام سے بھی دو دو ہاتھ کیئے جائیں گے یا نہیں؟

4 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش