جمعہ, مارچ 17, 2006

پیروی مشرق کی

عباس جوکہ میرے عزیزِ غریبی ہیں، ولایت میں ہی پیدا ہوئے اور پاکستان دو بار ہی گئے ہیں۔ مگر آج کل میرے مہمان ہیں، کہ بھائی صاحب سے زندگی بھر ملاقات نہیں ہوئی، چلو مل ہی آئیں۔ تو ان کو جی آیاں نوں۔ مگر اصل خبر جو مجھے انکے ساتھ آنے والے انگریزی اخبار سے ملی ہے وہ یہ ہے کہ لنکا شائیر کے 49 سالہ مائیکل فیلپاٹ نے مقامی کونسل میں کل رات چھ کمروں کے
بڑے گھر کے حصول کی درخواست جمع کروائی ہے۔ ان چاچا جی کے 16 بچے ہیں جن کا تعلق مختلف پانچ خواتین سے ہے۔
مائیکل جی نے یہ بتایا ہے کہ میں‌ گھر میں ہونے والے شور کی وجہ سے گھر سے باہر “تنبو“ لگا کر اس میں‌سوتاہوں۔ لہذا کونسل مجھے کم سے کم 6 کمروں والا بڑا مکان دے۔ تاحال مائیکل جی 3 کمروں کے چھوٹے سے مکان میں نہیں تنگی سے گزارا کررہے ہیں جسکا کرایہ 69 پونڈ فی ہفتہ ہیں جبکہ مائیکل پکے حرام خور ہیں اور وہ سالانہ 26،500 پونڈ بےکاری الاونس کے طور
پر حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ ایک عدد زوجہ اور ایک حاملہ معشوق کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
خیرہمارے مشرق میں تو یہ خبر نہ ہوئی کہ انکے 16 بچے ہیں اور کھانے کو کچھ نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس حال میں ہیں۔ البتہ اگر حکومت ان کو سالانہ 26،500 روپیہ بھی دے تو یہ ایک خبر ہوگی۔

2 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش