جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 30, 2014

تجاوزات



دکان کے آگے فٹ پاتھ پر تھڑا بنانا 
ریڑھی لگانا چھاپہ لگانا
رستہ بند کر دینا
یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔
عموماً عوام بھی کچھ کہے بغیر موٹر سائیکل ، گاڑی ، گدھا گاڑی سے جان بچاتے ہوئے سڑک پر سے گذر جاتے ہیں۔
میں نے ایک کارنر والی دکان کے سامنے کے رستے پر تجاوز کرکے بنے ہوئے تندور کو دیکھا اور ساتھ والے سے کہا کہ ادھر سے نکلنے والے کو سیدھی طرف سے آنی والی گاڑی یا پیدل لوگ نظر نہیں آتے یہاں ایکسیڈنٹ ہو چکا ہو گا۔اگر نہیں ہوا تو ضرور ہو گا۔
سننے والے نے کہا تھا ہے تو غلط بات لیکن آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا،اس لئے ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں۔
بس میری "کالی" زبان" اور اسی دن بچوں کو سکول لانے لے جانے والی گاڑی نے گاڑی افورڈ نہ کر سکنے والے بچوں میں گاڑی اسی جگہ گھسیڑ دی۔
ہاہا کار ہائے ہائے مچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں دیکھ رہا تھا کہ تندروچی مزے سے روٹیاں لگا رہا تھا۔ کچھ بچے چوٹیں سہلاتے گھروں کو واپس جارہے تھے جو لمبے پڑے چیخ رہے تھے انہیں آس پاس کے لوگ گاڑی لاؤ اوئے۔
زخمی بچوں کو اسپتال لیکر جانا ہے کا شور مچا رہے تھے۔
آپ اس طرح کے حادثے کے بعد لوگوں کی بے لوثی اور خلوص کے ساتھ "متاثرین" کی مدد دیکھ کر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔
دیکھو ہماری قوم "زندہ" ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
یہاں جاپان میں میرے گھر کے بالکل پیچھے ایک سیون الیون فرنچائیز کنوینینس سٹور ہے۔ لوکیشن اچھی اور کارنر پر ہونے کی وجہ سے اس کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
پارکنگ بڑی ہونے کی وجہ سے ہیوی ڈیوٹی ٹرک رات کو آتے ہیں اور ڈرائیور رات کو گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے ہیں۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ان ٹرکوں کے انجن سٹارٹ رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم رات کو کھڑکی کھول کر سو نہیں سکتے۔
اس کے علاوہ بھی قریبی علاقے کے لوگ جو کہ اس سٹور سے خریداری کیلئے آتے ہیں ہمارے گھروں اور باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
بچے اور آجکل ہمارے علاقے کچھ "دیسیوں" اور دیگر غیر ملکیوں کے بچے ہمارے اور پڑوسیوں کے باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
سٹور کی پچھلی طرف کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا اور گیند ہماری دیواروں سے ٹکراتی تھی،
بچے گیند اٹھانے کیلئے ہمارے باغیچے میں گھس جاتے تھے۔ کھا پی کر کچرا پھینک دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے گندگی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
ایک دو بار بچوں کو منع کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔
تنگ آکر سٹور کے مالکان سے شکایت کی تو سٹور کے مالک کے نے ہفتے میں ایک بار صفائی کرنا شروع کر دی۔
ہم مزید تنگ ہوئے تو "سٹور کی فرنچلائیز کمپنی" سے کہا کہ کچھ کیجئے ورنہ ہماری مجبوری ہے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔
شکایت کے فوراً بعد کمپنی والے آئے معذرت کی اور کہا کہ جتنی جلد ہو سکا تحقیق کرکے ہم مسئلہ حل کر دیں گے۔
دو ماہ بعد آج آئے "تحائف" ساتھ لائے اور ہمیں انتہائی مودبانہ انداز میں "رپورٹ" پیش کی کہ 
سٹور کی پچھلی طرف چاردیواری بنائی جائے گی اور چاردیواری بھی وہ والی جس سے "شور " کو دبا کر ختم کر دیا جائے گا۔
تاکہ آپ کی راتوں کی نیند پُرسکون رہے۔ اتنا عرصہ جو آپ کو تکلیف ہوئی ہم اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ 
ساتھ میں انہوں نے نقشہ اور تعمیراتی پلان کی تفصیل بتائی ، اخراجات بتائے اور ہماری رضامندی کیلئے ایک عدد کنٹریکٹ پر دستخط کروائے۔
اخراجات جو آنے ہیں پاکستانی تقریباً ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہے جو کہ جاپان میں بھی خطیر رقم ہی ہے۔
صرف تین گھروں کیلئے جو کہ سٹور کے "پڑوسی" ہیں صرف ان کی راتوں کی نیند کے سکون اور دیگر پریشانیوں کیلئے "ایک کروڑ" کی رقم لگائی جا رہی ہے۔ 
یہ صرف قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے ورنہ جاپانی تو ایسی وحشی قوم تھی کہ جنگ میں کھانے کو نہ ملنے کی وجہ سے بندے بھون کا کھا جاتے تھے اور وہ "خیال" کرکے کہ "جاپانی" نہیں کھانا۔
کسی دوسری قوم کا ہے تو کھانے میں کو حرج نہیں 

اور میری قوم کے لوگ دوسری قوم کیطرف دیکھتے ہی نہیں پہلے جس پر "ہاتھ" پڑے اسے ہی کچا چبا ڈالتے ہیں۔۔
رو عمران رو
گو نواز گو 

  بشکریہ، محترمی و مرشدی یاسر خوامخوہ جاپانی مذلہ علیہ و عفی اللہ عنہ
آپ جناب نے اپنے بلاگ پر چھاپنے کی بجائے ادھر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرماکر راقم الحروف کو عزت بخشی۔ 
گو نواز گو، 
رو عمران رو



مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 30, 2013

کچھ اپنے بارے میں

منظر نامہ پر شائع ہونے والا اپنا ایک انٹرویو، ادھر بھی کاپی پیسٹ کررہا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب راجہ افتخار خان صاحب ۔آپ ڈاکٹر ہونےکے ساتھ ساتھ اردو بلاگر بھی ہیں اور ” ہم اور ہماری دنیا “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔
خوش آمدید !
وعلیکم خوش آمدید کہ جیسے میں آن لائن آیا ایسے ہی آپ بھی۔
کیسے مزاج ہیں ؟
@چنگے بھلےہیں جی، اللہ کا شکرہے، وہ اپنے بندوں کا بڑا خیال رکھتا ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@یہ اس انٹرویو کا سب سے اوکھا سوال ہے۔  کہ اپنے بارے میں اب اپنے منہ کیا بتاؤں ، اپنی اچھائی بیان کروں گا تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کہا جاوے گا اور اپنے بارے برا بولنا تو مجھے پسند ہے بھی نہیں، تو اس مناسب ہے کہ اس بارے  ہمارے احباب سے دریافت کیا جاوئے، مگر جو کچھ وہ بتلائیں گے اس پر اپنے مولانا اکبر الٰہ آبادی پہلے ہی روشنی ڈال گئے،
کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے
 بی  اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے
پیشے کےلحاظ سے ہومیوپیتھیک معالجات میں ڈاکٹر ہوں،  پاکستان میں کالج میں پڑھتا تھا، عرصہ سے ادھر اٹلی میں مقیم ہوں جانے کیوں، یہاں پرپہلے تو سیاحت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، مگر اب پھر سے اسی پیشے کے ساتھ منسلک ہوں، ہومیوپیتھک میڈیسن اور ڈاکٹرز کے اسپیشلائزیشن اسکول میں پڑھاتا بھی ہوں،  اطالوی زبان کی تعلیم بھی بہت عرصے سے غیر ملکیوں کو دے رہا ہوں۔ مزید کچھ نہیں کہوں گا۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@میری جائے پیدائش ضلع جہلم میں میں جہلم اور منگلا کے بیچ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک چھوٹا ساگاؤں ہے، اب وہاں بندے جینز پہنے پھرتے ہیں، بلکہ کوئی کوئی بی بی بھی آپ کو نظر آجاوے گی، پس اسے گاؤں کہنا ظلم الکبیر ہے مگر ہے گاؤں ہی۔
اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@اپنی تعلیم کی کیفیت بہت پیچیدہ ہے، اگر کوئی سمجھ لے تو، ہومیوپیتھیک میڈیسن میں ڈاکٹر بنےاور پھر ایک جاپانی انسٹیوٹ سے کمرکی  ریہبیلیٹیشن  میں ڈپلومہ کیا، فیر اٹلی آگئے، ادھر ایک ماسٹر کیا بزنس ایڈمنسٹریشن اور ٹورزم منجمینٹ میں،  پھر ہسٹری اور مونومنٹنس کا ایک کلچرل کورس جسکادورانیہ ایک برس تھا کیا۔ ہیں جی مجھے تاریخ بہت پسند ہے، ثابت ہوا۔ بس اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں رہتی۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@میں اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آیا بلکہ اردو بلاگنگ میری طرف آئی تھی۔ لکھنا پڑھنا اپنی پرانی لت ہے، تو اردو لائیف کے اردو پیڈ میں لکھ کر اور ادھر سے کاپی پیسٹ کرکے پہلا اردو بلاگ شروع کیا تھا ، تین مگرمچھ اور آنسو دوہزار چار کے شروع میں، بس تب کوئی دس کے قریب بلاگرز تھے، اور یہ  کہ یونیکوڈ  کوئی بھی نہیں لکھتا تھا۔ سوائے چند ایک سائیٹس کے اور بیس کے قریب بندوں کے۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@کچھ بھی تو نہیں صرف پڑھنے والے نہیں تھے، شروع میں نستعلیق نیٹ پر تھا نہیں تو جنتا چیں چیں کرتی تھی۔ بس لکھنے کا مسئلہ، کہیں لکھو فیر کاپی پیسٹ کرو، پھر کوئی نہ کوئی کٹا کھل جانا کہ لائنیں مکس ہورہی ہیں، لفظ پھنس رہے، بہت برس تو ہجے ہی سہی نہیں ہورہے تھے، ہیں جی اور اب تو جنتا گرافکس کے مسائل میں الجھی ہوئی ہوی ہے، خوبصورتی پسند ہے ہیں جی، تب صرف لکھنا ہی بڑی بات تھی  یونی کوڈ میں، نہیں تو جنگ جیسی سائیٹس تصویری اردو سے کام چلاتیں تھیں اور لوگ پوچھتے تھےکہ آپ کرکیسے لیتے ہو  اب سانوں کی پتا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@جی شروع میں تو بہت کام ہوا، میں آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہوں مگر کتنے بندوں کو ترغیب دی، کسی کو فونٹ اور کسی کو اردو سپورٹ انسٹال کرکے دینا، یہ بھی ایک پور ی سائنس تھی تب، اب اللہ بھلا کرے م  بلال م  میاں کا، جو کام کسی ادارےنے کرنا تھا وہ اس بندے نے اردو کےلئے کردیا۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں متاثرین میں سے نہیں ہوں، بلکہ محبین میں سے ہوں، بہت سے بلاگرز سےمحبت کا رشتہ ہے، جن میں، یاسر خوامخواہ جاپانی، خاور کھوکھر، م بلال م ، علی حسان، عمیر ملک،  افتخار اجمل بھوپال، محمد قدیر،  نجیب صاحب،  مولوی محمد سعد،  جاوید گوندل، شعیب صفدر، محمد یاسر علی اور دیگر بہت سے  قدیم و جدید احباب شامل ہیں سب کے نام گنوانا  طوالت کے باعث مناسب نہیں،   البتہ ان حضرات سے براہ راست یا بلواسطہ میری  ملاقات یا بات چیت ہوئی۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@اچھے سے تو یاد نہیں مگر شاید دوہزار دو یا تین کی بات ہے، تب پہلے بلاگ اٹالین زبان میں لکھنا شروع کیا تھا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@نہ جی یہ کوئی ڈاکٹری کا مقالہ تو ہے نہیں، بس بیٹھے  اور ہو گئے شروع، میں تو غلطیاں بھی  نہیں نکالتا، نو ایڈیٹنگ، نہیں تو فیر فرق کیا رہا بلاگ میں اور رسالے میں،  بلاگ ایک فطری روانی کی  جبکہ رسالہ ایک مرحلہ وار عمل  کی پیداوار ہوتا ہے ، موضوع ہوسکتا ہے دونوں کا ایک ہی ہو۔ اسی لئے تو آپ کو میرے بلاگ پر اسپیلنگ کی غلطیاں، ٹائپنگ مسٹیکس، اور دیگر کھچ خانیاں ملیں گی۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@معاشی فائدے کا تو سوچا کبھی نہیں البتہ یہ جو اوپر مذکور بندے ہیں یہ  بلاگ سے ہی کمائے ہیں۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@معیاری بلاگ  وہ ہوتا ہے جو بے لاگ ہو، بغیر لگی لپٹی کے اور بغیر ایڈیٹنگ کے، بس دل کی بات کرے بھلے اپنے دل کی کرے اور دوسروں کے دل ساڑے۔    بھلے اگلے کہہ  اٹھیں   ع   چمن  سے آرہی ہے بوئے کباب ،                    پر کرے دل  کی بات۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@ہاں  تو اور کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ساٹھ سو برس کسی زبان کےلئے بہت تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، الحمدللہ اردو نے آج جتنے دل جیتے ہیں،  وہ کہنے کو کافی ہیں کہ اردو ہی یہ کام کرسکتی تھی،  آج پوری دنیا میں اردو بولی جاتی ہے اور میرا نہیں خیال دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جہاں پر یہ باقاعدہ پڑھی نہ جاتی ہو۔ پھر اردو اور اردو دانوں کی آپس میں محبت کیا کہنے۔  میں تو گھومنے پھرنے والا بندہ ہوں، کہہ سکتا ہوں بقول شاعر
اور جس شہر میں اردو کا چلن ہوگا
وہاں کا ہر باشندہ شریفانہ ملے گا
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@کچھ یوں کہ میری مادری زبان پنجابی ہے،  اب بھی ساری گالیاں اور لطیفے پنجابی میں ہی چلتے ہیں، بنیادی  تعلیم اردو میں اور ہومیوپیتھک میڈیسن  انگریزی میں پڑھی،  پھر اسپرانتو سیکھی، اور یونانی  و جرمن  و عربی سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اطالوی سیکھ بیٹھے، پر اب بھی پڑھنے اور لکھنے کی زبان اردو ہی ہے، پہلے اردو میں لکھ کر پھر کسی زبان میں  ،    اب البتہ  یہ ہے کہ  کچھ وقت سے نوٹس وغیرہ اٹالین میں لکھنے لکھوانے  ہوتے ہیں تو بس اردو میں لکھنے پڑھنے کا  کام کچھ کم ہویا ہوا ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@چونکہ پاکستان سے باہر ہوں عرصہ تو مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ پاکستان میں ان پندرہ برس میں کیا ہوا اردو کےلئے میری، اردو ابھی تک وہی انی سو پچانوے والی ہے، بغیر انگریزی کے،  جیسے برطانیہ والوں کی پنجابی انیسو ستر  والی۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@اپنے آپ کو ہنوز زمین پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں، اللہ نے چاہا تو،   اور اٹلی میں ہی ہوں گا،  اور اردو بلاگنگ کو پروفیشنل میڈیا کی مت مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔   اردو کا مستقبل روشن اور اردو بلاگز کا روشن تر، اب چونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ عام بندے کی دسترس میں آیا ہے تو آپ دیکھئے گا کہ آنے والے برسوں میں اردو بلاگنگ کو بہت سے م بلال م ملیں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@پیغام  ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے،   اردو خود ہی محبت ہے اور اس سے محبت کرنے والوں کو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی میں ایک عام سا بندہ ہوں کسی کو بھلا کیا مشورہ دے سکتا ہوں  ہاں اردو کی خدمت کرنے والے اور اردو بلاگز اگر کوئی صلاح مجھے دینا چاہئے تو میری  خوش نصیبی ہوگی۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@بلاگ میری مصروفیات میں آخری کام ہے، جب تپا ہوا ہوں تو لکھتا ہوں، ملازمت ہے،  وہ کرتا ہوں،  اس کےلئے چونکہ پڑھنا پڑھتا تو پڑھنا بھی بہت پڑتا ہے۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@درد دل کے واسطے پیدا کیا تھا انساں کو     والی بات نہیں ہے، آج تک خود سمجھ نہیں آئی کہ کیا چاہتاہوں، اور زندگی کا مقصد کیا ہے، کماؤ، کھاؤ، گھر والوں کو کھلاؤ، دنگے فساد  سہو اور کرو، یہ غیبتیں اور چغل خوریاں جہان بھر کی، جانے زندگی کا مقصد کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش اپلائیڈالٹرنیٹیو میڈیسن میں ، دیکھو فیر پوری ہوتی ہےکہ نہیں۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
@ الکیمسٹ پاؤلو کوئلہو کی
2۔ شعر ؟
@چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہئے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نوا کہئے
اسیر بند زمانہ ہوں اے صاحبان چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے
3۔ رنگ ؟
@نیلا اور سفید ،   ایک وقت میں میرے سارے کپڑے نیلے یا سفید ہوا کرتے تھے یابھی سفید اور نیلے اور یاپھر نیلے اور سفید ہیں جی
4۔ کھانا ؟
@اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہوں شدید، کنفوشس سے بھی بڑھ کر، صرف کھانے کو کھالیتا ہوں جو بھی مل جاوے بس اس میں مرچیں نہ ہوں اور سمندری مخلوق نہ ہو۔
5۔ موسم ؟
@گرما، اٹلی میں جب آپ کاچھا اور بنیان پہن کا پورا شہر گھوم سکتے ہیں اور پورا اٹلی دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں بہار کا جب پھول میرے گھر میں کھلے ہوتے ہیں تو۔
6۔ ملک ؟
@اگر پسندیدہ ملک پوچھو گے تو پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان نہیں کہہ سکتا کہ ادھر پاکستانی ہوتے ہیں، اٹلی میں رہنے کے باوجو ادھر اٹالین کی وجہ سے دل نہیں لگتا، برازیل میرا پسندیدہ ملک ہے،   کیوں چونکہ آپ نے پوچھا نہیں تو میں نے بتایا نہیں۔
7۔ مصنف ؟
@اردو میں پطرس بخاری، مستنصر حسین تارڑ ، برگیڈئر شفیق الرحمان ، ابن انشاء ، نسیم حجازی اور بہت سے،  انٹرنیشنل لٹریچر میں  پاؤلو کوئلہو کی ساری کلیکشن اٹالین اور انگریزی کی میرے پاس ہے،   انگریزی میں ادب میں نے پڑھا ہی نہیں اور صرف میڈیسن کی ریسرچ دیکھتا ہوں اور میڈیکل انگلش ہی مجھےآتی ہے۔
8۔ گیت؟
@منی بیگم کی غزل بوتل کھلی ہے رقص میں جام شراب ہے۔   ویسے میں موسقی سنتا نہیں ہوں۔
9۔ فلم ؟
@گو میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا مگر دو فلمیں تاریخ موضوعات کی جب بھی ملیں دیکھ لوں گا پھر سے، ایک ہے گلیڈی ایٹر اور دوسری کنگڈم آف ہیون، جو کروسیڈز کے نام سے بھی ریلیز ہوئی۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@غلط
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@بہت درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@درست
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@درست
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@غلط
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@اگلے بندے پر منحصر ہے۔
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@چونکہ مجھے اردو بلاگنگ کا چچاجان کہا جاسکتا ہے بابا جی چھڈ دو تو، لہذا اگلی بار میرا انٹرویو پہلی فرصت میں کیا جاوے۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@پیغام ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے، بس محبت کیجئے اپنے آپ سے، اپنے عزیزواقارب سے، آپ اردگرد سے،  اپنے ماحول سے، اپنی گلی  اپنےمحلے سے۔ (محلے والیوں کا آپ کے دماغ میں خود ہی آرہا، میں نئیں کہہ ریا) اپنے یاردودستوں سے اور اپنے شہدے و سڑیل رشتہ داروں سے بھی، ملک زبان  دنیا  سے، مطلب اپنی ہرچیز سے پیار کرو اور اسکا خیال رکھو جسے آپ میری یا ہماری کہہ سکو۔  ہیں جی
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا وی شکریہ، ہیں جی

مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 28, 2013

مسکرانا ضروری ہے




میں بہت دنوں سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا مگر، ہمت نہیں پڑتی تھی، کچھ ایسے گھمبیر حالات کہ کچھ لکھتا تو وہ سڑا ہوا ہوتا، سب اچھا ہے کی نوید نہیں دی جاسکتی تھی۔ ایسے میں احباب اعتراض کرتے ہیں کہ سڑے ہوئے لکھنے والے تو بہت سے ہیں، آپ کے ادھر تو ہم مسکرانے کےلئے آتے ہیں، سچ بات تو یہی ہے کہ میں خود بھی مسکرانا چاہتا ہوں مگر کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ پھر وہی سنجیدگی وہی اداسی، جب دل ہی بندے کا اداس ہے، بہت سے معاملات گھائیں گھائیں کرکے دماغ میں گھوم رہے ہوں تو پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ ادھر لکھا جاوے اور اپنے جو چھ پڑھنے والے ہیں انکو بھی اداس کیا جائے، بقول مولوی لطیف صاحب کے دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والے پہلے ہی بہت ہیں ۔ 
اچھی خبریں جہاں پر آتی ہیں وہیں پر کچھ نہ کچھ بری خبر بھی آجاتی ہے، ویسے ایسا سب کچھ تو چلتا ہی رہتا ہے، مگر کچھ ایسا ہے ہوتا ہے جس سے آپ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں وہ ہے لوگوں کے روئیے، کیا کہتے ہیں کہ چور وہ ہوتا ہے جو چوری کرتا ہوا پھڑا جاوے، ورنہ آپ اسے چور نہیں کہہ سکتے، یہ اور بات ہے کہ کچھ شاہئ قسم کے چور ایسے بھی ہوتے ہیں جو رات کے پچھلے پہر نقب لگاتے ہوئے جاتے پھڑے جاتے ہیں مگر دوسرے دن کہہ رہے ہوتے ہیں  کہ لو دسو میں تو تہجد کی نماز کو جارہا تھا، اب بندے پوچھے کہ میری سرکار مسجد دوسری طرف ہے۔ مگر نہیں مانیں گے، الٹے پکڑنے والوں کے لتے لے جاویں گے۔ 

ویسے اگر یہ چور بادشاہ کسی صاحب اقتدار سیاہ ست دان کے لگتے لائے ہیں تو پھر بس کیا کہنے آپ اگلے دن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

خیر اگر کوئی عام چور ہو اور وہ چوری کرتا پھڑا جاوے تو کوئی بات نہٰیں کہہ کر چھوڑا جاسکتا ہے، مگر ایسے چور کا کیا کیا جائے کو آپ کا اعتماد ہی چرا کر لے جائے، آپ کسی پر بہت سے بھروسہ کرو اور اگلا دھائیں کرکے آپ کا بھروسہ توڑ دے اور الٹا آپ کو چوول قرار بھی دے تو پھر کیا ہوگا، پھر آپ مسکرانا بھول جاؤ گے، مگر چونکہ مسکرانا صحت مند دماغ کی علامت ہے لہذا مسکرانا ضروری ہے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں، ہیں جی

مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 21, 2013

میرے خوابوں کا پاکستان





خواب  تو ہر بندہ ہی دیکھتا ہے اور ہم بھی، بس، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی خوابناک واقع ہوچکے ہیں، ذاتی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی۔  خیر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بندہ کچھ نہیں کرتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے اور علامہ خوابناک ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ، جی نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں،   پھر بھی جاگتے میں کچھ خواب دیکھنا تو بنتا ہے۔ 

 علم نفسیات کے مطابق خواب بندے کی ذہنی و جسمانی کیفیت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی عمر کے مطابق بھی، آج چونکہ ہمارا موضوع چونکہ ہمارے خوابوں کا پاکستان ہے تو پاکستان کے بارے کچھ خواب بیان کئے جاویں گے۔ 

پہلاخواب
ملک میں رزق، یہ بڑا خواب تھا اور پہلا بھی، بعد از تعلیم وتعمیر جب کالج میں بطور لیکچرار آفر ہوئی اور ساتھ ہی اپنا کلینک بھی بنا لیا شام کے اوقات کےلئے تو خواب پورا ہوتا ہوا نظر آیا مگر پھر وہی چکنا چور ہو گیا کہ اس اسٹیٹس میں اور اس آمدن میں گزارہ کون اور کیسے کرے، بس کھینچ تان کے مہینہ پورا ہوتا اور ہم ہوتے، فالتو کے کسی بھی خرچہ کےلئے ابا جی کی خدمت میں درخواست جمع کروانی پڑتی ۔ ہیں جی۔ اللہ اللہ یہ خواب ابھی تک ایسا ہی ہے کہ ہر نوجوان کو پاکستان کے اندر ایسا روزگار ملک جاوے جو اسکے سارے بنیادی اخراجات پورا کرنے کا ضامن ہو اور کوئی بندہ پھر ملک سے باہر جانے کا نام بھی نہ لے۔ 

دوسرا خواب 
چونکہ ہماری پیدائش و تربیت ایک دیندار اور ایماندار گھرانے میں ہوئی ہے تو ہماری تربیت میں شامل ہے کہ دوسروں کا خیال رکھو، کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے یہ ہمارا خواب بن گیا کہ پاکستان میں سب ایسے ہی ہوں۔

پردیسی کے خواب 
جب دیس سے دانہ پانی اٹھا تو پردیسی ہوئے، کچھ اور طرح کے خواب جانے کیوں خود بخود ہی بن گئے۔ بہت سے ممالک کی یاترا کے دوران، کسی کانفرنس میں، کسی جلسہ و کورس کے دوران، یہ سوال اٹھ ہی جاتا ہے کہ تم کہاں کے ہو؟ پاکستان کا۔ اوہو، اچھا تو کیسا ہے پاکستان؟؟  حقیقتاُ یہ سوال وہ کوئی شغل کےلئے نہیں کرتے، کیوں کہ کسی عوامی درجہ کے بندے کو پاکستان کے بارے آگاہی ہے ہی نہیں، ہے بھی تو بہت کم۔ بس پھر ہمارے خوابوں کا پاکستان شروع ہوجاتا ہے۔ خوابوں سے بھی زیادہ خواہشات کا پاکستان۔

 وہ پاکستان جو میرا ہے، جہاں دنیا کے بلند بالا پہاڑ ہیں، گلیشیرز ہیں اور انکی ٹھٹھرتی ہوائیں بھری گرمیوں میں یخ بستہ ہوتی ہیں، جہاں کی جھیلوں کا شفاف پانی آپ چلو میں لیکر پی سکتے ہیں، جہاں ٹرواؤٹ مچھلی کو ایسے ہی شلوار کو گانٹھ لگا کر آپ پکڑ سکتے ہیں 
ہمارے پاکستان میں پٹھان ہیں جو اپنی مہمانداری اور شجاعت میں ثانی نہیں رکھتے، دشمن انکے نام سے ہی کانپتے ہیں، جنکی دینداری مسلمہ ہے،  جہاں پنجابی دہکان زمین کا سینہ چیر کر سال میں تین فصلیں اگاتا  اور پورے ملک ملک کو گہیوں، گنے چاول دالوں کی کمی نہیں ہونے دیتا، جس کا سندھی اپنی مچھلی اور سبزیوں و کھجوروں سے ملک کو خودکفیل کرتے ہیں، جہاں بلوچی کوہ شکن پہاڑوں کو چیر کر تیل گیس، کوئلہ سے لیکر یورینیم سونا تانبہ تک اور ہیرے وغیرہ بھی نکال لاتا ہے، جہاں مہاجر اپنے آپ کو ملک کو عام باشندہ سمجھتے ہیں اور صنعتی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کررہے ہیں۔ 

پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم ہیں جو خوبانی سے لیکر کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے اور پانی کے جھرنے چاندی کےہیں، جہاں درخت زمرد کے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ کوئی غریب نہیں، ہو بھی کیسے سب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ دریاؤں کا پانی اس حد تک صاف کہ بس چلو میں لو اور پی لو، منرلز سے بھرا ہوا، خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس

 پاکستان میں لوگ بہت دیندار ہیں اور ایماندار اس سے بھی بڑھ کر، اتنے کہ پولیس تھانہ ہے تو سہی مگر لوگوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہے کہاں پر، جرائم تو ہیں ہی نہیں، اول تو کوئی چورا چکاری ہیرا پھیری کانام ہی نہیں کوئی ایک ادھ واقعہ پیش آبھی جائے تو کوئی بزرگ لعن طعن کردیتا ہے اور اگلا توبہ کرلیتاہے۔ پولیس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رفاع عامہ کا خیال رکھے، کسی کی گاڑی راستہ میں خراب ہوگئی تو پولیس والے نے ٹائر بدلی کردیا، کسی مائی کا پرس کھو گیا تو وہ تھانے چلی گئی اور بس تھانیدار نے اسکو سفر کا کرایہ اپنی جیب سے نکال دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ پولیس اب آگ بجھانے کا کام بھی کرتی ہے۔  

انصاف کا یہ عالم کہ عدالتوں میں تو لوگ جاتے ہی نہیں، ضرورت ہی نہیں، بس بھول چوک یا کوئی غلطی ہوگئی اور اگلے نے فوراُ معافی مانگ لی اور دوسرا کوئی بات نہیں بشری غلطی کہہ کر نکل لیتا ہے۔ دل میں بغض و کینہ تو نام کو نہیں، عدالتیں تو اب صرف اکا دکا اتفاقیہ جرائم اور حادثات نپٹاتی ہیں، سنا ہے کہ یہ محکمہ ہی ختم کیا جارہا ہے کہ جب ضرورت ہی نہیں تو پھر۔ جب ایمانداری کا یہ عالم ہو کہ آپ اپنا پر بس اسٹاپ پر چھوڑ آئیں اور شام کو وہ آپ کے گھر پہنچ جاوے، گھروں کو تالا کوئی نہ لگاتا ہو، تو پھر عدالتیں کیا کریں گی آپ ہی بتلاؤ۔ تلخ کلامی اور چیخ چیخ تو بھول ہی جاؤ بس۔ 

پاکستان میں مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اور امام صاحب صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے مسئلے حل کررہے ہوتے ہیں، تفرقہ تو نام کو نہیں اور مسجد میں لوگ صرف نماز پڑھنے نہیں جاتے، وہاں تو جناب ایک دوسرے کا حال احوال دریافت ہوتا ہے، کسی کو کوئی پریشانی، کوئی مشکل، ہوتو فوراُ حل، اور مسجد چندہ بھی نہیں مانگتی، بلکہ مسجد کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں، مسکینوں کی مدد کردیتی ہے، فقراء اور بھکاری تو خیر ہیں ہی نہیں۔ اسلحہ لیکر مسجد کے پاس سے گزرنا تو درکنار، لوگ تو مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے تک بحث نہیں کرتے احتراماُ۔ لوگ ملک سے محبت کرنے والے، خبردار ہے جو کوئی ملک کے خلاف بات تک کرجاوئے۔ دنیا بھر کے پھڈے مسجد میں بیٹھ کر ہی نمٹادیے جاتے ہیں۔  

لڑکے بالے ابھی کالج کے آخری برس میں ہوتے ہیں تو انکوحسب لیاقت ملازمت مل جاتی ہے، تنخواہ بہت اچھی اور اوپر سے عوامی سادگی کی انتہاء نمود نمائش تو دیکھنے میں نہیں ملتی، لوگ اپنے نمائش پر خرچنے کی بجائے دوسروں پر خرچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بس ہر طرف سکون ہی سکون۔ چین ہی چین۔ 

مرد اور عورتیں سب کے سب تعلیم یافتہ مگر اپنے کام سے کا رکھنے والے، مجال ہے جو کسی کو کوئی گھور کردیکھ جائے، بی بیاں بھی بہت نیک سیرت اور باپردہ اور مرد لوگ ان سے بھی بڑھ کر محتاط۔ بچے بزرگوں کا ہاتھ تھام لیتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گھر تک چھوڑ آئیں اور بزرگ بچوں پر جان نچھاور کرتے ہوئے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے  ہیں۔
رشوت نام کو نہیں، غلہ اسٹاک بلکل نہیں ہوتا، سسفارش کی ضرورت نہیں ہوتی کہ سب کام خود ہی ہوجاتے ہیں۔ ماسٹر صرف اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور وہی کافی ہوتاہے، ڈاکٹر ہیں کہ مریض کےلئے بچھ بچھ جاتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اڈیک رہے ہوتے ہیں اور لوگ بیمار ہوتے ہی نہیں، خوراکیں بھی تو اچھی ہیں، ہر چیز خالص، ہر بندہ صبح کی سیر کرتا ہے، نکھٹو ہے کوئی نہیں تو بیمار کون ہوگا۔ لوڈشیڈنگ بلکل نہیں ہوتی اوپر سے بجلی بھی بہت سستی ہے، گیس تو قریباُ مفت ہی ہے۔ پیٹرول بہت سستاہونے کے باوجود لوگ سائیکل سے آتے جاتے ہیں کہ صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ 

ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو، یہ ایٹمی روبوٹ سے لیکر میزائیل اور فاؤل پروف دفاعی نظام تو ہماری پہچان ہے، دشمن کی مجال جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے، یوں بھی ہم ایک قوم ہیں، زندہ قوم ہیں۔ فوج دفاع کو تیار ہے تو لوگ فوج پر جان نچھاور کررہے ہیں، بس ترقی دن دگنی اور رات چوگنی۔


سیاستدان صرف عوام کی فلاح کا کام کرتے ہیں اور سرکاری ادارے خدمت عوام کا۔ جہاں نہ کوئی بڑا ہے نہ کوئی چھوٹا، جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں اور کسی کالے کو گورے پر، نہ کوئی امیرکسی غریب کا حق مارتا ہے اور نہ کوئی غریب کسی امیر کو دیکھ کر صدا لگاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی ایک کبیرہ گناہ سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستان سے کوئی بندہ بیرون ملک روزگار تلاش کرنے نہیں جاتا، جو پہلے چلے گئے تھے وہ واپس آگئے ہیں  یاسر خومخواہ جاپانی صاحب بھی واپس آگئے ہیں، خاور کھوکھر گاڑیاں پاکستان سے جاپان سپلائی کررہے ہیں، علی حسان اور عمیرملک بس تعلیم حاصل کرنے کو ادھر ہیں  پھر انہوں نے بھی واپس ہولینا ہے، میں بھی ادھر صرف پڑھنے پڑھانے کو ہوں، یہ ختم تو ہمارا ادھر کیا ہےکہ جب ملک کے اندر ہی اتنے وسائیل ہیں اتنا نظام ہے تو کیا کرنا پردیس جھیل کر۔ ہمارے پاسپورٹ پر پوری دنیا میں کہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، بس ٹکٹ لو اور چلے جاؤ۔ لوگ دنیا میں قرآنی حکم کے مطابق صرف سیرکرنے اور علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

ہر خواب کی ایک تعبیر بھی ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ ایک ایسے ہی پاکستان کا خواب علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے بھی دیکھا تھا، بڑوں کی زبانی بھی ایسے ہی پاکستان کا سنا اور انکی آنکھوں میں بھی کچھ ایسے ہی خواب دیکھے، ابھی تو آنکھ کھلی ہے لیکن امید پوری ہے کہ یہ سچا خواب ہے، ہوسکتا ہے کہ  اس کی تعبیر میں نہ دیکھ سکوں مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی، 
انشاء اللہ

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش