ڈاکٹر راجہ افتخار خان کا اٹلی سےاردو بلاگ

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

پیر, جون 20, 2011

مرغی چور اور بخار

معلوم ہوا کہ شاہ جی کو بخار چڑھا ہوا ہے اور ہذیان میں اول فول بک رہے ہیں
 بالے کا خیال تھا کہ چونکہ پچھلے ماہ شاہ جی کو ہلکی کتی نے کاٹا ہے اس لئے شاہ جی کا بخار اب انکو کسی اور طرف ہی لے جانے والا ہے، اور یہ بھی کے انکی خیریت معلوم کرنے والا بھی خطرے سے زیادہ دور نہیں ہوگا، کیا جانے شاہ جی کب کسی کو کاٹ کھائیں، مگر میرا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہے ، پرسوں شام کو شاہ جی بھلے چنگے تھے ایک دن میں کون سا طوفان آنے والا ہے۔ ہوگا کوئی معمولی سا بخار۔۔۔۔۔۔

 خیر شام کو ہم شاہ جی کے گھر پہنچےجب گرمی کا زور کم ہوا،      شاہ جی ادھر دیوار کے سائے میں گاؤ تکیہ لگائے پڑے تھے ، خیریت دریافت کی تو جواب ملا کہ دو دن گھر میں ابا جی سامنے گزرنے سے سارا خون سوکھ چکا ہے اور یہ کہ منہہ پریہ پپڑی بخار کی وجہ سے نہیں بلکہ ابا جی کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ پھر ادھر ادھر دیکھ کر ہولے سے بولے کہ یہ ککڑی دیکھ رہے ہو کالی، یہ ہماری ہمسائی" ماسی باتاں "کی ہے پر میں دیکھ رہا ہوں کل سے کہ یہ پکی ہمارے ادھر ہی ہے، چونکہ اس ہفتے کسی "کنجر "کو ککڑی پکڑنے کی توفیق نہیں ہوئی اسی لیئے مجھے یہ بخار چڑھا ہے اور پھر اس بخار کی وجہ سے کمزوری بھی بہت ہوگئی ہے۔

 اس طرح کا پروگرام ہے کہ تم لو گ کل صبح دس بجے ادھر سے گزرو جب ابا جی اخبار پڑھنے گئے ہوتے ہیں اور اماں اپنے کام کام مکا کےہمسائیوں کے اور پھر اسکا کچھ کرتے ہیں، "اللہ کی قسم لے لو کہ یہ کمزور اب اس ککڑی کے بغیر نہیں جانے والی"۔ 

ہمارا کیا "اندھے کو دو آنکھیں "بس اگلے دن وقت مقررہ پر پہنچے شاہ جی کا پہلے سے تیار شدہ کمانڈو اپریشن ہوا اور ککڑی بیس منٹ میں ٹوکرے کے اندر شاہ جی نے پکڑی اور ہمارے ہاتھ میں دی اور ہم ادھر ادھر، بارہ بجے تک پک پکا کے کھا پی عوام دریا نہانے پہنچی ہوئی تھی۔

شاہ جی بھی لمبی لمبی ڈکاریں لیتے ہوئے ہمارے ساتھ دریا میں تیرتے پھر رہے تھے۔ شام کو واپسی ہوئی اور سارے اپنے اپنے گھر کو چلے گئے کہ شام کی نماز مسجد میں پڑھیں گے اور پھر بعد از عشاء تاش کی بازی کا مقام مقرر ہوگا۔ ادھر مسجد کی طرف آئے تو شاہ جی پہلے ہی ادھر باہر کھڑے پائے گئے۔ کیوں شاہ جی آج خیریت کیسے سب سے پہلے؟؟؟ شاہ جی کہنےلگے یار ایک بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے ، میں چونکہ گھر میں کبھی رہا نہیں اور ککڑی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ ماسی باتاں کی ہے، مگر وہ ہماری اپنی ہی تھی۔ اب میری اماں گاؤں کے سارے لڑکوں کو یہ بڑی بڑی گالیاں دے رہی ہے کہ وہ ہماری ککڑی چوری کر کے کھا گئے ہیں۔ تم سارے میرے ساتھ چلو اور اماں کے سامنے قسم اٹھاؤ کہ ککڑی تم نے نہیں پکڑی ،" تم نے تو پکڑی بھی نہیں"، نماز کے بعد ہم گئے تو شاہ جی کی اماں چور کی ماں بہن کو ایک کررہی تھیں کہ ہماری ایک ہی ککڑی تھی جو روزانہ بلا ناغہ انڈہ دیتی تھی۔ ہم نے قسم اٹھائی کہ ماسی ہم ابھی سیدھے مسجد سے نماز باجماعت پڑھ کر آرہے ہیں، ہم نے نہیں پکڑی اور شاہ جی خاموش مسکین صورت بنائے کھڑے تھے کہ کوئی بندہ اپنی ککڑی خود تو چوری نہیں کرتا، شاہ جی کی اماں چور کی ماں کو منہ منہ بھر بھر کر گالیاں دے رہیں تھیں، مگر اپنے آپ کو تو گالیاں نہیں لگتی ناں

4 تبصرے:

  1. مجھے پتہ تھا۔آخر کار آپ نے میری ہی واٹ لگانی ہے۔
    لیکن میری اماں جی گالیاں تو نہیں دیتیں۔۔۔
    گھسّن مارتی تھیں۔
    ککڑی کی ٹانگیں تو آپ نے اڑائیں تھیں اور ڈکارے بھی نہیں تھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یاسر ہم نے تو پنڈ میں 15 برس مرغیاں چرائی ہیں،پھر سارے کے سارے ہی چوری ہوگئے یعنی پردیس کو سدھارے،یہ رودادوں زندگی کے ان دنوں کی یادیوں ہیں جب بے فکری ہوتی تھی اور بڈھیوں کی گالیاں کھا کر بھی من بیزار نہیں ہوتا تھا بلکہ ہنسے ہنسے نکل لیتے تھے اور پھر گالیاں پرتی تھیں کہ تکو کتنے کنجر ہیں گالیاں کھا کر بھی دانت نکال رہے ہیں، من کے اندر چور نہیں تھا

    جواب دیںحذف کریں
  3. راجہ جی کیا بات ہے
    آج بڑے دنوں بعد شاہ جی کی ککڑی یاد آءی ہے
    لگتا ہے بروسٹ اور پاستے کھا کھا کر تنگ آگئے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. چوری مان رہے ہیں یہ نا ہو کہ واپسی پر آپ پر زرداری ٹیکس لگ جائے

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں