اتوار, اکتوبر 28, 2012

والد صاحب، بیماری اور امتحان

چار برس پہلے والد صاحب  اچانک چلتے ہوئے  گرگئے،  تو انہوں نے چھڑی کے ساتھ چلنا شروع کردیا، کوئی بات نہیں، ایک ڈاکٹر کو دکھا ، دوسرے کو بھی، پھر جو لڑکھڑائے تو ، دو چھڑیاں،  اور پھر ، پکڑ کر اور پھر ویل چئیر پر اور پھر بستر پر،  بس پھر  افرا تفری شروع، ایک  ڈاکٹر کو دکھا دوجے کو،  ہماری ایک کزن ڈاکٹر  ہیں انہوں نے بہت ہمت کی اور بہت چیک اپ کروایا مگر انکی صحت بگڑتی ہی چلی گئی۔ آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ  انکا اعصابی نظام ڈیسٹرائے ہوگیا ہے، اور صبر سے اور ہم سے ہی کچھ برسوں میں بحال ہوگا۔ یہ بات مجھے اپنی ڈاکٹر صاحبہ نے بتائی۔ 

مگر حال یہ ہوگیا کہ بابا جی اپنی سائیڈ بھی تبدیل نہ کرسکتے، نہانے ، پیشاب کرنے پر تو مصیبت نازل ہوجاتی، اوپر سے دردیں شدید قسم کی۔ مطلب انکو بستر سے ویل چئیر پرمنتقل کرنا بھی ایک مصیبت ۔

خیر سارے جی جان سے انکی خدمت میں لگے رہے ، کیا چھوٹے ، کیا بڑے۔ کہتے ہیں بیماری ایک امتحان ہوتا ہے،  یہ بات سچ ہے، ایک کڑا امتحان،  جو بیمار ہے  وہ تکلیف بھگت رہا ہوتا ہے، کہتے ہیں اللہ اس بندے کے گناہ معاف کرتا ہے اور اسکی دعائیں سنتا ہے۔ مگر جو تیمار دار ہوتے ہیں انکےلئے بھی کڑا امتحان ہوتا ہے،   ادھر کوئی کوتاہی ہوئی نہیں اور ادھر  بے ادبی ،  نافرمانی  نافذ،  اب   وہ کیا کہتےہیں چونک چونک کر پاؤں رکھنا پڑتا ہے۔  گویا بندہ پل صراط پر چل رہا ہے، کہ وہ بال سے بھی باریک ہے اور تلوار سے بھی تیز، ایک والد صاحب کا  درجہ،  کہ انکے سامنے اف بھی مت کرو۔ پھر عمر رسیدہ اور بیماری بھی ،  ان حالات میں بندے کا چڑچڑا  ہوجانا تو نارمل ہے۔

ڈر ہی رہتا تھا کہ کہیں انکے منہ سے کوئی بدعا ہی نہ  نکل جائے مگر اللہ کے کرم سے ایسی نوبت نہیں آئی۔  اس میں ہم گھر والوں  سے زیادہ بابا جی کے صبر کو  داد دینی چاہئے کہا انہوں  نے کبھی کسی کوتاہی پر بھی کسی کو بدعا نہ دی بلکہ  شکایت تک نہ کی۔

یہ امتحان ان کا  اور ہمارے اہل خانہ کا ہی نہ تھا بلکہ سارے عزیز اقارب کا اور دوست احباب کا بھی تھا۔ بہت سے وہ لوگ جو بزرگوں کے زیر احسان تھے اور انکے ساتھ بہت محبت کے دعویدار تھے، چپکے سے پیچھے ہوگئے،  بلکہ کچھ تو یہ بھی کہنے لگے ، کہ بابے کو پتا نہیں کونسی دینی آرہی ہیں۔  خیر ہر بات جو منہ سے نکلتی وہ جدھر کی ہوتی ہے وہ ادھر پہنچ ہی جاتی ہے، جس طرح ہر خط اپنے پتہ پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ جلد یا بدیر۔

نتیجہ میں اقارب کی چار اقسام سامنے آئیں ، ایک وہ جو بہت قریبی ہیں اور ہر وقت ان سے جو ہوسکا کیا پور ے خلوص سے، دوسرے وہ جو دور کے تھے یا کچھ بھی نہیں تھے مگر قریب رہے، کم از کم تیمارداری کرتے رہے۔ اللہ کےلئے،  پھر وہ جو قریبی تھے مگر چپکے سے دور ہوکر غایب ہوگئے۔ اور کچھ وہ تھے جومعصیت  کا موقع دیکھ کر  اس کوشش میں لگ  پڑے کہ ان کے گھٹنے کس طرح لگائے جا سکیں۔  ع 

لگی جو آگ تو وہ پتے ہی ہوا دینے لگے

خیر اللہ سب کوخوش رکھے، سب کو جزا دے ، آج  عید کے دن والد صاحب الحمدللہ خود پیدل چل کر مسجد گئے، نماز باجماعت ادا کی، سب سے ملاقات کی اور پھر پیدل چل کر گھر واپس آئے،  اللہ نے ہمارا امتحان ختم کردیا۔ مگر اس نتیجہ نے ڈرا ہی دیا  ہے،  ہاں ایک یقین پورا ہوگیا، کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،  اور یہ کہ بندے کو دل نہیں ہارنا  چاہئے، معصیب کے دن گزر ہی جاتے ہیں، ہاں دکھ ان چہروں پر ہوتا ہے جو دھل کر سامنے آجاتےہیں،  اور مبارک ہے انکو   جوصرف اللہ کےلئے ساتھ ساتھ رہے۔ قدم قدم چل کر تیمارداری کرتے رہے۔ آج گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ہماری دہری عید ہوئی ۔ اے اللہ تیر شکر ہے لاکھ لاکھ


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 14, 2012

ہم بت پرست

بت پرستی تو خیر ہمیشہ سے ہی حضرت انسان  کے ساتھ رہی ہے،   بلکہ اس پر حاوی رہی، حتیٰ کہ قدیم تہذیبوں میں سے بھی جوکچھ ہمارے ہاتھ آرہا ، وہ صرف بت ہیں ہیں،  یونانی تہذیب جب عروج پر تھی تو انہوں نے اپنے ہر کام کےلئے "دیوتا    اور دیویاں "  مقرر کی ہوئی تھیں،  بارش کی دیوی، جنگ کی دیوی، فتح کی دیوی،  حتیٰ کہ دریا پارکرانے کےلئے ایک الگ سے دیوی رکھ چھوڑی تھی۔  اسی طرح مصری ، رومن اور بابل کی تہذیبوں میں بھی کچھ ایسے ہی رہا۔  کہ  کسی جگہ دیوی جی کا چلن رہا تو کسی جگہ بادشاہ کا بت بنا کر  سامنے کھڑا کرلیتے اور حاضری کرواتے۔ بت  بنانے کو ہر میٹیریل حسب توفیق استعمالا گیا،  پختہ مٹی سے لیکر، اینٹ، روڑا،  پتھر، لکڑی،  سونا چاندی،لوہا اورہیرے تک سے پتھر تراشے گئے۔  بلکہ بامیان میں تو پورے کے پورے پہاڑ کو کھود کر بت بنا دیا گیا۔ پھر طالبان نے اسکا  " رام نام ستے "  کی اور دنیانے خوب چیخیں ماریں۔



 ہمارے اردگرد  تو خیر سے "ات "ہی مچی ہوئی تھی ،  گندھارا  کی تہذیب سے لیکر ہندومت اور جین مت تک کے مذاہب میں آج بھی دیوی دیوتاؤں کے نام کے بت بنا ئے جاتے ہیں،  یہودی مذہب میں بھی کچھ ایسا ہی چلن رہا کہ ادھر بت تو کم بنائےگئے مگر انہوں نے فوٹو بنا کر انکی پرستش البتہ خو ب کی۔ اور لمبی لمبی برکتیں حاصل کیں یا کوشش  حصول کرتے رہے۔

 ہندو مذہب میں تو خیر سے اب  بھی باندر سے لیکر ہاتھی تک کے بت موجود ہیں  اور انکی پرستش دھڑا دھڑ جاری ہے، سنا ہے  کہ "عضو تناسل " کا بھی کہیں بت بنا کر رکھ چھوڑا ، اور بیبیاں ادھر بھی اولاد کے حصول کےلئے چڑھاوا چڑھا کر منت مانگتی پھرتی ہیں۔  عیسائی مذہب میں بھی بھی الٹے سیدھے تو نہیں مگر انسانی شکل کے بت کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں،  نومولود حضرت عیسٰی  ؑ اور نیم عریاں  مریم ؑ کے مجسموں سے تو برکت کا حصول ہو ہی رہا ہے ، مگر کہیں انکو صلیب پر ٹنگا ہوا دکھایا گیا،   جو آپ کو ہر چرچ میں بتعداد کثیر ملیں گے، ان کے علاوہ بھی ہر محلے میں سینٹ کا بت نصب ہے۔


اسلام ایک واحد مذہب  ہے اور اسلامی معاشرہ  زمین  پر واحد معاشرہ ہے جس میں بت پرستی کو سختی سے ممنوع قرار دیا  گیا،  خیر سارے ہی انبیاء کرام نے بت شکنی کی،  کچھ بتوں کا تو باقاعدہ ذکر ہوا   قرآن شریف میں ، جن میں  حضرت ابراہیم علیٰہ سلام کے بت توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دینے کا  ذکر ہوا۔  پھر بچھڑے کے سونے کے بت کا ذکر ہوا جو حضرت موسٰی ؑ  کی قوم نے انکے کوہ طور پر جانے کے بعد بنا لیا۔  پھر خانہ کعبہ میں موجود بتوں کا بھی ذکر ہوا، جو فتح مکہ  پر ہٹائے گئے۔

اسلامی تعلیمات بت پرستی کو اور تصویر پرستی کو یک سر مسترد  کرتی ہے۔  اللہ  کی ایک ایسی وضاحت کردی گئی کہ بس پھر کسی  بت ،  تصویر ،یا  کسی بھی درمیانی  ذریعہ کی حاجت ہی ختم ہوگئی۔  کہہ دیا اس نے خود ہی  کہ میں تمھاری  شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،  پھر کہہ دیا کہ تمھارے دل میں بستا ہے۔  اب اپنے دل تک آواز پہنچانے کےلئے مجھے کس ذریعہ یا سفارش کی ضرورت ہے۔  آپ بتاؤ۔

مگر ہم مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی بہت بڑی "چول" قوم ہیں، یا شاید عادت سے مجبور ہیں، بقول شاعر:   ع   
پیشہ آبا تھا گداگری                    راس نہ آئی پادشاہی مجھکو

ہم بت پرستی سے باز نہ  آئے اور ہم نے اینٹ پتھر ، لکڑی، سونے چاندی  کی جگہ گوشت پوس کے بت کھڑے کرلئے،   کبھی اسکو پیر صاحب کا نام دیا گیا تو کبھی ، قبر کی شکل دی گئی۔  کبھی سیاسی بت اور کبھی معاشرتی بت۔    جیسے خدا کا حکم مان لینا فرض ہے ورنہ کفر لاگو ہوا سمجھو، ایسے ہی انکا بھی ہر حکم ماننا فرض ہے ورنہ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔     
 
 ہم کو خدا نے کہہ دیا کہ سؤر نہ کھانا مگر یہ نہ بتایا کہ کیوں، ہم نے  کھانا ترک کردیا ، اور سؤر میں ایک سو پینتیس خامیاں نکال لیں،  مانتے ہیں کہ ہر اچھائی خدا کی طرف سے ہے اور معصیت بھی۔  اکثر میت پر  سنا گیا کہ " بس جی جس کی چیز تھی اس نے واپس لے لی، وہ مالک جو ہے چاہے ہری کاٹے یا سوکھی" ۔  مطلب ہم  اعتراض کرنے والے کون جی۔  اور بابا جی بھی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے  ہیں۔

مگر گوشت پوست کا ایک بڑا سا بت بنالیتے ہیں اور اسکو پوجنا شروع  کردیتے ہیں، پھر ہم اس بات سے بھی لاپرواہ ہوجاتےہیں کہ وہ کچھ غلط کہہ رہا ہے کہ  درست مگر ہم اس میں سے خود ہی  "لاجک" تلاش کرلیتےہیں اور اپنے آپ کو حقدار ثواب  قرار دے لیتےہیں۔  


مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 13, 2012

الو ہونا اور الو بنانا

ویسے تو "الو" بہت مشہور پرندہ ہے ،   اتنا مشہور کہ  ہر خاص و عام اس کے بارے جانتا ہے، ویسے آپس کی بات ہے، کہ "الو"  کو دیکھا بہت کم لوگوں نے ہے،  اب سب کچھ میں نے ہی بتانا ہے تو، بزرگو، میں اس "الو" کی بات نہیں کررہا جو انسانی شکل کا ہوتا ہے بلکہ اس "الو" کی بات کررہا ہوں ،  جو پرندوں کی قسم سے تعلق رکھتا ہے اور رات کو تلاش معاش میں نکلتا ہے،   خالص اردو میں اس کو " بوم" کہا جاتا ہے، اور جو  "الو" کی اس قسم سے مماثلت رکھتے ہیں انکو "بوم خصال " کہاجاتا ہے۔یوں تو الو، پاکستان کے علاوہ سارے برصغیر میں، بلکہ پوری دنیا میں بکثر پائے جاتے ہیں، مگر خاص بات یہ ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں ، گویا ایک دوسرے کے رشتہ دا ر ہوئے،  

بیان کچھ الو کی اقسام کا
یوں تو "الو" کی بہت سی اقسام  ہمارے ارد گرد پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا ہی ذکر کرپائیں گے ، نہیں تو وہی طوالت کا خوف۔

اصلی الو:  الو کی یہ قسم پاکستان میں اور برصغیر کے علاوہ  پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں،  یہ بنے بنائے ہوتے ہیں، اور مزید کسی کو "الو" نہیں بنا سکتے۔   پاکستان میں اسکو نہائت منحوس سمجھا جاتا ہے اور مغرب میں بہت سیانا۔ اتنا سیانا کہ ادھر بہت سی یوورسیٹوں  کے  لوگو  میں "الو"  شامل ہے۔البتہ دونوں طرف یہ رات کو ہی اپنی معاش کی تلاش میں نکلتا ہے۔

انسانی الو:  یہ بنایا جاتا ہے،  پہلے میں اپنا ذکر کرتا ہوں اس مد میں،   کہ مجھے سب سے پہلے دادا جی نے الو بنایا:  کہ " الو  ، ادھر آ، اوئے الو، یہ  کر، اوئے اس الو کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔  پھر اسکول ماسٹر صاحبان  نے "الو" کہنا شروع کردیا،  اسکے بعد پھر بڑے بھائی بھی شروع ہوگئے، کہ  " اوئے الو"۔  اب "الو" کے ساتھ اوئے کیوں لگاتے ہیں اس بارے تو علم نہیں ہے مگر  ہم تو ان  دونوں الفاظ کو عرصہ تک لازم ملزوم ہی سمجھتے رہے۔
ویسے "الو"  بنانا آسان ہے  اور "الو"  بنانا مشکل ہے،  مگر اس کے باوجود ہر کوئی دوسرے کو "الو"  بنا رہا ہوتا ہے، بلکہ  یہ بھی دیکھا گیا  ہے کہ "الو"  بننے والے بھی یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ "الو" بنا گئے ہیں۔  جبکہ اس بارے  کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ  الوبننے والے دوسرے کو "الو"  بنا نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں بڑی مثال "الو"  کی عوام ہیں جو بنتے ہیں اور انکو بنانے والے " سیاہ ست دان " کہلاتے ہیں۔  اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "سیاہ ست دان " بنائے نہیں جاتے پیدا ہوتے ہیں۔  جب کہ عوام کے بارے ایسی رائے کا اظہار کبھی نہیں ہوا۔  

استعمال۔
یہ ایک کثیر الاستعمال ہے جنس ہے۔  مطلب"پولی کرائسٹ" ،  ہر شخص اسکے اپنے اپنے مقصد کے حصول کےلئے استعمال کرتا ہے۔

پیر صاحب، مریدن کو "الو" بنا کر شیرینی وصولتے ہیں۔
سیاہ ست دان  ،  عوام کو "الو" بنا کر حکومت میں جاپہنچے ہیں۔
بڑے ملک، چھوٹے ممالک کو بذریعہ اقوام متحدہ "الو" بناتے ہیں۔
جادو  ٹونے والے، ان پڑھ اور مصیبت زدہ و مایوس لوگوں کو "الو" بنا کر مال بناتے ہیں۔  انکو "الو" کے لہو سے تعویز لکھ کر دیتے کہ انکی "کایا کلپ "  ہوجائے اور اپنا بیڑا پارکرلیتے ہیں۔


ویسے مجھے یہ بلالکھنا ہی نہیں چاہئے تھا، ایوں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اس نے مجھے "الو" بنا لیا ہے۔


مکمل تحریر  »

پیر, اکتوبر 08, 2012

داستان ایک عشق کی، ایک زندگی کی

فرسٹ ائیر کی کلاس کا  پہلا ماہ  اختتام کے قریب تھا،  کلاس  کو  ڈاکٹرباقر شاہ صاحب "اناٹومی"  پڑھا رہے تھے،     باسط،  مولوی انور،  شاکر اور میں پہلی قطار میں بیٹھے ہوئے تھے،   ادھر دائیں طرف دروازے کے سامنے،  بائیں ہاتھ والی رو میں آگے کو کوئی 15کے قریب لڑکیاں تھیں اور پیچھے کچھ لیٹ آنے والے لڑکے۔

اچانک ہی شاکر نے مجھے کہنی ماری اور میں  چونک کر اسکی طرف دیکھنے لگا ،   وہ مجھے اشارہ کررہا تھا کہ  "میری طرف کیا دیکھتا ہے ادھردروازے کی طرف دیکھ" ۔  بس ادھر کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔  

وہ شاید کوئی لیٹ داخلہ تھی  یا پھر مائیگریشن کا کیس،   کہ پہلے اس کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔   یہ لمبا سا  نکلتا ہوا قد، وہ کسی میک اپ سے عاری کتابی چہرہ،  بڑی بڑی آنکھیں، لرزتے ہونٹ،  سیاہ بال ، جن کی دو چٹیاں اور ان پر سرخ ربن،  سفید سادہ یونیفارم کی شلوارقمض،  دوپٹے سے بے نیاز، سفید اورآل، اور  وہی فسٹ ائر   کا سرخ بینڈ اوڑھے ہوئے،  مجھے ایک "گفٹ پیک "  کی طرح لگی۔

شاہ صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کی اجازت دی، اور وہ  ادھر لڑکیوں کی رو  کے پیچھے جا کر بیٹھ گئی،  مگر میرے دماغ میں وہ  گھوم رہی تھی،  اس گھنٹے میں شاہ صاحب نے اناٹومی کا  جو کچھ بھی پڑھایا ،  سر پر سے  ہی گزرگیا۔

اگلے دن لیب ، کے گروپس  نوٹس بورڈ پر لگے ہوئے،  ہر گروپ میں  لڑکے لڑکیوں کے نام تھے، ہمارا گروپ چونکہ  " افلاطونوں" کا تھا، اس لئے اس میں  صرف ایک ہی لڑکی کا نام لکھا ہوا تھا باقی آٹھ لڑکے تھے، لڑکے کیا بلکہ ہمارا ہی افلاطونی گروہ تھا۔  باسط کے خیال میں یہ کوئی قسمت  کی ماری تھی،  جبکہ مولوی انور کا خیال تھا کہ لازمی طور پر اس نے بھی اپنا نام تبدیل کروا لینا ہے۔

ایسا کچھ نہ ہوا،   لیب شروع ہوئی اور وہ میرے ساتھ کھڑی تھی۔  اسی طرح سادہ سے لباس، میں بغیر کسی میک اپ کے،  بالوں میں وہی سرخ ربن اور اوپر سفید اورآل ،  اور سرخ بینڈ گلے میں،   نگاہیں دوچار ہوئیں ایک لحظہ کو اور بس،  کوئ بات نہ سلام نہ دعا،  وہ اپنا کام کرتی رہتی ، میں اپنا،  بیچ میں کچھ معاونت کی ضرورت ہوتی تو مجھ سے پوچھ لیتی اور میں بھی بس ضروری جواب دے دیتا۔  یہ ٹیسٹ ٹیوب تو پکڑائیے گا،   وہ فلاسک،  بلڈ نکالنے کا بلیڈ،وہ بون۔   لیب میں اس کے علاوہ کبھی ہماری کوئی بات نہیں ہوئی۔    لیب کے باہر کلاس روم میں آتے جاتے وہ ایک اچٹتی سی نگاہ مجھ پر ڈالتی اور بس،   اگر میرا پہلے نکلنا ہوتا تو بھی وہی ایک نظر کا تبادلہ ضرور ہوتا۔  وقت گزرتا رہا،    نہ میں نے کبھی کچھ کہا نہ اس نے،    صرف یہ معلوم ہوا کہ وہ شہر کے ایک کھاتے پیتے گھرکی ہے اور کینٹ میں رہتی ہے۔ پھر امتحان سر پر آگئے اور ہم سب کی مت ہی ماری گئی۔ بس ہوش اڑگئے، مگر ہمارا وہ ایک نظر کا تبادلہ برقراررہا، پھر امتحان کی ڈیٹ شیٹ اور بس امتحان کیسے گزرے اور کالج بند ہوگیا۔  میں گرمیوں میں اپنے پنڈ چلا گیا اور پورے تین ماہ بھینسوں کے پیچھے گھوم کر،  دریا میں نہاتے ہوئے،   شیطانیاں کرتے ہوئے گزر گئے۔

جولائی کے اینڈ پر خبر ملی کے رزلٹ آگیا ہے،  کالج گئے تو  ادھر باسط اور مولبی انور بھی آئے ہوئے تھے، معلوم ہوا کہ  شاکر فیل  ہے اور باسط کی ایک سپلی ہے، مولبی انور فل پاس اور میں مرکے۔  چلو چھتروں سے تو بچے۔  دیکھا کہ اس کانام پوزیشن والوں کی  فہرست میں لگا ہوا تھا۔  کلاس میں اسکی تیسری پوزیشن تھی۔

ستمبر میں  کلاس کا پہلا دن تھا ،  پڑھائی کوئی خاص نہیں ہورہی تھی۔ کچھ پریشانی  یہ بھی تھیا کہ ہماری ٹولی کی اکثریت فیل ہوکر سال اول میں رہ  گئی اور کچھ کالج  ہی چھوڑ گئے،  کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں، بس  کسی کے پاس کتابیں نہیں ، تو کسی کا پڑھنے کو دل نہیں کررہارہا، پروفیسرز بھی گزشتہ برس کی  کارکردگی پر  ہی تبصرے کررہے تھے،  بریک ہوئی تو میں نے اسے  پوزیشن لینے پر مبارک باد دی، ہنس دی، گویا ، پھول  ہی جھڑ گئے ہوں،  یہ اسکی پہلی ہنسی تھی  کلاس میں،  کہنے لگی تو اس برس تم بھی لے لو پوزیشن بلکہ پہلی پوزیشن لو تو بات ہے، میں  پریشان ہوگیا، کہ نہ  جی نہ ،  میں اور پوزیشن ، میں تو اس بار بھی فیل ہوتے ہوتے بچاہوں۔  تو وہ بولی" مگر کوشش تو کیجئے"۔ اچھا۔  اتنے میں گھنٹی بجھ گئی اور پروفیسر منظور ملک  میٹریا میڈیکا پڑھانے پہنچ گئے۔ اور ہم سب اپنی اپنی نشست پر ۔

 پروفیسر صاحب نے اپنا لیکچر ختم کیا اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ بئی میں تو کل اس بارے سوالات کروں گا۔   پر ہمیں کیا۔   کلاس سے نکلے اور ہم سب  اپنے پنگے بازیوں میں،   کینٹین میں پہلے کون پہنچے گا۔ اور چھٹی کی گھنٹی پر گیٹ سے پہلے کیسے نکلنا ہے۔  ہمارا پروگرام تھا۔  دن کو کیا پڑھا،  ہوم ورک ، سر نے جو نوٹس لکھائے تھے انکو  پھر سے دیکھنا ، اپنے پروگرام میں کبھی بھی شامل نہیں رہا۔ 

دوسرا  دن مگر مصیبت کا تھا،  سر نے آتے ہیں میرے اوپر سوال داغ دیا ،  آپ  بتائیں ذرا سلفر کی کتنی  کمپوزیشنز  ہیں اور دوا کے طور پر کون کون سی استعمال ہوتی ہے، اور میں آگے پیچھے دیکھ رہا تھا،  "نہیں بیٹا آپ سے پوچھ رہا ہوں"،   سر مجھے سے ،  " جی بیٹا آپ سے"  سر وہ، سر وہ، اور اپنی گھگی بند گئی، اس سے پہلے کہ سر مزید کچھ کہتے وہ ، سر کہہ کر کھڑی ہوگئی اور اس  نےسب کچھ بتا دیا، سر   شاباش کہہ کر،  سبق کو آگے بڑھا لے گئے۔   کلاس ختم ہوئی تو  نکلتے ہوئی آج وہ پھرتی نہ تھی،  بلکہ میں ادھر بیٹھا  رہا، شاید بے عزتی کا شدید احساس،  وہ نکلی اور جاتے ہوئے آہستہ سے کہہ گئی  "صرف جو کچھ پڑھایا ہے سر نے وہ گھر جاکرایک نظر دیکھ لیا کرو اور ایک بار اسے صاف کاپی پر لکھ لیا کرو"۔  میں اچھا بھی نہ کہہ سکا، بے عزتی کا شدید احساس تھا۔  اس دن کالج سے گھر گیا تو ، کتاب کھول کر بیٹھ گیا ،  گھر والے پریشان ہوگئے ، دادا جی  کا خیال تھا کہ پتر کو گرمی لگ گئی ہے،  جبکہ چھوٹی بہنوں کے خیال میں ،   یہ ضرور کسی بیماری کا اثر ہے،  خیر ،  زیادہ تو نہ پڑھا سکا اس دن مگر جیسا اس نے کہا تھا وہ حرف بہ حرف کیا۔   اگلے دن  سر منظور کا پہلے حملہ پھر مجھ پر ہی تھا، مگر آج میں نے بغیر سوچے سمجھے سب کچھ بتا دیا، پوری کلاس نے تالیاں بجائیں،   میں نے بیٹھے سے پہلے اسکی طرف دیکھا تو اس نے بے اختیار اپنا انگوٹھا اوپر کردیا۔  بس جی نسخہ ہاتھ آگیا اور روٹین بن گئی،  گھر جاکر ،  دن کے سارے سبق دیکھنے اور جو نوٹس تھے انکو صاف کرکے لکھنا۔   سال  کے اختتام پر میرے پاس سے ہر تیسرا کلاس میٹ فوٹو اسٹیٹ کے لئے نوٹس مانگ رہا تھا۔ اس دوران ہمارے درمیان ایک خاموش معائدہ یہ طے پایا کہ اگر وہ غیرحاضرو ہوتی تو نوٹس کی ایک نکل اگلے دن اسکے چپکے سے پکڑا دیتا اور اگر میں غائیب ہوتا تو وہ۔ امتحانات کی ڈیٹ شیٹ اور پھر  امتحانات اور چھٹیاں۔   رزلٹ کی خبر پر کال پہنچا تو وہ بھی ادھر نوٹس بورڈ  دیکھ رہی تھی۔

مبارک ہو بھئی تم تو دوسرے نمبر پر آگئے، اسکی اپنی وہی تیسری پوزیشن تھی۔  تمھیں بھی مبارک ہو،  پوری کلاس میں دھوم مچ گئی اس انہونی پر،  اساتذہ کو علم ہوا تو  وہ بھی بہت خوش ہوئے، گھر والوں کی خوشی اپنی جگہ پر بہت دیدنی تھی۔مگر مجھے لگا کہ سب سے زیادہ خوشی اسے ہوئی تھی۔  

پھر تیسرا سال اور پھر چوتھا ،   مگر ہمارے درمیان وہ ایک نگاہ کا تبادلہ ہی رہا،  ہاں ان برسوں میں اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ کسی لڑکی سے بھی نہ مانگتی مگر صرف مجھ سے ہی،ضرورت کیا، بس پینسل تو دینا،   شاپنر ، فٹا ، اسٹیٹھو اسکوپ  اور بس، میں بھی اپنی ضرورت کی اشیاء اسی  سے لیتا، ،   اس دوران البتہ ہم لوگ کبھی کبار کینٹین پر اکٹھے ہوجاتے ، وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ  ہوتی،  میرے سامنے بیٹھ کے فانٹا پی رہی ہوتی اور بس بوتل کو نگاہیں جھکائیے دیکھتی رہتی،  مجھے فانٹا  کا ایک  ایک گھونٹ اسکے گلے سے نیچے اترتا ہوا دیکھائی دے رہا ہوتا۔

پھر  یہ برس بھی  بیتے فائنل امتحانات،  ان برسوں  میں  اسکی اور میری پوزیشن پہلی اور دوسری ہوتی، کبھی وہ پہلی پوزیشن پر اور کبھی میں،   فائنل کا رزلٹ آگیا ، میری پوزیشن پہلی رہی اور اس کی دوسری،    جونئیر ز کی طرف سے فئر ویل پارٹی ملی ،ہم لوگ ایک ساتھ ہی تھے، مجھے محسوس ہوا کہ شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی ، مگر کہہ نہ پاتی، اس کے ہونٹ لرز جاتے۔  پارٹی ختم ہوئی اور سب یہ جا وہ جا۔ ہاؤس جابز،  اور پھر سب  کو اپنی اپنی پڑ گئی، کوئی اسپیشلائیزیشن کے چکر میں پڑگیا،  کسی نے نوکری کےلئے تگ دو شروع کردی اور کبھی کبھی خبر ملتی کہ فلاں نے اپنا کلینک بنالیا، گویا سب جھنجٹوں سے آزاد ہوگیا۔


کالج میں ایک جونیئر لیکچرر کی  عارضی آسامی کی خبر مجھے ملی تو میں نے بھی قسمت آزمانے کو درخواست دے دی،  بغیر امید کے،  کہ اپنا کوئی تجربہ تو ہے نہیں نہ کوئی تیاری، مگر انٹرویو کےلئے لیٹر آگیا،    ادھر معلوم ہوا  کہ انٹرویو ٹیم کی  سربراہی  اپنے پرنسپل صاحب کررہے تھے،   میرا نام پکارا گیا تو ، اندر گیا،  پرنسپل صاحب نے مجھے دیکھتے ہی کہا " اچھا تو تم ہو، کیا حال ہیں؟ کیا کررہے ہو؟ آگے کے کیا ارادے ہیں؟ شادی کب کررہے ہو؟  اور ٹھیک ہے آپ جاسکتے ہو۔
میں ڈھیلے قدموں دروازے کی طر ف  بڑھا تو  کہنے لگے "بیٹا اپنا اپائنٹمنٹ لیڑ لیتے جانا"۔ میں اچھل پڑا۔

یوں  میں سے ہم ہوگیا اور سرجی بن گیا، جو اسٹوڈنٹس ایک برس پیچھے تھے وہ ہمارے شاگرد ٹھہرے۔  کالج کوئی نہ کوئی کلاس فیلوآتا ہی رہتا ، کوئی اولڈ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے چکر میں تو،  کوئی  اپنی  مارک شیٹ اور پھر سند لینے کو،  ایک دوسرے کا پوچھا جاتا،  کلاس فیلوز کی خبریں ملتی رہتیں۔  کسی نے بتایا کہ اس نے ادھر کینٹ میں ہی اپنا پرائیویٹ کلینک بنا لیا ہے،  اگلے برس ایک  داخلہ فارم جمع  کروانے کی لاسٹ  ڈیٹ گزرے ایک دو دن ہوئے  تھے، تو ایک لڑکی میرے پاس آئی ، سر مجھے ڈاکٹر صاحبہ نے بھیجا ہے میں انکے محلے  میں ہی رہتی ہوں، میں   فارم جمع نہیں کرواسکی ،بیمارہوگئی تھی۔  ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ،  اور کہا ہے کہ انکو میرا کہنا تو تمھارا داخلہ کروادیں گے۔ سر پلیز ،  سر پلیز میری مدد کریں۔  اچھا ٹھیک  ہے دو فارم، فیس    جمع کروانے کا واوچر بھی۔  اور میں نے وہ فارم جاکر  کلرک کو دے دیا ،  " سر مگر فارم جمع ہونے تو بند ہوچکے" ، کوئی بات نہیں یہ میری عزیز ہیں اور انہوں نے فارم مجھے کافی دن پہلے دے دیا تھا مگر میں جمع کروانا بھول گیا۔   " اچھا ٹھیک ہے سر، جیسے آپ کہتے ہیں"۔  اس نے رسید بنا کر میرے ہاتھ میں دے دی اور لڑکی بچاری کے آنسو نکل آئے۔

بات آئی گئی ہوگئی،   داخلے ختم ہوئے  اور کلاسز شروع ہوگئیں۔  وہ لڑکی میری طرف چلی آرہی تھی۔ "سلام سر،   سر میرا داخلہ ہوگیا ہے،  سر آپ کا بہت شکریہ ، سر ڈاکٹر صاحبہ بھی آپ کو تھینکس کہہ رہی تھیں"۔   کوئی بات نہیں ،  کوئی بات نہیں۔

میری ڈیوٹی فسٹ ائیر کو بائیوکیمسٹری پڑھانے کی ڈیوٹی لگا دی گئی، اور وہ لڑکی  ، کلاس کے بعد تقریباُ روز ہی آجاتی، سر میرے پاس کتاب نہیں ہے، سر لائبریری کہاں ہے؟ہے سر آپ کونسی کتاب سے لیکچر تیار کرتے ہو؟ سر آپ کی کتاب ایک دن کو مل سکتی  ہے؟ قسمیں کل واپس کردوں گی۔  اور سر ڈاکٹر صاحبہ آپ کو سلام کہہ رہی  تھیں۔  

پھر ایک دن وہ لڑکی میرے پاس آئی کہ سرجی، آپ سے ایک بات کہنی ہے،  بولو، نہیں سر ادھر نہیں، آپ کس وقت آف کریں گے؟  میں آپ سے علحدگی میں بات کرنا چاہتی ہوں۔ میرا آخری پیریڈ ایک بجے ختم ہوگا، سر میں آپ کا ادھرسائیڈ والے لان میں انتظار کروں گی۔  اچھا ٹھیک ۔

پیریڈ ختم کرکے کلاس روم سے نکلا  اور ادھر لان میں پہنچا تو وہ میری منتظر تھی،  جی  بتائیے، " سر،  میں آپ پسند کرتی ہوں"،  یہ تو اچھی بات ہے، مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ مجھے بطور ٹیچر پسند کرتی ہو، تب وہ گویا ہوئی " سر ایسی بات نہیں، میں آپ کو بطور ٹیچر تو پسند کرتی ہی ہوں ، مگر میں ایک لڑکی ہوں اور آپ کو بطور مرد پسند کرتی ہوں" ۔  اب میری ٹانگیں کانپنے لگیں،  پسینے چھوٹ پڑے، ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ کوئی سن تو نہیں  رہا،   کوئی بھی نہیں تھا،  پس میں فوراُ    " سر " بن گیا، اور بے چاری کو جھاڑ دیا، آپ کو علم ہے کہ میں ادھر لیکچرر ہوں، اور وہ بھی جونیئر، یہ میرا دوسرا برس ہے اور میرا کونٹریکٹ صرف ایک برس کو ایکسٹنڈ ہوا ہے۔  کالج میں ساری نظریں ہم ٹیچرز پر ہوتی ہیں،  اور آپ ایک اسٹوڈنٹ ہو، گھر سے پڑھنے کو آتی ہو،  اگر اس بات کی بھنک  بھی کسی کو پڑگئی، توآپ کو تو کوئی کچھ نہیں کہے گا ، اگر یہ بات کسی کے کانوں میں بھی پڑی تو مجھے فوراُ نکال دیا جائے گا،   اور میں اسوقت کسی قسم  کے ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔  نہ ہی میرے دماغ میں کوئی اس طرح کا خیال آپ کےلئے ہے،  اسکی آنکھ میں آنے والے آنسو  نہ جانے میرے دل پر کیا اثر کرگئے۔ اور میں  بولتاہی چلا گیا۔   کہ دیکھو ، ذندگی  بہت  طویل اور عجیب ہے، ضروری نہیں کہ بندہ جو کچھ چاہے وہ حاصل بھی کرلے،  اور جس کے لئے دل میں کوئی جزبہ محسو س کرتے وہ اسے پا بھی لے۔  ابھی مجھے دیکھو، اگر بات محبت کی ہے تو میں تو تمہاری ڈاکٹر صاحبہ سے کو چاہتا ہوں، بلکہ ان سے عشق کرتا ہوں، مگر ان کوئی آج تک نہیں کہہ سکا اور شاید کبھی کہہ بھی نہ پاؤں۔  پس تم بھی آپ جذبات دل میں رکھو اور اپنی تعلیم کی طرف توجہ دو، اگر دوبارہ ایسی بات کی تو کالج سے نکلوا دوں گا، ایک نوٹس کے ساتھ۔ وہ بچاری چپکے سے بغیر کچھ کہے  چلی گئی، البتہ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے، شاید بچاری کا دل ٹوٹا تھا۔ مگر میں  ایک لیکچرار بنا  پتھر دل ،  دیکھتا رہا ، وہ لان سے نکلی تو میں بھی سٹاف روم کی طرف کو  ہولیا۔

دوسرے دن میرا پہلا پریڈ ختم ہوا تھا،  کلاس سے اسٹاف روم  جانے کےلئے دفتر کے سامنے سے  گزرہی رہا تھا  توکلرک کی آواز آئی، "سرآپ کا فون ہے، میں نے ہولڈ رکھایا ہوا"۔ اچھا، کون ہے؟  " پتا نہیں سر، کوئی  خاتون  ہیں ، شاید آپ کے گھر سےہیں کوئی ، میں نے پوچھا نہیں"۔  اچھا ، ھیلو، کون؟  "میں بول رہی ہوں ، پہچانا" ،  اسی کا فون تھا،  ہؤ  بہؤ، وہی آواز، کیسے نہ پہچانتا،    جی ،   " اچھا آپ کس وقت  چھٹی کررہے ہیں آج ؟"  ایک بجے، " پھر کیا کرنا ہے؟" کچھ خاص نہیں ،  " اچھا تو میری طرف چکر لگانا، ادھر  سی ایم ایچ کے سامنے میراکلینک ہے،  کسی سے بھی پوچھ لینا، میں انتظار کروں گی،  اگر دیر بھی ہوگئی تو آجانا،  میں ادھر ہی ہونگی"۔   اچھا ٹھیک ہے، اللہ حافظ۔  اور فون  رکھ دیا۔
اللہ کرکے ایک بجا، کلاس ختم کی اور شپ کر کے اسٹاف روم پہنچے رجسٹر ادھر پھینکا اور موٹر سائیکل کو کک مار ، اڑ کر پہنچ گیا ،  کلینک تلاش کرتے دشواری نہ ہوئی ،  مین روڈ پر ہی تھا۔  اندر داخل ہوا  ،   تو ڈاکٹر صاحبہ خود ہی نکل آئیں،"  اسلام علیکم ، کیسے ہیں آپ،  تو آپ  آہی گئے، میں نے تو سوچا تھا شاید نہ آئیں"،  ایک سانس  میں کہہ کر ،  اچھا اندر چلیں ادھر میرے آفس میں بیٹھیں،  بیٹھ گیا تو، میرے سامنے اپنی ریوالونگ چیئر پر بیٹھ گئیں اور میری طرف دیکھنے لگیں،  وہی نظریں۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا  ان برسوں میں،  میں خاموش بیٹھا،  دیکھ رہا تھا ،  بولیں "اچھا جو آپ نے کل اس لڑکی کو کہا ہے وہ درست ہے  کیا؟"  کیا؟  "وہی جو کچھ آپ نے اسے کہا میرے بارے؟" ہاں،   " اس نے مجھے ایک ایک لفظ بتا دیا تھا، پر یہ بات آپ  نے مجھے کیوں نہیں کہی"،  بس نہیں کہہ سکا،   "پتا ہے میں کب سے یہ الفاظ سننے کو ترس رہی تھی،   بلکہ تمھیں کہنا بھی چاہا کئی بار مگر ، الفاظ ساتھ نہ دیتے تھے،  مگر تم کتنے کٹھور ہو"۔    اچھا اب کہے دیتا ہوں۔  کہ مجھے تم سے عشق ہے،  کب ہوا یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم مگر احساس اسوقت ہوا جب اس لڑکی سے بات کررہا تھا تو۔ بس کہہ دیا۔   " شکرہے تم بڑے تو ہوگئے ہو، میں تو سمجھی تھی کہ تمہارے دل میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ہے میرے لئے ، بلکہ دل ہی نہیں ہے، تم صرف پڑھنے کے جنونی ہو ، تمھیں اپنا کئریر بنانے کا چسکا پڑا ہوا ہے۔ اور ایک میں ہی پاگل ہورہی ہوں"۔ اچھا اب جب بات  صاف ہو ہی گئی ہے  توتم کیا مجھ سے شادی کرنا چاہو گی؟ " بھلا میرےلئے اس سے بڑھ کر زندگی کا تحفہ کیا ہوگا؟"  ،  کیوں نہیں۔   بس ٹھیک ہے پھر میں  اپنے گھر والوں سے بات کرتا ہوں۔

شام کو گھر گیا  ، ماں جی سے بات کی، چاچی سے  کہا،  بڑی باجی سے بھی بات ہوئی۔  اباجی سے بات کرنا اپنے بس سے باہر تھا،  ماں جی نے کہا کہ" کڑی دکھاؤ"، اچھا جی، اگلی جمعرات کو ماں کے کو سی ایم ایچ لے جانا تھا،  ادھر سے فارغ ہوکر  اسکے  کلینک پر پہنچ گیا،  ماں جی کو بتایا کہ آپ ادھر بیٹھیں  میں ذرا فروٹ لے لوں  اور ادھر پاس ہی پھوپھی کے گھر بھی ہوآتے ہیں،   اسے بتایا کہ یہ ماں جی ہیں۔  اور نکل لیا،  ان کے درمیان باتیں کیا ہوئیں ،  میں کوئی بیس منٹ  واپس ہوا،  ماں جی کو موٹر سائکل پر بٹھایا  اور نکل لیا۔  راستے میں ماں جی نے صرف اتنا کہا کہ لڑکی اچھی ہے اور پھر تمھاری بھی مرضی ہے تو پھرٹھیک ہے۔ بس پھر گھر میں ہال ہال کار مچ گئ،  ساری خواتین  اسی کے بارے پوچھنے پر لگ گئیں،  "کیسی ہے، کتنی لمبی ہے، ہائے ڈاکٹر ہے،  رنگ کیسا ہے، خاندان کیسا ہے، تم نے اسکا ہاتھ پکڑا   کہ نہیں،  نہیں  ،  ہت تیرے کی اور لومیرج کرنے پر تل گئے ہو۔پھر ایک دن موقع  پا کر بڑی باجی کے لے گیا،  پھر اس نے بتایا کہ میری  پھوپھو بھی ادھر گئی تھیں، دوائی لینے، پھر یہ کہ میرے گھر والے انکے گھر گئے تھے ، کیا بات ہوئی اس  سے وہ بے خبر تھی۔  ادھر میرے گھر والے بھی کچھ نہ بتلا رہے تھے۔ " میرے کزن جعفر کی شادی تھی ، ادھر گیا تو خواتین  کے یہ کمنٹس تھے "اچھا پھر اگلےواری تیری ہے،  ہت تیرے  کی، اندر ہی اندر عشق کرتا رہا،  بڑا عاشق، سنا ہے تم لوگ سالوں ایک ساتھ پڑھتے رہے، ہی ہی ہی ہی، کھی کھی کھی کھی۔"

میرے بھی دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے،  اپنی محبت پاکر سرشار ہویا پھرتا تھا۔  شادی سے واپس آیا تو علم ہوا کہ پیچھے سے ،  میرے گھر والے انکے ہاں منگنی کو گئے تھے، مگر انہوں نے انکار کردیا ہے،  اسی دن اسکے کلینک پر پہنچا تھا ، بچاری روپڑی، کہ میرے گھر والے نہیں  انکار کررہے مگر تمھارے گھر والے انکار کرگئے ہیں، آؤ ہم بھاگ کر شادی کرلیں۔  کورٹ میرج کرلیں۔  جانے کیوں ایسا کرنے سے میں نے فوراُ انکار کردیا،  پھر لیکچرار ہوگیا، کہ دیکھو میں تم سے عشق کرتا ہوں اور میرا   دل نہیں مانتا کو کل کو کوئی تمھیں کہے کہ یہ گھر سے بھاگی ہے۔   اس نے بہت منتیں کیں، مگر میرا لیکچرار  ،  میرے سر پر سوار رہا۔   گھر گیا، والد صاحب نے شام کو طلب کرلیا ، کہ چونکہ تمھارا رشتہ  ادھر نہیں ہوسکا  ، اس لئے میں تمھارا  رشتہ ،   تمھاری پھوپھو کی بیٹی سے مقرر کر آیا ہوں۔  اگلی جمعرات کو تھماری شادی ہے، کارڈ بھی چھپنے کو دے آیا ہوں،  مجھے توگویا موت ہی پڑگئی تھی، میں اسکے کلینک پر اگلے دن گیا ، مگر بند تھا،  اردگردسےمعلوم کیا ،  مگر کسی کوئی علم نہ تھا۔ بس یہ علم ہوسکا کہ کل سے کلینک بند ہے،  شاید ڈاکٹر صاحبہ کہیں گئی ہوئ ہیں۔  بس اس دن کے بعد ہر روز ادھر جاتا مگر وہی  تالہ، کوئی خبر  نہ مل سکی، اسکے گھر پر گیا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ  گھر پر نہیں  ہیں ، شایدگاؤں گئے ہوئے ہیں ، اب انکے گاؤں کا مجھے کیا علم۔

خیر شادی کا دن آگیا، شادی ہوگئی،  پھر کافی دنوں بعد وہی لڑکی ایک خط لے کر آئی،  کہ ڈاکٹر صاحبہ نے دیا ہے،  پڑھا تو لکھا ہوا تھا ، شادی کی مبارک ہو، کاش  میرا نام  تمھارے نام کے ساتھ جڑ سکتا۔ مگر اپنی قسمت ایسی کہاں ، تم خوش رہو۔
اسکے بعد معلوم ہوا کہ کلینک نہیں کھلا  پھر کبھی بھی،  نہ ہی اسکی کوئی خبر آئی۔ 

جانےمیرےدل میں کیاآیا، کہ مزید پڑھنے کا بہانہ کیا گھر والوں سے اور بیوی جی سے  اسپیشلائزیشن کےلئے انگلینڈ جانے کی اجازت لی، بچاری خاموش ہوگئی، اٹلی کا وزٹر ویزہ لگوایا،  انگلینڈ میں ٹرانزنٹ کرتاہوا  ، ادھر کو آموجود ہوا،   پندرہ دن کا ویزہ تھا ، پھر ہم  غیرقانونی، ادھر ہر وہ کام کیا جو نیچ سمجھا جاتا تھا،  نائیٹ بار میں  شراب والے گلاس صاف کرنے سےلےکر مردوں کے بکسے بنانے والی فیکٹری تک ، پھر چمڑے کی فیکٹری، پھر  اپنا چھوٹا سا کاروبار، ایویں  ہی، اس دورا ن بس اپنا کئیر ہی بناتا رہا مگر اپنی زندگی کے بارے کبھی نہ  سوچا،  سال میں ایک ادھ چکر پاکستان کا لگ جاتا ، جو پیسے کمائے ہوتے وہ ٹکٹ  تحائف   پر خرچ کرکے، پھر سے کئیر بنانے لگ جاتا۔ پھر بچے بھی ہوگئے اور زندگی کا پہئہ چلتا رہا۔مگر سب کچھ ہونے کے باوجو د ، اکیلا ہی رہا۔  

 ایک بار پاکستان گیا، تو چھوٹی بہن  بتانے لگی کہ میں نے ادھر ایم اے انگلش کی کلاس میں داخلہ لیا تو ادھر ایک لڑکی ملی ، میری دوست بن گئی، پوچھنے لگی کہ تم کتنے بہن بھائی ہو، میں نے آپ کے بارے بتایا کہ میرے ایک بھائی ہیں وہ ادھر ڈاکٹر تھے ، کالج میں پڑھاتے بھی تھے، پھر باہر چلے گئے،  تو  بولی کہ میری بھی ایک کزن ڈاکٹر ہے، اسکا اپنے کسی کلاس فیلو کے ساتھ لو تھا،  انکی شادی بھی طے ہوگئی،  مگر پھر لڑکے والے انکار کرگئے، لڑکے کی شادی کہیں اور ہوگئی۔  اس بچاری کوہارٹ اٹیک ہوگیا،   اس نے کلینک بھی  بند کردیا،وہ لڑکا بھی جاب چھوڑ کرکہیں چلا گیا،  برس گزرےاور اس میری کزن کی شادی ہوگئی، اور وہ دبئی چلی گئی۔ میں اسکو نہ بتا سکی کہ وہ میرا ہی بھائی تھا۔

ادھر معاشی بدحالی سے  بزنس میرابھی ڈوب گیا، صحت اچانک خراب ہوگئ، اور میں بستر پر،  ابھی صحت  ٹھیک ہورہی ہے، پھر کچھ کرنے کا سوچا، تو مونیکا  نے مشورہ دیا کہ تم اپنی پرانی ڈگری نکالو،  وہی کیا،  ایک فارما میں کنسلٹنٹ کی جاب فوراُ مل گئی،  اور ابھی ا یک کالج میں سی وی بھیجا تو انہوں نے ، انٹرویو کےلئے کال کیا ہے،  انٹرویو کےلئے گیا تو  ادھر پرنسپل صاحب  سے پہلے فارما کے سلسلے میں ملاقات تھی،  اچھا تو آپ ہیں؟کیسے ہیں؟ اچھا  تو کیا ارادے ہیں مستقبل کے؟  اچھا آپ کا اپائنٹمنٹ لیٹر آپ کو مل جائے گا۔

یہ میری کہانی ہے،   شاید زندگی پھر سے  وہیں سے شروع ہورہی ہے،   مگر کچھ لوگ نئے ہیں اور بہت سے پرانے موجود نہیں،   شکلیں بد ل گئی ہیں، مگر کردار وہی ہیں،  ہوسکتا ہے کہ کو پھر کوئی آکر کہہ دے ، سر آپ مجھے اچھے لگتے ہیں، اب بھی وہ جواب ہوگا، کہ اچھی بات ہے، مگر میں شادی شدہ ہوں ۔  ایک عدد بیوی صاحب اور کچھ بچہ پارٹی میرے ا نتظار میں ہیں، مگر نہیں ، جی  جو وقت گزر گیا  وہ لوٹ کر نہیں آتا، زندگی آگے ہی آگے کوجارہی ہے۔  مگر کچھ یادیں پرانی دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔  










مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش