ہفتہ, اکتوبر 01, 2005

حق

بہت سالوں کے بعد اس دفعہ خوش قسمتی سے پاکستان میں تقریباُ ٣ ماہ رہنے کا اتفاق ہوا، تمام اہلِ خانہ اور جملہ احباب بہت خوش تھے کہ چلو آخر کار لمبی لمبی ملاقاتیں ہونگی اور گپ چلے گی۔ چند دن گزرتے ہیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ پوسٹر اور بینرز کی بھر مار ہو رہی ہے اور ایک نیا کام جو دیکھا اس دفعہ کہ کاروں کی عقبی اسکرین پر نام لکھے گئے ہیں ساتھ امیدوار برائے فلاں وغیرہ۔ اسکا ایک فائدہ البتہ ہوا کہ ملنے والوں کا تانتا بندھا رہا، اول تو گھر سے نکلنا محال تھا پہلے تو دوست احباب ملنے آتے رہے پھر امیدوار اور پھر انکے حمائتی کہ لوجی چونکہ ہم آپ کے یہ لگتے ہیں اور ہم ووٹ دے رہے ہیں مرزا صاحب کو لہذا آپ نے بھی مرزا صاحب کو ووٹ دینی ہے، ہمارے دوست ماسٹر طارق صاحب بھی مرزا صاحب کے زبردست حمائیتی ہیں اور ہر روز بلا ناغہ آکرمرزا صاحب کو ووٹ دینے کی تاکید کرتے رہے، ایک دن میں نے از راہّ تفنن کہہ دیا کہ میں تو چوہدری صاحب کو ووٹ دے رہا ہوں آپ بھی انکو ووٹ دیں تو ناراض ہوگئے کہ لو اب تم بڑے آدمی بن چکے ہواور تم پر ہمارا اتنا حق بھی نہیں، لو جی آج سے ہماری تمھاری ختم اور ہم جارہے ہیں۔ میں انکے جانے کے بعد سوچتا رہ گیا کہ انکا تو مجھ پر حق ہے مگر میرا ان پر کیوں نہیں؟ بعد میں ماسٹر صاحب کو راضی بہت مشکل سے راضی کیا اس وعدہ کے ساتھ کہ ہاں ووٹ مرزا صاحب کو ہی دیں گے تو کہنے لگے صرف اپنی ووٹ نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد اور مجھے حامی بھرنی پڑی۔ اور ایک میرے اطالوی دوست سنیور دوریانو ہیں، پچھلے برس الیکشن کے چند دنوں کے بعد ہم اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے ایک کیفیٹیریا میں اور ڈاکٹر فرانکو باتوں ہی باتوں میں پوچھ بیٹھے کہ سنیور دوریانو تم نے کس کو ووٹ دی تھی اب سنیور دوریانو راشن لے کر چڑھ گئے ڈاکٹر پر کہ تم دنیا کے انتہائی جاہل آدمی ہو جس کو دوسروں کے حقوق کا پاس تک نہیں، ووٹ میری ہے یا تمہاری، تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے وغیرہ وغیرہ، اور ڈاکٹر صاحب معذرت کرتے نظر آئے کہ غلطی سے کہہ دیا معاف کردو۔ مجھ سے انتہائی غیر جمہوری اور جاہلانہ حرکت سرزد ہو گئی ہے

5 تبصرے:

  • شعیب صفدر says:
    10/02/2005 05:49:00 AM

    ہمیں ابھی تک نہ تو جمہوریت کا پتہ ہے نہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ووٹ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کیا کرے؟

  • iabhopal says:
    10/02/2005 09:43:00 AM

    ڈاکٹر صاحب آپ اطالیہ پہنچ گئے کہ ابھی جہلم میں ہیں ؟ میرا ارادہ آپ سے ملاقات تھا کہ سی بہانے عرصہ دراز بعد جہلم کی سیر بھی ہو جاۓ گی لیکن دوسرے شہروں اور ممالک سے عزیو اقارب آتے رہے اور خواہش پوری نہ ہو سکی ۔

    ہمارے ملک کا موجودہ رواج ہے کہ حق صرف میرا ہے کیو کہ ہم لوگ خود غرض ہونے کے ساتھ کوتاہ اندیش بھی ہو چکے ہیں ۔

  • گمنام says:
    10/03/2005 06:23:00 AM

    can I get this in english

  • Dr. Iftikhar Raja says:
    10/06/2005 12:22:00 AM

    sorry sir bcz this is an urdu blog and I would like to write here all in urdu font.
    any way thanks for your visit.

  • Gul says:
    10/21/2005 06:08:00 PM

    AOA..hasb-e-waada yahan hazir hein.so aap ne Pakistan aane kay liye khub mozoon waqt chuna..sahib abhi tou aap ne woh kuch nahi dekha jo elections kay dinon mein humara culture bun gaya hai.U know we are unique ppl so vote lene aur dene kay khub naye tareeqe nikal liye hein hum ne..
    baherhal bhot acha laga aap ki tehreer perhh ker.Allah kare zorey qalam aur zayada
    dua'go
    Gul Rukh

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش