اتوار, جون 04, 2006

گلاب و نصیب

بہت عرصہ پہلے زمانہّ طالبعلمی میں جب ہم بسوں پر اسٹوڈنٹ کہہ کر مفت سفر کرنے کی کوشش میں اکثر پکڑے جاتے، تب بسوں پہ لکھا ہوتا تھا کہ ”پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا”۔ خیر بسوں پر تو اور بھی بہت سے اشعارو محاورہ جات منقش ہوتے تھے جو آجکل عنقا ہیں۔ اور وہ کچھ نہیں لکھا ہوتا تھا جو آج کل لکھا ہوتا ہے۔ اس ہونا اور نہ ہونا کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے اور ایک اہم مسئلہ ہیں۔
انگریزوں کے چچا شیخ اسپی ایر کا کہنا ہے” کہ اگر گلاب کو گلاب نہ کہا جائے تو اسکی خوشبو کم نہیں ہوتی” ، اور ادبی طور پر ہم اس فقرہ کو دھراتے ہوئے نہیں تھکتے؛ یہ اور بات ہے کہ اس کا مقصد صرف اور صرف سامعین پر اپنے باادب بلکہ صاحب ادب ہونے کا رعب جمانا ہوتا ہے۔ اب بندہ شیخ صاحب سے پوچھے کہ اگر ”گلاب” کو گلاب نہ کہا جائے بلکہ ”کھجور” کہا جائے اور بلترتیب ” کھجور” کو ”گلاب” کہا جائے تو اس سے لازمی فرق پڑے گا۔
لوگ اپنی محبوباؤں کو گلابوں کی بجائے کجھوریں پیش فرما رہے ہوتے اور محبوبائیں شاید ان کو چھوہارے”، اور ہم یہ شعر قطعی طور پر نہ پڑھ رہے ہوتے ” کھوتی چڑھی کجھور اُتے، ٹُک ٹُک نیمبو کھاوئے”۔ اب یہ اس کی قسمت ہی خراب تھی ورنہ گلاب پر چڑھنا زیادہ ” رومانٹک” لگتا ہے۔ اور وہ بھی بغیر کانٹوں کے۔ نیمبو کے فوائد آپ خود بیان کریں کہ ضروری تو نہیں کہ سب کچھ ہم ہی لکھیں آخر آپ بھی تو سمجھدار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش