جمعرات, اکتوبر 08, 2020

ج

جہلم میں ایک ہی لائبریری ہوتی تھی اقبال لائبریری، وحید امام صاحب لائبریرین، ہمارے گاؤں کے اور ہمارے بڑے بھائی جان کے ہم عمر ہونے کی وجہ سے ہمارے بھی بھائی جان تھے، میں اور مون اسلامیہ اسکول میں تھے، مہینے میں ایک آدھ ہونے والی آدھی چھٹی کے دن باقی وقت وہیں پر گزارتے، اسکے دو فائدے ہوتےکہ وحید صاحب مزے کی چائے پلاتے تھے اور اسکے بعد مزے مزے کی کتابیں دیکھتے وہ کتابیں جنکے حوالے ہماری درسی کتب میں ہوتے ، انکو اٹھاتے ، چھوتے اور انکے صفحات الٹتے، ادھر بیٹھے ہوئے اور بھی لوگوں میں جو پڑھے لکھے دکھائی دیتے تھے اپنے آپ کو بھی پڑھا لکھا اور علم دوست محسوس کرتے،۔ یہ ایک نشہ تھا جو میں نے خود ساختہ اپنے اوپر تاری کیا ہوا تھا، فارغ وقت میں لائبریری جانے کی یہ عادت بعد میں کالج کے دور میں بھی جاری رہی، 92 کے سیلاب میں لائبریری میں پانی گھسا بیت سی کتابیں ضائع ہوگئیں، اور لائبریری بند، پھر بحال ہوئی لیکن اس کے بعد لائبریری جانا کم ہو گیا، اسکے بعد پروفیشنل لائف میں وقت کم ہوگیا لیکن جب بھی اس طرف جانا ہوتا تھوڑی دیر کےلئے لائیبریری کی عمارت میں ضرور جاتے۔ اکثر بند ہی ہوتی لیکن کھڑکیوں میں لگے شیشوں سے اندر جھانکتے ضرور۔ پھر وطن سے دور ہوئے تو بھی جب کسی لائیبریری کے سامنے سے گزر ہوا تو قدم خود بخود اس کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں، جب بھی پاکستان جانا ہوتا ہے تو اقبال لائیبریری دیکھنے جانے کی عادت پوری کرتا ہوں۔ کبھی اکیلے، کبھی کسی دوست کے ساتھ۔ چل یار لائیبریری دیکھ آئیں، بند ہے،خیر ہے ، بس دومنٹ ایک نظر مار آتے ہیں۔ بس عادت پوری کرنا۔ جیسے وہسکی کا پکا نشئ۔ نشہ چھوڑ بھی دے تو بئیر کا گلاس کبھی کبھی لگا ہی لیتا ہے زمانے میرے دل میں یہی رہا کہ علامہ اقبال نے یہ لائبریری قائم کی ہوگی، اس لئے اسکا نام اقبال لائبریری ہے، ایک بار لائبریری عمارت کے ماتھے پر لکھے نام پر دھیان پڑا، ہیں؟ لالہ لاجپت رائے لائبریری، ہیں؟ ہندو کا نام؟ اور لائبریری مسلمان کی ، ایں کہ چکر است؟ وحید صاحب کے سامنے یہ سوال رکھا، تو وہ مسکرائے اور ایک باباجی کی طرف دیکھنے لگے، گویا ان سے جواب طلب کر رہے ہوں، باباجی بھی ہماری طرف متوجہ تھے۔ آہتہ سے، بہت ہی نرم اور دھیمی آواز میں گویا ہوئے " یہ لائیبریری اوتار نارائن نے 1936 میں بنوائی تھی، جو اندر کمار گجرال کے والد تھے، ۔بعد میں لالا لجپت رائے کا نام دیا گیا جو ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک امن پسند ہندو لیڈر تھے۔ اور 1929 میں لاہور میں ایک پرامن احتجاج کے دوران ان پر تشدد کرکے مار دیا گیا، یہ احتجاج سائمن کمشن کے خلاف تھا۔ باغ محلہ میں ایک اور لائبریری تھی جو گوردوارہ بھائی کرن سنگھ آہلووالیا میں تھی اسکا نام اقبال لائیبریری رکھا گیا، بعد میں دونوں لائیبریریوں کو اکٹھا کردیا گیا تو اسے بھی اقبال لائیبریری کے نام سے ہی پکارا جانے لگا۔ میرا بچگانہ سوال ، پر علامہ اقبال کر اس لائیبریری سے کیا تعلق ہے، کہنے لگے وہی تعلق ہے جو پاکستان سے ہے، ہیں ؟ کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ علامہ اقبال پاکستان نہیں آئے کہ اسکے بننے سے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے پھر بھی مفکر پاکستان ہیں، اس لائیبریری میں بھی کبھی نہیں آئے لیکن چونکہ ہم نے ان لائیبریریوں کومسلمان کرنا تھا اس لئے ہندووں اور سکھوں کے نام ہٹا کراقبال لائیبریری کردیا۔ ابھی آپ آرام سے بیٹھ کر اپنی کتاب پڑھیے ، اس طرح کے قصوں میں نہ پڑنا ہی مناسب ہے۔ اچھا جی ، بہت شکریہ۔ مجھے تب پتا چلا کہ جہلم میں ایک اور لائیبریری بھی تھی۔ پراسے تلاش کرنے کبھی نہ جاسکا، حالانکہ باغ محلہ زیادہ دور نہ تھا ادھر سے، لیکن وہ گوردوارے میں تھی، اور ہم ٹھہرے مسلمان۔ ہیں جی تحریر ڈاکٹر راجہ افتحار خان تصاویر بشکریہ گوگل سرکار

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش