جمعہ, ستمبر 24, 2010

خیبر پاس

بلا مبالغہ صبح جب اپنےآفس میں پہنچا تو مقامی صحافی آنا دیموریٹا آ نمودار ہوئی، ہاتھ میں ایک سرخ لفافہ پکڑے ہوئے، کہ یہ خیبر پاس کے عنوان سے ایک کتاب ہے جسکا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ کتاب کے مدرجات کا سرسری جائزہ لینے پر محسوس ہوا کہ خاصی مفصل ہےاور یہ بھی اس میں سکندر اعظم سے لیکر امریکی افغان جنگ تکے کے سارے احوال موجود ہیں جو خیبر پاس سے متعلقہ تھے۔ امریکہ اپریشن سے لیکر پاکستان اپریشن اور وہاں پر موجود فوجی تختیوں کی تصویریں تک۔ مجھے اردو میں اتنی مفصل کتاب کم ہی نظر آئی، المیہ ہمارے معاشرہ کا اور انحطاط یہ ہے کہ علم کم سے کم ہوتا جارہا ہے کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی

3 تبصرے:

  • iabhopal says:
    9/25/2010 04:23:00 AM

    يہ کتاب لکھی کس نے ہے اور اس کے مندرجات سے بھی کچھ روشناس کرايئے تاکہ حقائق کا ادراک ہو سکے

    ديگر درخواست ہے کہ مندرجہ ذيل آپشن فعال کر ديجئے تاکہ کہ ميں اپنی اصل شناخت کے ساتھ تبصرہ کر سکوں
    Name/URL

  • Javed Iqbal says:
    9/25/2010 08:51:00 AM

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    راجہ بھائي، بات یہی ہےدراصل ہم لوگوں نےکتاب سےدشمنی کرلی ہےاس لئےتوعلم ہم سےدورچلاگیاہے۔اللہ تعالی ہمیں پھرعلم کی طرف راغپ کردے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  • کاشف نصیر says:
    9/25/2010 01:28:00 PM

    کتاب کے تعارف کا شکریہ
    لیکن یہ کتاب لکھی کس نے ہء
    اور اپنے فونٹ کا بھی لچھ کریں۔ پڑھنے میں بہت دقت ہوتی ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش