اتوار, اگست 30, 2015

تبدیلی Chang

بہت کچھ تبدیل ہو سکتا تھا ،  
نئے چہرے لائے جانا ایک بڑی تبدیلی ہوتی، نوجوان قیادت ہوتی،  چالیس برس سے اوپر کے کسی بندے کو ٹکٹ نہ ملتی کہ یہ لوگ اپنے پانچ سال کے مقامی حکومتوں میں تجربے  کو اور مقامی مسائل کو سمجھ کر آگے لے جا سکتے تھے۔

تبدیلی  یہ ہوتی کہ سب لوگ نئے ہوتے، چہرے نہیں بلکہ نئے، ایسے لوگ  جو پہلے سے ہی مشہور اور کرپٹ سیاہ سی خاندانوں کے سپوت نہ ہوتے۔

تبدیلی یہ ہوتی کہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہوتے،  اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ آگے آتے۔ جو اپنے  علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے  عوام کے مسئلے  حل کرتے۔

پرانی "سیاہ سی"  پارٹیوں سے تو امید کم ہی  رہی ہے مگر تحریک انصاف خاص طور پر اس بات کا نعرہ لگاتی رہی ہے، اور انکے "چالے" دیکھ  دیکھ کہ ہم یہ کہتے رہے کہ یہ بھی ایک سیاہ سی پارٹی ہے، باقیوں کی طرح۔ ہم دیکھتے رہے کہ وہی مچھلیں ایک مرتبان سے دوسرے میں چھلانگیں مارتی رہیں۔ 



صرف نعروں  سے تبدیلی نہیں آتی، اگر ایسا ہوتا تو سب سے بہترین نعرہ   پیپلز پارٹی کا تھا، "روٹی ، کپڑا اور مکان"۔ مگر چونکہ یہ صرف ایک نعرہ ہی رہا عملی کام کچھ بھی نہ ہوا ، تو جنابو موقع ملتے ہی عوام  نے اس پارٹی کا دھڑن تختہ کردیا۔ بھٹو "زندہ  ہے " کا نعرہ دب گیا ہے۔
اب تبدیلی اگر صرف آسکتی ہے تو تو وہ ہے کچھ کرنے سے، دوسروں پر تنقید ضرور کرو، مگر خود بھی کچھ کرو، تاکہ جو دوسرا کچھ کررہا ہےاسکو اپنے نمبر بنانے کو کچھ بڑا کرنا پڑے۔

کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ 
کا بیٹا، کا بھتیجا، کا بھائی، کا کزن ، ہی ناظم بنا،
تحریک انصاف سمیت باقی پارٹیوں کا بھی حال ایک سا ہی رہا
باوجود ناامیدی کے ایک بار پھر بہت دکھ ہوا۔ 

2 تبصرے:

  • Nasreen Ghori says:
    8/31/2015 02:30:00 PM

    بجا ارشاد

  • Pakistan Daily Times says:
    10/29/2015 04:07:00 PM

    کمال لکھا پر اگر بات تبدیلی کی کریں تو تبدیلی تب آئے گئ جب ہم خود کو بدلیں گئے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش