منگل, مارچ 13, 2012

صوبے بنوالو

فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

پیر, دسمبر 05, 2011

بون اور ڈنڈہ

سوئس سے نکلے اور سینٹ گلین سے آسٹریا میں جاگھسے، وہاں سے پھر جرمنی میں اور  فرینکفورٹ کی طرف منہ کرلیا کہ سہیل بھائی کا کوئی یار ادھر رہتا ہے اس سے بھی مل لیں گے اور فرینکفورٹ کی سیر بھی ہوجائے گی کہ بھئی آخر کار انٹر نیشنل شہر ہے دیکھنا چاہئے۔   ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا،   اگر تھا تو یہ کہ  ہم چاروں ہیں علامہ صاحب، سہیل بھائی ، جمیل میاں جو ہمارے  مشاق ڈرائیور بلکہ پائلٹ تھے،  اور راقم، تب نئے لائسنس یافتہ مگر گاڑی چلانے کا مطلق تجربہ نہ تھا  ،  دس چھٹیاں ہیں اور یہ اوپل آسٹرا گاڑی ہے کہیں جانا ہے،  کہاں ؟؟ کون جانے،  رات زیورخ  پہنچے اور پوچھا کہ بھئی ادھر کیا دیکھا جاسکتا ہے، جواب آیا کہ اہو ہو، تمھیں ملوم نہیں کہ ادھر آج اسٹریٹ پریڈ کی رات ہے بس تم ادھر جھیل کو نکل لو جدھر لوگ جارہے ہیں فیر میلہ لگتا ہی ہوگا۔ سٹریٹ پریڈ  کو لو پریڈ بھی کہا جاتا ہے، عوام اور مشٹنڈا پارٹی، چرسی و عشاق سارے ہی ایک ساتھ ہوتے ہیں  سڑکو ں پر سرعام میوزک کنسر ٹ اور عوام کی ناچ مستی، جوڑے ٹن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بوس و کنار میں مصروف، شرابی لوگ شراب کی بوتلیں لئے گھوم رہے، دوشیزائیں نہائت غربت کےعالم میں بس دو چیتھڑون سے جسم چھپانے کی کرشش میں ناکام، عوام ناچ رہی ہے اور گارہی ہے۔ پی رہی اور پلارہی،   ہم نے بھی حسب توفیق  میلہ دیکھا (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)،  صبح صادق کے وقت ادھر پوہ  پھوٹی  ادھر یارلوگ  اپنی اپنی راہ کو چل دئے، ہم بھی  دو گھنٹے گاڑی میں ہی نیند کو چکمہ دے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھو، خود ایک بار  اور جمیل کو دو بار کافی پلوا کہ گاڑی اس نے چلانی ہے، اسکی نیند پوری طرح اڑنی چاہئے،  نکل پڑے  جرمنی کے راستوں میں ،بھول جاتے اور کسی اور شہر کی طرف نکل لیتے، پھر علامہ صاحب  جو جرمنی میں رہ چکے تھے اور جرمن زبان سے کماحقہ واقفیت بھی رکھتے تھے  بقول انکےعلامہ صاحب  کو  بھیجا جاتا بلکہ وہ ہمارے  خود ساختہ ناویگیٹر بنے ہوئے تھے، اور خالصہ جی کی پریڈ کے موافق سجا، کھبا کراتے جاتے، پھر شور مچا دیتے کہ ڈائیریکشن جو بابے نے بتائی تھی وہ نہیں مل رہی،  لگتا ہے راستہ بھول گئے ہیں اہو ہو ہو، ایدھر ہی گاڑی روکو اور میں اس مائی سے راستہ کے بارے علم حاصل کرکے آتا ہوں، کہہ کر گزرتی ہوئی لڑکی کو تاک کر روک لیتے اور دس منٹ گٹ مٹ کرتے، یا یا یا کرنے کے بعد واپس آتے اور ماتھے پر دو ہاتھ مارکرکے فرماتے لو جی فیر چوک گیا راستہ واپس مڑو اور ساٹھ کلومیٹر پر فیر ڈائیریکشن ملے گی۔ چلو،  اور ہم چلتے رہے، مطلب ہم بیٹھے رہے اور گاڑی چلتی رہی،  رستے میں علامہ صاحب کے موبائیل پرکال آگئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ فرینکورٹ کو ہاتھ لگا کر ادھر بو ن کو نکل چلو کہ میری لالا جی سے بات ہوئی ہے اور وہ رات کے کھانے پر ہمارا انتظار کریں گے۔  یہ لالا جی موصوف علامہ صاحب کے برادر کبیر مرزا ضیاء  صاحب ہیں جو ادھر آخن یونیورسٹی کو ڈاکٹر قدیر کےبعد ٹاپ کرنے والے دوسرے غیر ملکی اور دوسرے ہی پاکستانی ہیں،  اور یہ کہ بون کے حلقہ 
کے موٹروے کے انچارج انجینئر ہیں۔

بون پہنچے تو رات کے پہر تھے ، وسط اگست کا سورج ڈوب چکا تھا، مرزا صاحب نہ میری طرف دیکھا اور کہنے لگے اسٹریٹ پریڈ سے ہوکر آئے ہو؟؟ ان بزرگوں کے بالوں میں رات کے ستارے ابھی تک چمک رہے ہیں،  کھانا ہمارے انتظار میں  ٹھنڈا ہو چکا تھا  جو ہم پھر سے گرم کرکے  مرزا صاحب نے ہمیں بڑی محبت سے کھلایا کہ  بھئی میں نے آج کوئی ایک ماہ بعد گھر میں اور وہ بھی پاکستانی کھانا بنایا ہے، برتن بھی انہون نے  دھوئے کہ علامہ صاحب گلاس پر پانی کے نشان چھوڑ دیتے ہیں اور ہم تینوں تو ہیں ہی خیر سے مہمان، اور اوپر سے پہلی بار آئے ہیں۔

پھر ہم نکلے شہر کی سیر کو دو کاروں میں بھر کے،   مرزا صاحب نے کمال محبت سے ہمیں کمپنی دی اور پورا شہر پھرا دیا، ساتھ میں بھر پور تبصرہ بھی،  سٹی ہال کے سامنے رکے اور فوٹو سیشن ہوا کہ بھئی یادگاری فوٹو  بن جائیں گے۔  مرزا صاحب کو درخواست کی گئی کہ جناب ہم دلی سے آنےو الے چارسواروں کےگروپ کی تصویر بنادیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے،  مرزا صاحب کافی دیر کوشش کرتے رہے اور پھر بولے یار یہ جھنڈا نہیں آرہا،  فوراُ  جمیل کے منہ سے جواب نکلا کہ ڈنڈا تو آرہا ہے ناں
بس پھر قہقہے ابل پڑے۔
اور وہ تصویر بغیر جھنڈے کے ہی بنی البتہ ڈنڈہ ہمارے عقب میں غور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ 

آج کل  بون کا عالمی سطح پر اور خبروں میں پورا چرچا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی  کانفرنس میں پاکستان کا جھنڈانہیں آرہا، مگر بہوتوں کو ڈنڈہ ضرور آرہا ہے، حامد قرضئی سے لیکر چاچی ہیلری کلنک ٹیکن تک سبھی باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں،  اگر اس طرح کی غیرت دس بار ہ برس پہلے ہی کھالی ہوتی تو آج سو چھتر بھی نہ کھانے پڑتے اور  نہ ہی سو گنڈھے 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش