جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 14, 2014

پردیسیوں کے دکھڑے

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک دوست، جاننے والی آلینا کا فون آیا، تو میں اٹینڈ نہیں کرسکا، پھر ایک اور کال ایک اور کال، آلینا میری کافی عرصہ سے جاننے والی ہے، ہم لوگ اکٹھے کام کرتے رہے ہین ۔ مین نے جاب چھوڑ دی، اور بعد میں اسے کمپنی نے بندے چھانٹے کرنے کے چکر مین نکال دیا، بہت برس پہلے، اس کے بعد بھی کبھی کبھی کی یاد اللہ ہو ہی جاتی، کہ عیدمبارک، نیا سال مبارک، بیچ مین رابطہ زیادہ ہوجاتا اور ختم بھی ہوجاتا، مگر ہم ایک دوسرے کے دوست ہی ہیں۔ 

آج بہت دنوں بعد اسکی کالز دیکھیں تو فوراُ فون کرلیا کہ خیریت، عمومی طور پر وہ ایسے نہین کرتی، فون کرے گی، نہین جواب دیا تو جب مین نے فون کرلیا، ایسا ہی مین بھی کرتا ہوں کہ فون کرلیا جواب ملا تو ٹھیک نہین ملا تو جب اغلی فون کرلے۔ لہذا بار بار کی کالز نے میرے لئے ایک تجسس کھڑا کردیا۔ 

فوراُ کال کی تو اسکی رونے والی آواز سنائی دی، بچاری رو رہی تھی۔ وہ ایک گھر میں کام کرتی تھی، ایک بڑھیا کی دیکھ بھال کا۔ چار گھنٹے، پھر ایک گھر میں صبح کو، اور شام کو اپنے کرائے کے گھر مین آجاتی ہے۔ اسکی دو بیٹیاں ہیں، اور اسکا خیال تھا کہ وہ اس گرما کے موسم مین انکو اپنے پاس لے  آئے گی۔ 

بڑی ہی روہانسی اواز مین بتانے لگی کہ، وہ جہاں پر میں صبح کام کرتی ہوں وہ کہہ رہے ہین کہ تم ادھر ہی آکر رہو  اب مین ادھر جاکر رہوں تو، میری اپنی زندگی کیا ہوگی؟؟ بچے آئیں گے تو کس کے پاس رہین گے؟؟ اگر نہین جاتی تو کام ختم ہوجائے تو اب اور تلاش کرنا پڑے گا۔ کام چھوٹ گیا تو بچے کیسے آئین گے۔ اب تم بتاؤ؟؟ میں کیا کروں؟؟؟


مین اسے کیا بتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔ مین ہی کیا سارے لوگ جو پردیس مین رہتے ہین انکی یہی پریشیانیاں ہین اوریہی ٹینشنز
یہی دکھڑے یہی المیئے۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش