منگل, دسمبر 26, 2006

مرد عورت برابر ہیں؟

برابری کے موضوع پر “محفل “ میں چھڑنے والی ایک بحث میں دیا جانے والا جواب بلاگ کے قارین کی خدمت میں
_________________
بحث تو بہت دلچسپ ہے بلخصو ص کیونکہ اس میں مذہب کا داخلہ ممنوع قرار پایا لہذا مصنف کو اپنے زورِ بازو پر ہی اکتفا کرنا
پڑتا ہے۔ اسی سلسلہ میں‌ احباب نے کچھ حوالے مغربی تہذیبوں کے دیئے اور کچھ نے اپنے ذاتی اور عمومی مشاہدات۔
چونکہ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں‌کہ عورت اور مرد برابر نہیں بلکہ دو مختلف اصناف ہیں جنکے مختلف اختیارات و فرائض ہیں۔ بات برتری کی یا کم تری کی نہیں ہورہی ہے بلکہ مقصود صرف فراق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے، رہی بات برتری کی تو ہم تو جانوروں کو بھی خود سے افضل سمجھتے ہیں۔
دوستوں نے مغربی تہذیبوں کے حوالے دیئے تو توجہ دلاؤں گا کہ یہاں پر بھی مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ‌عورتوں کی اکثریت آج بھی وہی “پولے پولے“ کام کرتی ہے، ٹیچر ہیں اور کلرک کی نوکری کرتی ہیں اور ساتھ ہی برابر ہونے کےلئے احتجاج بھی جاری ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ برطانیہ میں بہت سال پیشتر عورتوں کو ایک فضیلت یہ تھی کہ انکو 60 برس کی عمر میں‌پینشن دے دی جاتی تھی جبکہ مرد حضرات کےلئے مقررہ عمر 65 برس تھی۔ اس طور کی برابری کی لئے کی جانے والی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے نتیجہ میں حکومت نے دیگر برابریوں کے ساتھ ہی یہ برابری بھی کردی کہ ان کو بھی 65 برس کی عمر تک کام کرنا پڑے گا۔ پس لگیں مچانے شور کہ ہم نے یہ تو نہیں کہا تھا، اور کہ ایسی برابری پر لعنت ہو پھٹکار ہو، جس میں پانچ سال اور کام کرنا پڑے ۔
بات برابری کی کرنے سے پہلے ملحوظِ خاطر رہے کہ خواتین کی نبض کی رفتار اور انکا فطری وزن تک مردوں سے کم ہوتا ہے۔ اسی
طرح بلڈ پریشر اور دل ک‌‌ فطری سائیز سے لیکر ہڈیوں کی پیمائیش تک مردوں سے کم ہے۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو برابر کرتے ہوئے بہت سے فطری معاملات تک کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور فقط اسی دلیل پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور وہ بھی، فلاں ملک میں میں برابری ہو گئی ہے اور فلاں میں ہو رہی ہے اور ہمارے لوگ دیکھا دیکھی بقول ہمارے پروفیسر منظور ملک صاحب کے “ مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں“۔
مجھے خود یورپ میں رہتے ہوئے عرصہ ہوچکا ہے اور خواتین کے ساتھ کام کاج کرنے کا بھی اتفاق ہوا ہے ۔ عملی زندگی میں تو یہیں دیکھا گیا کہ جب کوئ زور یا خطرہ کا کام ہے، گولی کھانے کا موقع ہے تو کہا جاتا ہے کہ تم مرد ہو۔ آگے بڑھو اور جب تنخواہ بڑھانے کی بات ہوتو مردو زن برابر ہیں۔
ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا کا نظام “لے “ پر چل رہا ہے یہ لے، وہ لے، وہ بھی لے لے، اور اس کو لے لینے کے لئے کبھی تو مردوزن کو برابر کردیا جاتا ہے اور کبھی عورت کو ماں کہ کر برتر اور کبھی لونڈی کہہ کر کم تر کردیا جاتا ہے ۔ یہ ہی احوال مرد کا ہے مگر کیا کریں فطری طور پر اس کا وزن کچھ پونڈ زیادہ جو ہے پس اسی کا فائدہ اٹھاتا پھر رہا ہے اور الزام بھی بھگتتا پھرتا ہے ورنہ تو مردوزن زندگی کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں۔

6 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش