جمعہ, نومبر 25, 2005

ایک نظم

میرے خدا میری دعا ہے میری زمین پر اب کوئی زلزلہ نہ آئے مگر مجھ کو یہ سوچنا ہے یہ زلزلہ آخر آیا کیوں ہے زمین میری کیوں لرز اٹھی ہے کیا مکین کے سجدوں میں کچھ کمی تھی جو مکان سجدے میں گر پڑے ہیں؟ کیا مال دینا ہوا تھا مشکل جو زمین نے خون کی زکوۃ مانگی؟ شکار اس زلزلے کاکسی کا سامان، جسم کسی کا، کسی کی جاں ہے جو زد میں آئے، جو بچ رہے، سب کا امتحاں ہے سو دیکھنا ہے! زمین تو لرزی، کیا دل بھی لرزے؟ دلوں میں قائم قلعے ہوس کے، محل حرص کےہیں اب بھی دائم، یا منہدم ہو گئے ہیں؟ تفرقے اور تعصبوں کی اور نفرتوں کی سنگ و خشت سے بنی دیواریں ابھی کھڑی ہیں یا گر گئی ہیں؟ اس سے پہلے انہیں گرانے زلزلہ کوئی اور آئے خود پرستی کے سن مینار اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دے میری زمین پر آنے والا یہ زلزلہ بےکار نہ جائے تو اس زمین پر اور کوئی زلزلہ نہ آئے۔ بصد شکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

1 تبصرے:

  • urdudaaN says:
    11/26/2005 10:55:00 AM

    محترم ڈاکٹر صاحب
    بہت خوب۔ بہتریں خیال ھے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش