اتوار, اکتوبر 28, 2012

والد صاحب، بیماری اور امتحان

چار برس پہلے والد صاحب  اچانک چلتے ہوئے  گرگئے،  تو انہوں نے چھڑی کے ساتھ چلنا شروع کردیا، کوئی بات نہیں، ایک ڈاکٹر کو دکھا ، دوسرے کو بھی، پھر جو لڑکھڑائے تو ، دو چھڑیاں،  اور پھر ، پکڑ کر اور پھر ویل چئیر پر اور پھر بستر پر،  بس پھر  افرا تفری شروع، ایک  ڈاکٹر کو دکھا دوجے کو،  ہماری ایک کزن ڈاکٹر  ہیں انہوں نے بہت ہمت کی اور بہت چیک اپ کروایا مگر انکی صحت بگڑتی ہی چلی گئی۔ آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ  انکا اعصابی نظام ڈیسٹرائے ہوگیا ہے، اور صبر سے اور ہم سے ہی کچھ برسوں میں بحال ہوگا۔ یہ بات مجھے اپنی ڈاکٹر صاحبہ نے بتائی۔ 

مگر حال یہ ہوگیا کہ بابا جی اپنی سائیڈ بھی تبدیل نہ کرسکتے، نہانے ، پیشاب کرنے پر تو مصیبت نازل ہوجاتی، اوپر سے دردیں شدید قسم کی۔ مطلب انکو بستر سے ویل چئیر پرمنتقل کرنا بھی ایک مصیبت ۔

خیر سارے جی جان سے انکی خدمت میں لگے رہے ، کیا چھوٹے ، کیا بڑے۔ کہتے ہیں بیماری ایک امتحان ہوتا ہے،  یہ بات سچ ہے، ایک کڑا امتحان،  جو بیمار ہے  وہ تکلیف بھگت رہا ہوتا ہے، کہتے ہیں اللہ اس بندے کے گناہ معاف کرتا ہے اور اسکی دعائیں سنتا ہے۔ مگر جو تیمار دار ہوتے ہیں انکےلئے بھی کڑا امتحان ہوتا ہے،   ادھر کوئی کوتاہی ہوئی نہیں اور ادھر  بے ادبی ،  نافرمانی  نافذ،  اب   وہ کیا کہتےہیں چونک چونک کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے۔  گویا بندہ پل صراط پر چل رہا ہے، کہ وہ بال سے بھی باریک ہے اور تلوار سے بھی تیز، ایک والد صاحب کا  درجہ،  کہ انکے سامنے اف بھی مت کرو۔ پھر عمر رسیدہ اور بیماری بھی ،  ان حالات میں بندے کا چڑچڑا  ہوجانا تو نارمل ہے۔

ڈر ہی رہتا تھا کہ کہیں انکے منہ سے کوئی بدعا ہی نہ  نکل جائے مگر اللہ کے کرم سے ایسی نوبت نہیں آئی۔  اس میں ہم گھر والوں  سے زیادہ بابا جی کے صبر کو  داد دینی چاہئے کہا انہوں  نے کبھی کسی کوتاہی پر بھی کسی کو بدعا نہ دی بلکہ  شکایت تک نہ کی۔

یہ امتحان ان کا  اور ہمارے اہل خانہ کا ہی نہ تھا بلکہ سارے عزیز اقارب کا اور دوست احباب کا بھی تھا۔ بہت سے وہ لوگ جو بزرگوں کے زیر احسان تھے اور انکے ساتھ بہت محبت کے دعویدار تھے، چپکے سے پیچھے ہوگئے،  بلکہ کچھ تو یہ بھی کہنے لگے ، کہ بابے کو پتا نہیں کونسی دینی آرہی ہیں۔  خیر ہر بات جو منہ سے نکلتی وہ جدھر کی ہوتی ہے وہ ادھر پہنچ ہی جاتی ہے، جس طرح ہر خط اپنے پتہ پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ جلد یا بدیر۔

نتیجہ میں اقارب کی چار اقسام سامنے آئیں ، ایک وہ جو بہت قریبی ہیں اور ہر وقت ان سے جو ہوسکا کیا پور ے خلوص سے، دوسرے وہ جو دور کے تھے یا کچھ بھی نہیں تھے مگر قریب رہے، کم از کم تیمارداری کرتے رہے۔ اللہ کےلئے،  پھر وہ جو قریبی تھے مگر چپکے سے دور ہوکر غایب ہوگئے۔ اور کچھ وہ تھے جومعصیت  کا موقع دیکھ کر  اس کوشش میں لگ  پڑے کہ ان کے گھٹنے کس طرح لگائے جا سکیں۔  ع 

لگی جو آگ تو وہ پتے ہی ہوا دینے لگے

خیر اللہ سب کوخوش رکھے، سب کو جزا دے ، آج  عید کے دن والد صاحب الحمدللہ خود پیدل چل کر مسجد گئے، نماز باجماعت ادا کی، سب سے ملاقات کی اور پھر پیدل چل کر گھر واپس آئے،  اللہ نے ہمارا امتحان ختم کردیا۔ مگر اس نتیجہ نے ڈرا ہی دیا  ہے،  ہاں ایک یقین پورا ہوگیا، کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،  اور یہ کہ بندے کو دل نہیں ہارنا  چاہئے، معصیب کے دن گزر ہی جاتے ہیں، ہاں دکھ ان چہروں پر ہوتا ہے جو دھل کر سامنے آجاتےہیں،  اور مبارک ہے انکو   جوصرف اللہ کےلئے ساتھ ساتھ رہے۔ قدم قدم چل کر تیمارداری کرتے رہے۔ آج گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ہماری دہری عید ہوئی ۔ اے اللہ تیر شکر ہے لاکھ لاکھ


10 تبصرے:

  • یاسرخوامخواہ جاپانی says:
    10/28/2012 02:28:00 AM

    الحمد اللہ
    بابا جی کو اللہ تعالی لمبی عمر دے اور صحت مند رکھے ۔۔آمین۔
    اب بابا جی پر خصوصی نظر رکھنے کا کام بھی کسی کو سونپ دیں۔
    پتہ نہیں کیا گل دکھا دیں۔
    بابا جی تے فیئر بابا جی ہی ہوتے ہیں نا۔
    بحرحال بزرگوں سے ہی رونقاں ہوتی ہیں جی

  • Abdul Qadoos says:
    10/28/2012 02:52:00 AM

    یقینی طور پر یہ عید آپ کے لئے اصل عید تھی۔
    اللہ آپ کے والد اور دیگر تمام بیمار مسلمان مرد و عورتوں کر صحت عطا کرے آمین

  • افتخار راجہ says:
    10/28/2012 07:53:00 AM

    یاسر بھائی دعاؤں کا شکریہ ، باباجی کو ہم نے شادی کا لالچ دیا تھا تب جا کر اٹھے ہیں بستر سے، ابھی تو روز کہتے ہیں فیر کدوں؟؟

  • افتخار راجہ says:
    10/28/2012 07:54:00 AM

    سچ بات یہی ہے عبدلقدوس بھائی، سکھ کا سانس لیا ہے، ہم لوگ تو اس عید پر اتنے خوش ہیں، قسم سے ہمارے تو گھر کی رونقیں ہیں لوٹ آئی ہیں

  • علی says:
    10/28/2012 09:06:00 AM

    ماشااللہ جی بڑی خوشی ہوئی۔والدین سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں۔اللہ میاں انکا سایہ ہمیشہ آپکے سر پر قائم رکھے اور انکو مکمل طور پر صحت یاب فرمائے ۔آمین

  • احمد عرفان شفقتٍ says:
    10/28/2012 10:08:00 AM

    بہت حقیقت سے قریب باتیں اور مشاہدات ہیں یہ والے آپکے۔۔۔

    مگر جو تیمار دار ہوتے ہیں انکےلئے بھی کڑا امتحان ہوتا ہے

    ہر بات جو منہ سے نکلتی وہ جدھر کی ہوتی ہے وہ ادھر پہنچ ہی جاتی ہے، جس طرح ہر خط اپنے پتہ پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ جلد یا بدیر۔

    جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، اور یہ کہ بندے کو دل نہیں ہارنا چاہئے، معصیب کے دن گزر ہی جاتے ہیں

    اور مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔
    آج عید کے دن والد صاحب الحمدللہ خود پیدل چل کر مسجد گئے، نماز باجماعت ادا کی، سب سے ملاقات کی اور پھر پیدل چل کر گھر واپس آئے

    اللہ کریم آپکے والد صاحب کو صحت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    10/28/2012 11:53:00 AM

    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ کے والد محترم کو جلد مکمل شفاء اور تندرستی عطا فرمائے ۔ آپ نے درست کہا کہ یہ آپ کے والد محترم کیلئے اور اہلِ کانہ کیلئے کڑا امتحان ہے مگر اولاد کیلئے ایک موقع ہے کہ صبر اور ہمت کے ساتھ خدمت کر کے جنت میں جگہ بنا لیں ۔ باقی لوگوں کے متعلق تو کسی نے کہا ہے ” راہ پیا جانیئے تے واہ پیا جانیئے “۔

  • افتخار راجہ says:
    10/28/2012 07:59:00 PM

    انکل جی آپ کی نیک تمناؤں کےلئے آپ کا دل سےمشکور ہوں، بس زندگی کی حقیقتیں بہت تلخ ہیں

  • افتخار راجہ says:
    10/28/2012 08:01:00 PM

    احمد عرفان شفقت جی، اللہ آپ کو جزا دے، زندگی خود ایک بڑی یونیورسٹی ہے۔

  • افتخار راجہ says:
    10/28/2012 08:01:00 PM

    علی، جزاک اللہ، آپ کی دعاؤں کی ضرورت رہے گی ہمیشہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش