منگل, اگست 11, 2015

پاؤں کی پھپھوندی یا فنگس fungus

پاؤں کی پھپھوندی یا فنگس FUNGUS

اسے ایتھیلیٹ فٹ یا کھلاڑی کا پاؤں بھی کہا جاتاہے۔  اسکے علاوہ اسکا ایک اور نام  tinea pedis   بھی ہے، یہ ایک جلدی بیماری ہے جو  پاؤں کی جلد میں بہت عام پائی جاتی ہے۔  اس میں پھھپوندی یا  fungus  پاؤں کی انگلیوں کی بیچ کی نرم جلد میں یاپھر پاؤں کی جلد کے مردہ خلیات میں پرورش پاتی ہے۔  اسکی وجہ سے پاؤں کا پھٹ جانا، خراش، خارش وکھجلی، زخم اور آبلے پڑنے جیسی تکالیف سامنے آتی ہیں۔  جبکہ ناخن بھربھرے ہوکر خراب اور بدشکل ہوسکتےہیں۔





یہ بیماری کیوں ہوتی ہے؟
اسکی وجہ فنگس یا پھپھوندی ہے، جسکےلئے بنیادی طور پر دستیاب ماحول  پاؤں میں ہوتا ہے۔ جس میں گرمائش اور نمی کا اہم کردار ہے۔ جوتوں میں، جرابوں میں  یا پھر  سوئمنگ پولز میں اور لاکررومز میں پرورش پاتی ہے۔ اسکے علاوہ پبلک باتھ رومز اسکوپھیلانے کا اہم ذریعہ ہیں۔  یہ عمومی طورپر ان افراد میں نمودار ہوتی ہے جو بند جوتے اور پبلک باتھ رومز یا عوامی غسلخانے استعمال کرتےہیں۔

پاؤں کی فنگس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

اسکی وجہ بہت خوردبینی قسم کے فنگس ہیں۔ جو پاؤں، ٹانسلز، دانتوںاور مسوڑوں،  بالوں  کے مردہ خلیات میں پرورش پاتے ہیں، اسکے علاوہ جلد میں کہیں پر بھی مردہ خلیات موجود ہوں تو یہ وہاں پر باآسانی پرورش پاسکتے ہیں، ناخن اس انفیکشن کا اہم شکار ہوسکتے ہیں۔ چارقسم کی فنگس اس ایتھلیٹ فٹ کا باعث بنتی ہیں جن میں سے trichophyton rubrumسب سے عام ہے ۔


پاؤں کی فنگس کی علامات کیا ہوسکتی ہیں؟؟
یوں تو اسکی بہت سی علامات ہوسکتی ہیں، جو ایک فرد سے دوسرے فرد میں مختلف ہوسکتی ہیں پھر بھی کچھ عام معلومات بیان کردی جاتی ہیں۔
·        پاؤں کی جلد کا کھچاؤ، جلد کا پھٹ جانا، جلد کا سخت ہوجانا  اور پاؤں کی جلد پر سے چھلکے اترنا وغیرہ
·        سرخی اور آبلے  بن جانا، اسی طرح پاؤں کے تلووں کی جلد کا نرم ہوجانا اور پھٹ جانا  اور زخم بن جانا۔
·        خارش ، جلن پھر دونوں ہی۔




پاؤں کی فنگس یا ایتھیلیٹ فٹ کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں؟

اسکی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

·        انٹرڈیجیٹل یا انگلیوں کےدرمیان ہونے والی انفیکشن۔  اسکے toe web infection   بھی کہا جاتا ہے، یہ بہت عام قسم ہے اور اکثروبیشتر  لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ  انگلیوں کے درمیان سے شروع ہوتی ہے، اس میں علامات  کھجلی یا خارش کا ہونا،  جلد کا پھٹ جانا اور  چھلکے اترنا ہوتی ہیں، یہ پاؤں کی چھوٹی انگلیوں کے درمیاں سے شروع ہوکر پورے پاؤں کی جلد پر پھیل جاتی ہے یا پھیل سکتی ہے


·        مکیشن ٹائپ فنگس moccasion اس قسمی کی انفیکشن کی بڑی علامت ہیں کجھلی، خارش ک ہونا، جلد کا خشک ہوجانا اور جلد کے چھلکے اترنا، یہ معمولی سی خراش سے شروع ہوسکتی ہے اور پورے پاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور جیسے مکیشن جوتا پاؤں کے ارد گرد ہوتا ہے ایسے ہی یہ پاؤں کے نیچے کی جلد کے علاوہ پہلوکی جلد کو بھی متاثرکرسکتی ہے۔

·        ویسیکولر vesicular قسم کی فنگل انفیکشن گوکہ بہت عام نہیں پائی جاتی مگر پھر بھی کافی حدتک دیکھنے میں آتی ہے۔ اس میں اچانک پاؤں کی جلد کے اندر آبلے یا چھالے سے بن جاتے ہیں، اور ان میں سے سفید بلکہ بےرنگ سیال خارج ہوتا ہے، شدیدکھجلی، خراش اور زخم بھی بن سکتے ہیں ۔ عام طورپر یہ چھالے پاؤں کے نیچے سے شروع ہوتے ہیں اورپھر پھیلتے ہوئے جسم کے کسی حصہ کی جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ انگلیوں کے درمیان، پاؤں کے تلوے اور پاؤں کے اوپر کی طرف بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔





پاؤں کے فنگس کی تشخیص کیسے ہوگی؟
پاؤں میں اگر کھجلی یا خارش ہورہی ہے ، یا ابلے بنے ہیں، یا پھر چھلکے اتر رہے ہیں تو لازمی نہیں ہے کہ اس  کی وجہ فنگس ہی ہو، بہترین طریقہ اسکا خوردبینی چیک آپ ہے۔ آپ اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیں وہ خشک جلد کو کھرچ کر اسکا خوردبینی مشاہدہ کرے گا اور فنگس یا پھپھوندی کی موجودگی  کے آثار تلاش کرے گا۔

فنگس کا علاج کیسے کیا جائے گا؟؟
اسکےلئے عمومی طور پر ہرطریقہ علاج میں مقامی استعمال کی ادویات دستیاب ہیں، انکے استعمال کرنے سے  اس فنگس سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ بعض اوقات  مریض کی صورت حال زیادہ خراب ہونے کی ضرورت میں اندرونی طورپر بھی دوا کا استعمال کروایا جاتا ہے۔


پاؤں کے فنگس  ایتھلیٹ فٹ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
پبلک باتھ رومز میں، جوتے پہن کرنہایا جائے۔
جرابیں روز کے روز تبدیل کی جائیں،
جوتوں میں اینٹی فنگل پاؤڈر ڈالا جائے۔ 
ایسے جوتے استعمال کئے جائیں جو سانس لیتے ہیں، مطلب جن میں ہوا داخل ہوتی رہتی ہے GEOXNنامی کمپنی اس بارے بہت ایکسپرٹ ہے۔
ہرروز پاؤں کو صابن اور پانی کے ساتھ دھویاجاوے۔
پاؤں کو باقاعدہ طور پر خشک کیاجائے اور ہوا لگوائی جائے۔

یہ جو وضو کے دوران انگلیوں مین مسح کرنے کا بیان ہے میرے خیال سے اس فنگس سے بہت حدتک محفوظ رکھ سکتا ہے۔


اصطلاحات terminology
پھپوندیFungus ،  خوردبینی   microscopic   ،   کھجلیitching،  خارش، آبلے یا چھالےblisters، چھلکے scals ،  بدشکل mis-shaped۔  ایتھلیٹس فٹathlete’s foot ، زخمsores، 

اگر آپ کو اس بارے کچھ مذید معلومات یا وضاحت درکار ہو تو کمنٹ میں لکھ دیں، جواب دینے کی پوری کوشش کی جائے گی۔




16 تبصرے:

  • hajisahb says:
    8/11/2015 05:19:00 AM

    بہت زیادہ منتشر مرض کی سادہ سی تشریح، علاج اور احتیاط - جزاک اللہ

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/11/2015 05:33:00 AM

    شکریہ جناب، اس موضوع پر ایک دوا زیرتجربہ ہے ، اسکا کلینکل چل رہا ہے۔ توسوچا کہ ادھر بھی لکھ دیا جاوے معلومات عام کے طور پر، پر سائنسی مضامین کو اردو میں لکھنا اوکھا کم اے جی

  • madni says:
    8/11/2015 06:42:00 AM

    اللہ علم نافع میں برکت عطا فرمائے

  • محمد فہیم says:
    8/11/2015 10:06:00 AM

    ما شائ اللہ کافی معلوماتی آرٹیکل لکھاہے اپنے اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین

  • Asif Ali says:
    8/11/2015 11:38:00 AM

    Raja Iftikhar Khan صاحب۔ کیا اس بیماری کو ہی ایکزیما کہا جاتا ہے؟
    کیا اس بیماری سے متاثر مریض دوسروں کے لئے باعثِ پریشانی بن سکتا ہے؟
    اگر ہاں تو متاثرہ مریض کیا احتیاطی تدابیر کرے کہ دوست احباب اس بیماری سے محفوظ رہیں
    رہنمائی کا شکریہ

  • Asif Ali says:
    8/11/2015 12:42:00 PM

    Raja Iftikhar Khan صاحب۔ کیا اس بیماری کو ہی ایکزیما کہا جاتا ہے؟
    کیا اس بیماری سے متاثر مریض دوسروں کے لئے باعثِ پریشانی بن سکتا ہے؟
    اگر ہاں تو متاثرہ مریض کیا احتیاطی تدابیر کرے کہ دوست احباب اس بیماری سے محفوظ رہیں
    رہنمائی کا شکریہ

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/11/2015 03:43:00 PM

    یہ ایگزیما نہین ہے، بلکہ یہ ایک انفیکشن ہے، جسکا باعث بیکٹیریا یا وائرس کی بجائے فنگس ہے۔ ایگزیما ایک طرح سے الرجی ہوتی ہے جو جسم کسی بھی فیکٹر سے متاثر ہوکر پیدا کرتا ہے ۔جس میں سوجلد پر سوزش، خارش، خراش، حتیٰکہ دانے بننے اور پانی نکلنے کا عمل ہوتا ہے، چونکہ یہ جسم کی اپنی پیدا وار ہوتی ہے لہذا یہ چھوتدار نہیں ہے
    اسکے برعکس فنگس کے مرض میں مبتلا شخص دوسروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے، جب مین نے پبلک باتھ رومز کا حوالہ دیا تھا تو اسکی وجہ یہی ہے کہ چونکہ وہاں پر ایسے افراد بھی نہاسکتے ہین جو اس فنگس کی انفیکشن مین مبتلا ہوں تو ان سے سے فنگس باتھ روم کے مرطوب ماحول میں باآسانی پرورش پاسکتی ہے اور وہاں سے صحت مند افراد کو متنقل ہوسکتی ہے،
    یہ ایک ہم فیکٹر ہے کہ فوجیوں، ہاسٹلوں اور بیرون ملک مشترکہ رہائش گاہوں پر رہنے والے لوگ اس سے عام متاثر ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

  • علی says:
    8/11/2015 10:18:00 PM

    جزاک اللہ ایسا ہمیں بھی ہوتا ہے بس علاج ولاج کچھ نہیں کرتے انتظار کرتے ہیں کب جھڑ جائے اور جان چھوٹے :)

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/12/2015 02:38:00 PM

    اسکا علاج ہونا چاہئے جی، ورنہ یہ بہت فساد پھیلا سکتی ہے۔

  • یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
    Asif Ali says:
    8/12/2015 04:19:00 PM

    یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

  • Asif Ali says:
    8/12/2015 04:20:00 PM

    اسکا علاج کیسے ممکن ہے؟ آپ ہی بتا دیں۔ میں تو پچھلے 4 سال سے لگاتار علاج کرا رہا ہوں مگر ۔ ۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
    بہت سے ڈاکٹرز سے مشورہ سب کی ایک ہی طرح کی ٹریٹمنٹ۔ بیٹامیتھازون مرہم اور ساتھ اینٹی ہسٹامن گولیاں

  • Asif Ali says:
    8/12/2015 04:20:00 PM

    اسکا علاج کیسے ممکن ہے؟ آپ ہی بتا دیں۔ میں تو پچھلے 4 سال سے لگاتار علاج کرا رہا ہوں مگر ۔ ۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
    بہت سے ڈاکٹرز سے مشورہ سب کی ایک ہی طرح کی ٹریٹمنٹ۔ بیٹامیتھازون مرہم اور ساتھ اینٹی ہسٹامن گولیاں

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/13/2015 08:53:00 PM

    ایک تو احتیاط کریں، صفائی وغیرہ اور متاثرہ مقام کو خشک رکھنے مین دوسرے ماہر امراض جلد ڈرماٹولوجسٹ سے تفصیل سے بات کریں اور کوشش کریں سمجھ آسکے کہ یہ فنگس ہے یا ایگزیما یا کچھ اور۔ اللہ شفادینے والا ہے

  • Anees Ansari says:
    11/12/2015 11:43:00 AM

    کارآمد
    میرے پاؤں میں قریبا سال کا بیشتر حصہ انگلیوں کے درمیان فنگس رہتی ہے پاؤں سے بدبو بھی آتی ہے۔ ایک دوست نے Cana comb نام سے ایک کریم بتائی تھی جب یہ بڑھ جاتی ہے تو پھر استعمال کرلیتا ہوں۔

  • Rana Zahid47 says:
    4/30/2016 06:51:00 AM

    ماشاءاللہ بہت تفصیل سے لکھا ہے
    لیکن تھورا علاج بتا دیتے تو سونے پہ سہاگہ

  • M-A Raja says:
    9/14/2016 12:22:00 PM

    اسلام علیکم. مجھے کچھ دن سےلیفٹ پائوں کی طھوٹی انگلی کے نیچے اور سائیڈ میں آبلے ہو رہے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اب پائوں کے اوپر خارش ہونا بھی شروع ہو گئی ہے، کیا یہ بیماری پاکستان میں قابل علج ہے ؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش