بدھ, اپریل 25, 2012

یورپ میں مستقبل کی قیمت موت

بس جی کیا بتاؤں میں نے تو کہا تھا کہ ادھر آنے کا یہ طریقہ خطرناک ہے مگر وہ نہیں مانا کہ جیسے بھی ہے مجھے یورپ جانا ہے ادھر ۔    پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔  یہ چئرمین وحید آنسو پونچھتے ہوئے بتارہے تھے۔ 

آج اٹلی  میں یوم جمہوریہ کی چھٹی ہے تو کچھ احباب قدیمی سے ملاقات کا پروغرام بنا،  خان صاحب نے بتایا کہ ہمارے چئرمین وحید کے بھانجے کا انتقال دوہفتے پہلے ترکی سے یونان میں داخل ہوتے ہوئے ادھر موجود نہر کو عبور کرنے کے دوران ہوگیا  اور کوئی ایک ہفتے بعد نعش انہوں نے ادھر سے یونان جاکر تلاش کی اور پاکستان بھجوائی۔  چئرمین وحید کا تعلق  گوجرخان  کے دیہی علاقے سے ہے اور گزشتہ دس برس میں ہمارے حلقہ احباب میں  کیسے شامل ہوئے یاد نہیں مگر نہایت شریف اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اللہ انکو اور 
مرحوم کے دیگر لواحقین کو اس مصیبت پر صبر دے ۔  آمین 

وحید  صاحب بتلا رہے تھے کہ یہ ہمارا بہت لاڈلا اور پیارا بھانجا تھا، اسکی عمر بائیس برس تھی  اور اسکا ایک بھائی عمران پہلے ہی ادھر بسلسلہ روزگار موجود ہے، یہ والا بضد تھا کہ وہ مستقبل آزمائی کےلئے اٹلی آئے گا۔ میں نے اور  عمران نے بہت کوشش کی ہے اسے ادھر قانونی طور پر بلاونے کی مگر کوئی ترکیب کاریگر نہ ہوسکی، اور پھر ایک دن وہ کہنے لگا کہ ماموں ہمارے پنڈ کے دس بارہ لڑکے ترکی کے رستہ یونان جارہے ہیں میں بھی انکے ساتھ ہی چلا جاتا ہوں، پھر یونان سے کسی طرح اٹلی پونچ جاؤں گا۔ میں نے ذاتی طور پر اسے منع کیا کہ یہ راستہ خطر ناک ہے اکثر لوگوں کی جانیں جانے کی خبر آتی رہتی ہیں، سنا ہے بارڈر کراس کرتے ہوئےپولیس گولی بھی ماردیتی ہے۔ مگر اسکا جواب تھا ماموں لاکھوں لوگ ادھر پہنچ بھی تو گئے ہیں، ادھر پاکستان میں رہ کر بھی تو گزراہ نہیں 
ہورہا، نہ کوئی کام نہ کاج، نہ کوئی حال نہ مستقبل، ٹھیک ہے خطرہ تو ہے مگر ایک دفعہ پہنچ گیا تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 

مگر وہی ہوا جسکا ڈر تھا، نہر پارکرتے ہوئے کشتی الٹ گئی اور باقی تو سارے پار لگ گئے مگر یہ بچارہ جان کی بازی ہار گیا، 
میں سوچ رہا تھا کہ وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ملک میں امن اور سکون ہوگا اور لوگ اپنا مستقبل دیکھ پائیں گے اور انکو یورپ و امریکہ جاکر اپنا مستقبل بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، نہ ہی اس مستقبل کی قیمت جان کی شکل میں دینی پڑے گی۔ یہ خون جوگیا، یہ ایک نوجوان جو مستقبل کی بھینٹ چڑھا، یہ ایک جان جو گئی ، اسکا الزام کس کے ذمے ہے،؟؟؟ 
یہ لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟؟ اس جیسے اور لوگ جو جان کی بازی ہارگئے اور جو نہیں ہارے ان کا ذمہ دار کون ہے




مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 08, 2012

انیٹی نارکوٹکس کے جھلے

گیلانی کےمنڈے یعنی نکے شاہ جی کے ساتھ جانے سارے تفتیشی محکمو ں  کو کوئی خداواسطے کا بیتر ہے، کہ اب انکے پیچھے اینٹی نارکوٹیکس فورس والے بھی پڑ گئے، خبروں کے مطابق ان پر ہیروئین کی تیاری میں استعمال ہونے والے کسی حساس کیمیکل کی درآمدمیں ملوث ہونے کا الزام ہے،  کوئی پوچھے کہ جناب حاجیوں کو لوٹنے کا الزام تھوڑا تھا کہ ابھی آپ کوبھی یاد آگئی ہے۔ ہیں جی۔
 ظلم ۔۔۔۔۔۔۔سارے محکمے اوس معصوم کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں،
 اوے خیال کرو ۔۔۔وہ شاہ جی بھی ہے اور پسر وزیراعظم بھی،    یعنی دو بار شاہ جی۔
ابھی شاہ جی کی بدعا سے سنا ہے کہ اس محکمہ کا ڈی جی واپس فوج کو اپنی خدمات سونپ چکا ہے، مطلب کھڈے لائن، مگر اس ظالم اور نا عاقبت اندیش محکمے نے سپریم کورٹ میں اپنے ڈی جی کی بحالی کےلئے درخواست دے دی ہے۔ حد ہوتی ہے  ، ہیں جی

اگر اس میں تھوڑی سی بھی رتی ۔۔۔۔۔ہوئی تو کل وزیراعظم ہوگا،کیونکہ جس طرح فوجی کا پتر فوجی ، ماشٹر کا پتر ماشڑ ، 
زمیندار کا پتر زمیندار اور سپ کا پتر سب، اور علیٰ ہذالقیاس ۔

 تو پھر ہوسکتا ہے حج اور اینٹی نارکوٹکس کے محکمے ہی کیا یہ الفاظ ہی ختم کردے، جناب شاہ جی کے جلال کا کیا پتا، اگر آپ کو 

پتا ہے تو بتلاؤ ہم کو؟؟؟  پھر کوئی کیا کرلے گا۔ پاغل کہیں کے، عقل کرو اور نکے شاہ جی پر انگلیاں اٹھانا بند کردو۔

نوٹ  ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب میں نے سن آف پرائم منسٹر آف پاکستان  کو گوگلو پر سرچ کیا تو سارے فوٹو ذرداری اور اس کے منڈے کے ہی نکلے، اس بارے کوئی کچھ سمجھائے  میرے تو سر پر سے ہی بات گزر گئی ہے۔  
 ہیں جی یہ کیا چکر ہے؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اپریل 07, 2012

جمہوریت کی ہماری اپنی تعریف

 جمہوریت کا بہت  بڑا نام ہے جی۔
پوری دنیا میں جمہوریت ہونی چاہئے۔ 
جب ساری دنیا میں جمہوریت ہے تو ہمارے ادھر کیوں نہیں۔ 
جمہوریت کےلئے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔ 

 یہ وہ فقرے ہیں جو آج کل ٹی وی پر اور ٹی وی کے باہر سننے پڑتے ہیں۔  اتنی دفعہ سن چکے ہیں کہ اب تو کانوں کے کیڑے بھی نکل آئے ہیں۔ 
میں نے کچھ کوشش اپنے طور پر کی ہے کہ معلوم کرسکوں کہ جمہوریت اصل  میں کیا ہے، معلومات یہ حاصل ہوئیں کہ یہ ڈیموکریسی کے عربی ترجمہ ہے۔ مطلب عوام کی حکمرانی عوام کےلئے۔  کسی بھی نفسیاتی تعریف کے طرح یہ سمجھ میں آیا کہ اس کی تعریف ہر بندے نے حسب ضرورت کی ہوئی ہے۔ 

ہمارے حکمران اور سیاہ ست دان تو میرے خیال میں یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت  ایک ایسی مقدس گائے کا نام ہے جس کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں البتہ چند برس بعد کچھ لوگ ووٹ ڈالیں اور جس کو مرضی دیں مگر وہی چند گنے چنے خاندانوں کے لگتے لائے جیتیں گے اور پھر وی آئی پی بن کر، ملک کے حکمران بن جائیں گے۔ چاہے ریلوے کو پی جائیں، یا پی آئی اے کو ڈکار جائیں، حاجیوں کو  لوٹ لیں، سب جائیز۔ بس حکمران ٹولے کے چہیتے ہونے چاہئیں۔  کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ان سے۔  یہ ساری دنیا میں ہی چلتا رہتا ہے اور اسکینڈل بنتے رہتے ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ زیادہ ہی چل گیا ہے۔ 

مگر ہمارے خیال سے جمہوریت ایک رویے کا نام ہے کہ جی کچھ لوگ عوام مطلب جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں اور وہ جمہور کی نمائیندگی بھی کرتے ہوں، عوام نے ہی انکا انتخاب کیا ہو، بھلے نہ بھی کیا ہو مگر جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں تو پھر سب چلتا ہے، چاہئے تو ٹینک پر بیٹھ کر آئیں یا ووٹ لےکر، اور اگر یہ نہ کریں تو پھر اسے جو مرضی کہہ لو مگر جمہوریت نہ کہو، 
خدا کا واسطہ  ہے آپ کے ٹل جاؤ۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش